"MMC" (space) message & send to 7575

عصبیتِ جاہلیہ …(1)

عربی زبان میں ''عصب‘‘ کے معنی ہیں: مضبوطی سے باندھنا۔ عُصبَہ اور عِصابہ ایک مضبوط جماعت کو کہتے ہیں‘ جیسا کہ برادرانِ یوسف نے کہا تھا: ''یوسف اور اس کا بھائی ہمارے باپ کے نزدیک ہم سے زیادہ محبوب ہیں‘ حالانکہ ہم پوری جماعت (عُصْبَہ) ہیں‘‘ (یوسف: 8)۔ علامہ ابن منظور افریقی لکھتے ہیں: ''عصبیت یہ ہے کہ ایک شخص کو اپنی قوم (یا گروہ) کی مدد کیلئے بلایا جائے تاکہ وہ ان کے ساتھ مل کر ان کے مخالف کے مقابل صف آرا ہو‘ اس بات سے قطعِ نظر کہ مخالف ظالم ہے یا مظلوم‘‘ (لسان العرب‘ ج: 10‘ ص: 167)۔ یعنی حق اور ناحق سے آنکھیں بند کرکے اپنی قوم یا گروہ کی حمایت کیلئے بلایا جائے۔ باپ کی طرف سے اَقارب کو بھی ''عَصَبَہ‘‘ کہتے ہیں کیونکہ وہ مشکل میں مددگار بنتے ہیں۔ تعصب درحقیقت ایک فطری جذبہ اور اپنے گروہ سے وابستگی کا نام ہے‘ خواہ یہ گروہ مذہبی‘ قومی‘ لسانی یا سیاسی ہو‘ اسی بنیاد پر انسان سماجی مخلوق بنتا ہے اور اسی کی وجہ سے اجتماعی زندگی میں حُسن پیدا ہوتا ہے۔ ابنِ خَلَّدون کے نزدیک قوموں کے عروج و زوال کے پس منظرمیں بھی نظریۂ عصبیت کی کارفرمائی نظرآتی ہے۔ اُن کے مطابق جذبۂ عصبیت مشکلات کے وقت لوگوں کیلئے ایک ڈھال کی سی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔ اس نظریے کی رو سے ایک فرد چاہے اُس کا تعلق کسی بھی گروہ‘ خاندان یا قبیلے سے ہو‘ وہ تعلق کی بنیاد پر اپنے گروہ‘ خاندان یا قبیلے کو دوسروں سے برتر خیال کرتا ہے۔ اس کا یہ تصوّر عصبیت ہے اور یہ ایک فطری عمل ہے‘‘۔ مگر جب تعصّب اور وابستگی حق وباطل‘ صحیح وغلط اور خیر وشر کی تمیز سے بالاتر ہو جائے اور اپنے گروہ اور رہنماکی اندھی عقیدت میں بدل جائے تو یہ دینی اعتبار سے مذموم ہے اور انسان کو بہت سے اخلاقی جرائم میں مبتلا کر دیتا ہے۔ حضرت سراقہؓ بن مالک بن جعشم المدلجی بیان کرتے ہیں: آپﷺ نے ایک خطبے میں فرمایا: ''تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو اپنے قبیلے کا دفاع کرے‘ بشرطیکہ یہ حمایت گناہ کا سبب نہ ہو‘‘ (ابوداؤد: 5120)۔
تاریخ پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جتنی بھی قوموں نے عروج پایا ہے‘ ان میں عصبیت کے جذبے نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ عصبیت کو اگر ایک نیک اور اعلیٰ مقصد کے حصول کیلئے استعمال کیا جائے تو اس میں مضائقہ نہیں‘ لیکن اگر اس کو دوسری قوموں سے نفرت اور انسانوں کے درمیان امتیازی سلوک کیلئے استعمال کیا جائے تو یقینا یہ مذموم ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہﷺ کے زمانے میں مہاجرین اور انصار کے دو غلام آپس میں لڑ پڑے‘ مہاجر غلام نے مہاجرین کو مدد کیلئے پکارا اور انصاری غلام نے انصار کو مدد کیلئے بلایا‘ نبی کریمﷺ ان کی یہ پکار سن کر اپنے حجرے سے باہر تشریف لائے اور ناراض ہو کر فرمایا: تم یہ کیا جاہلیت کی طرف بلا رہے ہو‘ انہوں نے عرض کی: نہیں‘ یا رسول اللہﷺ! بس یہ دو لڑکے آپس میں لڑ پڑے ہیں اور ایک نے دوسرے کی سرین پر ضرب لگائی ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: کوئی (بڑی) بات نہیں اور ہر انسان کو اپنے بھائی کی‘ خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم‘ مدد کرنی چاہیے‘ اگر اس کا بھائی ظالم ہو تو اسے (ظلم سے) روکے‘ یہی اس کی مدد ہے اور اگر مظلوم ہو تو اس کی مدد کرے‘‘ (مسلم: 2584)۔ حضرت واثلہ بن الاسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسولﷺ سے پوچھا گیا: ''ایک شخص اپنی قوم سے محبت کرتا ہے‘ کیا یہ عصبیت ہے‘ آپﷺ نے فرمایا: نہیں! بلکہ عصبیت یہ ہے کہ ایک شخص ظلم میں اپنی قوم کا مددگار بنے‘‘ (ابن ماجہ: 3949)۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اپنی قوم اور برادری سے محبت کرنا اور ان سے ظلم کی مدافعت کرنا اور ان کیلئے ترقی کے مواقع تلاش کرنا اور اقوام عالم میں ان کو اعلیٰ مقام دلانا مذموم نہیں ہے‘ تعصب وہی مذموم ہے جس میں انسان ظلم میں اپنی قوم کا مددگار بن جائے اور حق کی مخالفت کرے اور حق وباطل کی تمیز کرنا بھول جائے۔
احادیثِ مبارَکہ میں عصبیت کی حقیقت کو بالکل واضح کر دیا گیا ہے: حضرت جبیرؓ بن مطعم بیان کرتے ہیں: رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''جس نے عصبیتِ (جاہلیہ) کی طرف بلایا‘ وہ ہم میں سے نہیں اور جو شخص عصبیتِ (جاہلیہ) کی خاطر لڑا وہ ہم میں سے نہیں اور جو شخص عصبیتِ (جاہلیہ) پر مرا‘ وہ ہم میں سے نہیں‘‘ (ابوداؤد: 5121)۔ حضرت عبداللہؓ بن مسعود بیان کرتے ہیں: آپﷺ نے فرمایا: ''جو شخص ناحق بات میں اپنی قوم کی مدد کرے تو اس کی مثال اُس اونٹ کی سی ہے جو گہرے گڑھے میں گِر چکا ہے اور اسے اُس کی دم پکڑ کا نکالا جا رہا ہے‘‘ (ابوداؤد: 5117)۔ ان احادیثِ مبارکہ سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ ناحق اور ظلم پر اپنی قوم‘ قبیلے یاگروہ کی حمایت عصبیتِ جاہلیہ ہے اور یہی وہ خصلت ہے جو انسان کو ظلم پر آمادہ کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قوم یا گروہ کی اس حدتک بے جا حمایت سے منع فرمایا کہ جس کے نتیجے میں ظلم کو روا سمجھا جائے۔ قرآن مجید میں فرمایا: ''اور کسی قوم کی عداوت تمہیں ناانصافی پر نہ ابھارے‘ عدل کرو‘ یہی تقویٰ کے قریب ترین ہے‘‘ (المائدہ: 8)۔ اور فرمایا: ''اور کسی کے ساتھ عداوت تمہیں اس پر نہ اکسائے کہ (اپنے غلبے کے زمانے میں) اُنہوں نے تمہیں مسجد حرام میں آنے سے روک دیا تھا کہ (اب ان پر غلبہ پانے کے بعد) تم بھی ان کے ساتھ زیادتی کرو‘ تم نیکی اور تقویٰ پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور ظلم میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو‘ بیشک اللہ سخت سزا دینے والا ہے‘‘ (المائدہ: 2)۔ ان آیات واحادیث مبارَکہ میں جہاں ظلم پر اپنی قوم‘ قبیلے یا گروہ کی حمایت کو ''عصبیتِ جاہلیہ‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے اور اس کی مذمّت فرمائی گئی ہے‘ وہیں خیر اور نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد اور ظلم وعدوان کے خلاف صف آرا ہونے کی ترغیب بھی دی گئی ہے اور اس کی تحسین بھی فرمائی گئی ہے۔
اگر چہ اس وقت قومی ریاستوں کا دور دورہ ہے اور ملت اسلامیہ قومی ریاستوں میں بٹی ہوئی ہے اور قومی عصبیت کے بغیر کسی ریاست کا وجود ممکن ہی نہیں ہے‘ لیکن اگر اس میں ملّی اور دینی مفادات کا خیال نہ رکھا جائے تو ملت اسلامیہ کے وجود کیلئے انتہائی نقصان دہ ہے۔ عصبیت کی بنیاد پر وجود میں آئی ہوئی قومی ریاستوں کا نقصان مسلمانوں کو خلافت کے خاتمے کی صورت میں ہوا‘ خلافت مسلمانوں کی شان وشوکت اور عزت ووقار کی علامت تھی‘ نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاک کاشغر مسلمانوں کے دبدبے کی علامت تھی‘ جس کے خاتمے سے مسلمانوں کا عروج زوال میں بدل گیا‘ عزت کی جگہ ذلت نے لی اور شان وشوکت کی جگہ خستہ حالی نے لی؛ اگرچہ وقتاً فوقتاً مصلحین امت نے مسلمانوں کے دوبارہ اتحاد کی کوششیں کیں لیکن مسلمانوں کے دوبارہ اتحاد کی راہ میں بھی یہی رکاوٹ ہے۔ اسلامی ممالک عرب وعجم‘ ایرانی‘ تورانی‘ ترکی اور افغانی میں بٹے ہوئے ہیں اور جسد واحد کا تصور ناپید ہے‘ حالانکہ رسول اللہﷺ نے مسلمانوں کو جسد واحد قرار دیا ہے: حضرت نعمانؓ بن بشیر بیان کرتے ہیں: رسول اللہﷺ نے فرمایا: تم مومنوں کو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ رحمت ومحبت کا معاملہ کرنے اور ایک دوسرے کے ساتھ شفقت ونرم خوئی میں ایک جسم کی مانند پائو گے‘ جب اس جسم کا کوئی حصہ بھی تکلیف میں ہوتا ہے تو سارا جسم تکلیف میں ہوتا ہے اور اس کی ساری رات بیداری اور بخار میں گزرتی ہے‘‘ (بخاری: 6011)۔ آج پورے عالم میں مسلمان زندگی کے ہر میدان میں ابتلا وآزمائش کا شکار ہیں‘ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مسلمان آپس کے تعصبات سے بالاتر ہو کر جسد واحد کے مصداق بن جاتے‘ لیکن عملاً مسلمان ستاون مختلف دنیائوں سے تعلق رکھتے ہیں‘ جن کی ترجیحات میں کوئی مطابقت نہیں‘ بلکہ بعض کو تو ایک دوسرے کا وجود بھی برداشت نہیں ہے اور ان کا ماٹو بقول ایک پاکستانی بزرگ سیاستدان یہ ہے کہ اتفاق اس بات پر ہے کہ اتفاق نہیں کریںگے اور اس کی سب سے بڑی وجہ آپس کے تعصبات اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اختلافات ہیں‘ ورنہ مسلمانوں کے پاس مالی وسائل یا عسکری اور حربی آلات‘ کسی بھی چیز کی کمی نہیں ہے۔ (جاری)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں