لاہور میں اپنے ہی تین کم عمر بچوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار ماں پانچ روزہ ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہے۔ پولیس کے مطابق لاہور کے علاقے اچھرہ میں پیش آئے اس افسوسناک واقعہ میں ڈیڑھ سال سے لے کر پانچ سال تک کی عمر کے تین بچوں‘ دو بہنوں اور ایک بھائی کو تیز دھار آلے سے قتل کیا گیا۔ پولیس کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ یہ معاملہ میاں بیوی کے درمیان لڑائی جھگڑے کا ہے۔ پولیس کے مطابق خاتون کی اس کے شوہر سے چھ سال قبل شادی ہوئی تھی اور ان کے تین بچے تھے۔ تفتیشی افسر کے مطابق اہلِ خانہ اور اہلِ محلہ نے بتایا کہ میاں بیوی کا گھریلو معاملات پر اکثر جھگڑا رہتا تھا۔
مجھے شعبۂ صحافت میں 35 برس ہو چکے ہیں اور اس سارے عرصے میں سینکڑوں نہیں تو درجنوں بار ایسی خبریں رپورٹ کرنے‘ لکھنے اور پڑھنے میں آئیں جن میں والدین کی آپس کی چپقلش کی سزا بچوں کو دی گئی۔ انہیں قتل کر دیا گیا یا بری طرح مارا پیٹا گیا۔ اس عمل کا مقصد فریقِ مخالف یعنی اگر قاتل یا ضارب ماں ہے تو شوہر کو اور اگر بچوں کی بَلی چڑھانے والا شوہر ہے تو ماں کو ذہنی و جسمانی کرب میں مبتلا کرنا اور سزا دینا ہوتا ہے۔ ایسا کرنے سے فریقِ مخالف کرب میں بھی مبتلا ہوتا ہے اور اسے اذیت بھی ضرور ملتی ہے لیکن میرے خیال میں اصل سزا بچوں کو ملتی ہے۔ ان کلیوں کو ملتی ہے جنہیں کھلنے سے پہلے ہی مسل دیا جاتا ہے۔ اس سانحے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ بچے تو والدین کی لڑائیوں والی تکلیف دہ زندگی سے ابدی نجات پا جاتے ہیں لیکن انہیں ان لڑائیوں کی بھینٹ چڑھانے والے ساری زندگی اس احساسِ گناہ کے ساتھ سلگتے ہوئے گزارتے ہیں کہ جنہیں انہوں نے پیدا کیا‘ ان کی پرورش کی‘ ان کی قلقاریاں سنیں‘ ان کی میٹھی میٹھی باتوں سے محظوظ ہوئے اور جو اُن کی زندگی (چاہے لڑائی زدہ ہی تھی) کا مرکز و محور تھے انہیں انہوں نے خود ہی اپنی زندگیوں سے نکال دیا۔ اب اچھرہ کے تین بچوں کی ماں چاہے عدالت سے چھوٹ جائے‘ چاہے اسے کوئی بھی سزا نہ ملے‘ اس اذیت کے ساتھ زندگی گزارے گی کہ وہ اپنے بچوں کی قاتلہ ہے۔ ان بچوں کی جنہیں اس نے نو نو ماہ اپنی کوکھ میں رکھا اور اپنا خون ان کی رگوں میں ڈالا اور انہیں زندگی دی‘ جنہیں زچگی کی تکلیفوں کے ساتھ دنیا میں وارد کیا‘ جنہیں اس نے برسوں اپنا دودھ پلایا۔ ان بچوں کی جن کو کھلانے‘ جن کا پیٹ بھرنے سے پہلے وہ خود ایک نوالہ تک لینا پسند نہ کرتی تھی۔ ان بچوں کی جن کو دیکھے بنا‘ پیار کیے بنا اسے قرار نہ آتا تھا۔ اب اسے ان بچوں کے بغیر ساری زندگی تڑپتے ہوئے گزارنا پڑے گی‘ چاہے جیل میں گزرے‘ چاہے جیل سے باہر۔
یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اس لیے اس پر زیادہ بات نہیں کی جا سکتی لیکن میں اس سانحے کے صرف انسانی پہلوؤں پر کچھ ضرور کہنا چاہوں گا۔ ممکن ہے اجتماعی قتل کی ایسی وارداتوں کے پیچھے یہ سوچ کارفرما ہو کہ اگر وہ یعنی ماں شوہر سے علیحدہ ہو جائے یا خود کشی کر لے تو بعد میں اس کے بچوں کا کیا بنے گا‘ لہٰذا پہلے بچوں کا ٹنٹا ہی ختم کیا جائے‘ بعد میں دیکھا جائے گا کہ کیا کرنا ہے۔ یہ سچائی کڑوی ہے لیکن ہے سچائی کہ بنا والدین کے بچوں کو کوئی نہیں سنبھالتا اور در در کی ٹھوکریں ان کا مقدر بن جاتی ہیں۔ یتیم خانوں میں ہزاروں بلکہ ممکن ہے لاکھوں بچے ایسے ہوں جو والدین کی محبت کو ترستے ہیں۔ انہیں حکومت نے جائے پناہ تو دے رکھی ہوتی ہے۔ کھانا بھی ملتا ہے۔ پہننے کو بھی اچھا ملتا ہو گا۔ وہ تعلیم بھی حاصل کرتے ہیں لیکن ماں باپ کی کمی کوئی پوری نہیں کر سکتا۔ یہ وہ بچے ہیں جو سرکار کی پناہ میں آ گئے۔ جو زمانے کی بھینٹ چڑھے وہ چور‘ ڈاکو اور رہزن ہی بنتے ہیں کہ آج کے معاشرے میں انصاف عنقا ہے۔ احمد مشتاق نے لکھا تھا:
امن ملے تیرے بچوں کو اور انصاف ملے
دودھ ملے چاندی سا اجلا‘ پانی صاف ملے
والدین نہ ہوں تو نہ امن ملتا ہے‘ نہ انصاف میسر آتا ہے‘ نہ چاندی سا اجلا دودھ حاصل ہوتا ہے اور نہ صاف پانی ہی مل پاتا ہے۔ والدین نہ ہوں تو دن دن نہیں ہوتا‘ رات رات نہیں ہوتی۔ لوریاں صرف والدین دیتے ہیں‘ ضدیں صرف والدین پوری کرتے ہیں۔ زمانے کو پتا چل جائے کہ کوئی یتیم یا مسکین ہے تو وہ ٹھوکروں پر رکھ لیتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں یتیم بچوں کی زندگی اکثر محرومیوں سے بھری ہوتی ہے۔ وہ والدین کی شفقت اور رہنمائی کے بغیر بڑے ہوتے ہیں اور ان کے دل میں اکیلا پن اور شفقت کی کمی شدت سے ہوتی ہے۔
لیکن ان ساری قباحتوں‘ ان سارے خدشات‘ اندیشوں اور خطرات کے باوجود کسی ماں‘ کسی باپ کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنے معصوم بچوں پر ہاتھ اٹھائیں‘ چہ جائیکہ انہیں قتل کر دیں۔ بچے اللہ تعالیٰ کی نعمت ہیں۔ وہ خوشیوں کا منبع‘ مستقبل کی امید ہوتے ہیں۔ ان کی قدر کی جانی چاہیے۔ انکی قدر ہوتی بھی ہے۔ اس وقت جب باپ چلچلاتی دھوپ اور شدید سردیوں میں بغیر کسی کو بتائے‘ بغیر کسی کو جتائے دن بھر محنت کرتا ہے کہ اپنے بچوں کا پیٹ بھر سکے‘ ان کی زندگی کی ضروریات پوری کر سکے۔ اس وقت جب ماں باپ گھر سے اپنی ضروریات کی شاپنگ کے لیے نکلتے ہیں لیکن جب واپس آتے ہیں تو خریدی گئی چیزوں کے تھیلوں میں سے زیادہ تر بچوں کے استعمال کی چیزیں نکلتی ہیں۔ اس وقت جب ماں بھوکی رہ کر بچوں کو پیٹ بھر کر کھانا کھلاتی ہے۔ اس وقت جب گھر میں ایک روٹی ہو تو وہ بچوں میں بانٹ دی جاتی ہے اور والدین بھوکے سوتے ہیں۔
کہنا یہ چاہتا ہوں کہ والدین اپنی لڑائیوں کی آگ کا ایندھن اپنے بچوں کو نہ بنائیں۔ جو پھول کھلے ہیں انہیں کھلنے دیں۔ اگر زیادہ ہی مسئلہ ہے تو مزید نہ پیدا ہونے دیں۔ طلاق لے لیں۔ خلع کی اجازت بھی ہمارا مذہب دیتا ہے لیکن خود کشی کے بارے میں سوچنا یا اپنی بیوی یا اپنے شوہر کو تکلیف میں مبتلا کرنے کے لیے اپنے بچوں کو قتل کر دینا اس کی اجازت کوئی نہیں دے سکتا‘ نہ مذہب نہ سماج۔ یہ کہاں کی دانشمندی ہے‘ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ سب سے پہلے تو سوچ سمجھ کر ساتھی کا انتخاب کریں اور اگر ایک بار شادی کے بندھن میں بندھ جاتے ہیں تو پھر کوشش کی جائے کہ اس کو نبھایا جائے۔ اگر کوشش کے باوجود کامیابی نہیں ملتی تو علیحدگی کا آپشن ہمیشہ سے موجود رہا ہے اور موجود رہے گا۔ وہ اپنائیں‘ بچوں کو قتل نہ کریں‘ انہیں اپنی انا کی بھینٹ نہ چڑھائیں۔ اپنے لیے باقی ساری زندگی کی اذیت کا بندوبست نہ کریں۔ کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے اس کے نتائج کے بارے میں سوچیں۔ بچے تو قتل ہو کر دنیا سے چلے جاتے ہیں لیکن انہیں اپنی انا کی بھینٹ چڑھانے والے والدین ساری زندگی احساسِ ندامت کی سولی پر لٹک کر گزارتے ہیں۔
تازہ خبر یہ ہے کہ ریمانڈ کے دوران پولیس کی تفتیش سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ اپنے بچوں کی قاتل ملزمہ اپنے شوہر سے طلاق لے کر کسی اور سے شادی کرنا چاہتی تھی‘ لیکن شادی میں بچے سب سے بڑی رکاوٹ تھے۔ یہ پڑھ کر تو مجھے اس عورت کو عورت کہتے ہوئے بھی شرم آ رہی ہے‘ ماں تو عورت کا اعلیٰ ترین درجہ ہے۔