انسان کی عمر ہی کیا ہوتی ہے‘ یہی کوئی اوسطاً ساٹھ‘ ستر سال۔ لیکن اس مختصر سی مہلت میں انسان وہ کچھ دیکھ لیتا ہے جو یا صرف کتابوں میں ہے یا بزرگوں سے سنا تھا۔ اسی مدت میں ملکوں اور قوموں میں طاقت کے مراکز بدلتے رہنے کا وہ الوہی قانون دیکھ لیا جاتا ہے جو کتابِ سبز نے اس طرح بیان کیا ہے کہ ''اور ہم اسی طرح لوگوں کے درمیان دن الٹتے پلٹتے رہتے ہیں‘‘۔ قیصر وکسریٰ کا عروج اور زوال‘ مسلمانوں کا عروج و زوال‘تاتاریوں کا عروج و زوال‘ یورپ کا عروج و زوال تو وہ حقیقتیں ہیں جو ہم نے کتابوں میں پڑھیں‘ لیکن گزشتہ پچاس برس میں طاقت کے مرکز دنیا میں جس طرح بدلتے رہے ہیں اس کے ہم سب عینی شاہد ہیں۔ شعور کی آنکھ کھلی تو معلوم ہوا کہ یہ دنیا دو قطبی یعنی بائی پولر ہے۔ دنیا امریکہ اور سوویت یونین کی دو مہیب طاقتوں کے بیچ جھول رہی تھی اور دوسری عالمی جنگ کے بعد ایک نیا منظرنامہ ابھر رہا تھا۔ ہر ملک ان سے خوف کھاتا تھا۔ دونوں کی کوشش تھی کہ وہ زمینی‘ اقتصادی اور فکری قبضے کے ذریعے تمام ملکوں کو اپنا ماتحت بنا لیں۔ چین ابھی اس قابل نہیں تھا کہ سپر پاور کہلا سکے۔ آپس کی یہ جنگ یہاں تک پہنچی کہ ملکوں کے ہی نہیں‘ شہروں تک کے حصے بخرے کرکے ان پر اپنا اپنا قبضہ جما لیا گیا۔ دیوارِ برلن اور مشرقی ومغربی جرمنی تو ابھی کل کی بات ہے۔ پچاس‘ ساٹھ‘ ستر اور اسّی کی دہائیاں امریکہ اور سوویت یونین کی اس جنگ کی نذر ہو گئیں جسے دنیا سرد جنگ کے نام سے یاد کرتی ہے۔ شہریوں کی سمجھ نہیں آتا تھا کہ وہ دونوں ہاتھیوں سے بچ کر کدھر جائیں کہ ہر طرف ان کے پائوں تھے اور ہر جگہ ان کی سونڈیں لہراتی نظر آتی تھیں۔ ان سے بچ کر رہنا مشکل تھا‘ چنانچہ سبھی ملک ان کی اطاعت قبول کرتے رہے۔ پاکستان نے بھی امریکہ کے سائے میں پناہ بہتر سمجھی۔ یادش بخیر مشہور نقاد محمد حسن عسکری اُس زمانے میں کہا کرتے تھے کہ اگر دو غنڈوں میں سے ایک کے گروہ میں شامل ہونا ہے تو پڑوس کے غنڈے کے ساتھ ملنا چاہیے۔ یہ مشورہ کیسا تھا‘ یہ الگ بحث ہے لیکن بہرحال کئی لوگوں کا خیال یہی تھا۔
1988ء کے لگ بھگ افغانستان میں شکست نے یونائیٹڈ سٹیٹس آف سوویت رشیا کی کمر توڑ دی۔ روس اندر کی شکست و ریخت سے اس طرح دوچار ہوا کہ اس کی ریاستیں نئے ملک بن کر دنیا کے منظر پر نمودار ہوئیں۔ سب سے بڑا فائدہ امریکہ کو ہوا اور دنیا نے دیکھا کہ اب دنیا کا ایک ہی قطب ہے۔ زمین یک قطبی (unipolar) ہو گئی۔ یہ دنیا کا نیا نظام تھا۔ دنیا اب ایک نئے شکنجے میں گرفتار ہو رہی تھی۔ بلا شرکت غیرے اس نیلے سیارے کو کنٹرول کرنے کا اپنا ہی مزہ تھا۔ یہ اور طرح کی شہنشاہیت تھی جو نوے کی دہائی کے اوائل میں شروع ہوئی۔ شہنشاہانہ مزاج کو کبھی اصول اور قانون کے تابع رکھا جا سکتا ہے بھلا؟ مسلم دانشور سمجھتے تھے اور درست سمجھتے تھے کہ اب باری مسلمانوں کی ہے‘ جسے مغرب بڑا خطرہ سمجھتا ہے۔ چنانچہ باری باری عراق‘ شام‘ لیبیا‘ ایران سمیت بہت سے ان ملکوں نے شہنشاہ کی مار سہی جو فرمانبرداری میں کسر اٹھا رکھتے تھے۔ ان ملکوں کے جرم کچھ اسی طرح کے تھے جیسے بھیڑیے نے بھیڑ کے بچے کا جرم بتایا تھا کہ اگر تو نے نہیں تو تیرے باپ نے میری ندی کا پانی گندا کیا ہو گا۔ امریکی حلیف بھی ان حملوں میں اس کے ساتھ تھے لیکن امریکہ کے دو طرح کے حلیف تھے۔ سگے حلیف اور سوتیلے حلیف۔ لیکن دنیا پھر بدل رہی تھی۔ قوموں کے دن پھر الٹ پلٹ رہے تھے۔ روس اگرچہ ٹکڑے ہوچکا تھا لیکن وہ اب بھی سپر پاور کے سنگھاسن سے نیچے نہیں اترا تھا۔ اس نے تیزی سے اپنی فوجی اور اندرونی طاقت بحال کر لی تھی۔ اگرچہ وہ اکیلا امریکہ کو ٹکر نہیں دے سکتا تھا۔ اسی دوران ایک تیسری طاقت نے اپنی طرف توجہ مبذول کرا لی۔ یہ چین تھا۔ اس نے ٹکرائو کی پالیسی نہیں اپنائی اور ملکوں کو زمینی قبضے کے ذریعے بھی اپنے زیر نگین نہیں کیا۔ اس کا نظریہ تھاکہ جیتنا تو ضروری ہے لیکن مزہ تب ہے جب لڑائی کیے بغیر جیتا جائے۔ اس کی اس پالیسی کا فائدہ اسے یہ ہوا کہ وہ جنگوں میں الجھے بغیر معاشی طاقت بنتا گیا‘ اس کا قد بڑھتا گیا حتیٰ کہ اس دیو کا سایہ امریکی زمین تک پہنچنے لگا۔ یہ ادراک روس کو بھی ہونے لگا۔ روس اور چین میں قدرِ مشترک یہ تھی کہ یہ دونوں نظریاتی طور پر سرمایہ دارانہ نظام کے مخالف تھے اور نظریاتی ہم آہنگی رکھتے تھے۔ چنانچہ امریکہ کے خلاف یہ اکثر ہم آواز ہونے لگے۔ 2020ء تک آتے آتے بتدریج چین کی طاقت اتنی بڑھ گئی کہ اب وہ اکیلا بھی امریکہ کو ٹکر دینے کے قابل ہو چکا تھا۔ دنیا کو نظر آ رہا تھا کہ دنیا کا منظر بدل رہا ہے اور اب وہ یک قطبی نہیں رہی۔ بس ایک دھچکے‘ ایک بڑے واقعے کا انتظار تھا۔ ایسا ہی کوئی بڑا واقعہ جس نے دنیا کو دو قطبی سے یک قطبی کر دیا تھا۔ اس بڑے واقعے سے پہلے چھوٹے لیکن اہم واقعات شروع ہوئے۔ غزہ میں اسرائیلی نسل کشی‘ امریکہ میں ٹرمپ کا دوسرا دورِ اقتدار‘ نیٹو میں دراڑیں‘ امریکی تکبر اور اپنے زعم میں ہر شخص کی تذلیل‘ اپنے حلیفوں کی تحقیر‘ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کو پیروں تلے روند دینا‘ یہ سب اہم واقعات تھے۔ دیوار میں شگاف پڑ رہے تھے اور کمزور ہوتی یک قطبی دیوار ایک زلزلے کی مار رہ گئی تھی۔
2025ء اور 2026ء میں یکے بعد دیگرے دو بڑے زلزلے آئے‘ جن کا مرکز ایران میں تھا۔ 2026ء میں اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر ہزاروں فضائی‘ میزائل اور ڈرون حملے کیے اور ایرانی قیادت کی پہلی صف ختم کر دی۔ ان کے خیال میں چند دنوں میں ایران کو سرنگوں ہو جانا چاہیے تھا‘ لیکن یہ وہم نکلا! ایران کے جوابی حملوں میں امریکی خلیجی اڈوں اور اسرائیل میں ایرانی میزائلوں سے تابڑ توڑ تباہیوں نے انہیں سرنگوں کر دیا جو اس کی دور دور تک توقع نہیں کرتے تھے۔ ایران نے دنیا کا نرخرہ جسے آبنائے ہرمز کہتے ہیں‘ بند کر کے دنیا کی سانسیں روک دیں۔ یہ ایک نیا ہتھیار تھا جو جوہری بم سے کہیں زیادہ طاقتور ثابت ہوا۔ امریکہ ساری طاقت‘ سارے دعوؤں کے باوجود آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔ خلیجی ملکوں میں بغاوت ابھرنے لگی۔ دنیا کے دوسرے ملک سوچنے لگے کہ امریکی فوجی اڈے ان کی طاقت ہیں یا کمزوری؟ یہ ایک نئی دنیا تھی! یک قطبی دیوار گرنے کو تھی اور اس دیوار پر لکھا ہوا تھا کہ دنیا یک قطبی نہیں رہی‘ متعدد قطبی ہو چکی ہے۔ 1988ء سے شروع ہونے والی دنیا 2026ء میں نیا منظر دیکھ رہی تھی۔
میں نے سہ قطبی نہیں‘ متعدد قطبی (Multipolar) دنیا لکھا ہے۔ امریکہ‘ روس اور چین تو تین بڑی طاقتیں ہیں ہی لیکن اب طاقتیں اس کے علاوہ بھی بن رہی ہیں۔ وہ چھوٹے ملک جن کے مسائل کسی بھی دور میں حل نہیں ہو سکے تھے‘ اپنا ایک اکٹھ بنا کر ایک بڑی طاقت بن رہے ہیں۔ ایک دوسرے کی حفاظت کی ذمہ داریاں لے رہے ہیں۔ویٹو کی طاقت بدلنے کی بات ہو رہی ہے۔ کل ہی پاکستان نے سلامتی کونسل میں ویٹو طاقت ختم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ یہ ہو یا نہ ہو‘ یہ بات جرأت کے ساتھ بین الاقوامی پلیٹ فارم پر پیش ہونا ہی ایک بڑی تبدیلی کی نشانی ہے۔
''ہم اسی طرح لوگوں کے بیچ باری باری دن الٹتے پلٹتے رہتے ہیں‘‘۔ 2026ء یہی دن بدلنے کا موسم ہے۔ یہ ادراک جن کو نہیں ہوا‘ ہو جانا چاہیے۔ جنہیں ہو چکا‘ انہیں اگلے دور کی تیاری کرنی چاہیے۔ ہماری عمر تو انہی ایک دو طاقتوں کے سامنے سر جھکانے میں گزر گئی‘ اگلی نسلوں کو سر اٹھا کر جینا چاہیے۔ ہم تو جل بجھے لیکن امید ہے کہ روشنیاں اگلے دور کا مقدر ہوں گی ۔
جل بجھیں گے کہ ہم اس رات کا ایندھن ہی تو ہیں
خیر دیکھیں گے یہاں روشنیاں دوسرے لوگ