ایسا بے مثال حسنِ انتظام تو صرف وطنِ عزیز ہی میں ہو سکتا ہے کہ جہاں کسی ایک سیاستدان کو اندرونِ ملک کسی خاص منزل کی طرف سفر سے روکنے کیلئے ہزاروں لوگوں کو اندرون اور بیرونِ ملک پرواز نہ کرنے دیا جائے۔ مطلوبہ سیاستدان کے ساتھ دیگر مسافروں کو بھی ایئر پورٹ نہ پہنچنے دیا گیا۔
ہفتے کے روز پریشان حال مسافروں کو بچوں اور بوڑھوں سمیت 40‘ 45ڈگری سینٹی گریڈ کی تپتی دھوپ اور شعلے اگلتے سورج تلے اور انگارہ بنی سڑکوں پر رکشوں اور موٹر سائیکلوں پر جھلسنے دیا گیا۔ رکن قومی اسمبلی اور سابق سپیکر اسد قیصر نے انتظامیہ سے اپیل کی کہ چاہے انہیں سکردو نہ روانہ ہونے دیا جائے مگر باقی مسافروں کو تو محرومِ سفر نہ کیا جائے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر جو وڈیو جاری کی اس میں اسلام آباد ایئر پورٹ کی طرف جانے والی قریبی سڑک پر کھڑی گاڑیوں کی تاحد نگاہ قطار دیکھی جا سکتی ہے۔ پی ٹی آئی کے قائدین کے مطابق انہیں گلگت بلتستان انتخابی مہم میں حصہ لینے سے روکنے کیلئے یہ ساری کارروائی کی گئی تاہم اسد عمر اور مصطفی نواز کھوکھر کے علاوہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق بھی اس ٹریفک جام میں پھنسے رہ گئے۔ وہ بھی انتخابی مہم میں حصہ لینے کیلئے گلگت جا رہے تھے۔ ان کی پرواز بھی مِس ہو گئی۔ خواجہ صاحب نے اپنی حکومت کی اس ''بلاضرورت‘‘ کارروائی پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ سابق وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق شہیدِ جمہوریت خواجہ محمد رفیق کے فرزند ارجمند ہیں۔ اس لیے سچی بات ان کے منہ سے نکل ہی جاتی ہے۔ آج کل بطورِ خاص وہ کلمۂ حق کہہ گزرنے کی شہرت رکھتے ہیں۔ خواجہ سعد رفیق سے پرانی یاد اللہ ہے۔ کھل کر تو وہ بات نہیں کرتے مگر ان کی باتوں سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ ان کا سیاسی نقطۂ نظر ان کی جماعت کی پالیسی سے مختلف ہے۔
گلگت‘ سکردو‘ ہنزہ وغیرہ کی بلند بالا چوٹیوں اور سرسبز وادیوں کے حسن و جمال کے قصے زبانِ زد خاص و عام رہتے ہیں مگر وہاں کے حکومتی و انتظامی معاملات کے بارے میں کم ہی لوگ جانتے ہیں۔ گلگت بلتستان پاکستان کے زیر انتظام علاقہ ہے۔ 1840ء سے پہلے گلگت اور بلتستان مختلف ریاستوں میں بٹے ہوئے تھے۔ اس وقت ہنزہ اور نگر وغیرہ الگ خود مختار ریاستیں تھیں۔ گلگت بلتستان کہ جس کی آسمان کو چھوتی ہوئی چوٹیوں کو دیکھنے کیلئے پاکستان سمیت دنیا بھر سے سیّاح آتے اور ربِّ کائنات کی اس بے نظیر تخلیق کی خوب داد دیتے ہیں۔ اگرچہ گلگت بلتستان پاکستان کے زیر انتظام ایک خود مختار علاقہ ہے مگر ابھی تک یہ باقاعدہ دستوری صوبہ نہیں۔ گویا یہ سرزمین بے آئین ہے۔
گلگت بلتستان میں تین انتظامی ڈویژنز ہیں۔ گلگت ڈویژن میں گلگت کے علاوہ ہنزہ‘ نگر اور غذر شامل ہیں۔ بلتستان ڈویژن میں سکردو‘ گھانچے اور شگر وغیرہ شامل ہیں۔ جبکہ تیسرے ڈویژن میں میں دیامر‘ استور‘ داریل اور تانگیر کے علاقے آتے ہیں۔ یہ پاکستان کے شمال میں واقع انتہائی خوبصورت علاقہ ہے۔ یہ علاقہ نیلگوں جھیلوں‘ دریاؤں‘ آبشاروں‘ اونچے پہاڑوں‘ برف پوش چوٹیوں اور چشموں پر مشتمل ہے۔ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو بھی گلگت بلتستان کے ضلع شگر میں ہے۔ اس کی بلندی سطح سمندر سے 8611میٹر ہے جو ماؤنٹ ایورسٹ سے صرف 237 میٹر کم ہے۔ لگے ہاتھ آپ کو یہ بھی بتا دوں کہ قراقرم ہائی وے دنیا کا آٹھواں عجوبہ کہلاتی ہے۔ قراقرم ہائی وے کی لمبائی 1300کلومیٹر ہے جو حسن ابدال سے شروع ہو کر چین کے علاقے کاشغر پر ختم ہوتی ہے۔
اس خطے کی سیاسی جماعتوں اور عوامی و سماجی تنظیموں نے کئی سالوں سے گلگت بلتستان کو پاکستان کا باقاعدہ صوبہ بنانے یا اسے واضح دستوری سٹیٹس دینے کا مطالبہ کر رکھا ہے مگر ابھی تک اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ 2020ء کے انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف دو تہائی اکثریت سے گلگت بلتستان کا انتخاب جیت گئی تھی۔ اب نئے انتخابات کیلئے اس خطے کی 33نشستوں کیلئے انتخابی مہم زوروں پر ہے۔ پی ٹی آئی‘ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان انتخابی معرکہ زور شور سے برپا ہونے کی توقعات کی جا رہی ہیں۔ اس وقت بعض رپورٹوں کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے امیر مقام اور دیگر کئی وزراء اور عہدیدار انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ جبکہ پی ٹی آئی ترجمان کے بقول اس پارٹی کی انتخابی مہم اس کے میدان میں اترنے والے امیدوار خود ہی جوش و خروش سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ تحریک انصاف کے قائدین کا کہنا ہے کہ اس کے مرکزی رہنماؤں کو اوّل تو اس انتخابی معرکہ آرائی سے دور رکھا جا رہا ہے اور اگر اُن میں سے کوئی وہاں پہنچ جاتا ہے تو پھر اسے صوبہ بدر کر دیا جاتا ہے۔ تحریک انصاف کے صوبائی صدر اور قومی اسمبلی کے رکن جنید اکبر ایک سنجیدہ شخصیت کا تاثر رکھتے ہیں۔ انہیں بھی گلگت‘ سکردو اور ہنزہ وغیرہ میں ووٹروں سے ہمکلام ہونے کا موقع نہیں دیا گیا اور صوبہ چھوڑنے کا حکم دیا گیا۔
گلگت بلتستان کے الیکشن کمشنر راجہ شہباز خان کا کہنا ہے کہ وہ تمام جماعتوں پر انتخابی ضابطۂ اخلاق کا یکساں نفاذ کر رہے ہیں۔ انہوں نے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر انتخابی عمل میں مداخلت کا الزام لگایا ہے۔ سات جون کو گلگت بلتستان میں 24 براہ راست انتخابی سیٹوں کیلئے پولنگ ہو گی۔ چھ خواتین کی نشستیں ہیں اور تین ٹیکنو کریٹس کی سیٹیں ہیں۔ اس طرح یہ 33 رکنی یک ایوانی پارلیمنٹ ہے۔ اس سے پہلے 2020ء میں جو انتخابات ہوئے تھے اس میں پاکستان تحریک انصاف کو آزاد ارکان کی حمایت اور خواتین اور ٹیکنو کریٹس کی مخصوص نشستیں ملا کر 22 سیٹیں حاصل ہوئی تھیں گویا اُن کی دو تہائی اکثریت تھی۔ نومبر 2025ء میں گلگت بلتستان اسمبلی نے اپنی مدتِ مقررہ مکمل کر لی تھی۔ ضابطے کے مطابق نئے انتخابات جنوری 2026ء میں ہونے تھے مگر اُن دنوں اس سارے پہاڑی خطے میں شدید برفباری ہو رہی تھی اور سردی ناقابلِ برداشت تھی۔ اس لیے انتخابات ملتوی کیے گئے اور اب سات جون کو خوشگوار موسم میں انتخابات ہو رہے۔ جنید اکبر‘ اسد قیصر‘ مصطفی نواز کھوکھر اور علامہ راجہ ناصر عباس نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی فضا کو موسمی فضا کی طرح خوشگوار بنائے۔ اس وقت گلگت بلتستان میں نگران حکومت نے انتظامات سنبھال رکھے ہیں۔ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے چیف جسٹس سپریم اپیلٹ کورٹ گلگت بلتستان سے اپیل کی ہے وہ چیف الیکشن کمشنر کو اس اہم خطے میں آزادانہ و منصفانہ انتخابات کرانے کا پابند کریں۔
گلگت بلتستان میں پاکستان کے دوسرے صوبوں کی نسبت شرح خواندگی بہت بلند ہے۔ وہاں دینی تعلیم ہو یا عام رائج دنیاوی ایجوکیشن‘ دونوں اقسام کا معیار بہت اونچا ہے۔ ماضی میں ہم نے وہاں مقیم رہنے والے پروفیسروں‘ دانشوروں اور صحافیوں وغیرہ سے سن رکھا ہے کہ یہ نہایت باشعور لوگوں کی کمیونٹی ہے۔ حکومتِ وقت ان کے شعور پر مکمل اعتماد کرے اور صاف شفاف انتخابات کو یقینی بنائے تاکہ اگلے عام انتخابات کیلئے حکومتی ساکھ مضبوط ہو سکے۔
مصطفی نواز اور اسد قیصر جیسے سینئر سیاستدانوں کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک کو سیاست و معیشت اور عوام الناس کو خوفناک مہنگائی کی شکل میں جو ناقابلِ بیان مسائل درپیش ہیں ان کا صرف اور صرف ایک حل ہے کہ حکومت اپوزیشن کے ساتھ افہام و تفہیم کا راستہ اپنائے اور اس کا آغاز گلگت بلتستان کے فیئر اینڈ فری انتخابات سے ہو۔