"MMC" (space) message & send to 7575

حج وعمرے کے حوالے سے خواتین کے مسائل …( دوم)

مِنٰی وعرفات میں نمازوں کی ادائیگی کے علاوہ ذکر اذکار کیے جاتے ہیں‘ حائض عورت پر نماز معاف ہے‘ عرفات کے وقوف کیلئے بھی طہارت شرط نہیں ہے۔ اگر حیض سے پاک ہونے تک مکہ میں ٹھہرنا ممکن نہ ہو اور ناپاکی کی حالت میں طواف بھی نہیں کیا جا سکتا‘ یعنی واپسی کی فلائٹ کا شیڈول بدلا نہ جا سکتا ہو یا فلائٹ یا مَحرم یا شوہر کی روانگی کا مسئلہ درپیش ہو تو مجبوراً عورت طوافِ زیارت کر لے اور اُس پر ''بَدَنَہ‘‘(جمع: بُدْن) یعنی اونٹ یا گائے کی قربانی حدودِ حرم میں دینا واجب ہو گی۔ سابق ادوار میں ویزے اور واپس لوٹنے کی تاریخ کا تعین یا تحدید نہیں ہوا کرتی تھی اور نہ وطن واپس آکر دوبارہ جانے کی پابندیاں تھیں‘ جس کے سبب اس طرح کے عذر میں مبتلا لوگ وہیں ٹھہر جاتے تھے یا دوبارہ جا کر ادا کر لیا کرتے تھے۔ عمرے میں اگر پاک ہونے تک رکنا ممکن نہ ہو تو حالتِ حیض میں افعال عمرہ ادا کرنے کے بعد احرام سے نکل آئے اور دم ادا کرے‘ اس صورت میں عمرہ کی قضا نہیں ہو گی‘ دَم سے مراد بکری یا دنبے کی قربانی ہے۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ایک طویل حدیث میںبیان کرتی ہیں: ''رسول اللہﷺ میرے پاس تشریف لائے‘ میں رو رہی تھی‘ آپﷺ نے فرمایا: تم کیوں رو رہی ہو‘ میں نے عرض کی: میں نے صحابہ کے ساتھ آپ کی گفتگو سنی‘ میں نے عمرہ کی بابت سنا‘ آپﷺ نے فرمایا: تمہارا مسئلہ کیا ہے‘ میں نے عرض کی: میں نماز نہیں پڑھ پاؤں گی‘ آپﷺ نے فرمایا: تمہیں اس کا کوئی نقصان نہیں ہے‘ بس اپنا حج جاری رکھو‘ امید ہے اللہ تمہیں عنقریب عمرہ نصیب فرمائے گا‘ تم آدم کی بیٹیوں میں سے ہو‘ اللہ نے دیگر بناتِ آدم کی طرح تم پر بھی یہ (حیض) لکھ دیا ہے‘‘ (حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں): پس میں نے اپنا حج جاری رکھا‘ یہاں تک کہ ہم منٰی میں اترے‘ جب میں غسل کر کے حیض سے پاک ہو گئی تو ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا‘ پھر ہم وادیِ مُحصَّب میں اترے‘ آپﷺ نے (میرے بھائی) عبدالرحمن بن ابی بکر کو بلایا اور فرمایا: اپنی بہن (عائشہ) کے ساتھ حدودِ حرم سے نکلو‘ عمرے کی تَلبِیہ پڑھو (یعنی احرام باندھو)‘ پھر بیت اللہ کا طواف کرو‘ میں تم دونوں کا یہاں انتظار کروں گا۔ حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں: ہم (حدودِ حرم سے) نکلے‘ پھر میں نے عمرہ کے لیے تَلبِیہ پڑھی (یعنی احرام باندھا)‘ پھر میں نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا ومروہ کے درمیان سعی کی‘ پھر ہم رسول اللہﷺ کے پاس آئے‘ وہ نصف شب کو اپنی جگہ پر ہی تھے۔ آپﷺ نے فرمایا: تم فارغ ہو گئی ہو‘ میں نے عرض کیا: جی ہاں! پھر آپﷺ نے صحابہ کو کُوچ کرنے کا حکم دیا۔ پھر آپﷺ وہاں سے نکل کر گئے‘ نمازِ فجر سے پہلے بیت اللہ کا طواف کیا‘ پھر (نمازِ فجر پڑھ کر) مدینہ منورہ روانہ ہو گئے‘‘ (مسلم: 1211)۔ نوٹ: عمرے کے نوافل پڑھنے کے بعد عمرے کی نیت اور تَلبِیہ پڑھنے سے آدمی مُحْرِم ہو جاتا ہے۔ (5) عمرے کیلئے روانگی سے پہلے ایام شروع ہو گئے‘ تو اس صورت میں اگر روانگی کی تاریخ آگے بڑھائی جا سکتی ہے تو بڑھا لے‘اگر ایساکرنا ممکن نہ ہو توعمرے کا غسل کر کے احرام باندھے اور مکہ مکرمہ جا کر پاک ہونے کا انتظار کرے‘ پاک ہو کر طواف وسعی کرے اور عمرہ مکمل کرے۔ (6) اگر احرام باندھ لیا‘ یعنی تلبیہ اور نیت کر لی تھی تو اب اُس پر احرام کی پابندی لازم ہے‘ پس اسے چاہیے کہ گھر واپس آ کر جہاز کی سیٹ ملنے تک حالتِ احرام میں رہے اور احرام کی تمام پابندیوں پر عمل کرتی رہے اور حالتِ حیض میں عمرہ کے افعال ادا کر لے ورنہ خاتون احرام سے خارج نہیں ہو گی حتیٰ کہ محصّرہ قرار نہ پائے اور احرام کے ممنوعات کے ارتکاب سے معصیت کے علاوہ ہر ممنوع کے ارتکاب پر کفارہ بھی لازم ہوتا رہے گا مگر لاعلمی کی وجہ سے ایک دم دینا ہو گا۔ احرام سے خارج ہونا صرف افعال عمرہ ادا کرنے سے ہوتا ہے یا محصرہ ہونے کی بنا پر حرم کی حدود میں دم دینے کے بعد ہوتا ہے‘ احصار کی صورت میں قضا بھی واجب ہوتی ہے۔ لیکن اگر احرام کھول دیا تو گنہگار ہو گی اور اُس پر دَم بھی واجب ہوگا اور عمرے کی قضا بھی لازم ہو گی۔ احصار سے مراد حج یا عمرہ کا احرام باندھنے کے بعد دشمن‘ بیماری یا ناگہانی رکاوٹ کی وجہ سے مکۂ مکرمہ پہنچ کر مناسکِ حج یا عمرہ ادا کرنے سے روک دیا جانا ہے۔
عازمینِ حج و عمرہ کیلئے مشورہ یہ ہے کہ وہ گھر سے غسل کر کے لباس احرام پہن کر چلے جائیں‘ مرد احرام کی چادریں ایئرپورٹ پر جاکر اور معمول کا لباس اتار کر بھی پہن سکتے ہیں‘ جب سیٹ کنفرم ہو جائے اور بورڈنگ کارڈ مل جائے تو دو رکعت نفل پڑھ لیں اور جب فلائٹ روانہ ہونے لگے یا روانہ ہو جائے تو نیت باندھ لیں اور تلبیہ پڑھ لیں‘ ورنہ بصورتِ دیگر واپس آ جائیں اور نارمل لباس پہن لیں‘ چونکہ وہ مُحرم نہیں ہوئے تھے‘ اس لیے ان پر کچھ واجب نہیں ہو گا۔ (7)حج کے کل ایام پانچ ہیں: پہلا دن آٹھ ذوالحجہ: احرام میں داخل ہونے اور حج کی نیت کرنے کے بعد تَلبِیہ پڑھنا‘ منیٰ کو روانگی‘ رات منیٰ میں قیام۔ دوسرے دن یعنی نو ذوالحجہ کو: منیٰ میں نمازِ فجر ادا کر کے عرفات پہنچنا‘ مسجدِ نمرہ میں نماز ادا کرنے والوں کیلئے خطبہ سن کر نمازِ ظہر وعصر ملا کر پڑھنا‘ غروبِ آفتاب کے بعد مزدلفہ روانہ ہونا‘ مزدلفہ میں مغرب وعشا ملا کر ادا کرنا۔ تیسرے دن دس ذوالحجہ کو: جمرۂ عقبہ کی رمی‘ قربانی (حج تمتع یا قِران کا دَمِ شکرانہ) ادا کرنے کے بعد سر منڈوانا یا کم از کم انگلی کے ایک پَور کے برابر بال کترنا اور بیت اللہ جا کر طوافِ زیارت کرنا‘ سعی کرنا اور رات منیٰ میں گزارنا۔ چوتھے دن یعنی گیارہ ذوالحجہ کو: زوال کے بعد تینوں جمرات کی رمی کرنا‘ (زوال سے پہلے بھی جائز ہے)‘ بارہ کی رات منیٰ میں رہنا سنت ہے۔ پانچویں دن یعنی بارہ ذوالحجہ کو: زوال کے بعد تیسرے دن تینوں جمرات کی رمی پر حج مکمل ہو گیا‘ مکہ سے روانگی کے وقت طوافِ وداع واجب ہے۔ نو ذوالحجہ کوعرفات کے میدان میں وقوف (ٹھہرنا) حج کا رکنِ اعظم ہے‘ حیض ونفاس والی عورت اور جنبی آدمی کا وقوف صحیح ہے‘ حج ادا ہو جائے گا‘ وقوفِ مزدلفہ‘ وقوفِ منٰی‘ رمیِ جمرات اورحجِ تمتع کی قربانی کیلئے طہارت شرط نہیں ہے‘ لہٰذا یہ واجبات حائض عورت حالتِ حیض میں بھی ادا کر سکتی ہے۔
طوافِ زیارت حج کا دوسرا رکنِ اعظم ہے‘ اسے طوافِ افاضہ اور طوافِ فرض بھی کہتے ہیں‘ اس کا وقت ساری زندگی ہے‘ لیکن دس ذوالحجہ کی طلوعِ فجر سے بارہ ذوالحجہ کے غروبِ آفتاب سے قبل اس کے اکثر چکر پورے کر لینا واجب ہے۔ چونکہ حیض ونفاس بندے کی اپنی کسی تقصیر کے سبب نہیں ہوتا‘ بلکہ یہ اللہ کی جانب سے ہے‘ لہٰذا اللہ کی جانب سے عذر لاحق ہونے کی صورت میں تاخیر پر دَم یا کفارہ نہیں ہے۔ اگر حائض اور اس کے مَحرم کیلئے واپس روانگی میں تاخیر کی گنجائش ہے تو وہ اپنی ریزرویشن منسوخ کر کے اسے مناسب وقت تک مؤخر کر دیں اور حیض ختم ہونے پر غسل کر کے پاک ہو جائیں اور پھر طواف فرض ادا کریں‘ اس کے بعد حسبِ سہولت طوافِ وداع کر کے رختِ سفر باندھ سکتے ہیں۔ لیکن اگر خدانخواستہ اس کی گنجائش اور سہولت نہ ہو تو حالتِ حیض میں طوافِ زیارت کر لیں اور حدودِ حرم میں کفارے کے طور پر بَدَنَہ (یعنی اونٹ یا گائے) کی قربانی دینی ہو گی‘ ویسے عذر من جانب اللہ کیلئے قانون میں رعایت ہونی چاہیے‘ کیونکہ یہ عبادت حج کا مسئلہ ہے اور مسلم حکومتوں کو اس سلسلے میں سہولت فراہم کرنی چاہیے۔ غیر مسلم ممالک سے آنے والے تو واپسی کی تقدیم وتاخیر کے معاملے میں خودمختار ہوتے ہیں‘ زیادہ سے زیادہ سابق ریزرویشن کی منسوخی اور نئی ریزرویشن کیلئے کچھ اضافی رقم دینا ہوتی ہے‘ لیکن مسلم حکومتوں کو اضافی رقم نہیں لینی چاہیے۔ سعی کیلئے طہارت مستحب ہے۔
علامہ نظام الدینؒ معذور کے حج وعمرہ کی سعی کے بارے میں لکھتے ہیں: ''اگر حیض ونفاس والی عورت اور جُنبی شخص (یعنی جس پر غسل واجب ہو) سعی کریں‘ تو (ان کا سعی کرنا) صحیح ہے (یعنی سعی کیلئے طہارت شرط نہیں)‘‘ (فتاویٰ عالمگیری‘ جلد: اول‘ ص: 247)۔ علامہ امجد علی اعظمیؒ لکھتے ہیں: ''مستحب یہ ہے کہ باوضو سعی کرے‘‘ (بہارِ شریعت‘ جلد: 1‘ ص: 435)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں