"RS" (space) message & send to 7575

رازداری کے پردے میں مذاکرات

ایران اور امریکہ کے درمیان 12اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور کے اختتام پر بظاہر یہ تاثر ابھرا کہ فریقین کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے میں ناکام رہے ہیں۔ اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں جاری رہنے والا مذاکرات کا پہلا دور تقریباً 21گھنٹوں پر محیط رہا مگر کسی حتمی معاہدے کی نوید سنائے بغیر ہی تمام ہوا۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی میڈیا سے گفتگو کے بعد واپسی نے بھی اس خدشے کو جنم دیا کہ شاید سفارت کاری کا باب بند ہو چکا ہے تاہم پس پردہ حقائق اس کے برعکس تھے۔ جے ڈی وینس نے مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے 22اپریل کو دوبارہ اسلام آباد پہنچنا تھا‘ جس کی تصدیق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کی تھی۔ لاجسٹک انتظامات کے لیے تین امریکی کارگو جہاز بھی اسلام آباد اتر چکے تھے جن میں وفد کے لیے ضروری سامان‘ گاڑیاں اور حفاظتی آلات لائے گئے تھے۔ پاکستان ان مذاکرات کے لیے مکمل طور پر تیار تھا اور وفاقی دارالحکومت کے ریڈ زون سمیت تمام حساس مقامات پر سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے تھے۔ اس پس منظر میں دو نکات کو سمجھنا نہایت ضروری ہے۔ اول یہ کہ اگرچہ اعلیٰ سطح کا امریکی وفد 22 اپریل کو پاکستان نہ پہنچ سکا لیکن امریکی جہازوں کا اسلام آباد میں قیام اس بات کا ثبوت ہے کہ اندرون خانہ بات چیت کا سلسلہ ٹوٹا نہیں تھا۔ دوم 12 اپریل سے قبل جڑواں شہروں میں کیے گئے سخت سکیورٹی انتظامات کو ختم نہ کرنا بھی اسی تسلسل کی کڑی تھی۔ چونکہ مذاکرات کا محور اس وقت ٹیکنیکل ٹیمیں تھیں اور سب کچھ رازداری کے پردے میں تھا اس لیے افواہوں اور جنگ کی قیاس آرائیوں نے جنم لیا مگر حقیقت یہ تھی کہ امریکی ماہرین اسلام آباد میں موجود رہ کر مذاکراتی عمل کو کسی نہ کسی سطح پر آگے بڑھا رہے تھے۔ یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ سیاسی قیادت کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطوں کو ہی مذاکرات سمجھنے والے اسے معطلی قرار دے رہے تھے جبکہ ٹیکنیکل ٹیموں کی خاموش پیش رفت کو نظر میں رکھنے والے اسے جاری عمل کے طور پر دیکھ رہے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب ماہرین کسی نتیجے پر پہنچ جاتے ہیں تب ہی سیاسی قیادت حتمی اعلان کے لیے سٹیج پر آتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ مشکلات کے باوجود پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں مستقل جنگ بندی کے لیے مخلصانہ سفارتی کوششیں جاری رکھیں۔ یہ پاکستان کی مثبت سفارت کاری اور صلح جوئی کا ثمر ہے کہ آج فریقین ایک بار پھر مذاکرات کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں ایک اہم وفد اسلام آباد پہنچ چکا ہے۔ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ایرانی وزیر خارجہ کی ملاقات نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ عراقچی یہاں سے مسقط اور ماسکو کے لیے بھی روانہ ہوں گے کیونکہ ایران اس مشاورتی عمل میں اپنے دیرینہ اتحادی روس کو بھی شامل رکھنے کا خواہاں ہے۔ اگرچہ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے فی الوقت امریکی حکام سے براہِ راست ملاقات کی نفی کی ہے تاہم یہ عین ممکن ہے کہ پاکستانی حکام کو اپنے مشاہدات فراہم کرنے کے بعد جب امریکی صدر کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر پاکستان پہنچیں تو ماسکو کا دورہ مکمل کر کے عباس عراقچی بھی دوبارہ اس عمل کا حصہ بن جائیں۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے امریکی وفد کی شرکت کی تصدیق کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس امریکہ میں موجود رہ کر صورتحال کی نگرانی کریں گے اور ضرورت پڑنے پر پورے وفد کو پاکستان روانگی کے لیے سٹینڈ بائی رکھا گیا ہے۔
پاکستان مشرق وسطیٰ کی جنگ سے براہِ راست متاثر ہونے والے ممالک میں شامل نہیں مگر سفارتی سطح پر سب سے زیادہ متحرک پاکستان دکھائی دے رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جنگ سے براہ ِراست متاثر ہونے والے ممالک میں برادر اسلامی ممالک شامل ہیں نیز ایران ہمارا پڑوسی ملک بھی ہے۔اس صورتحال میں پاکستان نے خاموش تماشائی بننے کے بجائے صلح جوئی کو ترجیح دی۔ دنیا تسلیم کر رہی ہے کہ جنگ کے شعلوں کو مزید بھڑکنے سے صرف پاکستان ہی روک سکتا ہے۔ اسی طرح جنگ کے خاتمے کیلئے جس مہارت اور دانشمندی کی ضرورت ہے پاکستان کی قیادت اس سے مالا مال ہے۔ بین الاقوامی سیاست کے تپتے ہوئے ماحول میں جہاں جنگ کے شعلے بھڑک رہے ہوں کسی ایک فریق کا ساتھ دینے کے بجائے دونوں متصادم قوتوں کو ایک میز پر لانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے۔ پاکستان نے اس نازک مرحلے پر جس درجے کی سنجیدگی اور استقامت دکھائی ہے اس نے ثابت کر دیا کہ پاکستانی قیادت خارجہ امور کی باریکیوں سے نہ صرف واقف ہے بلکہ کسی دباؤ میں آئے بغیر عالمی امن کے ایجنڈے پر کاربند رہنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ یہ پاکستان کی بصیرت کا ثبوت ہے کہ دونوں متحارب فریق ‘امریکہ اور ایران‘ نہ صرف پاکستان کی کوششوں کے معترف ہیں بلکہ اس پر مکمل اعتماد کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے بہترین ثالث کا خطاب ملنا پاکستان کی دہائیوں پر محیط سفارتی ساکھ کی کامیابی ہے۔ پاکستانی قیادت نے ثابت کیا کہ سفارت کاری خاموشی سے جمود کو ختم کرنے اور مخالفین کے درمیان مشترکہ نکات تلاش کرنے کا فن ہے۔ مذاکرات اب ابتدائی لیول سے نکل کر فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ دونوں ممالک کی ٹیکنیکل ٹیمیں طویل نشستوں کے بعد اب کافی امور پر اتفاق کر چکی ہیں جو کہ بڑی کامیابی ہے۔ جنگ سے متاثرہ دیگر ممالک کی شدید خواہش ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان فوری طور پر حتمی معاہدہ ہو۔ یوں معاہدے کا جلد سے جلد طے پانا اب محض فریقین کی ہی ضرورت نہیں بلکہ پوری دنیا کی بقا کا مسئلہ بن چکا ہے۔ عالمی معیشت اس وقت شدید کساد بازاری کی زد میں ہے‘ صنعتی پہیہ جام ہو رہا ہے اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ توانائی کے بڑھتے ہوئے بحران اور عالمی سپلائی چین کی معطلی سے پیدا ہونے والی صورتحال سے دنیا شدید مثاثر ہو رہی ہے‘ اسلئے یہ معاہدہ جس قدر جلد ہو گا عالمی منڈیوں میں استحکام آئے گا اور انسانیت ایک بڑی معاشی تباہی سے بچ سکے گی۔ پاکستان کا کردار تو ثالث اور سہولت کار ہے لیکن اگر فریقین کے درمیان کچھ امور پر اختلافات برقرار رہتے ہیں اور کوئی فریق ضمانت کی شرط رکھتا ہے تو ممکنہ طور پر پاکستان سفارتی ضامن بھی ہو سکتا ہے۔ اب دنیا کی نظریں اسلام آباد پر لگی ہیں جہاں امن کی تاریخ لکھی جا رہی ہے۔ ہمارے لیے یہ فخر کا مقام ہے کہ جس جنگ سے دنیا تنگ ہے‘ پاکستان اس جنگ کے شعلے بجھانے میں صفِ اول میں رہ کر کردار ادا کر رہا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں