"IYC" (space) message & send to 7575

اسلام آباد مذاکرات، امن کی فتح

پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے ایران امریکہ مذاکرات کے سبب اسلام آباد اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ یہ مذاکرات ایک ایسے وقت پر ہو رہے ہیں جب کم و بیش چھ ہفتے کی جنگ کے بعد فریقین نے پاکستان کی تجویز پر دو ہفتے کی جنگ بندی اور باہمی بات چیت پر اتفاق کیا۔ جنگ کے باعث اب تک ہزاروں قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں‘ عالمی معیشت کو شدید دھچکے پہنچے ہیں جبکہ تیل کی ترسیل کے اہم راستے متاثر ہونے کے باعث توانائی کا عالمی بحران تیزی سے سر اٹھا رہا تھا۔ جنگ کے دوران ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کرنے کے فیصلے نے تیل اور گیس کی عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
ہر ملک‘ ہر قوم‘ ہر رہنما اور ہر فرد یہ سوچ رہا تھا کہ اگر جنگ تا دیر جاری رہی تو ہر عالمی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے گی۔ یہ سوچ گہری ہوتی جا رہی تھی کہ خلیجی ممالک سے توانائی کے ذرائع کی ترسیل مکمل طور پر بحال نہ ہوئی تو یہ بحران نہ صرف دنیا بھر میں گھریلو زندگی کو تہس نہس کر دے گا بلکہ صنعت و زراعت کا پہیہ بھی جامد ہو کر رہ جائے گا ‘جس کا نتیجہ مزید معاشی بدحالی کی صورت میں نکلے گا۔ ٹرانسپورٹ اور صنعت کا پہیہ بند ہو جاتا تو لا محالہ بے روزگاری بڑھتی جو عالمی کساد بازاری کا پیش خیمہ بن جاتی۔ اسی سوچ کے تحت عالمی سطح پر فوری جنگ بندی کی ضرورت تو شدت کے ساتھ محسوس کی جا رہی تھی لیکن کوئی بھی اس سلسلے میں آگے بڑھنے کو تیار نظر نہ آتا تھا۔
ان حالات میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے معاملات کو سدھارنے کا بیڑا اٹھایا اور پہلے مرحلے میں جنگ بندی کے لیے امریکہ اور ایران‘ دونوں ممالک کی قیادت کے ساتھ رابطے قائم کیے‘ ان کے سامنے تجاویز رکھیں اور انہیں مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر اپنے مسائل حل کرنے کی صلاح دی تاکہ مزید تباہی اور جنگ کے ضمنی اثرات سے بچا جا سکے۔ اس سارے عمل کے دوران عقل اور دانش نے جگہ بنائی اور جنگ کے حوالے سے خراب ہوتے اور شدت اختیار کرتے ہوئے مسائل کو پیشِ نظر رکھ کر فریقین نے جنگ بندی اور بعد ازاں پاکستان کی ثالثی میں مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کیلئے رضامندی ظاہر کر دی۔ جب یہ کالم چھپ کر آپ کے سامنے آئے گا تو مذاکرات کا ایک دور مکمل ہو چکا ہو گا اور کچھ نہ کچھ نتائج بھی ہو سکتا ہے کہ سامنے آ چکے ہوں۔ عرب میڈیا نے بتایا ہے کہ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے مطابق یہ مذاکرات 15دن تک جاری رہ سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ وفود کے کچھ ارکان طویل قیام کر سکتے ہیں یا ہو سکتا ہے اگلے دور کے لیے پھر واپس آئیں۔ وقت جتنا بھی لگ جائے نتیجہ خیر کی صورت میں نکلنا چاہیے۔ یہی آج ہر امن پسند کی دعا ہے۔
میری نظر میں مذاکرات کے لیے اسلام آباد کا انتخاب اس لیے کیا گیا ہے کہ سب سے پہلے پاکستان ہی نے امن کے لیے کوششوں کا آغاز کیا اور حالیہ ہفتوں میں واشنگٹن اور تہران کے مابین ایک اہم ثالث کے طور پر سامنے آیا۔ پھر پاکستان کی ایران کے ساتھ 900کلو میٹر طویل سرحد ہے اور دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات برادرانہ اور دوستانہ ہیں۔ ایران کی قیادت امن مذاکرات کے سلسلے میں پاکستان کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کی متعدد بار تعریف کر چکی ہے۔ مزید برآں پاکستان کو ایران اور امریکہ دونوں کے قریب سمجھا جاتا ہے اور فی زمانہ یہ حقیقت بھی ہے۔ علاوہ ازیں پاکستان اس سے پہلے گزشتہ سال بھی امریکہ یران جنگ بند کرانے میں سرگرم کردار ادا کر چکا ہے۔ پاکستان نے ایران اور سعودی عرب کے اختلافات ختم کرانے اور دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ ان معاملات کو سامنے رکھا جائے تو پاکستان ہی اس جنگ کو فرو اور پھر ختم کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا تھا؛ چنانچہ وہ یہ کردار ادا کر رہا ہے جس کی پوری دنیا کی جانب سے پذیرائی کی جا رہی ہے۔
عراق‘ لبنان اور یمن میں جنگ کا مکمل خاتمہ‘ ایران کے خلاف جنگ کا مکمل اور مستقل خاتمہ‘ پورے خطے میں تمام تنازعات کا اختتام‘ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا‘ آبنائے ہرمز میں محفوظ اور آزادانہ نقل و حرکت کے لیے پروٹوکول اور شرائط کا قیام ایران کے پیش کردہ 10نکاتی منصوبے کا حصہ ہیں جبکہ ایران کی تعمیرِ نو کے اخراجات کے لیے مکمل معاوضے کی ادائیگی‘ ایران پر عائد تمام پابندیوں کا مکمل خاتمہ‘ امریکہ کے پاس منجمد ایرانی اثاثوں اور فنڈز کا فوری اجرا بھی ایرانی ایجنڈے کا حصہ ہے۔ (ایک غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق سینئر ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ قطر اور دیگر غیرملکی بینکوں میں موجود ایرانی منجمد اثاثے بحال کرنے پر رضامند ہو گیا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے ایران کے اثاثے بحال کیے جانے سے متعلق خبر کی تردید کی ہے)۔ایران کے 10نکات میں خطے کے تمام اڈوں اور فوجی مراکز سے امریکی افواج کا انخلا اور جنگی نقصانات کے بدلے تہران کو ہرجانہ ادا کرنے کے مطالبات بھی شامل ہیں۔ تہران کے خلاف عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز اور امن کونسل کی قراردادوں کی منسوخی اور بیرون ملک منجمد تمام ایرانی اثاثوں اور رقوم کی واگزاری کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
دوسری جانب امریکہ نے بارہا اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھولنا اور وہاں بحری جہاز رانی کی محفوظ واپسی ناگزیر ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس عزم کا اظہار بھی کیا ہے کہ واشنگٹن ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے یا یورینیم کی افزودگی کی اجازت نہیں دے گا۔ ٹرمپ انتظامیہ ایرانی میزائل پروگرام اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے خاتمے کی کوشش بھی کر رہی ہے۔ امریکہ کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ خطے میں مسلح ملیشیاؤں کی حمایت بند کی جائے‘ بالخصوص عراق اور لبنان میں۔ بالٹی مور سے میرے دیرینہ دوست پاکستانی نژاد ریپبلکن ساجد تارڑ نے خبر دی ہے کہ ان کی اطلاعات کے مطابق امریکہ کی 15شرائط میں سے 11جبکہ ایران کی جانب سے پیش کردہ 10شرائط میں سے سات پر اتفاق ہو چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اگر مذاکرات نتیجہ خیز ہونے کا امکان نہ ہوتا تو جے ڈی وینس پاکستان نہ جاتے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا مطمئن نظر آنا بھی کامیابی کی کہانی بیان کر رہا ہے۔
گزشتہ کالم میں بھی عرض کیا تھا کہ ایسا ممکن نہیں کہ فریقین کے تمام مطالبات ہی تسلیم کر لیے جائیں۔ جنگ بند ہو جائے‘ ایران پر سے پابندیاں ہٹا لی جائیں‘ آئندہ جنگ نہ کرنے کی یقین دہانی کرا دی جائے اور ایران کے جنگ میں ہونے والے نقصانات کا ازالہ کر دیا جائے تو اس کے بدلے میں ایران اپنا ایٹمی پروگرام محدود (ختم نہیں) کرنے پر تیار ہو سکتا ہے‘ لیکن ایرانی قیادت شاید اپنے میزائل اور ڈرون پروگرام سے پیچھے نہ ہٹے کیونکہ یہ میزائل پروگرام ہی ہے جس نے اس جنگ میں ایران کو اپنے مخالفین پر برتری دلائی ہے۔ یہاں پھر وہی لطیفہ یاد آتا ہے کہ یہ سارے وہ معاملات ہیں جن پر ایران اوباما انتظامیہ کے دور میں ایک معاہدے کے مطابق عمل پیرا تھا۔ ٹرمپ صاحب نے وہ معاہدہ یک طرفہ طور پر ختم کر دیا اور اب اسی طرح کا ایک اور معاہدہ کرنے کے لیے ایران پر زور دے رہے ہیں۔
دعا ہے کہ جنگ کے شر میں سے امن کا خیر برآمد ہو۔ ایران اور امریکہ کے مابین معاہدہ ہو جانا انہی دو ممالک کی نہیں‘ پاکستان اور باقی ساری دنیا کی بھی فتح ہو گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں