"SUC" (space) message & send to 7575

آٹھ۔ صفر

فرض کیجیے انسان کو مستقبل کے واقعا ت کا علم ہوا کرتا تو کیا ہوتا؟ ایک بات تو یقینی ہے‘ بھارت کبھی 7 مئی 2025ء کو پاکستان پر حملہ نہ کرتا۔ بھارت وہ غلطی کبھی نہ کرتا جس کے زخم وہ اب تک چاٹ رہا ہے۔ یہ زخم ہر سال مزید گہرے ہو جاتے ہیں۔ 6 مئی 2025ء کی رات یاد رہے گی۔ گیارہ بجے کے قریب خبریں اور وڈیوز دیکھتے دیکھتے مجھے نیند آ گئی اور موبائل بھی میرے ہاتھ ہی میں سو گیا۔ ڈیڑھ بجے کے قریب گھر کے ایک فرد کا فون آیا تو جاگتے ہی دل کسی ناگہانی کے اندیشے سے تیز دھڑکنے لگا۔ بھارت کے میزائل حملے کی خبر ملنے کے ساتھ ہی یہ خبر بھی ملی کہ بھارت کے دو جنگی طیارے گرا لیے گئے ہیں۔ اس بہت بڑی خبر کے بعد نیند کسے آ سکتی تھی۔ لحظہ لحظہ نئی خبریں ملنا شروع ہوئیں اور فجر کے وقت تک معلوم ہو گیا کہ لائن آف کنٹرول پر مختلف بھارتی چوکیوں کو تباہ کر دینے کے ساتھ ساتھ پانچ طیارے اور ایک ڈرون مار گرانے کی تصدیق آئی ایس پی آر اور وزرا نے کر دی ہے۔ تمام پاکستانی چینلز اور اخبارات یہی خبریں دے رہے تھے۔ پاکستانی حکام نے بلومبرگ‘ رائٹرز‘ سکائی نیوز اور سی این این کو جس اعتماد کے ساتھ یہ اطلاعات دیں اس سے معلوم ہوتا تھاکہ یہ خبریں درست ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا گروپس نے یہ خبریں پاکستان کے حوالے سے رات ہی میں شائع کرنا شروع کر دیں‘ اگرچہ ان کی تصدیق کے بارے میں محتاط طرزِ عمل اختیار کیا‘ لیکن ان کا رات ہی میں شائع ہونا ایک طرح سے مصدقہ ہونا تھا۔ لیکن ان سے بھی پہلے آذربائیجان کی خبر رساں ایجنسی دو بھارتی طیارے گرائے جانے کی خبر دے چکی تھی۔ ترک میڈیا نے بھی یہ خبر نمایاں طور پر شائع کی۔ اُس وقت تک دو طیاروں کی خبر ہی چل رہی تھی۔ بعد میں طیاروں کی تعداد بڑھتی گئی اور پانچ تک پہنچ گئی۔ باقی تفصیلات کی ضرورت نہیں‘ بارہ ماہ پہلے کی باتیں سبھی جانتے ہیں۔
لیکن اب یہ تعداد 6-0 سے بڑھ کر 8-0 ہو چکی ہے۔ تینوں مسلح افواج کے نمائندوں نے آپریشن بنیانٌ مرصوص کا ایک سال مکمل ہونے پر جو پریس کانفرنس کی‘ اس میں فضائیہ کے ترجمان نے بتایا کہ چار رافیل‘ ایک سخوئی‘ ایک مگ 29‘ ایک میراج اور ایک قیمتی اور بڑا ڈرون گرایا گیا‘ جس میں کوئی پائلٹ نہیں ہوتا۔ اس طرح اب یہ تعداد 8 ہوچکی ہے۔ اس سے پہلے فضائیہ نے ان طیاروں کے ٹیل نمبر‘ پائلٹس کے نام اور ان کے سکواڈرنز کی تفصیلات بھی بتائی تھیں اور یہ بھی کہ انہیں کس کس مقام پر گرایا گیا۔ ان میں بیشتر حقائق کی تصدیق آزاد بین الاقوامی میڈیا نے بھی کی اور دفاعی تجزیہ کاروں نے بھی۔ خود بھارت کے باخبر اور سنجیدہ تجزیہ کاروں نے اس کا بار بار اعتراف کیا کہ پاکستان اس جنگ میں فاتح کی حیثیت میں ابھرا۔ بھارت کا گودی میڈیا خواہ کتنا ہی دانت پیس کر اور کتنی ہی زہر بھری گفتگو کرے‘ یہ حقیقت چھپائے نہیں چھپتی کہ مئی 25ء کے بعد پاکستان ایک بڑی عسکری‘ سفارتی اور بین الاقوامی طاقت بن کر ابھرا ہے‘ خاص طور پر جنوبی ایشیا میں اس نے جو مرکزیت حاصل کر لی ہے وہ کسی کے خواب وخیال میں بھی نہیں تھی۔ شاید پاکستان کو خود بھی اندازہ نہیں تھا کہ ذرا درخت ہلنے سے اتنے پھل اس کی جھولی میں آ گریں گے۔ معرکہ حق سے اب تک اسے خدا کا خاص فضل وکرم نہ کہا جائے تو اور کیا کہا جائے گا کہ سب اسباب خود بخود پاکستان کے حق میں اکٹھے ہوتے چلے گئے۔
پاکستان کو مئی 25ء کے بعد سے اب تک جو سفارتی اور عسکری عروج حاصل ہو رہا ہے‘ جس طرح اس کے اسلحے کی مانگ بڑھ رہی ہے‘ جس طرح قوم کا فوج پر اعتماد بحال ہوا ہے اور جس طرح بھارت کو سفارتی شکست ہوئی ہے اس پر بہت بات کی گئی ہے۔ لیکن کچھ حقائق پر بہت کم بات ہوئی ہے اور ضرورت ہے کہ ان کو اجاگر کیا جائے۔ اسی کے ساتھ ساتھ ان معاملات پر فوجی اور سیاسی عہدیداروں کی تعریف بھی بجا طور پر کی جانی چاہیے۔ اول تو یہ کہ پاکستان نے کسی بھی مرحلے پر تکبر اور گھمنڈ کا مظاہرہ نہیں کیا۔ ایک کھلی فتح کے بعد بھی نہیں! فیلڈ مارشل سے لے کر وزیراعظم اور آئی ایس پی آر کے ترجمان تک ہر ایک نے اسے اللہ کا کرم اور مدد قرار دیا۔ مجھے یاد ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایک موقع پر کہا کہ ہم نے اس آپریشن کے دوران اللہ کی غیبی مدد آتے دیکھی۔ پوری جنگ میں اور بعد کے مواقع پر‘ ہر سیاسی یا عسکری عہدیدار نے عزم اور حوصلے کا بھرپور مظاہرہ کیا‘ اور انہیں دیکھ کر قوم کے حوصلے بھی بلند رہے۔ گفتگو کے ساتھ ان کی باڈی لینگوئج بھی بلند عزم کا اظہار کرتی رہی۔ ایک اور قابلِ تعریف بات یہ ہے کہ پاکستان نے سرکاری طور پر حقائق پر پردہ نہیں ڈالا۔ جہاں جو نقصان اور شہادتیں ہوئیں‘ انہیں قبول کیا اور اُسی وقت کیا۔ پاکستان نے جو دشمن کے نقصانات کیے‘ وہ فضائی اور برّی افواج دونوں کے ذریعے تھے۔ فضائیہ نے بہت محتاط طریقے سے یہ دعوے کیے اور ساتھ ہی وہ ثبوت بھی پیش کیے جو آزاد میڈیا کے لیے قابلِ اعتبار تھے۔ ثبوت موجود ہونے کے باوجود ہر لحاظ سے انہیں پرکھنے کیلئے جتنے شواہد درکار تھے‘ ان کے بغیر دعویٰ نہیں کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ مئی 25ء میں جو سکور 6-0 بتایا گیا‘ اب وہ تصدیقی عمل سے گزر کر 8-0 ہے۔ کئی ایسے طیارے‘ جو شدید ڈیمیج ہو کر ناقابلِ استعمال ہو گئے‘ وہ اس سکور میں شامل نہیں۔ برّی افواج نے جن کامیابیوں کے دعوے کیے‘ ان کے ثبوت بھی بہم پہنچائے۔ آئی ایس پی آر اور وزارتِ اطلاعات نے یہ بروقت کام کیا کہ شہری عمارات پر بھارتی حملوں کے 24 گھنٹوں کے اندر بین الاقوامی اور صحافیوں کو بھارتی حملوں کی جگہ کا دورہ کرایا گیا‘ تاکہ وہ دیکھ سکیں کہ یہاں کوئی دہشت گرد گروہ نہیں‘ عام شہری تھے۔ پاکستان کے بھرپور اعتماد کو ساری دنیا نے دیکھا۔ بیانیے کی جنگ میں بھی پاکستان نے برتری حاصل کی۔ بھارت بیشمار ملکوں میں اپنا وفد بھیجنے کے باوجود پاکستان کو زک پہنچانے میں ناکام رہا۔ اس کی بڑی وجہ پاکستان کی پہلگام واقعے پر درست پالیسی تھی جس کا وزن دنیا نے محسوس کیا۔ ویسے بھی دو جوہری طاقتوں کے مابین جنگ کے امکان میں دنیا کسی کی طرفداری سے ڈرتی ہے۔ ہر ملک کی کوشش ہوتی ہے کہ خود کو بچا کر رکھا جائے اور کچھ ایسا نہ کیا جائے جس سے کسی جوہری جنگ کا آغاز ہو جائے۔
یہ قابلِ تعریف بات ہے کہ پاکستانی میڈیا‘ جس میں ٹی وی چینلز‘ اخبارات‘ کالم نگار سب شامل ہیں‘ بہت باوقار روپ کے ساتھ سامنے آیا۔ اس نے بڑھکیں مارنے اور جھوٹے دعوے کرنے کا انداز نہیں اپنایا۔ بھارتی میڈیاکے مقابلے میں یہ بہت واضح فرق تھا جس نے پاکستان کو عزت بخشی۔ اسی طرح سوشل میڈیا پربڑی تعداد میں پاکستانیوں نے بڑی عزت مندانہ اور محب وطن سوچ کا مظاہرہ کیا۔ پوری قوم ایک بار پھر دشمن کے خلاف متحد نظر آئی اور افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہوئی۔ یہ وہ تمام باتیں ہیں جنہوں نے مل کر پاکستان کو یہ فتح دلائی اوردنیا کو اپنے اہم ملک ہونے کا احساس دلایا۔ ان باتوں کا ذکر اس لیے بھی ضروری ہے کہ خطرہ ابھی منڈلا رہا ہے۔ یہ اوصاف مزید بہتر اور یکجا کرکے ہم آئندہ بھی سرخروئی حاصل کر سکتے ہیں‘ اس لیے ان کو مضبوط تر کرنے کی ضرورت ہے۔
دشمن کوکبھی کمزور نہیں سمجھنا چاہیے‘ خاص طور پر جب وہ دشمنی اور مکاری دونوں میں ثابت شدہ ہو۔ بھارت اس شکست کو زیادہ دیر ٹھنڈے پیٹ برداشت نہیں کر سکتا۔ اب وہ اور راستہ اپنائے گا‘ کوئی اور بہانہ ڈھونڈے گا۔ ہمیں ان شگافوں کو بھی بھرنا ہے جو ممکنہ طور پر ہمارے دفاع میں ہو سکتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ فیصلہ ساز اس سے غافل نہیں ہوں گے اور خدا نخواستہ اگلی کسی جنگ میں ہم 8-0 نہیں‘ بلکہ بڑے فخر سے اس سے کئی گنا بڑا سکور دنیا کودکھا سکیں گے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں