"MMC" (space) message & send to 7575

آیاتِ بیّنات

کعبہ معظمہ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ''اس میں واضح نشانیاں (اور) مقامِ ابراہیم ہے‘‘ (آلِ عمران: 97)۔ یعنی اس میں قدرتِ خداوندی کی بہت سی نشانیاں ہیں کہ جنہیں سب لوگ دیکھ سکتے ہیں‘ اُن میں سے ایک نشانی مقامِ ابراہیم ہے‘ یہ تقریباً پچاس سینٹی میٹر لمبا چوڑا اور اتنا ہی اُونچا ایک پتھر ہے جو حجرِ اسود کی طرح جنت سے اُتاراگیا ہے‘ چنانچہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: ''بیشک رکنِ (اسود) اور مقامِ ابراہیم دونوں جنت کے یاقوتوں میں سے ایک یاقوت ہیں‘ اللہ تعالیٰ نے انکے نور کو مٹا دیا ہے اور اگر اللہ تعالیٰ انکے نور کو نہ مٹاتا تو یہ مشرق ومغرب کو روشن کر دیتے‘‘ (ترمذی: 887)۔ یہ وہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابرہیمؑ نے بیت اللہ شریف کو تعمیر فرمایا تھا۔ حدیثِ پاک میں ہے: ''حضرت ابراہیم اور ان کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہما السلام دونوں بیت اللہ کی تعمیر میں مصروف ہو گئے‘ حضرت اسماعیلؑ اپنے والد کو پتھر اٹھا کر دیتے اور حضرت ابرہیمؑ اُنہیں جوڑکر دیواریں کھڑی کرتے تھے‘ پھر جب کعبہ کی دیواریں اُونچی ہو گئیں (اور حضرت ابراہیمؑ کیلئے اپنے قد سے اُوپر تک پتھروں کو پہنچانا دشوار ہو گیا) تو حضرت اسماعیلؑ یہ پتھرلے آئے اور حضرت ابراہیمؑ نے اس پر کھڑے ہو کر بیت اللہ کی تعمیر فرمائی‘‘ (بخاری: 3364)۔
حافظ ابن کثیر ودیگر سیرت نگاروں نے ذکر کیا ہے: اس پتھر میںحضرت ابراہیمؑ کے قدمین طیبین کے نشانات ظاہر تھے‘ عرب میں جاہلیت سے آج تک یہ بات معروف ومشہور ہے‘ صحابہ نے بھی ان نشانات کو دیکھا ہے۔ حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں: ''میں نے مقام ابراہیم میں حضرت ابراہیمؑ کی اُنگلیوں اور ایڑیوں کے نشانات دیکھے ہیں‘ حضرت قتادہؓ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے اسکے قریب نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے‘ اس پر (حصولِ برکت کیلئے) ہاتھوں کو پھیرنے کا حکم نہیں دیا‘ مگر اس اُمت نے بھی وہ کام شروع کیے جو پچھلی اُمتیں کرتی آئی ہیں‘ ہمیں دیکھنے والوں نے بتایا ہے کہ اس میںحضرت ابراہیم کی اُنگلیوں اور ایڑیوں کے نشانات موجود تھے‘ لوگ اس پر ہاتھ پھیرتے رہے حتیٰ کہ وہ نشانات مٹ گئے‘‘ (تفسیر ابن کثیر‘ ج: 1‘ ص: 293)۔ حضرت ابراہیمؑ کے زمانے سے یہ پتھر بیت اللہ کی دیوار کیساتھ متصل تھا‘ پھر فتح مکہ کے موقع پر نبی کریمﷺ کے حکم سے اسے پیچھے کر کے موجودہ مقام پر رکھ دیا گیا‘ یہ کعبہ سے تقریباً بیس گز کے فاصلے پر ہے‘ کیونکہ یہاں اللہ تعالیٰ نے نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے‘ کہیں ایسا نہ ہو کہ طواف کرنیوالوں کے ہجوم کے سبب لوگ یہاں نماز پڑھنے کو ترک کر دیں‘ سو نبی کریمﷺ نے لوگوں کی سہولت کیلئے اسے پیچھے کر دیا۔ حضرت عمرؓ کے زمانے میں خطرناک سیلاب آیا اور اس پتھر کو بہا کر مسجد سے باہر لے گیا‘ پھر حضرت عمرؓ نے اسے اُسی جگہ پر رکھنے کا حکم دیا جہاں رسول اللہﷺ نے اسے رکھا تھا‘‘ (شِفَائُ الْغَرَام بِاَخْبَارِ بَلَدِ الْحَرَام‘ ج: 1‘ ص: 278)۔
نبی کریمﷺ اور صحابہ کے زمانے میں اس پتھر پر کوئی غلاف اور پردہ نہیں تھا‘ لوگ اس کی زیارت کرتے اور اس پر اپنے ہاتھوں کو پھیرتے تھے۔ سب سے پہلے خلیفہ مہدی عباسی نے 161ھ میں مقام ابراہیم پر غلاف چڑھایا‘ اسکے بعد خلیفہ متوکل نے 236ھ میں اس پر سونے اور چاندی کا پانی چڑھایا‘ پھر اسکے بعد سے لے کر موجودہ زمانے تک آنے والے مسلمان اُمرا اور حکام اپنے اپنے انداز سے اس کی تزئین وآرائش اور حفاظت کا اہتمام کرتے آئے ہیں؛ چنانچہ اب یہ سونے اور پیتل کے بنے شاندار فریم میں بند ہے اور اس پر شیشے کا مضبوط غلاف ہے‘ یہ سنگِ مرمر کے بڑے پتھر میں نصب ہے‘ اس کے اردگرد لوہے کی مضبوط قُبہ نما جالی بنی ہوئی ہے۔
آیاتِ بیّنات میں سے ایک حجر اسود ہے۔ اسکی بابت نبی کریمﷺ نے فرمایا: ''یہ دودھ سے بھی زیادہ سفید تھا‘ اسے بنی آدم کی خطائوں نے سیاہ کر دیا‘‘ (ترمذی: 877)۔ نیز آپﷺ نے فرمایا: ''حجر اسود جنت کا سفید پتھر تھا‘ یہ برف سے زیادہ سفید تھا‘ اس کو مشرکین کے گناہوں نے سیا ہ کر دیا‘‘ (مسند احمد: 3046)۔ ایک حدیثِ پاک میں ہے: ''حجر اسود جنت کے پتھروں میں سے ہے‘ زمین پر جنت کی چیزوں میں سے اسکے علاوہ کوئی چیز نہیں ہے‘ یہ نہایت چمکدار سفید اور خوبصورت تھا‘ اگر اسے جاہلیت کی ناپاکی نے نہ چھوا ہوتا تو جو بھی مریض اسے چھوتا‘ وہ ٹھیک ہو جاتا‘‘ (المعجم الکبیر: 11314)۔ پس جب شرک وکفر اور گناہوں کا اس قدر سخت اثر ہے کہ انکے اثرات نے اس جنتی پتھر کی چمک دمک اور اسکی سفیدی کو زائل کر دیا تو وہ انسانی دلوں پر کس قدر اثر انداز ہوتے ہوں گے اور اُنہیں کس قدر زنگ آلود کر دیتے ہوں گے۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا: ''جب بندہ گناہ کرتا ہے تو اسکے دل پر سیا ہ نقطہ لگ جاتا ہے‘ پس اگر وہ توبہ واستغفار کر لے تو وہ داغ ختم ہو جاتا ہے‘ اگر وہ پھر گناہ کرتا ہے اور گناہوں میں اضافہ ہوتا جاتا ہے تو وہ نقطہ بھی بڑھتا جاتا ہے حتیٰ کہ پورے دل پر چھا جاتا ہے۔ اسے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ''رَیْن‘‘ سے تعبیر کیا ہے: ''ہرگز نہیں! اُن کے کرتوتوں کے سبب ان کے دلوں کو زنگ آلود کر دیا ہے‘‘۔ وہ یہی ہے (ترمذی: 3334)۔
حافظ ابن حجر لکھتے ہیں: بعض ملحدین ان احادیث پر یہ اعتراض کرتے ہیں: حجر اسود کو نیک وبد ہر قسم کے لوگ چھوتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ گناہگاروں کے چھونے کی وجہ سے اس کی رنگت سیاہ تو ہو گئی مگر صالحین کے چھونے کی وجہ سے اس کی رنگت اپنی سفیدی پر باقی نہ رہی‘ اسکی بابت حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اسکی رنگت کو سیاہی میں اسلئے تبدیل فرما دیا تاکہ اہلِ دنیا کی نظروں سے جنت کی اشیا کا رنگ اور اُن کی زیب و زینت پوشیدہ رہے‘ سو اُس کی سیاہی حجاب کی طرح ہے‘ مُحبّ طَبری نے فرمایا: اللہ تعالیٰ چاہتا تو اس کی چمک دمک کو اُسی حال پر برقرار رکھتا جس حال پر اسے جنت سے اُتارا گیا تھا‘ مگر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی عبرت کیلئے اس پر گناہوں کے اثرات کو ظاہر کر دیا تاکہ لوگ اسے دیکھ کر عبرت حاصل کریں کہ جب گناہوں کے اثرات نے ایک چمکتے دمکتے جنتی پتھر کو سختی کے باوجود نہیں چھوڑا اور اُسے سیاہ کر دیا تو انسان کا دل تو گوشت کا ایک نرم لوتھڑا ہے‘ گناہ کے اثرات اُسے کس قدر سیاہ اور تاریک کر دیتے ہوں گے‘‘ (فتح الباری‘ ج: 3‘ ص: 463)۔ قاضی بیضاوی اور بعض اہلِ علم نے کہا ہے: حجر اسود کے جنتی پتھر ہونے کا مطلب یہ نہیںکہ یہ حقیقتاًجنت کا پتھر ہے اور اسے جنت سے زمین پر اُتارا گیا ہے‘ بلکہ یہ دنیا کے پتھروں میں سے ہی ایک پتھر ہے لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس پتھر کو کرامت سے نوازا ہے اور اس میں وہ برکتیں ودیعت فرمائی ہیں جو جنت کے پتھروںکو حاصل ہیں‘ سو اس مشارکت کی بنا پر بطورِ مبالغہ اسے مجازاً جنتی پتھر سے تعبیر کیا گیا ہے‘ جیسا کہ عَجوہ کھجور کو اُس کے باعثِ شفا وبرکت ہونے کی وجہ سے جنتی پھل کہا گیا ہے‘ حجر اسود کے جنتی پتھر نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس میں جنتی اشیا کے خواص اور علامتیں نہیں پائی جاتیں‘ کیونکہ نصوص سے ثابت ہے: جنت کی اشیا فنا‘ تغیّر وتبدّل اور زوال وتکَسُّر (ٹوٹ پھوٹ) سے محفوظ رہتی ہیں‘ جبکہ حجر اسود کافی بوسیدہ ہو چکا ہے‘ اور اس میں دراڑیں اور ٹوٹنے کے نشانات پائے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس جمہور اہلِ علم کا کہنا ہے: حجر اسود حقیقتاً جنت سے اُتارا گیا پتھر ہے‘ کیونکہ جنت میں بیشمار جواہرات ہیں اور اُن میں سے ایک حجر اسود ہے‘ جسے اللہ تعالیٰ نے جنت سے اُتارا ہے‘ سو ٹوٹ پھوٹ کے سبب حجر اسودکے جنتی پتھر ہونے کا انکار کرنا درست نہیں‘ الغرض حجر اسود حقیقتاً جنت سے نازل ہونے والا پتھر ہے‘ مگر چونکہ اسے فانی اور تغیر پذیر دنیا میں اُتارا گیا ہے‘ اس بنا پر اس سے اُن خصوصیات کو سلب کر لیا گیا جو جنتی اشیا میں پائی جاتی ہیں‘ سو جب حجر اسود کو اس فانی دنیا کا حصہ بنایا گیا تو اس پر اسی فانی دنیا کے احکام وخواصّ جاری ہوتے ہیں‘ اس کی مثال یہ ہے کہ ریاض الجنۃ میں بیٹھنے والے کو بھوک وپیاس لگتی ہے‘ اس کا سبب یہ نہیں کہ وہ حقیقتاً جنت کا حصہ نہیں‘ بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ چونکہ جنت کے اس حصے کو دنیا میں اُتارا گیا ہے‘ اس لیے دنیا کی خصوصیات وعوارض اللہ تعالیٰ نے اس میں ودیعت فرما دی ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں