بات 1968ء کی ہو گی۔ میرے والد‘ باکمال شاعر جناب زکی کیفی ایک دن گھر میں ہنستے ہوئے داخل ہوئے۔ ان کے ہاتھ میں پھلوں کے لفافے تھے جن کا ہمیں انتظار رہتا تھا۔ لیکن ایک لفافے میں کچھ رسالے بھی تھے۔ یہ اردو ڈائجسٹ کے تازہ شمارے کے کئی نسخے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ اس کے سرورق پر کچھ خوبصورت پرندوں کی تصویریں بنی ہوئی تھیں۔ اردو ڈائجسٹ ان رسالوں میں تھا جو ہمارے گھر باقاعدہ آیا کرتے تھے۔ بچوں کے رسالے‘ تعلیم و تربیت‘ نونہال اور دہلی کا رسالہ کھلونا تو ہمارے پسندیدہ تھے ہی لیکن اردو ڈائجسٹ بھی صفحہ صفحہ پڑھا کرتے تھے۔ لیکن اُس دن اردو ڈائجسٹ کے کئی نسخے لانا سمجھ نہیں آیا اور والد گرامی کے‘ جنہیں ہم بھائی جی کہتے تھے‘ ہنسنے کی وجہ بھی معلوم نہیں تھی۔ کچھ دیر بعد پتا چلا کہ اس تازہ شمارے میں میرے دادا مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع صاحب کا انٹرویو شائع ہوا ہے اور ابتدا میں الطا ف حسن قریشی صاحب نے زکی کیفی کا تذکرہ خاصے تیکھے انداز میں کیا ہے۔ یہ الطاف صاحب کی زکی صاحب سے پہلی ملاقات کا ذکر ہے جس کا ابتدائی تاثر الطاف قریشی کیلئے زیادہ خوشگوار نہیں تھا۔ لیکن ابتدائی سطروں کے بعد جب زکی کیفی سے بعد کی ملاقاتوں کا ذکر کیا تو یہ بھی لکھا کہ زکی کیفی کی شخصیت کے کئی پہلو مثلاً شاعری ان پر بعد میں کھلے اور اب وہ اپنے ابتدائی تاثر پر افسوس کرتے ہیں۔ تیکھے جملوں اور شگفتہ انداز کے ساتھ الطاف صاحب کے اس انٹرویو کا یہ حصہ شگفتگی کی عمدہ مثال ہے۔ بعد کا تمام انٹرویو مفتی صاحب کے گرد گھومتا تھا۔ کورنگی کراچی میں کی گئی ملاقات کا ذکر‘ سوال اور جواب الطاف حسن قریشی کی خوبصورت اور جچی تلی نثر سے سجے ہوئے تھے۔ ان کی شائستہ طبیعت‘ ہمہ جہت مطالعہ‘ مشرقی روایت کے مطابق بزرگوں کا احترام سبھی ان کے انٹرویوز کا حصہ ہوا کرتے تھے اور یہ انٹرویو بھی اس کی عمدہ مثال تھا۔ صحافت میں جیسی ادبی نثر الطاف قریشی نے لکھی اس کی مثالیں کم ہوں گی۔ اس کی یہ وجہ بھی تھی کہ ان کی ادبی اور صحافتی تربیت ان لوگوں کے ہاتھوں میں ہوئی جو ادب آداب کے امین تھے اور صحافت کو پیسہ کمانے کا ذریعہ نہیں بلکہ بات پہنچانے کی ذمہ داری کے طور پر قبول کرتے تھے۔ اس زمانے میں دائیں اور بائیں بازو کی نظریاتی جنگیں عروج پر تھیں اور سیاست‘ صحافت‘ ادب اور تعلیم سب انہی لڑائیوں کے میدان بنے ہوئے تھے۔ اس زمانے میں دائیں بازو کے ہم خیال رسالوں میں اردو ڈائجسٹ سر فہرست تھا‘ جس کے جماعت اسلامی کے اکابرین سے قریبی تعلقات تھے۔
