"AYA" (space) message & send to 7575

سکیورٹی معاملات پر بھی نظر رکھی جائے

سفارتی کوششوں کی وجہ سے بَلے بَلے ہوئی لیکن بنیادی مسائل ہمارے جوں کے توں ہیں۔ معاشی صورتحال تو خراب ہے ہی اور اس میں بہتری کی کوئی گنجائش نظر نہیں آتی لیکن مغربی سرحد پر جو گڑبڑ کی کیفیت ہے اس پر بھی تشویش ہونی چاہیے۔ پوری خبریں آتی نہیں اور اس کی وجہ ہم سب کو پتا ہے‘ لیکن خبروں پر کنٹرول کا مطلب یہ نہیں نکلتا کہ صورتحال پر بھی کوئی کنٹرول ہے۔ چکوال فوجی علاقہ ہے۔ ہر گھر نہیں تو ہر تیسرے گھر سے کسی نہ کسی کا تعلق فوج سے ہے۔ ہمارے دیہات ایسے ہیں کہ حوالداروں اور صوبیداروں کی تو کوئی کمی نہیں لیکن اب افسروں کی تعداد بھی خاصی ہو چکی ہے۔ شادی بیاہ یا افسوس کے موقعوں پر لوگوں سے ملاقات ہوتی ہے تو خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی صورتحال سے کچھ آگاہی ملتی ہے۔ کہانیاں سُن کر دل کو دھڑکا لگ جاتا ہے کہ کیسی صورتحال میں ہم آن کر پھنسے ہیں۔ شورش بلوچستان میں جاری ہے اور خیبرپختونخوا کے ایسے اضلاع بھی ہیں جہاں کسی قسم کی موومنٹ بڑی مشکل ہو گئی ہے۔ آپریشن جاری ہیں اور بڑی دلیری اور جوانمردی سے ہمارے لوگ لڑ رہے ہیں لیکن یہ بھی عیاں ہے کہ صورتحال میں جو بہتری آنی چاہیے وہ خاصی دور ہے۔
ٹی ٹی پی کا وجود تو ایک لحاظ سے امریکہ مخالف افغان جنگ کا شاخسانہ ہے۔ یعنی ٹی ٹی پی اس جنگ کی ایک پراڈکٹ ہے۔ جب یہ جنگ جاری تھی اور اتنا یاد رہے کہ یہ 16سال جاری رہی تو کچھ سوچ بچار ہونی چاہیے تھی کہ یہ جو لوگ یہاں سے جاکر افغانستان میں لڑ رہے ہیں ان کا کیا بنے گا۔ امریکی افغانستان سے بھاگے اور ٹی ٹی پی کے مسئلے کے لیے ہمارے ادارے تیار نہیں تھے۔ مطعون سابق افسر جو سزا بھگت رہا ہے اُس کی سوچ تھی کہ یہ جو پانچ چھ ہزار جنگجو لوگ ہیں اور جنہوں نے جنگ کی تربیت افغانستان میں حاصل کی ہے انہیں یہاں لا کر کہیں رکھا جائے تاکہ ان پر نظر رہے اور وقت گزرنے کے ساتھ اس مسئلے کی شدت کم ہوتی جائے۔ لیکن شور یہاں اتنا مچا کہ دیکھیں جنگجوؤں کو پھر لایا جا رہا ہے اور پہلی جیسی شورش کے حالات یہاں پھر سے پیدا ہوں گے۔ وہ سلسلہ ختم ہوا اور نتیجہ یہ نکلا کہ یہ جنگجو ڈیورنڈ لائن کے اُس پار ہی رہے۔ انہیں تو ایک ہی کام آتا تھا‘ دہشت گردی کرنا۔ جب ڈیورنڈ لائن کے قریب کے افغان صوبوں میں انہوں نے اپنے ٹھکانے بنائے تو امریکہ کے خلاف جو کام کرتے تھے وہ پاکستان کے خلاف کرنے لگے۔ اب ہمارے لیے یہ دردِ سر بنا ہوا ہے اور اس کا کوئی حل نظر نہیں آرہا۔
جنرل باجوہ پتا نہیں آج کل کہاں ہیں‘ اللہ اُنہیں صحت دے‘ لیکن یہ سوال تو بنتا ہے کہ اُن کے زمانے میں جس سرحدی باڑ کا چرچا تھا ‘ اُس کا فائدہ کیا ہوا ‘ اگر اس کے باوجود حملے ہو رہے ہیں تو کیانتیجہ یہ نہیں نکلتا کہ باڑ پر خرچ فضول ہی رہا؟کوئی بتائے کہ اس پر ٹوٹل خرچہ تھا کتنا۔ لیکن اس بارے ایک لفظ نہیں کہا جاتا۔ بہرحال اب تو ظاہر ہے کہ باڑ کے باوجود حملے ہو رہے ہیں۔ ہم نے افغانوں کو یہاں سے نکال دیا‘ بارڈر بند کر دیا‘ تجارت جو ہوتی تھی وہ ختم کر دی گئی لیکن شورش کا مسئلہ جاری و ساری ہے۔ اس مسئلے پر زیادہ کچھ کہا بھی نہیں جا سکتا کیونکہ زیادہ کہنا اور زیادہ رائے کا اظہار کچھ اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ بہرحال اتنا تو ہے کہ خیبرپختونخوا کے کئی جنوبی اضلاع میں صورتحال خاصی تشویشناک ہے۔
پھر مسئلہ رہا بلوچستان کا۔ خبروں کے لحاظ سے بلوچستان کی صورتحال ایک بلیک ہول کی مانند ہو چکی ہے۔ جیسے کسی بلیک ہول سے کوئی روشنی نہیں نکلتی تو بلوچستان کے بلیک ہول سے جس قسم کی آگاہی ہونی چاہیے ایسی خبریں نہیں نکلتیں۔ بس کوئی بڑا واقعہ پیش آ جائے تو سرخیوں کا موضوع بن جاتا ہے نہیں تو بلیک ہول کی کیفیت جاری رہتی ہے۔ اگر لمبی مغربی سرحد پر یہ کیفیت ہے تو مشرقی سرحد ہماری ہندوستان والی ہے اور ہندوستان سے تو ہمارے معاملات ویسے ہی کشیدہ رہتے ہیں۔ سیاچن کے پہاڑوں سے لے کر بحیرۂ عرب کے پانیوں تک ہماری فورسز ڈپلائے ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ ہندوستان سے معاملات کشیدہ رہتے بھی تو مغربی سرحد پُرامن ہوا کرتی تھی۔ یہ نام نہاد افغان جہاد سے پہلے وقتوں کی بات ہے۔ ہندوستان سے جنگیں بھی ہوئیں لیکن افغانستان کے حوالے سے کوئی فکر نہ رہتی۔ اب صورتحال بالکل مختلف ہو چکی ہے اور ہمارے دونوں اطراف صورتحال کشیدہ اور خراب ہے۔ افغانستان سے جو نچلے درجہ حرارت کی جنگ جاری ہے یہ ایک دو دن کی بات نہیں‘ جب تک کوئی سفارتی حل نہیں نکالا جاتا اس نے اس وقت تک جاری رہنا ہے۔ افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر ہم بمباری وغیرہ کر سکتے ہیں لیکن اس سے طالبان کی حکومت ہماری بات مان جائے گی اور ٹی ٹی پی پر کوئی سخت پابندیاں لگ جائیں گی یہ سمجھنا خام خیالی ہے۔ ایسا نہیں ہونا اور اتنا بھی سب کو پتا ہے کہ ہوائی حملوں کا سلسلہ تادیر جاری نہیں رکھا جا سکتا۔ لہٰذا اس پر سنجیدہ سوچ بچار کی ضرورت ہے۔ محض سخت زبان کے استعمال سے کام نہیں چل سکتا اور خوا مخواہ سخت زبان سے اجتناب ہی کرنا چاہیے کیونکہ اس کا کوئی فائدہ نہیں۔
ٹی ٹی پی کے حوالے سے اتنا تو واضع ہے کہ بات کرنی ہے تو طالبان حکومت سے کی جائے۔ بلوچستان کے حوالے سے تو یہ بھی پتا نہیں کہ اگر بات کرنی ہو تو کس سے کی جائے۔ جو عناصر بندوق کی بولی بول رہے ہیں وہ تو کہیں پہاڑوں میں روپوش ہیں اور ویسے بھی نفسیاتی طور پر ریاستِ پاکستان بلوچستان کے شر پسند عناصر سے کسی قسم کی بات کرنے کی قائل نہیں۔ پھر یہی امید لگائی جا سکتی ہے کہ ریاستِ پاکستان کی طرف سے جو کارروائیاں کی جا رہی ہیں وہ بار آور ثابت ہوں اور سرکش عناصر کا قلع قمع ہو۔ البتہ فی الحال ایسا ہوتا نظر نہیں آتا۔ آپریشن جاری ہیں اور مجموعی صورتحال بدستور تسلی بخش نہیں۔
رہ جاتا ہے ہندوستان کا مسئلہ اور یہاں بھی کسی قسم کی سفارتی پیش رفت کے قائل ہم نہیں لگتے۔ حالت یہ ہے کہ ہندوستان کا ذکر آئے توہمارے الفاظ اور لہجے سخت ہو جاتے ہیں‘ کئی دفعہ غیر ضروری طور پر۔ ہندوستان سے بیان آتے رہتے ہیں اور پاکستان کے بارے میں وہاں بہت غیرضروری گفتگو ہوتی ہے۔ لیکن ابھی تک یہ سوچ یہاں پختہ نہیں ہو سکی کہ ہر غیر موزوں بیان کا جواب دینا ضروری نہیں ہوتا۔ کئی دفعہ زیادہ بولنے کے بجائے چپ رہنے سے اعتماد کا اظہار زیادہ ہوتا ہے۔
مسائل ہمارے ہیں اور شاید رہیں گے۔ لیکن یہ کہاں کی دانش ہے کہ بات چیت کے تمام دروازے بند رہیں؟ کشیدگی میں کمی لانا ہمارے فائدے کی بات ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں