"RS" (space) message & send to 7575

پی ٹی آئی میں فیصلہ ساز کون؟

جمہوری معاشروں میں سیاسی جماعتیں محض چند شخصیات کے اکٹھ کا نام نہیں بلکہ وہ ایک مربوط نظریے‘ مضبوط تنظیمی ڈھانچے اور مسلسل فیصلہ سازی کے نظام پر قائم ہوتی ہیں۔ سیاسیات کا مسلمہ اصول ہے کہ جو جماعتیں ایک کرشماتی شخصیت کے گرد طواف کرتی ہیں اس شخصیت کی عدم موجودگی یا سیاسی منظرنامے سے دوری کے باعث داخلی بحرانوں کا شکار ہو جاتی ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف اس وقت جس تنظیمی انتشار‘ دھڑے بندی اور خلفشار سے گزر رہی ہے وہ متبادل قیادت کے اسی فقدان اور ادارہ جاتی کمزوری کا مظہر ہے۔ بانی تحریک انصاف عمران خان کی قید کے بعد جماعت کا شیرازہ جس طرح بکھرتا دکھائی دے رہا ہے وہ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ جب کسی جماعت میں اختیارات کا سرچشمہ صرف ایک ذات تک محدود ہو تو بحران کے وقت پوری قیادت تذبذب اور داخلی خلفشار کا شکار ہو جاتی ہے۔ تحریک انصاف کا سب سے بڑا المیہ فیصلہ سازی کا وہ ابہام ہے جو پارٹی کو مفلوج کیے ہوئے ہے۔ خان صاحب کی جیل منتقلی کے بعد یہ سوال پوری شدت سے ابھرا کہ پارٹی کے اندر حتمی فیصلہ ساز کون ہے؟ آئینی اور قانونی طور پر بیرسٹر گوہر علی خان پارٹی کے چیئرمین کے عہدے پر متمکن ہیں لیکن سچ یہ ہے کہ ان کے پاس فیصلوں کا حقیقی اختیار موجود نہیں۔ وہ ہر چھوٹے بڑے فیصلے کے لیے عمران خان سے رجوع کے پابند ہیں۔ اس طرزِ عمل نے جماعت کے اندر عجیب صورتحال پیدا کر دی ہے۔ ایک طرف تو یہ تاثر ابھرتا ہے کہ پارٹی میں کوئی ایک بھی متبادل فیصلہ ساز نہیں جو بحرانی کیفیت میں جرأت مندانہ اور فوری فیصلے کر سکے۔ دوسری طرف یہ دکھائی دیتا ہے کہ ہر دوسرا رہنما خود کو حتمی فیصلہ ساز سمجھ رہا ہے۔ جب کسی جماعت میں تنظیمی نظم وضبط برقرار رکھنے والی شخصیت موجود نہ ہو تو فیصلوں کا فقدان نہیں بلکہ بھرمار ہو جاتی ہے‘ جہاں ہر دھڑا اپنے فیصلے کو بانی تحریک کی منشا قرار دے کر نافذ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ صورتحال پارٹی کو کسی مربوط سیاسی حکمت عملی کی طرف لے جانے کے بجائے داخلی خلفشار کی دلدل میں دھکیل دیتی ہے۔ پی ٹی آئی کے داخلی انتشار کی ایک واضح جھلک خیبر پختونخوا کے پارلیمانی اجلاس میں دیکھنے کو ملی جہاں پارٹی کی حکومت ہونے کے باوجود اختلافات اور دھڑے بندی کھل کر سامنے آ گئی۔ سی ایم ہائوس پشاور میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی صدارت میں ہونے والا اجلاس یکجہتی کا پیغام دینے کے بجائے پارٹی کے اندر خلیج کو نمایاں کر گیا۔ 92اراکین پر مشتمل پارلیمانی پارٹی کے اس اہم اجلاس میں اراکین کی حاضری کے حوالے سے متضاد دعوے یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اندرونی طور پر سب ٹھیک نہیں ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق 30 سے زائد اراکین نے بائیکاٹ کیا اور 52 سے 55 اراکین اجلاس میں شریک ہوئے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے اس تعداد کو 75 بتایا جا رہا ہے۔ تعداد کا یہ تنازع اپنی جگہ لیکن اس اجلاس میں ایک بڑا دھچکا سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی عدم شرکت تھی جس نے پارٹی کے اندر طاقت کے مراکز کے ٹکرائو کو اندرونی سطح سے نکال کر میڈیا کی زینت بنا دیا۔ اس عدم شرکت اور اراکین کی نمایاں تعداد کے غائب ہونے پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی برہمی فطری تھی تاہم اس واقعے نے یہ بھی ثابت کر دیا کہ صوبائی سطح پر کوئی ایسی متبادل قیادت موجود نہیں جس کے ایک اشارے پر پوری پارلیمانی پارٹی متحد ہو سکے۔ سیاسی جماعتوں میں جب وزارتوں کی تقسیم‘ عہدوں کی بندر بانٹ اور ذاتی مفادات نظریے پر حاوی ہو جائیں تو پارلیمانی گروپوں کا شیرازہ بکھرنا طے ہوتا ہے۔ خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع کے اراکین وزارتیں نہ ملنے پر ناراضی اور مایوسی کا شکار ہیں اور یہ اقتدار پسندی متبادل اور مستحکم قیادت کی عدم موجودگی میں مزید گہری ہوتی جا رہی ہے۔
ماضی میں سیاسی رکھ رکھائو اور روایات کی پاسداری کی جاتی تھی‘ تاہم جدید ٹیکنالوجی نے سیاسی جماعتوں کے اندرونی فیصلوں اور لڑائیوں کو جس طرح بے نقاب کیا ہے‘ اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ پارلیمانی پارٹی کے وٹس ایپ گروپ میں ہونے والی سخت گفتگو لیک ہونے سے صوبے کی سیاسی فضا میں بھونچال برپا ہو گیا ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے گروپ میں بھیجا گیا مبینہ پیغام ایک سیاسی شکوہ نہیں بلکہ اپنی جماعت کے رہنمائوں پر ایک سنگین چارج شیٹ ہے۔ انہوں نے ''پارٹی کے اندر کے سالار‘‘ اور ''پارٹی کے باہر کے سالار‘‘ کے گٹھ جوڑ کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ پارٹی کے ایک رہنما نے مبینہ طور پر 27 اراکین اسمبلی کو توڑ کر پی ٹی آئی حکومت گرانے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ وزیراعلیٰ کے ان الزامات نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ علی امین گنڈاپور نے نام لیے بغیر الزامات لگانے پر شدید ردعمل ظاہر کیا اور کہا کہ اگر کوئی عمران خان کے خلاف سازش کر رہا ہے تو اس کا نام لیا جانا چاہیے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ صوبہ آپ سے کنٹرول نہیں ہوتا تو دوسروں پر الزام لگا رہے ہیں‘ پارٹی رہنمائوں میں غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنا درست نہیں ہے۔ پارٹی رہنمائوں کا یہ مکالمہ ظاہر کرتا ہے کہ جماعت کے اندر عدم اعتماد پھیل چکا ہے۔ جب صوبائی سطح کی قیادت ایک دوسرے پر سازش کے الزامات عائد کر رہی ہو تو کارکنان اور عوام میں پارٹی کے تشخص کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے۔ اگرچہ بعد میں آفیشل بیانات کے ذریعے اس تلخی کو چھپانے کی کوشش کی گئی اور صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان نے اسے معمولی بات قرار دے کر ٹالنا چاہا لیکن ساتھ ہی مبینہ فارورڈ بلاک کو یہ دھمکی دینا کہ ان پر خیبر پختونخوا کی زمین تنگ کر دی جائے گی‘ اس بات کا ثبوت ہے کہ اندرونی تقسیم محض وہم نہیں بلکہ کھلی حقیقت ہے۔
تحریک انصاف کا داخلی بحران صرف خیبر پختونخوا تک محدود نہیں ہیں بلکہ اس کا دائرہ کار مرکزی تنظیمی ڈھانچے تک پھیلا ہوا ہے۔ پارٹی کے سابق سینئر نائب صدر شیر افضل مروت کے بیانات نے اس کشمکش کو مزید بے نقاب کیا ہے۔ انہوں نے پارٹی کی حکمت عملی‘ تنظیمی فیصلوں اور قیادت کی صلاحیتوں پر سخت سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا یہ کہنا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران پارٹی کو منظم کرنے کے بجائے داخلی اختلافات اور ناقص فیصلوں کی نذر کر دیا گیا‘ ایک ایسا سچ ہے جسے کارکن بھی محسوس کر رہے ہیں۔ شیر افضل مروت کا یہ دعویٰ چشم کشا ہے کہ دو سالوں میں عوام‘ کارکنان‘ بانی تحریک اور خود ملک کا وقت ضائع کیا گیا اور تین مرتبہ عمران خان کی رہائی کے مواقع ملنے کے باوجود کمزور سیاسی حکمت عملی اور احتجاجی سیاست کے فقدان کی وجہ سے وہ مواقع گنوا دیے گئے۔ ان کا سب سے بڑا اعتراض پارٹی امور پر غیر منتخب افراد اور خاندانی اثر ورسوخ کے بڑھتے ہوئے سائے پر ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں بانی تحریک کی ہمشیرہ اور بیرون ملک مقیم یوٹیوبرز کے اثر ورسوخ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ وراثت کی اس جنگ میں اختلافی مگر مخلص آوازوں کو دبایا جا رہا ہے۔ جب سیاسی جماعتوں کی فیصلہ سازی کا اختیار تجربہ کار رہنماؤں اور مخلص کارکنوں کے بجائے خاندان یا سوشل میڈیا کے ہاتھ میں چلا جائے تو خلفشار اور داخلی تضاد اس جماعت کا مقدر بن جاتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں