حال ہی میں ایک انوکھی خبر یہ پڑھنے کو ملی کہ چین میں ایک شادی ایسی ہوئی جو دلہن کے ساتھ ساتھ دلہا کو بھی ہمیشہ یاد رہے گی۔ چین کے صوبے گوئزوہو کے علاقے زونیی سے تعلق رکھنے والے دلہا ہی ین شینگ پروفیشنل ریسلر ہیں؛ چنانچہ انہوں نے شادی کے روز دلہن کے ساتھ ریسلنگ کے انوکھے مقابلے کا پلان بنایا۔ شرط یہ طے کی گئی کہ اس مقابلے میں ہارنے والا زندگی بھر گھر کے کام کاج کرے گا۔ شادی کے دن ویڈنگ سٹیج کے بجائے ریسلنگ رِنگ سجایا گیا اور دلہا اور دلہن کے پوسٹر آویزاں کیے گئے۔ نوبیاہتا جوڑے نے بیسٹ آف تھری مقابلہ کیا۔ دلہن نے مقابلے میں آسانی سے دلہے کو زمین پر پٹخ دیا اور مقابلہ جیت لیا جس کے بعد اب دلہے کو زندگی بھر کے لیے گھر کے کام کاج کو دیکھنا ہو گا اور ظاہر ہے ان کی بیگم صاحبہ عیش کریں گی‘ شوہر پر حکم چلائیں گی‘ مجازی خدا سے جھاڑو پوچا کرائیں گی۔
انہی دنوں دو اور پٹخنیاں بھی پڑی ہیں اور وہ پٹخنیاں کسی اور کو نہیں ہماری کرکٹ ٹیم کو پڑی ہیں۔ وہ کرکٹ ٹیم جس کو بیٹ پکڑنا ہم نے سکھایا اور جسے انٹرنیشنل کرکٹ میں لے کر ہم آئے‘ اس سے ٹیسٹ سیریز کے علاوہ لگاتار چوتھا ٹیسٹ میچ بھی ہار گئے ہیں۔ پہلا میچ ایک طرح سے ہم نے طشتری میں رکھ کر مخالف ٹیم کو پیش کیا تھا‘ لیکن دوسرے میچ میں البتہ کچھ فائٹ کی اور 437رنز کے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے 359رنز بنا لیے۔ کاش کوئی ٹیم کے کھلاڑیوں کو یہ بتا دیتا کہ جب میچ جیتنا ناممکن ہو تو پھر ٹُک ٹُک لگا کر میچ کو ڈرا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ میج جیتنا ہو یا ڈرا کرنا ہو‘ کھلاڑیوں کا کریز پر ٹکنا ضروری ہوتا ہے۔
ایک زمانے میں پاکستانی کرکٹ ٹیم دنیا کی بہترین ٹیموں میں شمار کی جاتی تھی۔ ایسا نہیں کہ ہماری ٹیم میچ ہارتی نہیں تھی لیکن ہماری جیت کا گراف ہارنے سے کہیں بلند ہوتا تھا۔ اب گزشتہ چند برسوں سے ہماری ٹیم کی کارکردگی مسلسل اتار چڑھاؤ کا شکار ہے۔ ٹیم کی ناکامیوں کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے بڑی وجہ ٹیم میں مستقل مزاجی کی کمی ہے۔ پاکستانی کھلاڑی بعض اوقات غیرمعمولی کارکردگی دکھاتے ہیں لیکن اہم میچوں میں دباؤ برداشت نہیں کر پاتے اور ہار جاتے ہیں۔ بڑے ٹورنامنٹس میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ بیٹنگ لائن اچانک ناکام ہو جاتی ہے یا باؤلرز اپنی لائن اور لینتھ برقرار نہیں رکھ پاتے جس کے نتیجے میں مخالف ٹیم کے بیٹرز سے چوکے چھکے کھاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کھلاڑیوں کی اس غیرمستقل مزاجی نے کئی یقینی فتوحات کو شکست میں بدل دیا۔ بار بار کپتانوں کی تبدیلی بھی ناکامیوں کی وجہ شمار کی جا سکتی ہے۔ یہ بھی سننے میں آتا ہے کہ کرکٹ ٹیم کے انتخاب میں اکثر سیاسی مداخلت اور غیرضروری فیصلے ہوتے ہیں۔ واللہ اعلم! فٹنس کے مسائل بھی پاکستانی ٹیم کی ناکامیوں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جدید کرکٹ میں فٹنس کو بنیادی حیثیت حاصل ہے‘ لیکن کئی پاکستانی کھلاڑی اس معیار پر پورا نہیں اترتے۔ کمزور فیلڈنگ‘ آسان کیچ چھوڑ دینا اور گیند پکڑتے ہوئے دوڑ میں سستی نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔ آسٹریلیا‘ انگلینڈ اور بھارت جیسی ٹیمیں اپنی بہترین فٹنس کی وجہ سے نمایاں نظر آتی ہیں جبکہ پاکستان اس شعبے میں پیچھے نظر آتا ہے۔ میرٹ بھی ایک مسئلہ ہے۔ اسی وجہ سے باصلاحیت نوجوان آگے نہیں آ پاتے اور ٹیم میں حقیقی مقابلے کا ماحول پیدا نہیں ہوتا۔ نفسیاتی دباؤ بھی ایک اہم عامل ہے۔ پاکستانی ٹیم جب کسی بڑے حریف‘ خاص طور پر بھارت کے خلاف کھیلتی ہے تو کھلاڑیوں پر بے حد دباؤ ہوتا ہے۔ اگر پاکستان کرکٹ کے اربابِ بست و کشاد میرٹ‘ مستقل قیادت اور جدید تربیت پر توجہ دیں تو پاکستانی ٹیم دوبارہ دنیا کی بہترین ٹیموں میں اپنی جگہ بنا سکتی ہے۔
میں یہ بات ماننے کے لیے کبھی تیار نہیں ہوا‘ نہ اب ہوں کہ پاکستان میں کرکٹ کے حوالے سے ٹیلنٹ کی کمی ہے۔ میں جب گلی محلوں میں اور چھوٹے چھوٹے پارکس میں بچوں اور نوجوانوں کو کرکٹ کھیلتے دیکھتا ہوں تو حیرت ہوتی ہے کہ ان میں اتنی مہارت کیسے آ گئی۔ پتا نہیں کیا وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں کرکٹ کے کرتا دھرتا عوام میں چھپے ہوئے کرکٹ کے اس ٹیلنٹ کو تلاش کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ پہلے بھی کسی کالم میں یہ تجویز پیش کی تھی کہ اگر سکولوں کی سطح پر اور اس کے بعد کالجوں کی سطح پر اور اس سے بھی آگے اضلاع اور ڈویژنوں کی سطح پر باقاعدگی سے کرکٹ ٹورنامنٹ منعقد کرائے جائیں اور ان ٹورنامنٹس میں اچھی کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کو آگے لا کر پالش کیا جائے‘ ان کی حوصلہ افزائی کی جائے اور ان کو قومی ٹیم میں شامل کیا جائے تو ہماری ہارنے کی شرح یقینا کم ہو جائے گی۔ پاکستان میں فرسٹ کلاس کرکٹ اچھی خاصی ہوتی ہے۔ اس سے بھی ٹیلنٹ تلاش کیا جا سکتا ہے۔ لیکن پتا نہیں کیوں ایسے کھلاڑیوں کو منتخب کیا جاتا ہے اور سلیکٹرز ایسی ٹیم سلیکٹ کرتے ہیں جو کبھی توقعات پر پورا نہیں اترتی۔ ہر پاکستانی محب وطن ہے وہ اپنے ملک کو جیتتا ہوا اور کامیاب ہوتا ہوا دیکھنا چاہتا ہے۔ ان کے لیے کسی دوسرے ملک کے ہاتھوں خصوصاً بھارت کے ہاتھوں ہار برداشت کرنا ناممکن ہو جاتا ہے لیکن نجانے کیوں ہمارے کھلاڑی عوام کے ان جذبات کو سمجھتے ہی نہیں ہیں۔
پاکستان اور بنگلہ دیش کے مابین دوسرا کرکٹ میچ بہت عرصے کے بعد ایک ایسا میچ تھا جس میں پاکستانی ٹیم اگرچہ ہار گئی لیکن اس نے جیتنے کی سر توڑ کوشش کی اور ساڑھے تین سو سکور بھی کر لیا۔ پہلے بھی عرض کرتا رہا ہوں اور دوبارہ عرض ہے کہ مایوس ہو کر اور دل چھوڑ کر ہارنا الگ معاملہ ہے اور جیتنے کی سر توڑ کوشش کر کے ہارنا ایک بالکل مختلف صورتحال ہے۔ بہت عرصے بعد پاکستانی ٹیم اس دوسری صورتحال میں نظر آئی۔ ہمیں صرف پٹخنیاں کھانا ہی نہیں دوسروں کو پٹخنیاں دینا بھی آنا چاہیے۔ یہ کوچز کی ذمہ داری ہے کہ وہ کھلاڑیوں کو کریز پر ٹکنا سکھائیں۔ یہ بتائیں کہ اگر چوکے چھکے نہیں لگ رہے تو سنگلز اور ڈبلز کا سلسلہ جاری رکھیں تاکہ سکور بورڈ حرکت کرتا رہے۔ ایسی صورت میں اکثر آخری اوور میں ایسی صورت حال بن ہی جاتی ہے جب چوکے چھکے لگا کر بڑا سکور کیا جا سکے‘ لیکن اگر چوکے چھکے رکے ہوئے ہوں اور سنگلز اور ڈبلز کے مواقع سے بھی فائدہ نہ اٹھایا جائے تو نتیجہ ہدف کے مشکل سے مشکل تر ہونے اور رن ریٹ کے بڑھنے کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔
اور آخری بات یہ کہ میچ ہارنے میں کوئی مضائقہ نہیں لیکن یہ دیکھنا اہم ہے کہ کس سے ہارے۔ چین کے اس دلہا جیسا حال نہیں ہونا چاہیے جو اپنی دلہن سے ہی ہار گیا۔ اب وہ دلہا میاں ساری زندگی گھر کے کام کاج تو کریں گے ہی اپنی بیگم سے کبھی نظریں بھی نہیں ملا سکیں گے۔ کسی مرد کے لیے کسی خاتون سے ریسلنگ میں ہار جانا افسوس کا مقام ہوتا ہے۔ کرکٹ میں اپنے ہاتھوں سے بنائی ہوئی ٹیموں سے ہار جانا بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہوتا ہے۔ کیا خیال ہے آپ کا؟