"SUC" (space) message & send to 7575

چٹاگانگ۔ پرانا اسلام آباد

چٹاگانگ کے ایک پُرہجوم بازار میں بس رکی اور مسافر اترنے لگے۔ ویسے تو پُرہجوم کا لفظ بنگلہ دیش کیلئے ہر جگہ درست ہے لیکن چٹاگانگ تو ملک کا دوسرا بڑا شہر بھی ہے۔ گاڑیاں‘ سائیکل رکشے اور بسیں ہر طرف تھیں۔ بنگلہ دیش میں آن لائن ٹیکسی ایپلی کیشنز بھی ہیں لیکن ان میں سب سے مقبول ''پتھاؤ‘ ‘ ( Pathao) ہے۔ ایک بات یہ کہ مجھے ملک میں ہر جگہ انٹر نیٹ کی سپیڈ بہت اچھی ملی جو قابلِ تعریف ہے۔ ہم پتھاؤ کی ٹیکسی میں بیٹھے اور وہ کئی بازاروں سے گزار کر ہمیں ریڈیسن بلیو ہوٹل لے گئی جہاں ہماری بکنگ تھی اور ایک دن یہیں قیام کرنا تھا۔ ایک چھوٹی سی گنجان سڑک پر پنج ستارہ ہوٹل دیکھ کر ذرا حیرت ہوئی لیکن ہوٹل بہت اچھا‘ وسیع اور آرام دہ تھا۔ ایسی جگہوں پر میری ترجیح اوپر کی منزلوں پر ٹھہرنا ہوتا ہے۔ اس لیے کہ ٹریفک کا شور بھی کم ہوتا ہے اور شہر کا منظر صاف۔ سورج چھپنے کو تھا اور شہر کے چراغ روشن ہورہے تھے۔ باقی صدیقی کا کیا شعر ہے:
داغِ دل ہم کو یاد آنے لگے؍ لوگ اپنے دیے جلانے لگے
شہر ایک اور نام کئی۔ چٹاگانگ‘ چاٹگام‘ چاٹوگرام‘ چھٹالا سب اسی شہر کے نام ہیں جس کا سرکاری نام اب چاٹو گرام ہے۔ گرام کا لفظ وہی ہے جو ہمارے ہاں پنجابی میں گراں اور اردو میں گاؤں ہے۔ عبوری حکومت کے سربراہ ڈاکٹر یونس کا گرامین بینک انہی معنوں میں ہے یعنی گاؤں کا بینک۔ میں نے کہیں پڑھا کہ چاٹو بنگالی میں لالٹین یا قندیل کو کہتے ہیں اور اس جگہ اس کے کاریگر تھے۔ کچھ کہتے ہیں کہ یہ چھوٹو گرام تھا یعنی چھوٹا گاؤں۔ خیر جو بھی ہو‘ نئی بات یہ ہے کہ مغل دور میں اس شہر کا نام اسلام آباد رکھ دیا گیا تھا اور یہ نام کافی مدت تک مروج رہا۔ ایک کروڑ آبادی کا یہ شہر بنگلہ دیش کی ریڑھ کی ہڈی ہے‘ کیونکہ بندرگاہ کی حیثیت میں سمندری تجارت یہیں سے ہوتی ہے۔ بندرگاہ ہونے کی وجہ سے یہاں ٹیکسٹائل اور دیگر صنعتیں بھی لگیں اور اس طرح اس کی آبادی پھیلتی گئی۔ ایک طرف چٹاگانگ ہِل ٹریکٹ یعنی پہاڑی علاقے اور دوسری طرف دریائے کرنا فلی کے بیچ بسا ہوا شہر خوبصورت اور ہرابھرا ہے۔ کرنافلی یہاں سینکڑوں میل طویل سفر کے بعد تھک کر خود کو خلیج بنگال کی وسعت کے سپرد کردیتا ہے۔ کرنافلی نام بھی دلچسپ ہے۔ عربی میں قرنفل مسالے میں استعمال ہونے والی لونگ کو کہتے ہیں اور اس دریا میں لونگ کا بھرا ہوا جہاز ڈوب گیا تھا‘ سو عرب اسے اسی نام سے یاد کرنے لگے۔ اس بندرگاہ پر عباسی دور میں مسلمانوں کی حکومت بھی رہی۔ چٹاگانگ پہاڑی علاقے یعنی ہل ٹریکٹ کی خوبصورتی کا بہت ذکر سنا ہے لیکن یہ علاقہ قبائلی جنگجوؤں کی وجہ سے غیر محفوظ ہے اور ادھر جانے کی اجازت فوج سے لینا پڑتی ہے۔ یہ اجازت بھی محدود علاقے کے لیے ملتی ہے۔ آگے بھارتی سرحد ہے۔ کہتے ہیں کہ بھارت یہاں مسلسل مسائل بنائے رکھتا ہے لیکن پہاڑی علاقے کے علاوہ بھی چٹاگانگ میں دیکھنے کو بہت کچھ ہے۔
حسینہ واجد کے خلاف تحریک میں ہر طبقے اور ہر شہر کے لوگ شامل تھے۔ جولائی 2024ء میں جب تحریک عروج پر تھی تو میں نے بنگلہ دیش پر کئی کالم لکھے تھے۔ ایسے ہی کالموں کے ذریعے نصرت نوری سے رابطہ ہوا جو خود قلم کار‘ سوشل ایکٹوسٹ اور سیاسی شعور والی خاتون ہیں۔ نصرت نوری چٹاگانگ سے ہیں۔ وہ مجھے کافی عرصے سے اچھے موسم میں بنگلہ دیش آنے کی دعوت دے رہی تھیں۔ اب چٹاگانگ آکر ان سے نہ ملنا بڑی زیادتی ہوتی۔ وہ خود بھی میرے بنگلہ دیش کے سفر کی فیس بک پوسٹس سے آگاہ تھیں اور چاہتی تھیں کہ ملاقات ضرور ہوسکے۔ دوسری طرف 12 جنوری کی رات چٹاگانگ پہنچنے پر ہمارے پاس صرف 24 گھنٹے تھے۔ 13 کو واپس ڈھاکہ کی فلائٹ تھی۔ رات کا وقت نکال دیں تو چٹاگانگ گھومنے کیلئے کچھ گھنٹے ہی بچتے تھے۔ وقت کم تھا چنانچہ یہ طے کیا کہ نصرت نوری میرے ہوٹل ہی آجائیں اور کچھ وقت لابی میں گپ شپ کرتے گزارا جائے۔ جلد ہی یہ خوبصورت‘ بوٹا قد ہنستی مسکراتی لڑکی ہوٹل پہنچ گئی لیکن خالی ہاتھ نہیں۔ نوری میرے لیے گلدستہ اور تحائف لائی تھیں۔ ان کا خلوص اور پاکستان سے محبت بہت قابلِ قدر تھی اور اپنے وطن سے بہت دور ایک اجنبی لڑکی سے اٹھتی اپنائیت کی لہریں محسوس کرنا ایک منفرد تجربہ تھا۔ ہم نے بھیگتی رات میں ایک خوبصورت گوشہ سنبھالا‘ کافی پی‘ گپ شپ کی‘ تصویریں کھنچوائیں اور بھاگتے دوڑتے وقت میں گنجائش نہ ہونے پر افسوس کیا۔ وہ چٹاگانگ کی خوبصورت جگہیں اور آبشاریں دکھانے کا ارادہ رکھتی تھیں لیکن ہمارے پروگرام پہلے ہی طے تھے اس لیے یہ بھی ممکن نہ تھا۔ زندگی میں بہت سے ارادے اور پروگرام کبھی مکمل نہیں ہوپاتے۔ بس ان کے خاکے اور ان سے جڑا افسوس دل میں رہ جاتا ہے۔
نصرت نوری کو رخصت کرکے خیال آیا کہ ابھی کچھ وقت ہے کیوں نہ اسے شہر دیکھنے میں خرچ کریں چنانچہ میں اور حذیفہ نکلے۔ گاڑی منگوائی اور چٹاگانگ کی مشہور پتنگا بیچ کا رخ کیا جو شہر سے کوئی 15 کلومیٹر دور ہے۔ یہ راستہ دریائے کرنافلی کے دہانے کے قریب سے گزرتا ہے۔ یہیں دریا پر گاڑیوں کیلئے ایک زیر آب سرنگ بنائی گئی ہے جو ایک کنارے سے دوسرے پر لے جاتی ہے۔ شیخ مجیب کے نام سے منسوب یہ سرنگ جنوبی ایشیا کی پہلی زیرِ آب سرنگ کہلاتی ہے۔ سرنگ کا حصہ 3.3 کلومیٹر ہے۔ اکتوبر 2023ء میں حسینہ واجد نے اس کا افتتاح کیا اور یقینا یہ خوبصورت سرنگ ہے لیکن میں نے حیرت سے دیکھا کہ اس پر ٹریفک نہ ہونے کے برابرہے۔ بتایا گیا کہ 11 ہزار کروڑ ٹکہ(لگ بھگ 25 ہزار کروڑ روپے) سے بننے والا یہ راستہ اولیت کے شوق میں بنا تو لیا گیا لیکن اس کی افادیت نہ ہونے کے برابر یا بہت کم ہے ۔ بدقسمتی سے حکمرانوں کے شوق ایسے ہی ہوا کرتے ہیں۔ افتتاحی تقریب شاید آخری تقریبات میں سے ہوگی اور آخری فیتہ جو حسینہ واجد نے کاٹا۔
پتنگا بیچ پر رات کے اندھیرے میں ایک طرف سمندر پر کشتیاں اور جہاز ہلکورے لیتے تھے اور دوسری طرف ساحل کے ساتھ ساتھ بے شمار دکانیں اور خوانچے لگے تھے۔ آپ کو سمندری غذاسے لے کر ہر طرح کی چاٹ‘ ناریل اور چٹ پٹی چیزیں یہاں مل جائیں گی۔ لیکن یہ عوامی تفریح گاہ کچھ خاص پسند نہ آئی۔ اگر آپ قدرے سکون کی فضا میں سمندر اور ہواؤں سے ہم کلامی کیلئے یہاں آئیں تو یہاں یہ ملنے والی نہیں۔ ہم کچھ ہی دیر یہاں ٹھہرے اور کچھ مرچ مسالے والے خوانچوں کی بوہنی کرواتے پھرتے رہے۔
حذیفہ کو اندازہ ہوگیا تھا کہ مجھے پتنگا بیچ زیادہ بھایا نہیں‘ اور اب وہ اس فکر میں تھا کہ کون سی جگہ دکھا کر تلافی کی جائے۔ جلد ہی اس نے گاڑی ایک طرف موڑنے کو کہا۔ ہو ا میں نمی کی بو باس بڑھتی گئی اور جلد ہی ہم چٹاگانگ بوٹ کلب میں پہنچ گئے۔ یہ دریائے کرنافلی پر بنا ہوا خوبصورت کلب ہے جو بنگلہ دیش میرین اکیڈمی کے پہلو میں بنایا گیا ہے اور اشرافیہ کو سکون‘ خوبصورتی اور سہولتیں تینوں فراہم کرتا ہے۔ یہاں طعام گاہیں‘ لان‘ دریا کنارے کھانے پینے کی سہولت سمیت سبھی کچھ میسر ہے اور یقینا شاندار جگہ ہے۔ کھلی فضا میں مچھر بہت تھے اس لیے ہمیں اندر ہی پناہ لینا پڑی۔ یہاں گزارا وقت‘ لذیذ تنوری پراٹھا اور بھنا گوشت جسے کارا بھنا کہتے ہیں‘ یاد رہے گا۔ کارا یعنی کالا! اسلئے کہ بھوننے پر اس گوشت کا رنگ گہرا ہوجاتا ہے۔ میں پاکستانی شلوار کرتا پہنے ہوئے تھا اس لیے بھی لوگ مڑ مڑ کر دیکھتے اور خوش آمدید کہتے تھے اور خوشی ہوتی تھی کہ پاکستان ان کا پسندیدہ ملک ہے۔ چند مثالیں چھوڑ دی جائیں تو پورے ملک میں پاکستان کیلئے کوئی ناپسندیدگی اور نفرت نہیں دیکھی لیکن بہرحال وہ مثالیں بھی موجود ہیں۔
ہم ہوٹل پہنچے تو شکم سیری‘ بھرپور دن‘ نئے منظروں کا خمار سب یکجا ہوکر نشے کی طرح آنکھوں میں بھرے ہوئے تھے۔ چٹاگانگ کی وہ پُرسکون ٹھنڈی سیاہ رات اور گہری بے خبر نیند بھی یاد رہے گی۔ کیا میں اسے ''کاری نیند‘ ‘ کہہ لوں؟

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں