"RS" (space) message & send to 7575

وائٹ ہاؤس کا بااثر مہمان

مشرقِ وسطیٰ میں مستقل جنگ بندی کیلئے اسلام آباد ٹاکس کے سیکنڈ راؤنڈ کی تیاری بتاتی ہے کہ پاکستان میں کسی بڑے مہمان کی آمد ہے اس لیے مذاکرات کا دوسرا دور محض ایک سفارتی نشست نہیں بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے بڑھتے ہوئے قد کاٹھ اور ہماری عسکری و سول قیادت کی اس بے مثال بصیرت کا اعتراف ہے جس نے واشنگٹن اور تہران کے فاصلوں کو سمیٹ دیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ جو دہائیوں سے بارود کے ڈھیر پر کھڑا تھا آج اگر وہاں مستقل جنگ بندی کی نوید سنائی دے رہی ہے تو اس کے پیچھے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جرأت اور پاکستان کی قیادت کی انتھک محنت کارفرما ہے۔ عالمی سفارتکاری میں سب سے مشکل مرحلہ ثالث کے انتخاب کا ہوتا ہے‘ بالخصوص جب فریقین امریکہ اور ایران جیسے پرانے حریف ہوں۔ یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی شاندار فتح ہے کہ دیرینہ حریفوں نے اسلام آباد پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اسے قابلِ بھروسا ثالث تسلیم کیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اچھی خبر اور کسی بڑے سرپرائز کا بیان سامنے آیا ہے‘ امریکی صدر اگر اعتماد کے ساتھ جنگ کے خاتمے کا اشارہ دے رہے ہیں تو اس کے پیچھے پاکستان کی خاموش مگر انتھک سفارتکاری اور بصیرت ہے جس نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔
دنیا حیرت زدہ ہے کہ وہ پاکستان‘ جسے کچھ عرصہ پہلے تک معاشی مشکلات کا شکار بتایا جا رہا تھا‘ آج عالمی امن کا ضامن بن کر ابھرا ہے۔ تاریخ ہمیشہ ان لیڈروں کو یاد رکھتی ہے جو بحران کی کوکھ میں جا کر حل تلاش کرتے ہیں۔ ایسے حالات میں جب دنیا کی بڑی طاقتیں اپنے شہریوں کو ایران سے دور رہنے کی ایڈوائزریز جاری کر رہی تھیں اور تہران کی فضائی حدود کو وار زون قرار دیا جا چکا تھا‘ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا تہران کی سرزمین پر قدم رکھنا ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ یہ محض ایک فوجی سربراہ کا دورہ نہیں تھا بلکہ ایک مضبوط ریاست کے آہنی ارادے کا اظہار ہے۔ وہ مناظر عالمی میڈیا کی سرخیوں کا حصہ بنے جب ایران کی وہ قیادت جو سکیورٹی خدشات کے باعث زیرِ زمین منتقل ہو چکی تھی‘ ایئرپورٹ پر فیلڈ مارشل سیدعاصم منیر کا استقبال کر رہی تھی۔ یہ والہانہ استقبال اس احترام کا مظہر تھا جو ایران کو پاکستان کی عسکری قیادت کی سچائی اور مخلصانہ ثالثی پر حاصل ہے۔
ایک طرف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر جبکہ دوسری طرف سفارتی محاذ پر وزیر اعظم شہباز شریف نے سعودی عرب‘ قطر‘ ترکیہ کے دورے کر کے عالمی سربراہان کو اعتماد میں لیا۔ پاکستان کی کامیابی ٹیم ورک کی مرہونِ منت ہے۔ پاکستان نے اس پورے عمل میں جس توازن کو برقرار رکھا وہ سیاسیات کے طالب علموں کیلئے ایک کیس سٹڈی ہے۔ ایک طرف امریکہ کے ساتھ تزویراتی شراکت داری اور دوسری طرف برادر اسلامی ملک ایران کے ساتھ دیرینہ تاریخی و ثقافتی تعلقات۔ ان دونوں کے درمیان باریک بین توازن قائم رکھنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ پاکستان نے ثابت کیا کہ اس کا ویژن کسی ایک بلاک کا حصہ بننا نہیں بلکہ بلاکس کے درمیان پل کا کردار ادا کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھارت کے سوا پوری دنیا بشمول عرب ممالک اور عالمی طاقتیں پاکستان کی اس کامیابی پر تہنیتی پیغام بھیج رہی ہیں۔ فیلڈ مارشل کے دورہ ٔایران کا فوری اور مثبت نتیجہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے اعلان کی صورت میں سامنے آیا۔ اس اعلان کے ساتھ ہی عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں تیزی کے ساتھ نیچے آئیں۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی پر عالمی برادری خوش ہے اور پاکستان کی شکر گزار ہے کیونکہ اس کا سہرا بلاشبہ پاکستان کی اعلیٰ سطحی سفارتی کوششوں کے سر جاتا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور دیگر ایرانی عسکری حکام کے ساتھ فیلڈ مارشل کی ملاقاتوں نے اس اعتماد کو بحال کیا کہ خطے کی خوشحالی صرف اور صرف پُرامن بقائے باہمی میں مضمر ہے۔
اسلام آباد میں مذاکرات کے دوسرے دور کیلئے کوئی متعین وقت یا دن تو نہیں بتایا گیا ہے البتہ آثار بتا رہے ہیں کہ اگلے دو تین روز میں مذاکرات شروع ہو سکتے ہیں۔ ایک امریکی ٹی وی نے ایرانی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور پیر کو پاکستان میں ہو گا۔ تاہم امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق امریکہ نے ایران مذاکرات کے شیڈول کی تصدیق نہیں کی ہے۔ مذاکرات کے پہلے اور دوسرے دور میں فرق یہ ہے کہ پہلے دور میں ہیجانی صورتحال تھی کہ نامعلوم کیا ہوتا ہے‘ لیکن اس بار معاملہ کافی مختلف ہے۔ مذاکرات سے پہلے ہی یہ جملے زباں زدعام ہیں کہ معاملات طے پا چکے ہیں۔ صدرڈ ٹرمپ کا بیان کہ ایک ذہین شخصیت کل وائٹ ہاؤس کا دورہ کرے گی‘ ایسی شخصیت جو اپنے ملک کے بارے میں بھی اور دوسرے ملک بارے میں بھی سوچتی ہے۔ اس موقع پرامریکی صدر نے پاکستان سے اظہارِ تشکر کیا‘ وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تعریف میں کہا کہ دونوں عظیم شخصیات ہیں‘ میں ان کا بہت شکر گزار ہوں۔ امریکی صدر کا یہ بیان عالمی حلقوں میں ارتعاش پیدا کر چکا ہے۔ قرائن بتاتے ہیں کہ ممکنہ طور پر یہ شخصیت پاکستانی ہو سکتی ہیں جس نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان خلیج کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ مذاکرات کے پہلے دور میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس آئے تھے اب اگر صدر ٹرمپ پاکستان کا دورہ کرتے ہیں جس کے امکانات اب روشن نظر آ رہے ہیں تو یہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی سفارتی کامیابی ہو گی۔
اسلام آباد ٹاکس کے دوسرے دور کا مقصد محض تحفظات کا اظہار نہیں بلکہ ایک حتمی امن معاہدے کا اعلان ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ جب فریقین دوبارہ میز پر بیٹھیں تو وہ کسی نئے تنازعے کے بجائے خطے کے امن و خوشحالی کے مشترکہ ایجنڈے پر دستخط کریں۔ پاکستان کی سول اور عسکری قیادت کے درمیان ہم آہنگی نے وہ ماحول فراہم کیا ہے جہاں عالمی طاقتیں اب پاکستان کو ایک ریاست کے طور پر امن کا مرکز دیکھ رہی ہیں۔ پاکستان کی کامیابی کو دیکھ کر دفعتاً خیال آتا ہے کہ یہی وہ پاکستان ہے جس کا ہمارے بزرگوں نے خواب دیکھا تھا۔ پاکستان آج ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں اس کے فیصلے دنیا کے مستقبل پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاک فوج نے اور وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت نے مل کر ایک ایسی ویژنری لیڈرشپ فراہم کی ہے جس نے پاکستان کو تنہائی سے نکال کر عالمی سفارت کاری کے مرکز میں کھڑا کر دیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن معاہدے کے بعد پاکستان کے کردار کو سنہری حروف سے لکھا جائے گا کہ جب دنیا تماشائی بنی ہوئی تھی‘ اس وقت پاکستان کے فیلڈ مارشل نے آگ کے دریا کو پار کر کے امن کی شمع روشن کی تھی۔ پاکستان کی یہ سفارتی اور سٹریٹجک کامیابی محض ایک وقتی واقعہ نہیں بلکہ اس پائیدار استحکام کا نقطۂ آغاز ہے جس کی بنیاد اخلاص اور قومی مفاد پر رکھی گئی ہے۔ آج دنیا یہ تسلیم کر رہی ہے کہ خطے میں امن کا خواب پاکستان کے فعال کردار کے بغیر شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں