دفتر سے نکلا تو اُفق پر بادل تھے لیکن لگتا نہیں تھا کہ بارش کی آمد آمد ہے۔ ویسے بھی مئی کے وسط سے گزرتا لاہور اس موسم میں بارش کی توقع کم ہی کرتا ہے۔ یہ تو گندم پکنے کی رُت ہے‘ یہ تو بیساکھ کا موسم ہے۔ کسان گندم کاٹتے ہیں‘ اپنی مہینوں کی محنت کو سنہرے گٹھوں میں باندھتے ہیں‘ ان میں دانوں کی تعداد کا اندازہ لگاتے ہیں اور پھر اگلی فصل کی بوائی تک کچھ دن لمبی نیندوں کے مزے لیتے ہیں۔ اس رُت میں بارش ہو جانا محنت اکارت ہو جانا ہے لیکن تاریخ کچھ بھی کہے ہوتا وہی ہے جو گھٹا کو حکم دیا جاتا ہے۔ ابھی مال روڈ پر نہر کے پُل تک نہیں پہنچا تھا کہ موٹی موٹی بوندوں نے دستک دی۔ بوندوں کی خیر تھی لیکن اس کے بعد جب گاڑی کی چھت اور شیشوں پرسفید موتی ٹنا ٹن گرنے شروع ہوئے تو مجھے خطرے کا احساس ہوا۔ اتنی رفتار سے سے اونچائی سے گرتے اولے شیشے توڑ سکتے تھے۔ سو ایک جائے عافیت ڈھونڈ کر گاڑی شیڈ تلے کھڑی کی۔ ہر لاہوری ہمیشہ گھٹا اور بارش سے خوش ہوا کرتا ہے لیکن اُس دن مجھے ایک فکر اور پریشانی نے گھیر لیا۔ اس موسم میں بارش؟ جب فصلیں کٹائی کیلئے تیار کھڑی ہیں اور بالیوں میں دانے پک رہے ہیں۔ میں نے چشمِ تصور میں ان کسانوں کو دیکھا جو پریشانی میں خود سے پہلے آسمان سے برستے اولوں کو اپنی فصل کاٹتے دیکھ رہے تھے۔ خدا کرے یہ ژالہ باری زیادہ علاقے میں نہ ہوئی ہو۔ بعد میں معلوم ہوا کہ پورے لاہور میں اولے نہیں پڑے‘ لیکن جن علاقوں میں پڑے‘ ایسے مسلسل اور لگاتار تھے کہ سڑکیں سفید پوش نظر آنے لگیں۔ مئی کے وسط میں لاہور ایسا نہیں ہوتا تھا۔ لاہور کی گرمیاں ہم نے ساری عمر دیکھی‘ بھگتی اور چکھی ہیں۔ اس لیے ایسا مئی لاہور کیلئے نامانوس اجنبی کی طرح ہے۔
ہمیشہ سے مئی جون کا آغاز ہوتے ہی لاہور کی صبحیں اپنی خنکی کھو بیٹھتی ہیں۔ صبح کی نرمی کھردرے پن میں بدلتی جاتی ہے۔ دوپہر تک پورا شہر ایک آتشی غلاف میں ملبوس ہونے لگتا ہے۔ گلیاں اور سڑکیں دوپہر کے وقت سنسان دکھائی دینے لگتی ہیں اور ان کی رونق (خصوصاً سکولوں کی چھٹیوں میں) کئی گھنٹوں تک ختم رہتی ہے۔ ان گھنٹوں میں لُو کے وہ گرم تھپیڑے‘ جنہیں مقامی زبان میں ''تتی لُو‘‘ کہا جاتا ہے‘ چلتے ہیں تو جھلسا کر رکھ دیتے ہیں۔ یہ لاہور کیلئے صبر کا وقت ہوتا تھا۔ درجہ حرارت 45 ڈگری یا اس سے بھی اوپر چلے جانا معمول تھا۔ مال روڈ کے سرسبز درخت‘ منٹو پارک (موجودہ گریٹر اقبال پارک) کے میدان اور نہر کنارے کھڑے پرانے شیشم اور سکھ چین کے شجر اس لُو کے سامنے ڈھال بننے کی کوشش کرتے تو بیشک ان آتشیں گھنٹوں میں پناہ مل جاتی تھی۔ ٹھنڈی سڑک ہو یا نہر کی پٹڑی‘ لاہوریوں کیلئے 50 سال پہلے عافیت وہیں تھی کہ ایئرکنڈیشنر کادور نہیں تھا اور ایئر کولر بھی کم کم تھے۔ دیہی علاقوں کیلئے مئی اور جون کی یہ گرمی کسی نعمتِ غیر مترقبہ سے کم نہیں ہوتی۔ یہ وہ وقت ہے جب ربیع کی فصلیں‘ خصوصاً گندم پک کر بالکل سونا بن جاتی ہے۔ مئی کے اوائل میں جب سورج کی تپش اپنے جوبن پر ہوتی تو گندم کے کھیت سنہری چادر اوڑھ لیتے۔ کسان کیلئے یہ تپتی ہوئی دھوپ مشقت کی انتہا اور خوشحالی کا مژدہ ہوتی ہے۔ سنہری خوشوں سے دانوں کا نکلنا اور تھریشروں کا شور ان کیلئے موسیقی سے کم نہیں ہوتا۔
مجھے ماضی کا اسیر ہونا پسند نہیں! اللہ کا بڑا کرم ہے کہ آج بھی بیشمار نعمتیں سایہ کیے رکھتی ہیں۔ لیکن کچھ چیزیں پیچھے رہ گئیں جو بہت پیاری تھیں‘ جیسے کوئی پیارے ہمسفر چھوٹ جائیں۔ ماضی کے لاہور کو انسان کب تک یاد کیے جائے‘ لیکن اس یاد میں جو لذت ہے اس کا کوئی مقابلہ نہیں۔ نئے دور کو کوئی دلچسپی نہیں کہ اُس وقت کا لاہور درختوں‘ باغوں‘ وسیع صحنوں کا شہر تھا جہاں گرمی کا مقابلہ ٹیکنالوجی سے نہیں بلکہ فطری انداز میں کیا جاتا تھا۔ مکانات وسیع صحنوں‘ بلند چھتوں اور روشندانوں پر مشتمل ہوتے تھے۔ مئی اور جون کی تپتی دوپہروں میں سب سے ٹھنڈے کمرے میں دریاں اور چادریں بچھا دی جاتی تھیں۔ دوپہر کے وقت پورا گھرانہ ایک جگہ جمع ہوتا۔ بجلی کے پنکھے سست روی سے چلتے لیکن ان کی ہوا میں نیند آنے لگتی تھی۔ جیٹھ ہاڑ سے ڈرا نہیں جاتا تھا بلکہ ان کا انتظام کیا جاتا تھا۔ ہاڑ کی تپش ہی زمین کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ اگلی فصل کا بوجھ اٹھا سکے۔ مئی اور جون کی یہ دھوپ کماد کی فصل کیلئے بھی اکسیر کی حیثیت رکھتی ہے۔ جتنی زیادہ گرمی پڑے گی‘ گنے کے اندر کا رس اتنا ہی میٹھا اور گاڑھا ہوگا۔ فطرت کا کیا عجیب اصول ہے کہ جو چیز جتنی تپش سہتی ہے‘ اتنی ہی شیریں ہو کر ابھرتی ہے۔ محشر بدایونی نے کہا تھا:
سہے گا جو بارِ غم جہاں تک‘ وہیں تک احسان شعار ہو گا
شجر پہ گزرے گی دھوپ جتنی اسی قدر سایہ دار ہو گا
گرمی اپنی جگہ لیکن یہ موسم پھلوں کی بھری ہوئی ٹوکریاں بھی تحفے میں لاتا ہے۔ پھلوں کے شاہجہاں آم کے دورِ حکومت کا آغاز ہے۔ ابھی سہارنی‘ سندھڑی اور دسہری کی ابتدا ہے۔ ابھی ذائقہ نہیں آیا لیکن یہی گرمی انہیں مٹھاس بخشے گی۔ یہ موسم خربوزوں کی مٹھاس‘ تربوز کی ٹھنڈک اور فالسے کے کھٹے میٹھے ذائقوں کا ہے۔ کالے نمک والا فالسے کا شربت‘ لاہور کی دوپہروں کا تریاق ہے۔ لیکن یہ اب کم دکھائی دیتا ہے۔ زیادہ اب املی اور آلو بخارے کے شربت نظر آتے ہیں۔ یہ گرمی لاہور کو بہت کچھ عطا کرتی ہے۔ موتیے کی موتیوں جیسی کلیاں اسی موسم میں چٹکتی ہیں۔ شام کے وقت سرخ اینٹوں کے صحنوں میں پانی کا چھڑکائو مٹی کی سوندھی خوشبو کے ساتھ جادو جگاتا ہے۔ اس موسم میں لاہور میں گوشت کا استعمال کم اور سبزیوں کا زیادہ ہو جاتا تھا۔ ہماری نسل کو تو خیر بہت اچھی طرح وہ ذائقہ یاد ہے لیکن اس دور میں بھی تندوری روٹی کے ساتھ کدو کا رائتہ اکثر گھروں میں ہوتا ہے۔ پودینے اور انار دانے کی چٹنی اس گرم موسم میں ٹھنڈک اور ذائقے کا عجیب امتزاج ہے۔ مٹی کی کونڈی میں پسا ہوا پودینہ جب دہی میں شامل ہوتا ہے تو پتا ہی نہیں چلتا کہ معدے کی تمام گرمی کہاں گئی۔ توری‘ بھنڈی توری‘ اور تڑکے والے دال چاول۔ ہائے! جسے میسر آ جائیں وہ شہنشاہ ہے۔ تپتی دوپہر کو دیسی گھی لگی تندوری روٹی اور ساتھ میں پیاز کا سلاد‘ جسے سرکے میں ڈبویا گیا ہو۔ انسان کو اور کیا نعمت چاہیے پھر۔
اس دور کا سب سے خوبصورت منظر شام کا ہوتا تھا۔ جیسے ہی سورج ڈھلتا‘ خواتین اور بچے صحن اور چھتوں پر پانی کا چھڑکائو کرتے۔ تپتی ہوئی مٹی پر جب پانی کی بوندیں گرتیں تو اس سے اٹھنے والی سوندھی خوشبو پورے گھر کو بانہوں میں سمیٹ لیتی۔ یہ وہ خوشبو تھی جو دنیا کے مہنگے ترین عطروں پر بھاری تھی۔ میرا بچپن اور لڑکپن صحن اور چھت پر کھلے آسمان تلے سونے سے عبارت ہے‘ جہاں اکثر پنکھا بھی نہیں ہوتا تھا۔ کیا اب بڑے شہروں میں کھلے آسمان تلے‘ بغیر پنکھے سونے کا تصور ہے؟
پانی کو ٹھنڈا رکھنے کیلئے مٹی کے گھڑے‘ صراحیاں اور جھجھریاں استعمال ہوتی تھیں۔ مٹی کے گھڑے کے پانی کی لذت فریج کے برفیلے پانی میں کہاں۔ صراحی کی گردن سے نکلتی ہوئی قل قل کی آواز جیسی گرم دوپہروں کی موسیقی کوئی اور ہے؟ وہ رہن سہن لوٹ کر آنے والا نہیں لیکن یہ تو تغیر کا قانون ہے۔ افسوس یہ کہ اُس دور کی سادگی‘ مٹی کی خوشبو‘ کچی لسی کا ذائقہ اور کھلی چھت کی ٹھنڈی ہوا ہم سے بہت دور جا چکی۔ فراغت اور قناعت ہم سے دور جا چکی۔ خلوص اور بے مفاد تعلق ہم سے دور جا چکے۔ سچ یہ ہے کہ زندگی ہم سے دور چلی گئی۔
بہار‘ برسات‘ سردی ہی نہیں جیٹھ ہاڑ بھی لاہور کا حسن ہیں۔ لاہور کی گرمیاں اپنی روایت کے ساتھ باقی رہیں کہ یہ لاہور کا موسمی پھل ہے۔ یہ تپتے ہوئے دن دراصل ساون کی گھٹاؤں کا پیش خیمہ ہوتے ہیں‘ پھر ملوک دھرتی پر برکھا رُت ناچتی ہے اور لاہور ایک بار پھر نہا دھو کر نئے حسن کے ساتھ جلوہ گر ہوتا ہے۔ یہی اس شہر کا چہرہ ہے اور یہی اسکی ابدی کہانی ہے۔