"IYC" (space) message & send to 7575

شکریہ پاکستان، شکریہ وزیراعظم، شکریہ فیلڈ مارشل!

یہ تین تاریخی فقرے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھولنے کے اعلان کے موقع پر اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر تحریر کیے۔ یہ یادگار فقرے اب تاریخ کا حصہ ہیں۔ اُس تاریخ کا جو وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے حالیہ چند دنوں میں رقم کی ہے۔ امن کے قیام کی ان کاوشوں میں ان کے ساتھ وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی شامل تھے۔ اللہ تعالیٰ کا لاکھوں بار شکر کہ یہ کوششیں بارآور ثابت ہوئیں اور پاکستان ایک سنگین عالمی بحران کو فرو کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ ان شاء اللہ جلد ہی ایران اور امریکہ کے مابین ایک جامع معاہدہ طے پا جائے گا جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کچھ عرصے کے لیے ضرور امن قائم ہو جائے گا اور دنیا کو جنگ کی مختلف طرح کی تباہ کاریوں سے نجات مل جائے گی۔ مستقبل قریب یا بعید میں جب بھی ایران امریکہ جنگ کا ذکر ہو گا پاکستان کا ذکر خود بخود آ جایا کرے گا۔ پاکستان عالمی برادری میں ایک تصفیہ کرانے والے ملک کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ ہماری لیڈر شپ نے اس امر کا عملی ثبوت دیا ہے کہ ہم جنگ کرنا تو جانتے ہیں لیکن دراصل ہم امن پسند ہیں اور پوری دنیا میں امن چاہتے ہیں۔
اس حقیقت سے کوئی چھوٹا بڑا‘ کوئی پڑھا لکھا اور اَن پڑھ بھی انکار نہیں کر سکتا کہ ایران امریکہ جنگ نے دنیا کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا تھا اور اگر یہ کچھ دن مزید جاری رہتی تو پھر ایسے عالمی بحرانوں اور انسانی المیوں نے جنم لینا تھا جن کا مستقبل قریب میں کوئی حل ممکن نہ ہوتا کیونکہ عالمی بحران بڑھتے تو تیزی سے ہیں لیکن ان کے اثرات کم ہونے میں مہینوں اور بعض اوقات برسوں لگ جاتے ہیں۔
سبھی جانتے ہیں کہ کم و بیش پونے دو ماہ سے جاری اس جنگ کے نتیجے میں توانائی کا بحران پیدا ہو چکا تھا اور ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت اختیار کرتا جا رہا تھا۔ توانائی کا بحران آگے مزید کئی بحرانوں کا باعث بننے والا تھا۔ کل کی خبر یہ ہے کہ ایران نے اپنی داخلی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تمام پیٹروکیمیکل مصنوعات کی برآمدات کو تا حکمِ ثانی معطل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یاد رہے کہ حالیہ جنگ کے دوران اسرائیل نے ایران میں متعدد پیٹروکیمیکل تنصیبات پر حملے کیے تھے جن میں جنوبی علاقوں عسلویہ اور ماہشہر کی پیٹروکیمیکل تنصیبات بھی شامل ہیں۔ اس کے نتیجے میں ایران کی پیٹروکیمیکل مصنوعات کی پیداوار کم ہو چکی تھی۔ اگر یہ جنگ بند نہ ہوتی‘ اگر آبنائے ہرمز نہ کھلتی‘ اگر ایران اور امریکہ تصفیے کے قریب نہ پہنچ چکے ہوتے تو یہ بات پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ پیٹرو کیمیکل مصنوعات کا بحران پٹرولیم مصنوعات کے بحران سے بڑا اور شدید بحران ثابت ہوتا اور عالمی معیشت کو زیادہ طاقت کے ساتھ ہِٹ کرتا۔ توانائی کا بحران ملوں‘ کارخانوں اور گھریلو صنعتوں کی بندش کا باعث بنتا اور یہ بندش آگے بے روزگاری کے نئے طوفان کا باعث بنتی۔ یہ ایک معاشی حقیقت ہے کہ بے روزگاری ایک الگ نوعیت کی کساد بازاری کا باعث بنتی ہے۔ ابھی دو روز پہلے ہی عالمی مالیاتی فنڈ یعنی آئی ایم ایف نے خبردار کیا تھا کہ ایران کے خلاف جنگ میں مزید شدت اور عالمی تیل منڈیوں میں مسلسل خلل دنیا کو کساد بازاری کے قریب لے جا سکتا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق بد ترین صورتحال میں توانائی کی منڈیوں کو بار بار جھٹکے لگ سکتے ہیں‘ جس سے عالمی اقتصادی ترقی کی شرح موجودہ 3.1فیصد سے کم ہو کر دو فیصد تک آ سکتی ہے۔ جیسا کہ عرض کیا‘ عالمی کساد بازاری کیا گل کھلاتی ہے‘ اس سے سبھی آگاہ ہیں۔ بہرحال اب ایسے خدشات اور خطرات سے عالمی برادری کو نجات ملنے والی ہے۔
ایران امریکہ جنگ اور ان سارے بحرانوں کے ہنگام پاکستان کی تین شخصیات ایسی ہیں جنہوں نے حالات کو درست نہج پر لانے کا بیڑا اٹھایا۔ سب سے پہلے متحارب فریقین یعنی امریکہ اور ایران کے ساتھ رابطے کیے گئے اور انہیں ابتدائی مرحلے میں جنگ بندی پر آمادہ کیا گیا۔ یہ طے تھا کہ جنگ بندی نہ ہوتی تو امریکہ نے ایران پر بڑا حملہ کر دینا تھا جو بڑی تباہی کا باعث بنتا۔ جنگ بندی کے بعد پاکستان نے اسلام آباد میں جنگ کے دونوں بڑے فریقین کو بلایا تا کہ وہ باہمی بات چیت کے ذریعے کسی معاہدے تک پہنچ جائیں۔ بدقسمتی سے یہ مذاکرات کچھ نکات پر فریقین کا اتفاقِ رائے نہ ہونے کی وجہ سے کامیاب نہ ہو سکے۔ کوئی اور ملک ہوتا تو شاید مایوس ہو کر بیٹھ جاتا لیکن وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے دونوں ملکوں کے مابین بات چیت کا سلسلہ جاری رکھا۔ دونوں رہنما امریکی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے جبکہ وزیراعظم نے پہلے سعودی عرب اور پھر قطر اور ترکیہ کے دورے کیے اور وہاں کی قیادت کے ساتھ جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال پر تبادلہ خیالات کیا۔ کچھ مشورے بھی ہوئے ہوں گے۔ خود فیلڈ مارشل ایران تشریف لے گئے۔ وہاں انہوں نے صدر مسعود پزشکیان سمیت ایران کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ ملاقاتیں کیں اور انہیں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے پر آمادہ کیا۔ ایران کی امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی ایک بڑی شرط یہ تھی کہ لبنان پر اسرائیلی حملے بند کرائے جائیں۔ پاکستان کے کہنے پر صدر ٹرمپ نے نہ صرف یہ حملے بند کرائے بلکہ اسرائیل کو شٹ اَپ کال بھی دی۔ لبنان کے بارے میں الگ پوسٹ میں انہوں نے لکھا: اسرائیل اب لبنان پر بمباری نہیں کرے گا‘ انہیں امریکہ کی طرف سے ایسا کرنے سے روک دیا گیا ہے‘ بس بہت ہو چکا۔ اب یہ طے ہے کہ اگر اسرائیل کی جانب سے لبنان پر دوبارہ حملہ نہ ہوا تو ایران امریکہ جنگ بندی اور معاہدہ بھی پکا رہے گا۔ بینجمن نیتن یاہو کو کنٹرول میں رکھنا صدر ٹرمپ کی ذمہ داری ہو گی‘ حتیٰ کہ ان کے بعد آنے والے صدور کی بھی۔
آبنائے ہرمز کا کھلنا اور امریکہ کی جانب سے ایران کے 20ارب ڈالر کے منجمد اثاثے جاری کرنے کا عندیہ اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں ملک ایک بڑے‘ وسیع اور جامع معاہدے کے نزدیک پہنچ چکے ہیں یا یہ معاہدہ ہو چکا ہے اور بس اس کی نوک پلک درست کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر یہ اشارہ درست ہے تو پھر اس خطے اور اپنے ملک پاکستان میں ایک اور تاریخ رقم ہو گی۔ ہو سکتا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ معاہدے پر دستخط کے لیے پاکستان تشریف لائیں اور اگر ایسا ہوا تو وہ اکیلے نہیں آئیں گے‘ امید ہے کہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان‘ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان‘ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کے ساتھ قطر اور دیگر خلیجی ممالک کی قیادت بھی پاکستان آئے گی۔ اس طرح اسلام آباد ایک اہم عالمی سفارتی مرکز کی شکل اختیار کر جائے گا جہاں بیک وقت کئی اہم عالمی رہنما موجود ہوں گے۔ اس کے نتیجے میں پاکستان پر نہ صرف عالمی اعتماد میں اضافہ ہو گا بلکہ پاکستان کے لیے معاشی اور سفارتی مواقع بھی بڑھ جائیں گے۔ پاکستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھا جانے لگے گا جو صرف سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کرنے والا ملک ہی نہیں بلکہ عالمی تنازعات کے حل میں کلیدی کردار ادا کرنے والا ملک بھی ہے۔ ان شاء اللہ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں