"MMC" (space) message & send to 7575

عازمینِ حج کو مشورہ!

امام احمد رضا قادری نے سید محمد احسن بریلوی کی فرمائش پرعازمینِ حج کیلئے ایک رسالہ ''انوارُ البَشَارَۃ فِیْ مَسَائِلِ الْحَجِّ وَالزِّیَارَۃ‘‘ کے عنوان سے لکھا جو فتاویٰ رضویہ جلد: 10 میں شامل ہے۔ ہم اس رسالے کے بعض مندرجات کو حجاج کے فائدے کیلئے درج کر رہے ہیں:
سب سے اہم یہ کہ اس سفر سے مقصود صرف اور صرف اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسولِ مکرمﷺ کی رضا ہونی چاہیے۔ حج کیلئے روانگی سے قبل جس کا قرض یا امانت ہو‘ اُسے واپس کرے‘ اگر فوری طور پر پورے قرض کی واپسی کے وسائل نہیں ہیں تو جو ادا کر سکتا ہو وہ ادا کرے اور باقی کیلئے اُن سے مہلت مانگے۔ کسی کا ناحق مال لیا ہو تو اسے واپس کرے یا معاف کرائے‘ مالک کا پتا نہ چلے تو اتنا مال فقیروں پرصدقہ کرے‘ کیونکہ ناجائز طریقے سے حاصل کیا ہوا مال درحقیقت غاصب کی ملکیت نہیں ہوتا؛ پس جتنی جلدی ممکن ہو اُسے اپنی مِلک سے نکالے۔ ماضی کی قضا نمازیں‘ روزے‘ زکوٰۃ الغرض جتنی عبادات واجب تھیں اور اُن سے عہدہ برآ نہیں ہوا‘ اللہ تعالیٰ سے اس کوتاہی پر صِدقِ دل سے توبہ کرے اور شریعت کے مطابق اُن کی تلافی کرے۔ اس کے باوجود اُن کا قبول ہونا اللہ تعالیٰ کے کرم پر موقوف ہے۔
جن حق داروں کی اجازت کے بغیر سفر مکروہ ہے‘ جیسے اولاد کیلئے ماں باپ اور بیوی کیلئے شوہر‘ حتی الامکان انہیں رضامند کرے‘ اگر وہ کسی طور پر بھی رضامند نہ ہوں تو پھر حجِ فرض پر چلا جائے‘ کیونکہ اُن کا روکنا اللہ کے فرض سے روکنا ہے اور اس بارے میں فرمانِ رسول ہے: ''ایسے امور میں مخلوق کی اطاعت جائز نہیں ہے جن میں اللہ کی نافرمانی لازم آئے‘ حق داروں کی اطاعت صرف نیک کاموں میں روا ہے‘‘ (مسلم: 1840)۔ فریضۂ حج ادا کرنے کیلئے تو ہر صورت میں جانا ہی ہے‘ والدین اور شوہر سے اجازت طلب کرنا اولاد اور بیوی کیلئے سعادت اور اجر کا باعث ہے۔ ماں باپ اور شوہر کو بھی چاہیے کہ بخوشی اجازت دیں‘ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ''نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو‘‘ (المائدہ: 2)۔
سفرِ حج میں عورت کو جب تک شوہر یا مَحرم کی رفاقت میسر نہیں‘ وہ حج پر نہیں جا سکتی۔ اگر جائے گی تو فقہی اعتبار سے حج تو ادا ہو جائے گا مگر گناہگار ہو گی۔ مصارفِ سفر اور زادِ راہ مالِ حلال سے ہوں‘ ورنہ حج کے قبول ہونے کی امید نہیں ہے؛ البتہ فرض ساقط ہو جائے گا۔ حسبِ توفیق اپنی ضرورت سے زیادہ زادِ راہ لے کر جائے تاکہ اپنے احباب اور ضرورت مندوں پر بھی کچھ خرچ کر سکے‘ یہ حجِ مبرور کی نشانی ہے۔ مسائلِ حج وعمرہ اور زیارات پر کوئی عام فہم کتاب لے کر جائے یا کسی عالم سے رہنمائی حاصل کرے یا بہارِ شریعت حصہ ششم یاحج وعمرہ پر کسی مستند عالم کی کتاب اپنے پاس رکھے۔ اکیلے سفر نہ کرے کہ یہ منع ہے؛ البتہ بے دین رفیقِ سفر سے اکیلا رہنا بہتر ہے۔ فرمانِ رسول ہے: ''جب کسی سفر میں تین افراد ہوں تو وہ آپس میں سے ایک کو امیر بنا لیں‘‘ (ابودائود: 2608)۔ ایسے شخص کو امیر بنانا بہتر ہے جو بااخلاق‘ دین دار‘ معاملہ فہم اور خدمت کا جذبہ رکھتا ہو۔
روانگی سے پہلے اپنے حق داروں‘ دوستوں عزیزوں سے ملے‘ کسی کی حق تلفی کی ہو یا کوئی ناراض ہو تو اُس سے معافی مانگے اور راضی کرے اور اُن کو بھی چاہیے کہ خوش دلی سے راضی کریں۔ حدیثِ پاک میں ہے: ''جس نے اپنے بھائی سے اپنے کسی قصور پر معافی مانگی اور اُس نے اسے قبول نہیں کیا تو اُسے ایسا ہی گناہ ہو گا جیسے مالی واجبات وصول کرنے والے کو خیانت پر ہوتا ہے‘‘ (ابن ماجہ: 3718)۔ اپنے خطاکار کو معاف کرنا اللہ تعالیٰ کی سنت ہے۔ النور: 22 میں خطاکاروں کو معاف کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا: ''اور چاہیے کہ وہ معاف کر دیں اور درگزر کریں‘ کیا تمہیں یہ بات پسند نہیں ہے کہ اللہ تمہاری خطائوں کوبخش دے‘‘۔ یعنی اگر یہ چاہتے ہو کہ اللہ تمہارے قصوروں کو معاف فرمائے تو تم بھی اپنے قصوروار کو معاف کر دو۔ رخصت ہوتے وقت سب سے دعا کی درخواست کرے‘ گھر پر چار نفل پڑھ کر نکلے‘ یہ واپسی تک اس کیلئے اللہ تعالیٰ کے حفظ وامان کا وسیلہ بنیں گے اور گھر سے نکلتے وقت ''بِسْمِ اللّٰہِ وَآمَنْتُ بِاللّٰہِ وَتَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ‘‘ پڑھ کر یہ دعا مانگے‘ (ترجمہ:) ''اے اللہ! ہم اس سے تیری پناہ چاہتے ہیں کہ ہم لغزش کھائیں یا کوئی ہمیں لغزش دے‘ ہم گمراہ ہوں یا کوئی ہمیں گمراہ کرے‘ ہم کسی پر زیادتی کریں یا کوئی ہم پر زیادتی کرے‘ ہم کسی سے ہٹ دھرمی کریں یا کوئی ہم سے ہٹ دھرمی کرے‘‘۔ نیز یہ دعا مانگے: ''اے اللہ! ہم تجھ سے اس سفر میں نیکی اور تقویٰ کا سوال کرتے ہیں اور تیرے پسندیدہ کاموں کی توفیق طلب کرتے ہیں‘ اے اللہ! اس سفر کو ہمارے لیے آسان فرما دے اور اس کی مسافت کو ہمارے لیے لپیٹ دے‘ اے اللہ! اس سفر میں ہمارا رفیق اور گھر کا نگہبان بھی تو ہی ہے۔ اے اللہ! ہم سفر کی مشقتوں‘  تکلیف دہ صورتِ حال پیش آنے اور اپنے مال اور اہل میں ناخوشگوار تبدیلی آنے سے تیری پناہ چاہتے ہیں‘‘ اور جب سفر سے واپس آئے تو مذکورہ بالا کلمات کے بعد یہ دعا مانگے: ''ہم عافیت کے ساتھ لوٹنے والے‘ اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرنے والے‘ اُسی کی توفیق سے عبادت کرنے والے اور اپنے رب کی حمد کرنے والے ہیں‘‘ (مسلم: 1342)۔ بلندی پر چڑھتے ہوئے ''اللہ اکبر‘‘ اور پستی کی طرف اترتے وقت ''سبحان اللہ‘‘ کہے۔ کوئی چیز گم ہو جائے تو ''اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن‘‘ یا ''اِنَّہٗ عَلٰی رَجْعِہٖ لَقَادِر‘‘ یا ''یَا جَامِعَ النَّاسِ لِیَوْمٍ لَّارَیْبَ فِیْہِ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَاد اِجْمَع بَیْنِیْ وَبَیْنَ ضَالَّتِیْ‘‘ پڑھے۔
حج مشقت کی عبادت ہے‘ اگرچہ ماضی کے مقابلے میں آج کل حجاجِ کرام کو ایسی سہولتیں میسر ہیں جن کا پہلے کوئی تصور بھی نہیں تھا۔ لیکن اس کے باوجود حج کی مشقت کسی نہ کسی صورت میں باقی ہے اور انسانی ہجوم نے مشقت کی نئی صورت اختیار کر لی ہے‘ جس میں تخفیف کیلئے سعودی حکومت ہر سال کثیر مالی وسائل صَرف کرتی ہے‘ توسیع‘ تزئین اور تعمیر کا کام جاری رہتا ہے‘ لیکن اس کے باوجود انسانوں کے ہجوم میں سال بہ سال اضافہ ہی ہو رہا ہے۔ اس لیے حجّاج کرام کو تحمل کا مظہر ہونا چاہیے اور کوئی ناخوشگوار صورتحال پیش آنے پر مغلوب الغضب نہیں ہونا چاہیے۔ بہت سے لوگ اپنا زیادہ تر وقت معلّمین اور اُن کے کارندوں کو کوسنے اور گِلے شکوے میں گزار دیتے ہیں‘ ان کا ماحصل غیبت اور بدگوئی کے سوا کچھ نہیں ہوتا‘ اس کے بجائے انہیں حسبِ توفیق طواف‘ نوافل‘ تلاوت‘ اذکار وتسبیحات ودرود پڑھتے رہنا چاہیے اور اپنے اور سب کیلئے اصلاحِ احوال کی دعا کرتے رہنا چاہیے۔
سیلفی بنانا ایک عالمی متعدی بیماری بن چکی ہے‘ اس کی کثرت بھی عبادات میں حضوریِ قلب سے مانع ہے اور یہ ریاکاری کی ایک صورت ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ حجاجِ کرام یہ وقت اپنے عزیز واقارب کیلئے دعا میں صَرف کریں۔ فرمانِ رسول ہے: ''اپنے متعلقین کیلئے غائبانہ دعا قبول ہوتی ہے‘‘ کیونکہ اس کا مُحَرِّک صرف اخلاص اور لِلّٰہیت ہوتی ہے‘ جبکہ سامنے کی دعا میں رِیا کا بھی احتمال ہو سکتا ہے۔ حجاجِ کرام اور زائرین کو چاہیے کہ اپنے لیے‘ اپنے والدین وجملہ اہلِ ایمان آبائو اجداد‘ اپنے حق داروں‘ احباب اور عزیزوں کے لیے دعا کرنے کے ساتھ ساتھ امتِ مسلمہ اور اپنے وطنِ عزیز کیلئے بھی دعا کرتے رہیں۔ اہل پاکستان کو بیرونِ ملک اپنے سیاسی اختلافات اور نفرتوں کا اظہار کرنے کے بجائے ایک دوسرے سے محبت‘ دلداری اور ہمدردی کا رویّہ رکھنا چاہیے۔ ہمیں اپنے قلب و روح اور ظاہر وباطن کوگناہوں کی آلودگی سے پاک رکھنے کیلئے سچی توبہ کرنی چاہیے‘ پھر اللہ تعالیٰ سے ساری زندگی اُس پر کاربند رہنے کی توفیق مانگیں۔ ان میں سے بیشتر باتیں عام زندگی میں بھی اختیار کرنے کی ہیں۔حرمِ کعبہ میں عبادت کا ثواب ایک لاکھ گنا ہے‘ وہاں کی سب سے اہم عبادت بیت اللہ کا طواف ہے۔ اسی طرح مسجدِ نبوی میں جب بھی موقع ملے‘ رسول اللہﷺ کے مواجہۂ اقدس میں حاضر ہو کر نہایت ادب کے ساتھ پست آواز میں صلوٰۃ وسلام پیش کریں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں