گزشتہ کالم میں ہم نے قومی بجٹ کے تناظر میں معیشت کی عمومی تصویر پیش کی کہ حکومت کے متوقع مجموعی محاصل کا 43فیصد قرضوں کی اقساط اور سود میں چلاجائے گا اور ساڑھے ستاون فیصد (8848 ارب روپے) صوبوں کو ان کے حصۂ رسدی کے مطابق منتقل ہو گا‘ اس میں سے صوبے مجموعی طور پر وفاق کو اعانت کے طور پر 1035ارب روپے لوٹائیں گے۔ حکومت نے بجٹ میں نان ٹیکس محاصل کا تخمینہ 5336ارب بتایا ہے۔ آمدنی کے شعبے میں باقی داخلی اور بیرونی متوقع قرض ہیں‘ ان میں عوام کو جاری کردہ نیشنل سیونگ سرٹیفکیٹ ہیں‘ جو حکومت کے ذمے قرض ہوتے ہیں اور اس پر حکومت سود بھی ادا کرتی ہے‘ اسی طرح سٹیٹ بینک آف پاکستان کے نیلام کردہ ٹریژری بل ہوتے ہیں‘ یہ بھی حکومت کے قلیل مدتی قرض ہوتے ہیں جو وہ بینکوں سے پیشگی طور پر حاصل کرتی ہے اور اصل مع سود واپس کرتی ہے‘ اس کے علاوہ پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز ہیں جو بعض اوقات عالمی مارکیٹ میں بھی فروخت کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح روشن ڈیجیٹل اکائونٹ میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی رقوم بھی جمع ہوتی ہیں‘ ان پر سود بھی ادا کیا جاتا ہے اور اصل زر بھی واپس کرنا ہوتا ہے۔ حکومت اپنی مالی ضروریات پوری کرنے کیلئے منجمد اثاثوں کے عوض صکوک جاری کرتی ہے اور اس کا اجارہ حاملینِ صکوک کو ادا کیا جاتا ہے‘ یہ بھی قرض کی صورت ہے‘ کیونکہ ان صکوک سے کوئی معاشی سرگرمی پیدا ہوتی ہے‘ نہ روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور نہ قومی معیشت میں کوئی حقیقی اضافہ ہوتا ہے‘ یہ دراصل قرض حاصل کرنے کی ایک بالواسطہ صورت ہے۔پس ہماری قومی معیشت کی صورتحال دلکش ودلربا نہیں ہے‘ بلکہ دیدۂ بینا رکھنے والوں کیلئے اس میں بہت کچھ ہے۔ ہم قومی معاشی بحران سے تب نکل پائیں گے جب اپنے سالانہ مجموعی اخراجات سے زیادہ آمدنی کے ذرائع پیدا کریں اور اس اضافی آمدنی سے بتدریج قومی قرضوں کے بوجھ کو کم کریں۔ لیکن سردست ہر سال ہمارے مجموعی قومی قرضوں کی مالیت میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس میں کسی ایک حکومت کو مطعون کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا‘ بلکہ ہمیں آئندہ دس بیس سال کیلئے ایک حقیقت پر مبنی میثاقِ معیشت کی ضرورت ہے کہ کوئی بھی حکومت آئے‘ وہ اس پر مِن وعن عمل کرنے کی پابند ہو‘ اس پر متاثرہ اور مراعات یافتہ طبقات کی جانب سے جو دبائو آئے‘ اُسے سب جماعتیں مل کر برداشت کریں‘ یہ نہیں ہو سکتا کہ اپوزیشن والے ہیرو بنیں اور مسندِ حکومت پر بیٹھنے والے زیرو بنیں۔ غالب نے کہا تھا: ''قرض کی پیتے تھے مَے‘ لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں؍ رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن‘‘۔
پس قرض کی مے تو اپنی اپنی باری پر سب پیتے رہے ہیں‘ اب وقت آگیا ہے کہ اس کے نتیجے میں رونما ہونے والی فاقہ مستی کا بھی سب مل کر سامنا کریں۔ یہ تب ہو سکتا ہے کہ ہم ایک متحد اور منظم قوم بن جائیں‘ حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف میں منقسم ہونے کے بجائے سب حزبِ احتساب بنیں اور اپنا بے لاگ احتساب کریں‘ ذمہ داریوں کو قبول کریں‘ گریز کی راہ اختیار نہ کریں‘ بلکہ مشکلات کا سامنا کریں۔ ہمیں حیرت ہوتی ہے جب پارلیمنٹ میں موجود اور پارلیمنٹ سے باہرکی سیاسی جماعتیں بڑھ چڑھ کر مطالبات کرتی ہیں‘ حالانکہ بجٹ کے آئینے میں سب کچھ ان کے سامنے ہوتا ہے اور کوئی چیز مخفی نہیں ہوتی۔ لیکن عوام میں مقبولیت حاصل کرنے کیلئے ہم نوشتۂ دیوار کو بھی پڑھنے کا حوصلہ نہیں رکھتے اور آفتابِ نصف النہار کی طرح سامنے نظر آنے والے حقائق سے بھی آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔ مثلاً: کم از کم مشاہرہ لگ بھگ چالیس ہزار روپے مقرر کیا گیا ہے اور کوئی پارلیمنٹ کے اندر یا باہر اپوزیشن میں بیٹھ کر کہے گا: چالیس ہزار میں تو گزارہ نہیں ہوتا‘ کم ازکم مشاہرہ ایک لاکھ روپیہ ہونا چاہیے‘ حالانکہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ چالیس ہزار روپے بھی لوگوں کو دستیاب نہیں ہیں۔ عربی زبان کا محاورہ ہے: ''حق کا ذائقہ اگرچہ کڑوا ہوتا ہے لیکن اپنی حقیقت میں وہ ہیرا ہوتا ہے‘‘۔ پس جب تک سب حقیقت پسند نہ بنیں‘ سچ کو تسلیم نہ کریں اور سچ کا سامنا کرنے کا حوصلہ نہ کریں‘ ملک ابتلا سے نہیں نکل سکتا‘ بلکہ یہ مشکلات کی دلدل میں دھنستا چلا جائے گا‘ اِلّا یہ کہ کوئی قدرت کی مدد آ جائے‘ پٹرول‘ گیس یا معدنیات کے غیر معمولی ذخائر نکل آئیں‘ لیکن ابھی تک اس کے بھی کوئی آثار نہیں ہیں۔ البتہ چین‘ جاپان‘ تائیوان‘ سنگاپور‘ کوریا اور ویتنام وغیرہ صنعتی ترقی کے ذریعے دنیا کی مستحکم معیشتوں میں شامل ہیں۔
ہماری حکومت بیرونی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتی رہتی ہے‘ حالانکہ سرمایہ دار اڑتا ہوا پنچھی ہے‘ وہ اس درخت پرآشیانہ بناتا ہے جہاں اسے جان‘ مال اور آبرو کے تحفظ کی مضبوط ضمانتیں ملیں‘ امن ہو‘ بے امنی اور فساد نہ ہو‘ آئین وقانون کی حکمرانی ہو‘ تجارت وصنعت کیلئے مطلوبہ ضروریات دستیاب ہوں‘ جیسے خام مال‘ سستی بجلی‘ گیس اور پانی وغیرہ۔ لازم ہے کہ وہ ایسی صنعتوں میں سرمایہ کاری کریں جن کی مصنوعات برآمد کی جائیں‘ بین الاقوامی مارکیٹ میں ان کی طلب ہو‘ مسابقت کی صلاحیت رکھتی ہوں اور ہماری بین الاقوامی ساکھ ایسی ہو کہ پابندیوں کا شکار نہ ہوں‘ کیونکہ بیرونی سرمایہ کار اپنا اصل سرمایہ معِ منافع زرِ مبادلہ کی صورت میں لے کر جائے گا اور یہ تبھی ہو سکتا ہے کہ اُن مصنوعات کی برآمدات سے اتنا زرِ مبادلہ کمایا جائے کہ سرمایہ کار اپنا اصل مع منافع بھی لے جائے اور پاکستان کو کچھ اضافی بچت مل جائے‘ نیز روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں۔
حالیہ برسوں میں سفارتی میدان میں بلاشبہ پاکستان نے قابلِ افتخار کامیابیاں حاصل کی ہیں‘ بھارت اور اسرائیل کے سوا پوری دنیا اس کی معترف ہے اور اس کیلئے ہماری مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف تعریف وتحسین کے مستحق ہیں۔ امریکہ اور ایران کو ایک 14نکاتی مفاہمتی دستاویز پر متفق کرنا غیر معمولی سفارتی کارنامہ ہے‘ اللہ کرے کہ پاکستان کا یہ وقار و افتخار قائم ودائم رہے‘ اقوامِ عالَم ہم پر اعتماد کریں اور ہم ان کے اعتماد پر پورا اتریں۔ اس مفاہمتی محضرنامہ کے نتیجے میں اگر دو ماہ کے عرصے میں اصل معاہدہ پایۂ تکمیل تک پہنچ جاتا ہے تو قوی امید ہے کہ ایران سمیت مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کیلئے نئے امکانات پیدا ہوں گے‘ نیز پہلے کی طرح متحدہ عرب امارات کے ساتھ بھی ہمارے روابط بحال ہو جائیں گے‘ کیونکہ خلیجی ممالک کو اندازہ ہو گیا ہے کہ مشکل وقت میں امریکہ کماحقہٗ ان کا دفاع نہیں کر سکا۔ لہٰذا انہیں اپنی سلامتی کے امکانات خطے کے ممالک کے ساتھ پُرامن بقائے باہمی کی صورت میں تلاش کرنا ہوں گے اور ایران کو بھی خطے کی ایک برتر قوت کے طور پر انہیں تسلیم کرنا ہو گا۔ امریکہ ایران مفاہمتی دستاویز پر الیکٹرانک دستخط ہو چکے ہیں۔ پاکستانی ثالثی خدمات کے اعتراف میں اسے بجا طور پر ''اسلام آباد مفاہمتی دستاویز‘‘کا نام دیا گیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خلیجی ممالک نے ایران کی تعمیرِ نو کیلئے تین سو ارب ڈالر بطورِ تاوانِ جنگ یا سرمایہ کاری کا وعدہ کیا ہے اور مفاہمتی یادداشت میں اس کا ذکر موجود ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے پیرس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسے تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے: ''ہم کچھ نہیں دیں گے‘ کوئی اور بھی حصہ لینا چاہے تو لے سکتا ہے‘‘۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکمت وتدبر کے ساتھ افغانستان کے ساتھ بھی دہشت گردی کے مسئلے کا مستقل اور دیرپا حل تلاش کیا جائے‘ آتشیں بیانات جاری کرنے کے بجائے پسِ پردہ اس کیلئے سلسلۂ جنبانی شروع کیا جائے‘ اسے بیک ڈور ڈپلومیسی کہا جاتا ہے۔ پاکستان اور چین کو وسطی ایشیائی ممالک اور وہاں سے یورپ تک افغانستان کے راستے ایک محفوظ راہداری چاہیے‘ اس میں پاکستان کے علاوہ خود افغانستان کا بھی اتنا ہی فائدہ ہے۔ جتنی محنت ایران پر کی گئی ہے‘ اسی طرح کی ذہنی‘ فکری اورعملی مشقت افغانستان کے حوالے سے بھی کرنے کی شدید ضرورت ہے‘ دعا ہے: اللہ تعالیٰ غیب سے خیر کی کوئی صورت مقدر فرمائے۔