"MMC" (space) message & send to 7575

فلسفۂ شہادت!

عرفِ عام اور طبی اصطلاح میں جب تک رشتۂ جاں قائم ہے‘ سانس آ جا رہا ہے‘ انسان ذی حیات ہے‘ زندہ ہے اور اس پر زندوں کے احکام مرتب ہوتے ہیں اور جب رشتۂ جاں ختم ہو جائے‘ حرکتِ قلب بند ہو جائے تو اس پر موت کا اطلاق ہوتا ہے اور اُسے مردہ قرار دیا جاتا ہے اور اسی اعتبار سے شرعی احکام نافذ ہوتے ہیں۔ لیکن شہادت کیلئے اللہ تبارک وتعالیٰ نے حیات وموت کے ظاہری تصور اور طبی مفہوم کو ساقط کر دیا ہے۔ ارشاد ہوا: ''اور جو اللہ کی راہ میں مارا جائے‘ اُسے مردہ نہ کہو‘ بلکہ وہ زندہ ہیں‘ لیکن تمہیں ان کی زندگی کا شعور نہیں ہے‘‘ (البقرہ: 154)۔ (2) ''اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کر دیے گئے ہیں‘ انہیں مردہ گمان نہ کرو‘ بلکہ وہ اپنے رب کے حضور زندہ ہیں‘ انہیں رزق دیا جاتا ہے‘‘ (آل عمران: 169)۔ ان آیاتِ مبارکہ کی رو سے جو اللہ کی راہ میں یعنی اللہ کے دین کی حفاظت اور سربلندی کیلئے قتل کر دیے گئے ہیں‘ وہ شرعی اصطلاح میں شہید ہیں۔ دنیاوی اعتبار سے ان پر مردہ انسان کے احکام جاری ہوتے ہیں‘ ان کا جنازہ پڑھا جاتا ہے‘ تدفین کی جاتی ہے‘ اُن کی بیوائیں عدتِ وفات گزارنے کے بعد کہیں بھی نکاح کیلئے آزاد ہوتی ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے تاکیدی حکم فرمایا کہ انہیں نہ تو زبان سے مردہ کہو اور نہ اپنے حاشیۂ خیال میں انہیں مردہ گمان کرو‘ بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور زندہ ہیں اور انہیں رزق دیا جاتا ہے‘ اگرچہ ہمیں ان کی زندگی کی حقیقت کا شعور نہیں ہے۔ ''رسول اللہﷺ نے شہدائے اُحد کے بارے میں فرمایا: انہیں اُن کے خون آلود جسموں اور خون آلود کپڑوں میں لپیٹ دو (یعنی یہی اُن کا کفن ہوگا)‘ کیونکہ جو زخم اللہ کی راہ میں لگا ہو‘ قیامت کے دن اُس کی حالت یہ ہو گی کہ رنگ تو خون جیسا ہی ہو گا مگر خوشبو کستوری جیسی ہو گی‘‘ (سنن نسائی: 2002)۔ الغرض دنیا کی فانی زندگی رشتۂ حیات کے قائم رہنے کا نام ہے اور آخرت کی ابدی اور دائمی زندگی جان کو جاں آفریں کے سپرد کرنے کا نام ہے۔ علامہ اقبال نے کہا ہے:
تو اسے پیمانۂ امروز و فردا سے نہ ناپ؍ جاوداں پیہم دواں ہر دم جواں ہے زندگی
شہید کو شہید اس لیے کہتے ہیں کہ اس کی ظاہری حالت اس کے جنتی ہونے کی شہادت دیتی ہے‘ فرشتے اس کی روح کے استقبال کیلئے حاضر ہوتے ہیں۔ رسول اللہﷺ نے شہادت کو معراج عطا کرتے ہوئے فرمایا: ''اُس ذات کی قسم! جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے‘ میری تمنا ہے کہ میں اللہ کی راہ میں شہید کیا جائوں‘ پھر زندہ کیا جائوں‘ پھر شہید کیا جائوں‘ پھر زندہ کیا جائوں‘ پھر شہید کیا جائوں‘ پھر زندہ کیا جائوں‘ پھر شہید کیا جائوں‘‘ (بخاری: 2797)۔ اس میں آپﷺ نے چار مرتبہ شہادت کی تمنا کی ہے‘ یہ تمنا درجۂ شہادت کی عظمت کو ظاہر کرنے کیلئے کی ہے۔
کربلائے مُعلّٰی میں جب امامِ عالی مقام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے اہلِ بیت اور اعوان وانصار سے کہا: ''یہ لوگ میرے خون کے پیاسے ہیں‘ جب مجھے شہید کر دیں گے تو انہیں باقی کسی کی پروا نہیں رہے گی‘ اس لیے تم میں سے جو چاہے‘ رات کی تاریکی میں نکل جائے‘ اللہ کی زمین بہت وسیع ہے‘‘ تو مسلم بن عوسجہ اسدی اور سعید بن عبداللہ حنفی نے کہا: ''خدا کی قسم! ہم آپ کو تنہا نہیں چھوڑیں گے‘ یہاں تک کہ اللہ دیکھ لے کہ ہم نے رسول اللہﷺ کی غیاب میں ان کے نواسے کی مقدور بھر حفاظت کی ہے۔ یہ تو ایک جان ہے‘ اللہ کی قسم! اگر مجھے ایک ہزار زندگیاں بھی مل جائیں اور میں ایک ایک کر کے ہر زندگی آپ کی حفاظت میں قربان کر دوں اور اس کے ذریعے آپ اور آپ کے اہلِ بیت کی جانیں محفوظ ہو جائیں تو یہ میرے لیے انتہائی پسندیدہ بات ہو گی‘‘۔ دوسرے حضرات نے بھی ایسے ہی جذبۂ ایثار کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ''اللہ کی قسم! ہم آپ کو تنہا چھوڑ کر نہیں جائیں گے‘ ہماری جانیں آپ پر قربان ہو جائیں‘ ہم اپنے سینے‘ اپنی پیشانیاں‘ اپنے ہاتھ اور اپنے جسم غرض اپنا سب کچھ آپ پر قربان کر دیں گے‘ پس جب ہم شہید کر دیے جائیں گے تو ہم پر جو آپ کا حق واجب ہے‘ ہم حقِ وفا ادا کر چکے ہوں گے‘‘ (البدایہ والنہایہ لابن کثیر الدمشقی‘ ج: 11‘ ص: 530)۔ یہی شوقِ شہادت حرمتِ رسول کی پاسداری کیلئے اصحابِ رسول کا تھا۔
اہلِ عزیمت میں سے ایک عظیم مثال حضرت عبداللہؓ بن حذافہ سہمی کی ہے: انہیں شام کے نصرانیوں نے قید کر کے قیصرِ روم کے دربار میں پیش کیا۔ قیصر نے کہا: ''نصرانی مذہب قبول کر لو‘ میں انعام کے طور پر اپنی بیٹی تمہارے نکاح میں دوں گا اور اپنی بادشاہت میں تمہیں شریک کروں گا‘‘۔ حضرت عبداللہؓ بن حُذافہ نے جواب دیا: ''جو دولت وسلطنت تمہاری مِلک میں ہے اور اس کے علاوہ جو پورے عالَم عرب میں ہے‘ اگر یہ سب مجھے دے دی جائے‘ تب بھی میں ایک پلک جھپکنے کی مقدار دینِ محمد سے رجوع نہیں کروں گا‘‘۔ قیصر نے کہا: ''پھر میں تجھے قتل کر ڈالوں گا‘‘۔ انہوں نے جواب دیا: ''جو تمہارے جی میں آئے کرو‘‘۔ قیصر نے اپنے کارندوں کو حکم دیا کہ اِسے سولی پر لٹکائو اور اس کے ہاتھ پائوں کے قریب تیر اندازی کرو‘ اس دوران وہ انہیں عیسائیت کی دعوت دیتے رہے اور یہ مسلسل انکار کرتے رہے۔ پھرحضرت عبداللہؓ کو سولی سے اتارا گیا اور ایک دیگ میں تانبے کو پگھلا کر جوش دیا گیا‘ پھر مسلمان قیدیوں کو ایک ایک کر کے اُس میں ڈالا جاتا رہا‘ اُن کا گوشت جل جاتا اور ہڈیوں کا ڈھانچا رہ جاتا۔ پھر انہیں دیگ میں پھینکنے کیلئے ایک چرخی میں رکھا گیا تو آپ رونے لگے‘ اس پر قیصر کو امید پیدا ہوئی کہ اب یہ موت کو آنکھوں کے سامنے دیکھ کر عیسائیت قبول کر لیں گے‘ سو اُس نے دعوت دی۔ حضرت عبداللہؓ بن حُذافہ نے کہا: ''میں تو اس لیے رو رہا ہوں کہ یہ صرف ایک جان ہے‘ میری تمنا تو یہ تھی کہ میرے وجود کے ہر بال کے برابر میری جانیں ہوتیں اور میں ایک ایک کر کے انہیں اللہ کی راہ میں قربان کر دیتا‘‘۔ ایک روایت میں ہے: انہیں جیل میں ڈال دیا گیا اور ایک عرصے تک کھانا پینا بند کر دیا گیا‘ پھر قید سے نکال کر اُن کے سامنے شراب اور خنزیرکا گوشت رکھ دیا گیا‘ انہوں نے ان چیزوں کو ہاتھ تک نہ لگایا۔ قیصر نے بلا کر پوچھا: تم نے ان چیزوں سے اپنی جان بچانے کی کوشش کیوں نہیں کی؟ انہوں نے جواب دیا: اگرچہ ہماری شریعت میں جان بچانے کیلئے ان حرام چیزوں کو کھانے اور پینے کی اجازت ہے‘ لیکن میں ایسا کر کے تمہیں خوشی کا موقع نہیں دوں گا۔ قیصر نے کہا: میری پیشانی پر بوسہ دو‘ میں تمہیں آزاد کر دوں گا۔ حضرت عبداللہؓ نے جواب دیا: میں اس شرط پر تمہاری پیشانی کو بوسہ دوں گاکہ تم میرے تمام ساتھی قیدیوں کو رہا کر دو‘ قیصر نے کہا: یہ شرط منظور ہے‘ پھر حضرت عبداللہؓ نے اس کی پیشانی کو بوسہ دیا اور اپنے تمام ساتھی قیدیوں کو رہا کرا کے مدینہ طیبہ لے آئے۔ جب وہ امیر المومنین حضرت عمرؓ بن خطاب کے پاس پہنچے اور انہیں سارا ماجرا سنایا تو حضرت عمرؓ نے کہا: ہر مسلمان پر لازم ہے کہ عبداللہ بن حُذافہ کی پیشانی کو بوسہ دے اور میں اس کی ابتدا کرتا ہوں‘ وہ اٹھے اور اُن کی پیشانی کو بوسہ دیا‘‘ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہٗ (تفسیر ابن کثیر‘ ج:4‘ ص: 606)۔ مرزا مظہر جانِ جاناں نے کہا:بنا کردند خوش رسمے بخون وخاک غلطیدن ؍ خدا رحمت کُند ایں عاشقان پاک طینت را۔ مفہوم: انہوں نے خاک وخون میں لوٹ پوٹ کر ایک عظیم رسم کی بنیاد ڈالی ہے‘ اللہ تعالیٰ ایسے پاک طینت عاشقوں پر رحمتیں نازل فرمائے۔ فیض احمد فیض نے کہا تھا:
جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا‘ وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے اس جاں کی تو کوئی بات نہیں
راہِ حق میں شہادت کی جو ہمہ جہت عدیم النظیر مثال امام عالی مقام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ آپ کے اہلِ بیت اطہار اور آپ کے اعوان وانصار نے قائم کی‘ دنیا میں اس کی نظیر نہیں ملتی اور رہتی دنیا تک آپ کا نقش پائندہ وتابندہ رہے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں