پاکستان کے پاس ایٹمی قوت کی حامل ایک مضبوط فوج ہے‘ جدید حربی صلاحیت میں پاکستان نے بھارت کے مقابلے میں اپنا لوہا منوایا ہے‘ ترکیہ کی افواج بھی جدید صلاحیتوں کی حامل ہیں اور عالَمِ عرب میں مصر فوجی لحاظ سے مضبوط ہے۔ اگر عرب سرمائے اور ان تین ممالک کی حربی صلاحیت کو یکجا کر دیا جائے تو مسلم ممالک اسرائیل کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں آ سکتے ہیں۔ لیکن یہ سب کچھ تب ممکن ہے کہ فرمانِ رسولﷺ کے مطابق ملت اسلامیہ تعصبات کے حصار سے نکل کر جسدِ واحد کی تصویر بنے۔ علامہ اقبال نے کہا:
بتان رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہو جا
نہ تورانی رہے باقی نہ ایرانی نہ افغانی
یعنی رنگ ونسل اور مختلف قومیتوں کے بتوں کو پاش پاش کر کے سب اپنے آپ کو ایک ملتِ اسلامیہ میں ضم کر دو اور قرآنی تعلیمات کے مطابق ان امتیازات کو صرف تعارف کے لیے رکھو‘ تفاخر کے لیے نہیں۔ لیکن امت ہنوز علامہ کے اس خواب کے شرمندۂ تعبیر ہونے کی منتظر ہے۔ تعصب بلاشبہ قابلِ مذمت ہے‘ لیکن دین پر تصلُّب یعنی مضبوطی کے ساتھ قائم رہنا ایک قابلِ تحسین وصف ہے اور دونوں میں فرق کو ہر صورت ملحوظ رکھنا چاہیے‘ یعنی ایک ہی لاٹھی سے سب کو ہانکنا درست نہیں ہے۔ قرآنِ مجیدکی روسے جس شجرِ ممنوعہ کے پاس حضرت آدم وحوا علیہما السلام کو جانے سے منع کیا گیا تھا علامہ اقبال نے اس شجر کو بھی فرقہ واریت سے تعبیر کرتے ہوئے کہا:
شجر ہے فرقہ واریت‘ تعصّب ہے ثمر اس کا
یہ وہ پھل ہے کہ جنت سے نکلواتا ہے آدم کو
مفہومی ترجمہ: ''یعنی جس شجر کے قریب جانے سے حضرت آدم وحوا علیہما السلام کو منع کیا گیا تھا‘ وہ فرقہ واریت ہے اور اس کا لازمی نتیجہ تعصب ہے اور یہ نفسیاتی عارضہ انسان کو جنت یعنی اللہ کی نعمتوں سے محروم کر دیتا ہے‘‘۔ اگرچہ علامہ اقبال کی یہ تفسیر وتعبیر قرآن کی نصِ صریح اور امت کے اجماعی مؤقف سے مطابقت نہیں رکھتی۔
ہمارے ملک میں جب بھی دہشت گردی کا کوئی واقعہ ہوتا ہے تو اس کا رُخ فرقہ واریت کی طرف موڑ دیا جاتاہے اور میڈیا میں اس پر مکالمہ شروع کر دیا جاتا ہے۔ میں ان مکالموں میں شریک ہوتا رہا ہوں اور ہر بار دو ٹوک شرعی مؤقف بیان کیا مگر اس کے باوجود ہر بار علماء سے رجوع کرنے کا ایک معنی یہ بھی نکلتا ہے کہ فرقہ واریت کے فروغ میں شاید علماء کا بھی حصہ ہے۔ اسی لیے میں اب اس طرح کے مکالموں اور مذاکروں سے اجتناب کرتا ہوں۔ ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ سب کا دامن پاک ہے تو پھر ذمہ دارکون ہے۔ مزید یہ کہ عصبیت کی مذمت کا دائرہ مذہب تک محدود نہیں رکھنا چاہیے‘ کیا یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح نہیں ہے کہ ہمارے ہاں سیاسی عصبیت کے سبب نفرتیں انتہا پر ہیں‘ ہر جماعت (خواہ وہ اقتدار میں ہو یا حزب اختلاف میں) کے منتخب اراکین اور منتخب ممبران کی حیثیت سیاسی مزارعین کی سی ہے‘ وہ آنکھیں بند کرکے حق اور ناحق کی تمیز سے بے نیاز ہو کر اپنی قیادت کی حمایت پر کمربستہ ہو جاتے ہیں‘ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں حق اور ناحق کے اپنے اپنے معیارات اورتعریفات ہیں‘ سب اپنے اپنے شعبوں میں اپنی اپنی عصبیتوں‘ پسند وناپسند اور ترجیحات کے اسیر ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ اپنے گریبان میں جھانکنا مشکل اور دوسرے کو ہدف بنانا آسان ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ''بلکہ انسان اپنے آپ پر خوب آگاہ ہے‘ خواہ وہ کتنے ہی عذر تراشتا رہے‘‘ (القیامہ: 14 تا 15)۔ حضرت عمر فاروقؓ نے فرمایا: ''خود اپنا احتساب کرو قبل اس کے کہ تمہارا احتساب کیا جائے‘ اپنے خیر وشر کے میزان کو خود جانچو‘ قبل اس کے کہ تمہارے خیر وشر کو میزانِ عمل میں تولا جائے اور جس دن تمہیں حساب کے لیے طلب کیا جائے گا‘ اُس مشکل پیشی کے لیے اپنے آپ کو خوب تیار کرو‘ تم سے اپنی کوئی خوبی یا عیب پوشیدہ نہیں ہے‘‘ (مصنف ابن ابی شیبہ: 34469)۔
پس حق یہ ہے کہ ہر مذہبی‘ لسانی‘ قبائلی‘ علاقائی یا سیاسی گروہ کے لیے اپنے اپنے انتہا پسندوں کی تعیین کے ساتھ مذمت انتہائی دشوار ہے‘ اس لیے ہمارے خطابات بھی تاثیر سے عاری اور ہماری مذمتیں بھی ہوا میں تیر چلانے کے مترادف ہوتی ہیں‘ جن کا کوئی ہدف نہیں ہوتا کہ 'سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے‘ کے مصداق سب اپنی ذمہ داری سے عہدہ برا ہو جاتے ہیں۔ اسلام آباد میں ایک این جی او نے آئینی و قانونی حکومت کے خلاف خروج یا بغاوت کے موضوع پر کئی سیمینار منعقد کیے‘ تمام مکاتبِ فکر کے علماء اور دانشوروں کو بلایا‘ پھر سب کی منتخب نگارشاتِ قلم کو ایک کتابی شکل میں مدون کیا۔ میں نے اُن سے گزارش کی کہ یہ مجرد اور غیر اطلاقی حکم اور مؤقف تو آپ نے بیان کر دیا اور آپ کی یہ علمی و فکری کاوش قابلِ تحسین ہے‘ اب ذرا ایک نشست میں ان سب کو بلا کر ہماری یہ بھی رہنمائی فرمادیں کہ ہمارے ملک کے تناظر میں جو صورتِ حال درپیش ہے‘ حکومت سے برسرپیکاراور خروج و بغاوت پر آمادہ عناصر کا حکم کیا ہے۔ صرف اسی صورت میں اس ساری علمی اور فکری کاوش کا کوئی عملی نتیجہ برآمد ہو سکتاہے‘ ورنہ جو کچھ اس کتاب میں بیان کیا گیا ہے وہ ہمارے دینی اور علمی ذخیرے میں نہایت بسط وتفصیل کے ساتھ پہلے سے موجود ہے‘ پس مصداق کے تعیّن کے بغیر خطاب یا تحریر تو آسان ہے‘ لیکن اپنے گردوپیش پر تطبیق دشوار امر ہے۔
آج دینی‘ ملّی اور ملکی امور کے بارے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ قوم یکسو ہو‘ مذہبی خلافیات کو تو سب ہی کوستے رہتے اور ہدفِ ملامت بناتے ہیں‘ لیکن ہمارا مجموعی ملکی‘ ملّی اور قومی منظرنامہ بھی یہی ہے‘ ہمارا کوئی متفقہ ترجیحی قومی ایجنڈا نہیں ہے۔ عرب اپنے آبائو اجداد کے کارناموں پر فخر کرتے تھے اور اپنے آپ کو دوسروں سے برتر سمجھتے تھے‘ وہ نسلی طور پر خود کو دوسروں پر فوقیت دیتے تھے‘ یہاں تک کہ حج کی ادائیگی کے دوران بھی دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کر عبادت کرنے کو اپنی شان کے خلاف سمجھتے تھے۔ رسول اللہﷺ نے فتحِ مکہ کے دن ان کے اس نسلی احساس برتری اور زعم باطل کا رد کرتے ہوئے فرمایا: ''لوگو! بیشک اللہ تعالیٰ نے تم سے زمانہ جاہلیت کی نسلی برتری اور اپنے باپ دادا پر فخر کرنے کو دور کر دیا ہے‘ لوگوں کی دو قسمیں ہیں: ایک مومن متقی کریم اور دوسرے فاجر درشت خو ذلیل‘ سب لوگ آدم کی اولاد ہیں اور آدم کو اللہ تعالیٰ نے مٹی سے پیدا کیا ہے‘‘۔ پھر فرمایا: ''لوگو! بیشک ہم نے تمہیں ایک مرد اورایک عورت سے پیدا کیا ہے اورہم نے تم کو قومیں اور قبیلے بنا دیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو‘ بیشک تم میں اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عزت والا وہی ہے‘ جو سب سے زیادہ متقی ہے‘‘ (ترمذی: 3270)۔ ''حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہﷺ نے فرمایا: جو شخص علم حاصل کرنے کے لیے چل پڑا تو اللہ اس کے لیے جنت کے راستے کو آسان فرما دے گا اورجس کا عمل اسے پیچھے چھوڑ دے اس کا نسب اُسے آگے نہیں کر سکتا‘‘ (ابودائود: 3643)۔ اسلام عمل کا دین ہے اور صرف حسب و نسب کی وجہ سے کسی کی کمتری یا برتری کا حکم نہیں دیتا‘ بلکہ عمل کی بنیاد پر فضیلت کا مدار ہے۔ دورِ جاہلیت میں تمام لوگ کسی نہ کسی احساسِ برتری میں مبتلا تھے‘ کسی کو قبائلی برتری کا اور کسی کو رنگ ونسل کی برتری کا احساس تھا۔ یہ سب تعصب کی مختلف صورتیں ہیں۔ قریش بیت اللہ کا متولی ہونے کی وجہ سے اپنے آپ کو دیگر عرب قبائل سے برتر سمجھتے ہوئے حج کے لیے مزدلفہ میں قیام کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ''پھر تم بھی وہیں (عرفات) سے لوٹو جہاں سے سب لوگ لوٹتے ہیں اور اللہ سے بخشش مانگو‘ بیشک اللہ بہت بخشنے والا مہربان ہے‘ پھر جب تم ارکانِ حج ادا کر چکو تو جس طرح تم (زمانۂ جاہلیت میں) اپنے باپ دادا کی شانیں بیان کیا کرتے تھے‘ اس سے زیادہ شدت کے ساتھ اللہ کی شان بیان کرو‘‘ (البقرۃ: 199 تا 200)۔