"IYC" (space) message & send to 7575

ایران امریکہ جنگ کے متوقع اور غیر متوقع نتائج … (2)

وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششیں رنگ لے آئی ہیں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی درخواست پر عمل کرتے ہوئے دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔ ایران بھی پاکستان کی تجویز مانتے ہوئے جنگ بندی پر رضا مند ہو گیا ہے جبکہ اسرائیل نے بھی جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے۔ امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکہ اپنے تمام فوجی اہداف حاصل کر چکا ہے اور ایران کے ساتھ طویل مدتی امن معاہدے کے حوالے سے نمایاں پیشرفت ہو چکی ہے‘ ایران کی جانب سے پیش کردہ 10نکاتی منصوبے کو مذاکرات کی بنیاد کے طور پر قابلِ عمل سمجھا جا رہا ہے۔
سب سے پہلے تو صدر ٹرمپ کا دو ہفتے کی جنگ بندی پر راضی ہو جانا غیر متوقع تھا کیونکہ دو تین روز پہلے ہی وہ منگل کے روز ایران پر بڑے حملے کی دھمکیاں دے رہے تھے‘ لیکن منگل کے روز معمول کے حملوں اور جوابی حملوں کے سوا کچھ نہیں ہوا۔ اللہ کرے کہ ایران اور امریکہ کے مابین اسی طرح حتمی معاہدہ بھی طے پا جائے اور مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے قیام کی راہ ہموار ہو سکے۔ حتمی معاہدے کے حوالے سے ایک بات طے ہے کہ کچھ لو کچھ دو کے اصول پر عمل کرتے ہوئے کوئی درمیانی راستہ اختیار کرنا پڑے گا‘ یہ نہیں ہو سکتا کہ ایران امریکہ کی تمام تر شرائط تسلیم کرے اور یہ بھی ضروری نہیں کہ ایران کے سبھی نکات مان لیے جائیں۔ بہرحال اس دو ہفتے کی جنگ بندی کو خوش آئند مانتے ہوئے توقع کی جاتی ہے کہ یہ عارضی جنگ بندی مستقل جنگ بندی میں تبدیل ہو جائے گی اور مستقل جنگ بندی ایران امریکہ حتمی معاہدے پر منتج ہو گی۔
ہم نے آج بات کرنا ہے ایران امریکہ جنگ کے غیر متوقع نتائج پر۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے غیر متوقع نتائج میں سب سے پہلا ایران کی جانب سے امریکہ اور اسرائیل کے متحدہ و متفقہ حملوں کا مردانہ وار جواب دینا ہے۔ کوئی شک نہیں کہ ایران کے ردِعمل نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کو حیرت میں مبتلا کر دیا ہے۔ ٹرمپ کا خیال شاید یہ تھا کہ ایران میں بھی ونیزویلا جیسے معاملات ہی پیش آئیں گے اور چند روز میں وہ مشرقِ وسطیٰ کے اس اہم ملک کو شکست سے دوچار کر دیں گے‘ لیکن حملے کے بعد امریکی صدر کا یہ خواب ایک ڈراؤنے خواب کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ایران نے اتنی تیاریاں کر رکھی ہیں اور وہ اس قدر سخت جان ثابت ہو گا۔ ''میں عالمی قوانین کو نہیں مانتا، دنیا کے تمام ممالک کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کا اختیار میرے پاس ہے، میری اپنی اخلاقیات، میرا اپنا فیصلہ ہے یہی وہ چیز ہے جو مجھے روکتی ہے‘‘ یہ کہنے والے ٹرمپ کو ایران پر حملے کے بعد فل سٹاپ سا لگ چکا ہے۔ عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کرنے کے حکم نامے پر دستخط کرنے والے‘ کینیڈا کو امریکہ کی 51ویں ریاست بنانے کا دعویٰ کرنے والے‘ امریکہ کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک کی درآمدات پر ٹیرف پر ٹیرف عائد کرنے والے‘ گرین لینڈ کو امریکہ کا حصہ بنانے کی بڑھک لگانے والے‘ پاناما کینال پر قبضے کی دھمکیاں دینے والے ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران پر حملے کے بعد ایک الگ قسم کی صورتحال کا سامنا ہے۔ ایک ایسی صورتحال جس کی توقع انہیں بالکل بھی نہیں تھی۔ اسی لیے اب وہ ایران کو مذاکرات اور معاہدے کی دھمکی آمیز دعوتیں دینے کے بعد عارضی جنگ بندی پر راضی ہو چکے ہیں۔
دوسرا غیر متوقع نتیجہ یہ سامنے آیا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے مسلسل منفی سگنلز اور غزہ میں جاری تشویشناک صورتحال نے ایران کو اپنی میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کا موقع فراہم کر دیا اور اس موقع سے ایران نے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔ سی این این نے تین روز پہلے یہ خبر نشر کی کہ ایران کے تقریباً نصف میزائل لانچر اب بھی محفوظ ہیں‘ اور گزشتہ پانچ ہفتوں کے دوران امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے اہداف پر حملوں کے باوجود ہزاروں خود کش حملہ آور ڈرون ایران کے اسلحہ ذخائر میں موجود ہیں۔ امریکی انٹیلی جنس کی بھی یہی رپورٹ ہے کہ حالیہ کشیدگی اور اب تک کی فوجی کارروائیوں کے باوجود ایران کی عسکری قوت‘ بالخصوص میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی‘ بڑے پیمانے پر محفوظ اور فعال ہے اور ایران اب بھی پورے خطے میں کسی بھی وقت بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایران نے اپنے 50فیصد سے زائد میزائل لانچرز کو اب بھی برقرار رکھا ہوا ہے‘ جبکہ اس کے پاس ہزاروں ڈرونز کا ذخیرہ موجود ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایران اب بھی دشمنوں کو طویل عرصے تک ناکوں چنے چبوا سکتا ہے۔ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کے قابل ہوا ہے یا نہیں‘ اس بارے میں وثوق کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن یہ طے ہے کہ میزائلوں اور ڈرونز کے شعبوں میں ایران کسی بھی ملک کی توقع سے زیادہ ترقی کر چکا ہے اور اگر یہ عارضی جنگ بندی نہ ہو جاتی تو ایران اس وقت بھی امریکی اہداف کو اپنے میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنا رہا ہوتا۔
اس غیر متوقع جنگ کا تیسرا غیر متوقع اثر یہ ظاہر ہوا ہے کہ توانائی کا بحران زیادہ شدت اور زیادہ تیزی سے پھیلا۔ جنگ شروع ہونے پر یہ اندیشہ تو تھا کہ توانائی کا گہرا بحران پیدا ہو گا لیکن اس سلسلے میں سب سے پہلے خود امریکی صدر کا حوصلہ ٹوٹے گا‘ یہ غیر متوقع تھا۔ امریکی صدر نے جنگ شروع کرنے کے چند روز بعد ہی نہ صرف ایران کو تیل فروخت کرنے اور دنیا کو اس سے تیل خریدنے کی اجازت دے دی بلکہ روس سے تیل خریدنے پر عائد پابندی بھی ختم کر دی تھی‘ لیکن ایسا ممکن نہ ہو سکا کیونکہ ایران نے آبنائے ہرمز کو کسی بھی شپمنٹ کیلئے بند کر دیا۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو کو یہ توقع نہ تھی کہ ایران اس طرح کامیابی کے ساتھ آبنائے ہرمز بند کر دے گا اور وہ کوشش کے باوجود اسے کھلوا نہیں سکیں گے۔ امریکی بحری بیڑے بحر ہند اور بحیرۂ عرب میں موجود ہیں لیکن 40 دنوں میں وہ اس قابل نہیں ہو سکے کہ اس بند آبنائے کو کھلوا سکیں تاکہ توانائی کا بحران شدید نہ ہو۔
وال سٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ بتاتی ہے کہ ایران امریکہ جنگ نے ٹرانس اٹلانٹک تعلقات کو ٹوٹنے کی نہج پر پہنچا دیا ہے۔ جنگ کے دوران یا جنگ کے بعد 77سال پرانا نیٹو اتحاد ٹوٹ سکتا ہے۔ نیٹو ٹوٹا تو یورپ تنہا ہو جائے گا اور امریکہ بھی اور یہ ایک غیرمتوقع صورتحال ہو گی۔ بروکلنگ انسٹیٹیوٹ میں فارن پالیسی پروگرام کی ڈائریکٹر Suzanne Maloney نے حال ہی میں نیویارک ٹائمز کے پوڈ کاسٹ ‘The Ezra Klein Show میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ یہ جنگ ہار چکا ہے‘ فتح حقیقی فتح نہیں ہو گی۔ اس جنگ کا اختتام امریکہ کے زیادہ جانی و مالی نقصان کے ساتھ ہو سکتا ہے۔ خطے میں اور پوری دنیا میں ہمارے اتحادیوں نے روس اور چین کو بھاری مالی فائدے پہنچائے ہیں اور بہت سے ڈپلومیٹک مواقع ضائع کر دیے ہیں‘ اور یہ واضح نہیں ہے کہ ٹرمپ امریکی لیڈر شپ کے طور پر برقرار رہ سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس جنگ کے بعد ایران ایک بڑی معاشی اور فوجی طاقت بن کر ابھرے گا۔ موجودہ صورتحال میں مکمل جنگ بندی اور معاہدہ ہو جانا‘ امریکہ میں ٹرمپ کو صدارت سے ہٹانے کی کوشش اور ایران کا ایک بڑی طاقت بن کر ابھرنا‘ سب کچھ غیرمتوقع ہی تو ہو گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں