مغربی معاشروں کی یہ روایت رہی ہے کہ وہ حقائق کو تسلیم کرنے میں اگرچہ وقت لیتے ہیں مگر جب سچائی آشکار ہو جائے تو اس کا اعتراف کرنے میں بخل سے کام نہیں لیتے۔ آج مغرب کے تھنک ٹینکس اور پالیسی ساز ادارے اس حقیقت کو تسلیم کر چکے ہیں کہ پاکستان امن کا داعی ہے اور ماضی میں پاکستان کے خلاف جو گرد اڑائی گئی تھی اس کا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا۔ مغربی دنیا کا یہ اعتراف محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ اس عالمی اعتماد کی بازگشت ہے جو پاکستان نے اپنی مستقل مزاجی اور ٹھوس پالیسیوں سے حاصل کیا ہے۔ اس کامیابی کا کریڈٹ موجودہ قیادت کو جاتا ہے۔ اس وقت حکومت اور عسکری قیادت کے مابین جو مثالی اتفاقِ رائے ہمیں دیکھنے کو مل رہا ہے وہ پاکستان کی سیاسی اوردفاعی تاریخ کا ایک درخشاں باب ہے۔ قومی قیادت میں اس نوعیت کی ہم آہنگی وقت کی اہم ضرورت تھی کیونکہ جب سیاسی اور عسکری قیادت کے پیشِ نظر صرف ملکی وقار ہو تو ریاست ایک ناقابلِ تسخیر قوت بن کر ابھرتی ہے۔ سیاسی امور کو فی الوقت پس پردہ رکھ کر ریاست کو ترجیح بنانا ایک ایسی تزویراتی بصیرت ہے جس نے پاکستان کے دشمنوں کو حیران کر دیا ہے۔
22 اپریل 2025ء کو پہلگام کے فالس فلیگ آپریشن کے بعد شروع ہونے والا سفارتی سفر آج اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ جاری ہے اور مسلسل ایسی کامیابیاں سمیٹ رہا ہے جن کا تصور چند سال پہلے ناممکن نظر آتا تھا۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں‘ چند برس پہلے تک ہمیں عالمی فورمز پر خود کو سچا ثابت کرنے کے لیے صفائیاں پیش کرنا پڑتی تھیں لیکن آج صورتحال یہ ہے کہ دنیا ہمارے کہے ہوئے کو حرفِ آخر سمجھ رہی ہے۔ دنیا کی بڑی طاقتیں اب برملا اعتراف کر رہی ہیں کہ انہیں علاقائی اور عالمی مسائل کے حل کے لیے صرف پاکستان کی قیادت پر اعتماد ہے۔ اس غیر معمولی کامیابی کے پیچھے اگرچہ برسوں کی ریاضت اور حکمتِ عملی کارفرما ہے تاہم اس محنت کا حقیقی پھل ہمیں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں مل رہا ہے۔ پاکستان ہمیشہ سے امن کا علمبردار رہا ہے مگر اس بار فرق یہ ہے کہ پاکستان کی ان کوششوں کو دنیا اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے اور اس کا ادراک عالمی دارالحکومتوں کے ایوانوں میں ہو رہا ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی سرگرمیاں اس وقت اسلام آباد میں جاری ہیں۔ اگرچہ پہلے مرحلے میں فریقین نے کسی حتمی معاہدے پر دستخط نہیں کیے تھے لیکن اُس دور کا سب سے بڑا نتیجہ یہ نکلا کہ دونوں فریق ایک بار پھر اسلام آباد کی میزبانی میں ملنے والے ہیں۔ سفارتی حلقوں میں قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس بار کوئی بریک تھرو یا معاہدہ طے پا جائے گا لیکن اگر بات اگلے مرحلے تک جاتی ہے تو بھی اسے ناکامی نہیں سمجھنا چاہیے۔ بین الاقوامی مذاکرات کار اس حقیقت سے واقف ہیں کہ سفارت کاری ایک ارتقائی عمل ہے جس میں صبر اور تسلسل کامیابی کی کنجی ہے۔ قارئین یاد کر سکیں تو زلمے خلیل زاد نے امریکہ اور افغانستان کے مابین مذاکرات کے لیے کس قدر طویل جدوجہد کی تھی اور دوحہ میں جتنی نشستیں ہوئی تھیں‘ ان کا کوئی حساب نہیں مگر انجام کار ایک حتمی معاہدہ وجود میں آیا۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ایران اور امریکہ کے پیچیدہ معاملات محض ایک دو نشستوں میں حل ہو جائیں گے وہ شاید عملی میدان کی مشکلات اور دہائیوں پر محیط بداعتمادی کو نظر انداز کر رہے ہیں۔
پاکستان کی عسکری اور سول قیادت کے حالیہ دوروں اور سفارتی کوششوں سے یہ تاثر ابھرا تھا کہ شاید معاملات طے پانے کے قریب ہیں مگر عالمی سیاست کی بساط پر فریقین کی جانب سے اکثر ایسے بیانات یا اقدامات سامنے آ تے ہیں جو اتفاقِ رائے کی راہ میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ مذاکراتی عمل کی روح یہ تقاضا کرتی ہے کہ اس دوران جارحانہ بیانات سے مکمل گریز کیا جائے لیکن بدقسمتی سے مشرقِ وسطیٰ کے تناظر میں جارحیت اور تندوتیز جملوں کا تبادلہ جاری رہا ہے‘ جو امن کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔ اس کے باوجود اسلام آباد ان تلخیوں کو کم کرنے میں اپنا تاریخی کردار ادا کر رہا ہے۔ خوش آئند ہے کہ امریکی وفد اسلام آباد پہنچ گیا ہے۔ سی این این کے مطابق وائٹ ہائوس نے تصدیق کی ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس‘ سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ایران کے ساتھ مذاکرات میں شرکت کریں گے۔ ابتدائی طور پر سکیورٹی خدشات کی بنا پر نائب صدر کی آمد پر شکوک و شبہات تھے لیکن امریکی انتظامیہ کا یہ مؤقف رہا کہ نائب صدر اس اہم مشن کا حصہ ہوں گے۔ امریکی صدر نے بھی جے ڈی وینس کے پاکستان آنے کی تصدیق کی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھی پاکستان آنے کی خواہش کا اظہار کیا گیا مگر سکیورٹی ٹیم کی کلیئرنس نہ ملنے کی وجہ سے وہ تاحال اس پروگرام کا حصہ نہیں بن سکے۔ اسی طرح یہ بات بھی سامنے آئی کہ صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان بھی اسلام آباد آئیں جبکہ ایرانی صدر نے پاکستان آنے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا اور اگر ایرانی صدر اسلام آباد نہیں آتے تو شاید صدر ٹرمپ بھی نہ آئیں۔
مذاکرات کیلئے امریکی وفد کی آمد اور شرکا کی تفصیلات سامنے آ چکی ہیں تاہم ایرانی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ان کا وفد مذاکرات کے اگلے دور کے لیے پاکستان نہیں جائے گا کیونکہ ایک طرف امریکہ مذاکرات کی دعوت دیتا ہے اور دوسری طرف ایرانی اثاثوں اور بحری جہازوں کے خلاف کارروائیاں کر کے کشیدگی میں اضافہ کرتا ہے۔ ایران کے تحفظات بجا ہیں مگر پاکستان پُرامید ہے کہ ایرانی وفد مذاکرات کے دوسرے مرحلے کا حصہ بنے گا۔ایران اور امریکہ کے مابین بعض معاملات پر اگرچہ اختلافات برقرار ہیں لیکن معاہدے کا ہونا ناگزیر ہے کیونکہ اس نہج پر پہنچ کر معاملات اب ریورس نہیں ہو سکتے۔ ایشیائی ممالک کی مالی مشکلات اپنی جگہ اب امریکہ کے اہم اتحادی بشمول متحدہ عرب امارات اس جنگ کو مزید طول دینے کے حق میں نہیں ۔ وال سٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق یو اے ای کے مرکزی بینک کے گورنر خالد محمد بلامہ کی امریکی حکام سے ملاقاتوں میں یہ واضح اشارہ دیا گیا ہے کہ اگر جنگ جاری رہتی ہے اور ڈالر کی قلت پیدا ہوتی ہے تو وہ تیل کی فروخت کے لیے یوآن کا راستہ اختیار کر سکتے ہیں۔ یہ ایک ایسی معاشی دھمکی ہے جو امریکہ کے پائوں کی زنجیر بن چکی ہے۔ واشنگٹن اب یہ جان چکا ہے کہ ایران میں رجیم چینج کا روایتی طریقہ کار کارگر نہیں رہا اور جب تک مذاکرات کے ذریعے کوئی درمیانی راستہ نہیں نکلتا ایران کے خلاف کسی جنگی حربے سے کامیابی کا حصول ناممکن ہے۔ امن کو موقع دینا ہی واحد راستہ ہے۔ اگر اسلام آباد میں مذاکرات کے اس دور کے بعد مزید نشستوں کی ضرورت پڑتی ہے تو 22 اپریل کی جنگ بندی میں توسیع ایک ممکنہ حل ہو گا۔ امریکہ کو بھی اس بات کا احساس ہے کہ ایران پر دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ کا دائرہ اتنا پھیل جائے گا کہ اس کے نقصانات انسانی تصور سے باہر ہوں گے۔ اگر دوبارہ حملوں کے باوجود اہداف حاصل نہ ہوئے اور امریکہ کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تو عالمی برادری یہ سوال پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ اٹھائے گی کہ ایران کا انفراسٹرکچر تباہ کر کے اور عالمی معیشت کو بحران سے دو چار کر کے امریکہ نے کیا حاصل کیا؟