یہ مسجد ہے یہ مے خانہ تعجب اس پہ آتا ہے
جنابِ شیخ کا نقش قدم یوں بھی ہے اور یوں بھی
اگر سائل دہلوی کے اس مشہور شعر میں شیخ کا لفظ کسی عرب ملک کیلئے سمجھیں تو یہ زیادہ چست بیٹھتا ہے۔ ایسی دو طرفہ چال کے ساتھ عرب ممالک کا مستقبل کیا ہوگا‘ یہ ایک بڑا سوال ہے۔ لیکن اس کا بھی ذکر کر لیں کہ اس جنگ کی گرما گرمی اور مختلف ممالک کی طرف سے اپنا اپنا مؤقف اختیار کرنے کے بیچ متحدہ عرب امارات کی ڈیپازٹ میں رکھی رقم واپس دینے کا فیصلہ سامنے آ گیا ہے۔ زیادہ تر پاکستانی عرب امارات کے اس مطالبے سے ناخوش ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ بظاہر امارات سمیت کچھ عرب ممالک کی ناراضی کا خمیازہ ہے۔ لیکن یہ بھی درست ہے کہ ہر قرض دہندہ کسی وقت بھی اپنی رقم واپس مانگ لینے کا حق رکھتا ہے۔ یو اے ای نے جب آخری بار اس رقم کو رول اوور کیا تھا تو صرف دو مہینے کی مدت رکھی تھی۔ اب جنگی حالات میں اس رقم کی واپسی پر کئی سوالات اٹھ رہے ہیں‘ لیکن ہمیں جذباتیت کے بجائے دانشمندانہ طریقے ہی سے عرب ممالک سے اپنے تعلقات کو دیکھنا چاہیے اور بہرحال جب تین مختلف مواقع پر پاکستان کی درخواست پر یو اے ای نے یہ رقم ڈیپازٹ کی تھی تو اس کا احسان بھی ماننا چاہیے۔ یہ الگ بات کہ اللہ آئندہ ایسے کسی بھی احسان سے بچائے رکھے۔ میں اس فیصلے پر خوش ہوں کیونکہ کسی سیٹھ کے دبائو تلے اپنی آزادی اور سلامتی کا سودا مہنگا سودا ہے۔ اگرچہ امارات سے ہمارے کئی مفادات بھی وابستہ ہیں اور ہماری افرادی قوت بھی وہاں ہے اور یہ بھی اعتراف ہے کہ پاکستان کی ضرورت کے پیش نظر امارات نے یہ رقم پاکستان کو دی تھی (اگرچہ پاکستان اس رقم پرسود بھی‘ غالباً چھ فیصد‘ ادا کرتا آیا ہے) لیکن بنیادی مسئلہ اس رقم کا نہیں بعض دوسرے معاملات کا ہے جو پاکستان کیلئے بہت کڑوے ہیں‘ اور بظاہر اسی لیے اس قرض واپسی کا فیصلہ کیا گیا۔
سیٹھ ٹائپ ذہنیت سے مفر نہیں ہوتا۔ پاکستانی ایک مدت سے سیٹھوں کے کڑوے فیصلے برداشت کرتے آئے ہیں۔ ویزوں کی بندش‘ بھارت کی طرف غیر معمولی جھکائو‘ بھارتیوں کے مقابلے میں پاکستانیوں کو کمتر اہمیت دینا ہی کم نہ تھا کہ یہ باتیں بھی گردش کرنے لگیں کہ ہمسایہ ملکوں میں موجود پاکستان دشمن دہشت گردوں کی پشت پناہی بھی کی جا رہی ہے۔ اچھا ہوتا کہ اس رقم کے مطالبے کے وقت یہ بھی یاد رکھا جاتا کہ پاکستان اور پاکستانیوں کے عرب امارات پر کیا کیا احسانات رہے ہیں۔ خیر اچھے انداز میں رقم واپس دینے سے یہ واضح ہو جائے گا کہ ہم نہ احسان فراموش ہیں نہ کسی دوسرے ملک‘ خاص طور پرعرب ملک سے تعلقات خراب کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی کسی کی دھونس اور دبائو قبول کرتے ہیں۔ پاکستان نے بھارت جیسی بڑی فوجی اور معاشی طاقت کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا‘ امریکہ کی دھمکیاں اور دبائو متعدد بار رد کیا تو یہ ملک تو پھر ان سے چھوٹے ہیں۔ یقینا ملک پر معاشی دبائو آئے گا‘ ڈالر کی قیمت بڑھے گی اور اس عالمی بحران میں یہ نہایت مشکل فیصلہ ہوگا لیکن خدا نے پاکستان کو بہت سی آزمائشوں سے گزارا ہے‘ اس سے بھی گزار دے گا۔ ہاتھ جوڑ کر رہنے سے سرخرو رہنا ہی بہتر اور عزت کی زندگی ہے۔
پاکستان کا مستقبل ان شاء اللہ بہتر رہے گا اور ہماری دعا ہے کہ عرب ممالک بھی اس آزمائش سے نکل آئیں لیکن اس جنگ سے پوری دنیا بدلتی نظر آتی ہے۔ خاص طور پر مشرق وسطیٰ بالکل بدل جائے گا۔ جنگ کے بعد کچھ طاقتیں اس خطے میں اپنا اثر بہت بڑھا دیں گی اور کچھ ملک کمزور ہوکر نکلیں گے۔ اس جنگ میں ایران نے سخت نقصانات اٹھانے کے باوجود اپنی طاقت اور اہمیت منوا لی ہے اور عرب ممالک کی بے شمارکمزوریاں‘ جنہیں ان کی مالی طاقت نے چھپا رکھا تھا‘ بہت واضح ہوکر سامنے آئی ہیں۔ ویسے تو عرب ممالک نے اپنی سلامتی اور خود مختاری کے تحفظ کا مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا ہے اور ایرانی حملوں کی صورت میں جوابی کارروائی کی بات بھی کی ہے لیکن دو باتیں بالکل واضح ہیں۔ ایک تو عرب ملکوں کا اس جنگ میں کود پڑنا اسرائیل کی عین خواہش ہو گی اور یہ اس کے مفادات کو پورا کرے گا۔ بیشتر عرب ممالک کو اس کا اندازہ بھی ہے اور پاکستان اس جال میں پھنسنے سے مسلسل روک رہا ہے۔ پھر یہ کہ عرب ممالک کی فوجیں‘ علاوہ مصر‘ لڑنے کی جتنی صلاحیت رکھتی ہیں وہ سب کو معلوم ہے۔ بندوق سے زیادہ بندوق چلانے والا اہم ہے اور عرب ممالک کے پاس بندوق چلانے والے کہاں سے آئیں گے؟ نیز یہ کہ عرب یورپی اور امریکی ہتھیاروں سے ایسا کیا تیر مار لیں گے جو امریکی اور اسرائیلی فوجی نہیں مار سکے۔
اگر عرب ممالک یکجا ہو کر ایران کے خلاف لڑپڑے اور دونوں فوجوں نے تیل‘ پانی‘ بجلی‘ آئی ٹی وغیرہ کی تنصیبات پر حملے کیے تو عرب ممالک کا نقصان بہت زیادہ ہو گا۔ وہ زیادہ مار کھانے کی استعداد نہیں رکھتے‘ ایرانی بہرحال مار کھاتے آئے ہیں۔ عرب ممالک کا انحصار تیل کے علاوہ بیرونی کمپنیوں‘ سرمایہ کاری اور سیاحت وغیرہ پر ہے۔ جنگ کی صورت میں یہ سب ختم ہو جائے گا۔ اس لیے شیشہ پتھر پر گرے یا پتھر شیشے پر‘ نقصان شیشے ہی کا ہے۔ یہ جنگ تو بالآخر ختم ہو جائے گی لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ مستقبل میں جی سی سی ممالک اپنی حفاظت کا کیا بندوبست کریں گے؟ تین ہی راستے ہو سکتے ہیں: اول یہ کہ عرب ملک اپنی فوج اپنی ہی آبادی سے تیار کریں اور وہ فوج طاقتور بھی ہو۔ یہ امکان دو وجوہ سے بہت کم ہے۔ عرب اب مشقت اور سخت زندگیوں کے عادی نہیں رہے۔ دوسرا یہ کہ ایک طاقتور ملکی فوج دوسروں کو تو بعد میں ڈرائے گی‘ اپنی بادشاہتوں کو سب سے پہلے دہشت زدہ کرے گی۔ دوسرا امکان یہ ہے کہ عرب بدستور اپنا تحفظ امریکہ کے سپرد کیے رکھیں‘ اس بات کو بھول کر کہ امریکہ حالیہ جنگ میں ان کا تحفظ نہیں کر سکا بلکہ اس کی موجودگی خود ان کیلئے تباہی کا بنیادی سبب بنی اور آئندہ بھی بڑا خطرہ بنی رہے گی۔ ایسی صورت میں آئندہ بھی یہی ہو گا جو اس بار ہو رہا اور امریکہ بھاری رقم بھی وصول کرتا رہے گا۔ تیسرا امکان یہ ہے کہ عرب امریکہ کو بھول کر فوجی لحاظ سے طاقتور اُن ممالک سے تحفظ مانگیں جو حفاظت کرنے کے قابل ہوں۔ اگرچہ ضروری نہیں کہ صرف مسلم ملکوں کی طاقت مانگی جائے‘ کئی عرب ممالک کے بھارت سے اچھے تعلقات ہیں‘ اسی طرح چین بھی ممکنہ انتخاب ہو سکتا ہے لیکن ابھی تک عرب ممالک چین کے اس طرح قریب نہیں ہیں۔ مسلم ممالک میں پاکستان‘ ترکیہ اور مصر ہو سکتے ہیں۔ عرب ترک ماضی کو ملحوظ رکھیں اور اس کی بنیاد پر فیصلہ ہو تو ترکیہ بھی اس فہرست سے نکل جاتا ہے۔ پاکستان سے سعودی عرب کا پہلے ہی دفاعی معاہدہ ہو چکا ہے۔ اس وجہ سے وہ عرب ممالک جن کی سعودی عرب سے نہیں بنتی‘ یہ معاہدہ ان کے پاکستان سے دفاعی تعلقات میں ایک بڑی رکاوٹ بن جائے گا۔ دوسری طرف اگر بعض خلیجی ملک حفاظت کیلئے بھارت سے مدد لیں تو یہ چین اور پاکستان دونوں کی ناراضی مول لینے جیسا ہوگا اور بظاہر کچھ دیگر ملک مثلاً ترکیہ بھی اسے پسند نہیں کرے گا۔ چنانچہ اس جنگ کے بعد اپنی سکیورٹی اور دفاع عرب ممالک کا ایک بڑا مخمصہ بن کر سامنے آئے گا۔ یہ بہت بڑا سوال ہے‘ اور اسی سے جڑا سوال یہ ہے کہ مستقبل میں عرب بادشاہتوں کا کیا ہوگا؟ یہ دونوں بہت بڑے سوال ہیں اور عرب ممالک کو مسجد اور بت خانے میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہی پڑے گا۔