(10) امریکہ عہد کرتا ہے کہ اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے کے فوراً بعد اور عائد کردہ پابندیوں کے خاتمے تک امریکی وزارتِ خزانہ ایرانی خام تیل‘ پٹرولیم مصنوعات‘ ذیلی پیداوار اور تمام متعلقہ خدمات کی برآمد کیلئے پابندیوں سے چھوٹ کا اجازت نامہ جاری کرے گا۔ اس میں بینکوں کے ذریعے رقوم کی منتقلی‘ انشورنس اور نقل وحمل وغیرہ سب شامل ہیں۔
(11)امریکہ عہد کرتا ہے کہ وہ اس مفاہمتی یادداشت کے نفاذ کے بعد ایران کی منجمد رقوم اور اثاثوں پر سے پابندیاں اٹھا کر استعمال کیلئے دستیاب کرے گا‘ فریقین مکالمے کے دوران ان رقوم کی واگزاری کیلئے باہمی اتفاقِ رائے سے طریقۂ کار طے کریں گے‘ یہ رقوم خواہ بدستور اصل اکائونٹ میں جمع ہوں یا کہیں منتقل کر دی گئی ہوں‘ ایران کا مرکزی بینک جس کو نامزد کرے گا‘ اس کو ادائیگی کیلئے مکمل طور پر دستیاب ہوں گی‘ امریکہ عہد کرتا ہے کہ تمام ضروری اجازت نامے اور منظوریاں حسبِ ضرورت جاری کرے گا۔ (12) فریقین اس بات پر متفق ہیں کہ اس مفاہمتی یادداشت اور اس کے نتیجے میں حتمی معاہدے کے کامیابی کے ساتھ نفاذ کیلئے ایک انتظامی طریقۂ کار وضع کریں گے۔ (13) مفاہمتی یادداشت پر دستخط اوراس کے پیراگراف 1‘ 4‘ 5‘ 10 اور 11 میں درج اقدامات کے مسلسل نفاذ کیلئے فریقین حتمی اور جامع معاہدے اور دوسرے پیراگرافوں کیلئے مکالمہ شروع کریں گے۔ (14) حتمی معاہدے کی توثیق اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے ذریعے کی جائے گی اور فریقین اس کے پابند ہوں گے۔
چونکہ امریکہ کی طرف سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اور ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد یہاں سے تجارتی جہازوں کی آزادانہ آمد ورفت موقوف ہو گئی تھی‘ اس لیے یہ صورتحال پوری دنیا کیلئے پریشانی کا سبب بنی‘ پٹرول کی قیمتیں تیزی سے بڑھنے لگیں اور دنیا کے بیشتر ممالک پر اس کے اثر ات مرتب ہونے لگے حتیٰ کہ امریکہ میں بھی تیل کی قیمتیں بڑھنے لگیں۔ ہم بارہا لکھ چکے ہیں کہ امریکی صدر ٹرمپ ناقابلِ پیش گوئی اور ناقابلِ اعتماد شخص ثابت ہوئے ہیں‘ مزید یہ کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر آتشیں بیانات جاری کرتے ہیں اور ان کے بیانات بدلتے بھی رہتے ہیں۔ عام طور پر قوموں کے درمیان مذاکرات کی تکمیل تک بیان بازی سے گریز کیا جاتا ہے تاکہ بیرونی ماحول سے متاثر ہوئے بغیر معاملات طے ہو سکیں لیکن یہاں اس کے برعکس ہو رہا ہے۔ امریکی صدر روزانہ کی بنیاد پر اشتعال انگیز بیانات جاری کرتے ہیں‘ پھر ایرانی پاسدارانِ انقلاب اور قیادت بھی اینٹ کا جواب پتھر سے دینے پر کاربند رہے ہیں‘ اس لیے اصلاحِ احوال کیلئے جو اعتماد کی فضا درکار ہوتی ہے‘ وہ یہاں موجود نہیں ہے۔ ایران کو بھی چاہیے کہ خلیجی ممالک کے ساتھ بامعنی رابطے کا کوئی طریقۂ کار وضع کرے تاکہ بے اعتمادی کی فضا ختم ہو۔ مسلم ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا جتنی بہتر ہو گی‘ اتنا ہی اسرائیل کا نفوذ کم ہوگا۔ ایرانی قیادت کے ذہن میں بجا طور پر یہ اندیشہ موجود ہے کہ امریکہ قابلِ اعتماد نہیں ہے‘ نیز اسرائیل کبھی نہیں چاہے گا کہ ایران امریکہ اور خلیجی ممالک کے درمیان بہتر فضا پیدا ہو۔ پس وقتاً فوقتاً رونما ہونے والے تنازعات کے فوری حل کیلئے کوئی میکانزم بھی موجود ہونا چاہیے‘ جیسا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ اگر کوئی شکایت ہو تو ہم سے براہِ راست رابطہ قائم کریں‘ سو کوئی ہاٹ لائن ضرور ہونی چاہیے۔
لبنان کی صورتحال اور لبنان میں اسرائیل کی دراندازی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اور ایران نے اسے اپنی بقا کے ساتھ جوڑا ہوا ہے‘ اس کا بھی کوئی دیرپا حل تلاش کرنا ناگزیر ہے ۔ ایران کیلئے کیا اچھا ہے اور کیا برا‘ اس کا فیصلہ وہی کر سکتے ہیں اور ہر فیصلے‘ اقدام اور پالیسی کی ایک قیمت ہوتی ہے جو ادا کرنا پڑتی ہے۔ ایران امریکہ تکنیکی مذاکرات کے بارے میں متضاد اطلاعات آتی رہتی ہیں‘ لگتا ہے کہ ثالث بھی مسلسل مصروفِ عمل ہیں ۔ اس دوران 25 جون کو بحرین میں امریکی وزیرِ خارجہ کے ساتھ خلیجی ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس بھی منعقد ہوا ہے‘ اعلامیے کے مطابق اس اجلاس کی صدارت بحرین کے وزیر خارجہ نے کی‘ جبکہ خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل بھی موجود تھے۔ اعلامیے کے مطابق امریکی وزیر خارجہ نے خلیجی ممالک کی سلامتی کے ساتھ امریکہ کی مستحکم وابستگی کا یقین دلاتے ہوئے کہا: ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدہ خطے کے حالات کو تبدیل کر سکتا ہے‘ خاص طور پر امن‘ سلامتی اور معاشی ترقی کے مواقع پیدا ہوں گے‘ لبنان اور آبنائے ہرمزسمیت علاقائی تنازعات کے حل اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کیلئے سفارتی کوششوں پر زور دیا گیا ہے۔ سرِ دست پسِ پردہ مذاکرات بھی جاری ہیں‘ فریقین ایک دوسرے پر حملے بھی کر رہے ہیں اور تسلسل کے ساتھ جارحانہ بیانات بھی جاری ہیں‘ پس اس سلسلے کو پایۂ تکمیل تک پہنچانا تنی ہوئی رسی پر چلنے کے مترادف ہے۔ ایران کو امریکہ پر اعتماد بھی نہیں ہے‘ ایران میں پاسدارانِ انقلاب سمیت ایک مؤثر طبقہ موجود ہے جو سمجھتا ہے کہ امریکہ کی نیت صحیح نہیں ہے‘ گزشتہ ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے اس پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا‘ لہٰذا امریکہ کے سارے اقدامات اور یقین دہانیاں از سرِ نو حملے کی تیاریوں کیلئے ہیں۔ امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں کے وسط مدتی انتخابات بھی 3 نومبر کو منعقد ہونے والے ہیں۔ شاید ایرانیوں کے ذہن میں یہ اندیشہ بھی ہو کہ وسط مدتی انتخابات کے بعد اگر کانگریس میں ٹرمپ کی بالادستی برقرار رہتی ہے تو وہ کوئی انتہائی اقدام بھی کر سکتا ہے۔ مسئلے کی جڑ یہ ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم اور اُن کی حکومت میں شامل انتہا پسند طبقات کو ایران امریکہ معاہدہ کسی صورت پسند نہیں ہے‘ پس وہ اسے ناکام بنانے کی ہر تدبیر کریں گے۔ عربی کا مقولہ ہے: ''گھر والا اپنے معاملات کو دوسروں کے بہ نسبت بہتر جانتا ہے‘‘۔ یہی اصول ایران پر بھی صادق آتا ہے‘ لیکن ہمارے نزدیک اگر ایران اس معاہدے کو کسی طرح تکمیل تک پہنچا سکے تو اسے بھی مناسب مہلت مل جائے گی‘ پابندیاں اٹھ جائیں گی‘ منجمد اثاثے واگزار ہو جائیں گے‘ معاہدے کے مطابق اُسے اپنی تعمیرِ نَو کیلئے تین سو ارب ڈالر مل سکتے ہیں‘ وہ اپنا تیل عالمی مارکیٹ میں فروخت کر سکے گا‘ اسے اپنی اقتصادی بحالی کیلئے وسائل بھی دستیاب ہوں گے‘ تباہ شدہ ڈھانچے کی تعمیرِ نو کے ساتھ ساتھ مستقبل کی ممکنہ جنگ کیلئے تیاری بھی کر سکے گا۔ اسے اپنی فضائیہ کو بھی نئے سرے سے کھڑا کرنا ہے اور تباہ شدہ بحری قوت کو بھی بحال کرنا ہے‘ الغرض اُسے بھی وقت اور وسائل درکار ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ایران نے اپنے رہبر کا انتقام لینے کے عزم کا اظہار بھی کیا ہے۔
اسلام نے جنگ سے پیٹھ پھیرنے کو کبیرہ گناہ قرار دیا ہے‘ مگر حکمتِ عملی کے تحت پوزیشن بدلنے کی گنجائش بھی رکھی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ''اور اے ایمان والو! جب کافروں کے لشکر سے تمہارا مقابلہ ہو تو اُن سے پیٹھ نہ پھیرو اور جو جنگ کے دن پیٹھ پھیرے گا تو وہ اللہ کے غضب کا نشانہ بنا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے‘ ماسوا اس کے کہ وہ کسی جنگی حکمتِ عملی کے تحت یا اپنے کسی فوجی دستے کو کمک پہنچانے کے لیے پیچھے ہٹا ہو (تو وہ اس وعید سے مستثنیٰ ہے)‘‘ (الانفال: 16)۔ مناسب تیاری کیلئے اپنی افرادی قوت‘ حربی وسائل اور اثاثوں کو بچانا بھی جنگی حکمتِ عملی کا حصہ ہوتا ہے‘ نیز مناسب تیاری کے بغیر اپنے لوگوں کو اندھا دھند جنگ میں جھونکنا بھی دانشمندی نہیں ہے۔ بعض صحابہ کے نزدیک صلحِ حدیبیہ کی شرائط بظاہر مسلمانوں کے حق میں نہیں تھیں‘ اس کے باوجود رسول اللہﷺ نے دینی مصلحت کے تحت ایک فیصلہ کیا اور پھر اسی کے بطن سے فتحِ مکہ کا تاریخی افتخار مسلمانوں کو نصیب ہوا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ''بیشک اللہ نے اپنے رسول کے خواب کو سچا کردکھایا تو ان شاء اللہ تم ضرور بالضرور اپنے سروں کے بالوں کو منڈاتے ہوئے یا بال تراشتے ہوئے بے خوف ہو کر مسجدِ حرام میں داخل ہو گے‘ پس اللہ کے علم میں تھا جو تم نہیں جانتے تھے‘ سو اس نے اس سے پہلے ایک قریبی فتح (صلح حدیبیہ) مقدر کر دی‘‘ (الفتح: 27)۔