آٹھ نوسالہ لڑکے کی حیثیت میں اس دور کی دو تین خاص باتیں مجھے یاد رہیں گی۔ ایک تو ہمارے گھر کی زیریں منزل میں قائم مغربی پاکستان اردو اکیڈمی میں ماہانہ مشاعرے‘ جس کا انتظام اکیڈمی کے سربراہ ڈاکٹر سید عبداللہ اور میرے والد زکی کیفی مشترکہ طور پر کرتے تھے۔ اکیڈمی ہمارے سمن آباد موڑ پر واقع گھر ''کاشانۂ زکی‘‘ میں کرایہ دار کی حیثیت میں تھی۔ ان ماہانہ مشاعروں میں لاہور کے بہت قد آور اور منتخب نوجوان شاعر تشریف لاتے تھے جن میں احسان دانش‘ قیوم نظر‘ ناصر کاظمی‘ انجم رومانی‘ مظفر وارثی‘ کلیم عثمانی‘ سید وقار عظیم‘ سید اقبال عظیم‘ ضمیر فاطمی‘ اقبال ساجد وغیرہ شامل ہوتے۔ میں نے صرف ایک بار اپنے والد کے حکم پر اپنے پہلے پہل لکھے شعر سنائے تھے‘ ورنہ بطور سامع شامل ہوتا تھا۔ الطاف حسن قریشی بھی ان مشاعروں میں کئی بار تشریف لائے۔ الطاف صاحب کی غزل مضبوط اور تلازموں سے بھرپور بہت عمدہ ہوا کرتی تھی۔ یہ روایتی انداز کی سجی ہوئی غزل تھی جو شاعر کی ریاضت کا بھی پتا دیتی تھی۔ یہ میرے لیے بہت خوشگوار حیرت تھی کہ بہت عمدہ نثر کے حامل اردو ڈائجسٹ کو اردو دنیا میں پہلی بار متعارف کرانے والے الطاف صاحب اتنے اچھے شاعر بھی ہیں۔
اُس دور کی دوسری یاد 1970ء کے انتخابات ہیں۔ یہ اُس زمانے کا بڑا اہم واقعہ تھا اور سیاسی افراد کی ہمارے گھر میں بہت ملاقاتیں ہوتی تھیں۔ آئے روز نامور لوگ ہمارے گھر آتے تھے اور بہت سے لوگوں مثلاً نوابزادہ نصر اللہ خان کے پیچھے خفیہ اداروں کی گاڑیاں بھی آنا معمول تھا۔ اس زمانے میں الطاف حسن قریشی بھی ہمارے گھر آیا کرتے تھے۔ لڑکپن کا وہ منظر مجھے یاد ہے کہ ایک چمکیلی صبح وہ ہمارے گھر کے برآمدے میں کھڑے تھے۔ برآمدے میں بنے روشن دانوں میں کبوتروں کی غٹرغوں معمول کے مطابق جاری تھی۔ الطاف صاحب شاید جناب ظفر احمد انصاری سے محو گفتگو تھے اور میں دیکھتا تھا کہ ان کا سر خفیف سی حرکت کرتا رہتا ہے۔ وہ دن گزر گئے اور راوی کا پانی تیزی سے بہتا گیا۔ پھر 1972ء میں یہاں تک کہ 1973ء میں دستور سازی کے مرحلے شرو ع ہو گئے۔ ان دنوں ہمارا گھر ایک بار پھر سیاسی اور نظریاتی عمائدین کا مرکز بنا ہوا تھا۔ ان دنوں بھی الطاف صاحب کا کافی آنا جانا رہا۔ وقت اور تیزی سے گزرا۔ 1974ء میں قادیانیت کے خلاف تحریک میں پھر مشاورت کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ بھٹو ایک ایسے ڈکٹیٹر کی صورت میں معروف ہوتے چلے گئے جو اپنے بارے میں تنقید برداشت نہیں کرتا تھا۔ اس دور میں الطاف صاحب اسیرِ زندان ہوئے تو والد صاحب نے ان کی گرفتاری پر قطعات لکھے۔ پھر وہ مارشل لاء دور میں دوبارہ زیر عتاب آئے۔ جنوری 1975ء میں والد گرامی کے انتقال پر الطاف صاحب چند ساتھیوں کے ہمراہ تعزیت کیلئے تشریف لائے اور بڑے بھائی محمود اشرف عثمانی سے اپنے دلی دکھ کا اظہار کیا۔ ہمارے والد زکی کیفی بہت سے لوگوں سے ہمارے تعلق کے ایک پُل کی طرح تھے۔ یہ پل مسمار ہوا تو دونوں کنارے ایک دوسرے سے دور دور کھڑے رہ گئے۔ ملاقاتیں نہ ہونے کے برابر رہ گئیں۔ ایک دو بار عمِ مکرم مفتی محمد رفیع عثمانی کے ہمراہ الطاف صاحب کے ادارے پائنا (پاکستان انسٹیٹیوٹ آف نیشنل افیئرز) میں بھی جانے کا موقع ملا جہاں عمِ مکرم مہمانِ خاص تھے۔
میں نے کالم نگاری شروع کی تو جن بڑے صحافیوں کے فون آئے اور ان کی حوصلہ افزائی میسر آئی ان میں جناب الطاف قریشی بھی تھے۔ انہوں نے کئی بار میرے کالموں کی داد کیلئے فون کیا اور بہت محبت کے ساتھ میرے لفظوں کو سراہا۔ ایک بار انہوں نے گلہ کیا کہ میرے پاس آپ کی شاعری کی کتب نہیں۔ مجھے بھی اس کوتاہی کا احساس ہوا تو تلافی کیلئے اپنی کتابیں پیش کرنے کیلئے الطاف صاحب کے پاس حاضر ہو گیا۔ وہ جوہر ٹاؤن جی وَن میں رہائش پذیر تھے اور اس وقت بینائی کے مسائل زیادہ ہو چکے تھے۔ ان کی صحت دیکھ کر دھچکا سا لگا کہ میرے ذہن میں ان کی وہی تصویر تھی جو میں نے اوپر بیان کی۔ الطاف صاحب بہت محبت سے ملے‘ دس پندرہ منٹ گفتگو رہی۔ اس کے بعد بھی کئی بار فون پر بات ہوئی لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ عام طور پر وہ ملاقات سے گریزاں رہتے ہیں سو پھر بالمشافہ ملاقات نہیں ہو سکی۔ اور اب الطاف صاحب کی رخصت کا دکھ پورے ادب اور صحافت کا دکھ ہے اور یہ دکھ بہت محسوس کیا گیا ہے۔
عجیب دنیا ہے یہ۔ ایک دور شروع ہوتا ہے تو لگتا ہے سدا جاری رہے گا۔ ایک روایت سر بلند ہوتی ہے تو لوگ یقین کرنے لگتے ہیں کہ یہ سربلندی صدیوں تک رہے گی۔ اردو میں ڈائجسٹوں کے دور کا آغاز کرنے والے الطاف حسن قریشی اور ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی تھے۔ بعد میں ڈائجسٹ کھمبیوں کی طرح اُگے۔ لیکن یہ روایت الطاف صاحب کے سامنے ہی زوال پذیر ہو کر غروب ہو گئی۔ صحافتی اقدار کی پاسداری کی روایت الطاف صاحب اور دیگر قد آور شخصیات نے کی اور حق کے اظہار میں بندشیں بھی جھیلیں اور قید و بند کی مشکلات بھی سہیں۔ یہ روایت بھی انہی کے سامنے دم توڑ گئی۔ یہ تین حادثے لگاتار ہوئے۔ الطاف صاحب سے پہلے سنجیدہ رسالوں کی موت ہوئی‘ شائستہ صحافت کا انتقال ہوا۔ دو حادثات پہلے ہوئے۔ اب الطاف صاحب کی رحلت تیسرا بڑا حادثہ ہے۔