"MSC" (space) message & send to 7575

آزاد کشمیر میں پابندی؟

آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد سے ایک ایسی خبر آئی جس نے دل کو اُداس کر دیا... یا یہ کہہ لیجیے کہ اس کی ویرانیوں میں اضافہ کر دیا۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی لگا دی گئی۔ صدر آزاد کشمیر نے فرمان جاری کیا ہے کہ اب اس تنظیم کو کسی بھی سرگرمی کی اجازت نہیں ہو گی۔ اس کے خلاف امن و امان کو نقصان پہنچانے کے معقول شواہد موجود ہیں۔ یہ تنظیم ریاست میں انتشار پیدا کرنے میں ملوث پائی گئی ہے۔ یہ معاشرے کو تقسیم کر رہی‘ عدم تحفظ کا احساس پیدا کر رہی اور نفرت کو فروغ دے رہی ہے۔ اس کے متعلقین کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی بھی کی جائے گی۔ اینٹی ٹیررازم ایکٹ حرکت میں آئے گا۔ ایکشن کمیٹی نے نو جون کو ریاست بھر میں پہیہ جام ہڑتال کی اپیل کر رکھی تھی۔ اسی روز آزاد کشمیر الیکشن کمیشن نے جولائی میں منعقد ہونے والے ریاستی اسمبلی کے انتخابات کیلئے امیدواروں کو کاغذاتِ نامزدگی داخل کرنے کی ہدایت کر رکھی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ریاست میں سیاحوں کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ وہاں کے ہوٹلوں میں مقیم غیرمقامی افراد کو واپس جانے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ مختلف مقامات پر ہوٹل مالکان سے کہا گیا ہے کہ انہوں نے اگر کوئی پیشگی رقوم اپنے گاہکوں سے لے رکھی ہیں تو انہیں واپس کر دیں۔ آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی کے وہ امتحانات جو آٹھ جون کو شروع ہونا تھے‘ منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ انٹرنیٹ کے ذریعے رابطہ بھی ممکن نہیں رہا۔ انسپکٹر جنرل پولیس کیپٹن (ریٹائرڈ) لیاقت علی ملک نے وفاقی حکومت سے 14ہزار اہلکار طلب کیے ہیں تاکہ قانون کے نفاذکو یقینی بنایا جا سکے۔ آئی جی نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ہماری اولین ذمہ داری لوگوں کی جان اور املاک کی حفاظت ہے‘ اور ہم اسے بہر طور پورا کریں گے۔
آزاد کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے گزشتہ دو سال کے دوران ہڑتالوں اور مظاہروں کے ذریعے اپنے آپ کو منوایا ہے۔ اس کا آغاز تاجروں سے ہوا‘ اس میں سول سوسائٹی کے دوسرے طبقات‘ وکلا اور طلبہ بھی شریک ہوتے چلے گئے۔ اس نے 38نکاتی مطالباتی چارٹر پیش کیا تھا جس کے اکثر نکات تسلیم کیے جا چکے ہیں۔ ریاستی اور وفاقی حکومتوں سے طویل مذاکرات کے نتیجے میں آٹے اور بجلی کی قیمتوں میں کمی ہوئی اور آزاد کشمیر حکومت کے ذمہ داران کو حاصل مراعات اور تنخواہوں کا جائزہ لینے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی لیکن جس نکتے پراختلاف ختم نہیں ہو سکا وہ ریاستی اسمبلی میں جموں و کشمیر کے مہاجرین کیلئے مختص 12 نشستیں ہیں۔ ایکشن کمیٹی کا مطالبہ ہے کہ انہیں یکسر ختم کر دیا جائے کہ اس کے ذریعے وفاقی ادارے ریاستی حکومت کو دباؤ میں رکھتے ہیں۔ یاد رہے کہ آزاد کشمیر کے دستور کے مطابق پاکستان میں مقیم جموں اور کشمیر سے آئے ہوئے مہاجرین کو اسمبلی میں نمائندگی دی گئی ہے۔ یہ مہاجرین (اور ان کی اولادیں) پاکستان کے مختلف شہروں میں آباد ہیں اور 12ارکان کو منتخب کر کے ریاستی اسمبلی میں بھیجنے کا آئینی استحقاق انہیں حاصل ہے۔ ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ یہ نشستیں پاکستان کی مختلف جماعتوں اور اداروں کے زیر اثر ہیں‘ اس لیے انہیں ختم کر دینا چاہیے‘ جبکہ ان کے مخالف اس استدلال کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں۔ کشمیر کی آزادی صرف ان لوگوں کا مسئلہ نہیں جو آزاد کشمیر کی حدود میں رہتے ہیں‘ مقبوضہ کشمیر میں محصور کشمیریوں اور وہاں سے نکالے جانے والے مہاجرین کو کسی طور ریاست سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ایک واقعاتی‘ نظریاتی‘ نفسیاتی اور جذباتی معاملہ ہے۔ مہاجرین کو ریاستی نظم و نسق سے الگ کر دینا تحریک آزادی کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔ بعض حلقوں کی طرف سے یہ تجویز پیش کی گئی ہے کہ آزاد کشمیر میں مقیم ارکانِ اسمبلی کو متناسب نمائندگی کی بنیاد پر مہاجرین کی نشستوں کیلئے نمائندگان منتخب کرنے کا حق دے دیا جائے‘ اس طرح منتخب ہونے والے آزاد کشمیر کے اندر مقیم افراد سے زیادہ جڑے رہیں گے لیکن ایکشن کمیٹی اس سے بھی متفق نظر نہیں آئی۔
صدر آزاد کشمیر نے اس معاملے کی آئینی اور قانونی حیثیت واضح کرنے کیلئے سپریم کورٹ کو ریفرنس بھیجا تھا‘ اس پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے۔ کسی بھی وقت اس کا اعلان ہو سکتا ہے۔ اس کی پابندی سب کو کرنا پڑے گی۔ اس سے قطع نظر مظاہروں اور دھرنوں کے ذریعے کتابِ آئین کو بدلا نہیں جا سکتا۔ مناسب تو یہ ہوتا کہ ایکشن کمیٹی کے ذمہ داران بھی انتخابی عمل میں شریک ہوتے‘ اگر انہیں اکثریت کی تائید حاصل ہو جاتی تو دستور میں ترمیم کر گزرتے لیکن انہوں نے یہ راستہ اختیار نہیں کیا‘ اپنا نقطہ نظر منوانے پر تُل گئے۔ ماضی میں پُرتشدد مظاہروں کے دوران کئی قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں‘ آئندہ کوئی اور المیہ بھی جنم لے سکتا ہے۔ ایکشن کمیٹی کے ایک کے سوا تمام مطالبات مانے جا چکے ہیں‘ اس لیے یہ توقع بے جا نہیں تھی کہ وہ اپنی طاقت دھرنوں اور مظاہروں کے بجائے انتخابی عمل میں حصہ لے کر منوائے۔ آزاد کشمیر میں آج تک ایسے حالات پیدا نہیں ہوئے کہ کسی عوامی تنظیم کو دہشت گرد قرار دے کر اس پر پابندی لگائی گئی ہو۔ اسباب جو بھی ہوں اور واقعات جو بھی ہوں اس اقدام کا منفی پیغام پوری دنیا میں جائے گا۔ ریاست آزاد جموں و کشمیر بجائے خود کسی کی منزل نہیں ہے‘ یہ تو ایک عبوری انتظام ہے پوری ریاست کو آزاد کرانا اور بھارت کے چنگل سے چھڑانا جس کا اولین مقصد ہے۔ بھارت کے مقبوضہ علاقے میں شہری آزادیاں سلب ہیں‘ اسے ایک بڑا جیل خانہ بنا دیا گیا ہے لیکن پاکستان کے زیر انتظام علاقہ آزاد اور خود مختار ہے اس کی یہ حیثیت برقرار رہنی چاہیے۔ یہاں بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی روایت کا خاتمہ ایک بڑا المیہ ہو گا۔ حکومتِ آزاد کشمیر اور ایکشن کمیٹی کے ذمہ داران دونوں پر لازم ہے کہ ووٹ کی طاقت کو تسلیم کریں۔ جو انتخابی عمل شروع ہو رہا ہے‘ اس میں حصہ لیں اور تحریک آزادیٔ کشمیر کی تقویت کا باعث بنیں۔ ایکشن کمیٹی کے رہنما اگر اس پر آمادہ ہوں تو پھر ان کے خلاف کوئی اقدام قابلِ مذمت ٹھہرے گا۔ اگر وہ انتخابی عمل کا حصہ بننے پر تیار نہ ہوں تو پھر سیاسی جماعتوں پر اعتماد کریں۔ کسی کی رائے کچھ بھی ہو‘ مطالبہ کچھ بھی ہو‘ سیاست کا جواب سیاست سے دینا لازم ہے۔ آزاد کشمیر کو بہرحال آزاد کشمیر رہنا چاہیے۔
چٹائی حاضر ہے
اسد اعوان سے کبھی ملاقات تو نہیں ہوئی لیکن سوشل میڈیا پر ان کے اشعار نظر سے گزرتے رہتے ہیں۔ ان سے ساہیوال کے حوالے سے بھی تعلق قائم ہو گیا ہے۔ یہ الگ بات کہ ان کا ساہیوال ضلع سرگودھا میں ہے جبکہ میرا ساہیوال (سابق منٹگمری) لاہور اور ملتان کے درمیان واقع ہے۔ منفرد لہجے کے مالک اسد اعوان کا شعری مجموعہ اردو بازار چوک لیہّ سے ''اردو سخن‘‘ نامی اشاعتی ادارے نے شائع کیا ہے۔ چند پُراثر اشعار سنیے اور سر دھنیے:
٭کوئی ارادہ نہیں ہے نئی محبت کا
پرانے روگ ہیں سینے میں پلنے والے بہت
٭کب کھلے میرے لیے بازو میرے یاروں کے
میری حق گوئی پہ ہر عہد میں زنداں کھلے
٭اداسیوں کے ٹھکانے ہیں آج گلیوں میں
دیارِ جاں میں ہے خوف و ہراس ویسے بھی
٭یہ ایک حجرۂ درویش ہے محل تو نہیں
جناب بیٹھ بھی جائیں، چٹائی حاضر ہے
٭جب کوئی نکلا نہیں میرے مقدر کا تو پھر
یہ ستاروں سے درخشاں آسماں ہو بھی تو کیا
(یہ کالم روزنامہ ''پاکستان‘‘ اور روزنامہ ''دنیا‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں