"MSC" (space) message & send to 7575

’’اخبار فروشی‘‘ سے ’’اخبار نویسی‘‘ تک

پاکستانی صحافت کے اصلی اور وڈے بابا جناب جمیل اطہر نے اپنی خود نوشت سوانح حیات قلم بند ہی نہیں کی‘ اسے چھپوا بھی دیا ہے۔ ''بابائے صحافت‘‘ کی عملی زندگی اخبار فروشی سے شروع ہوتی اور اخبار نویسی تک پہنچتی ہے۔ اخبار نویس بھی ایسے کہ جنہوں نے قومی صحافت پر اپنے نقوش ثبت کیے۔ کارکن کے طور پر کام کیا‘ پھر مالکانہ لذتوں سے آشنا ہوئے۔ آج بھی ادارتی ذمہ داریاں بخیر و خوبی ادا کر رہے ہیں۔ ان کے بیٹے عرفان اور عمران دائیں اور بائیں رہتے ہیں۔ صحافت کے میدان میں قدم رکھا تو شورش پاکستانی کے نام سے جانے گئے لیکن یہ نام ترک کرنا پڑا‘ اس کی کہانی اُنہی کی زبانی سنیے: ہم نے 25دسمبر 1959ء سے ہفت روزہ 'وفاق‘ کے اجرا کا فیصلہ کیا۔ اس کا اشتہار روزنامہ نوائے وقت کے صفحۂ اول پر شائع ہوا۔ اشتہار میں یہ بات بھی شامل تھی کہ یہ ہفت روزہ مصطفی صادق اور شورش پاکستانی کے زیر ادارت شائع ہو گا۔ یہ اشتہار شائع ہوا ہی تھا کہ ہمیں آغا شورش کاشمیری کی برہمی اور ناراضی کی خبریں ملنے لگیں۔ آغا صاحب نے ہفت روزہ چٹان میں ایک شذرہ ''لائل پور میں جعلی شورش‘‘ کے نام سے لکھ مارا۔ یہ شذرہ شائع ہونے کے بعد ہمارے حلقۂ احباب میں ایک اہم موضوع بن گیا۔ مولانا عبدالرحیم اشرف کے گھر پر نمازِ عشاء کے بعد ہماری حاضری روز کا معمول تھا۔ اس شب جب چٹان میں یہ شذرہ شائع ہوا تو مولانا کے ساتھ نشست میں یہ موضوع بھی زیر بحث آیا۔ مولانا کی رائے تھی کہ مجھے اپنا نام تبدیل کر لینا چاہیے۔ میرا خیال تھا کہ اگرچہ میرے والدین نے میرا نام تاج الدین رکھا تھا‘ مگر جب 1953ء میں ٹوبہ ٹیک سنگھ ریلوے سٹیشن پر ایک اجتماع میں قادیانیوں کے خلاف ایک نظم پڑھنے پر گرفتار کیا گیا تو لوگوں نے مجھے شورش کہنا شروع کر دیا۔ میں نے پہلے تاج شورش اور پھر شورش پاکستانی کے نام سے سیاسی اور صحافتی میدان میں کام کیا۔ اس طرح 1953ء سے1959ء تک میں نے جو نام کمایا وہ ضائع ہو جائے گا اور مجھے عملی زندگی میں نئے نام سے از سرِ نو جدوجہد کا آغاز کرنا ہو گا‘ مگر آغا شورش کاشمیری کی ناراضی کے پیشِ نظر مولانا اشرف کی رائے ماننے ہی کا فیصلہ ہوا۔ اس نشست میں انہوں نے شورش پاکستانی کے بجائے جمیل اطہر کا نام تجویز کیا اور اگلے روز سیاست و صحافت کی دنیا میں چھ سال متعارف رہنے کے بعد شورش پاکستانی ہمیشہ کے لیے پس منظر میں چلا گیا اور جمیل اطہر افقِ صحافت پر نمودار ہوئے۔ یہ نام مولانا عبدالرحیم اشرف مرحوم نے عطا کیا‘ اب ''وفاق کی پیشانی پر ادارۂ تحریر مصطفی صادق اور جمیل اطہر کے الفاظ درج تھے‘‘۔
شورش پاکستانی نے نام تبدیل کر لیا لیکن کام جاری رکھا۔ ذہانت اور استقامت کے ساتھ نام بڑھایا اور مقام بھی حاصل کر لیا۔ مصطفی صادق مرحوم کے ساتھ ان کی رفاقت مثالی تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے خلاف تحریک برپا ہوئی تو روزنامہ وفاق نے عوامی جذبات کی ترجمانی کا حق ادا کیا‘ اور لاہور سے شائع ہونے والا سب سے بڑا اخبار بن گیا۔ مصطفی صادق مرحوم بھٹو صاحب کے بہت قریب سمجھے جاتے تھے لیکن وہ اپنے ساتھی کے راستے کی دیوار نہ بنے‘ یوں 'شورش پاکستانی‘ نے ایک بار پھر اپنا جلوہ دکھا دیا۔
جمیل اطہر سے میرا تعلق ہفت روزہ زندگی کے حوالے سے شروع ہوا اور مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا گیا۔ مصطفی صادق مرحوم کے دوستانہ سائے میں ہماری رفاقت ترو تازہ رہی۔ اردو ڈائجسٹ پبلی کیشنز نے ہفت روزے کی اشاعت کا فیصلہ کیا تو ہفت روزہ 'زندگی‘ کا ڈیکلریشن مصطفی صادق کے نام تھا‘ وہ اسے محدود تعداد میں شائع کر رہے تھے‘ اس پر ایڈیٹر کے طور پر جمیل اطہر کا نام چھپتا تھا۔ ایوب خان کا دور اگرچہ ختم ہو چکا تھا تاہم اس کے اثرات باقی تھے۔ کسی نئے ہفت روزے کا ڈیکلریشن حاصل کرنا کارے دارد تھا۔ مصطفی صادق نے 'زندگی‘ کی اشاعت کے حقوق ادارۂ اردو ڈائجسٹ کو عطا کر دیے لیکن پبلشر اور ایڈیٹر کا نام فوری طور پر تبدیل نہیں ہو سکتا تھا۔ قانونی طور پر ایڈیٹر کی تبدیلی کے لیے کسی حکومتی اجازت کی ضرورت نہیں تھی‘ پھر بھی ہفت روزہ 'زندگی‘ کا پہلا شمارہ شائع ہوا تو اس کی پرنٹ لائن پر احتیاطاً جمیل اطہر کا نام درج تھا۔ بعدازاں پبلشر ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی بنے اور ادارت جناب الطاف حسن قریشی کی قدم بوسی کرتے ہوئے میرے ماتھے پر سج گئی۔
جمیل اطہر ایک بھرپور ایڈیٹر ہیں۔ بقول استاذ الاساتذہ ڈاکٹر شفیق جالندھری ہزاروں نہیں لاکھوں صفحات لکھ چکے ہیں۔ ان کی کئی کتابیں بھی شائع ہو کر قبولِ عام حاصل کر چکی ہیں۔ حضرت مجدد الف ثانی کی زندگی اور تعلیمات پر ان کی تصنیف ''شیخ سرہند‘‘ کو دینی حلقوں میں خوب پذیرائی ملی تو ایک ''عہد کی سرگزشت‘‘ میں ان احباب کا تذکرہ تھا جن کی زندگی کے مختلف گوشوں نے انہیں متاثر کیا۔ اس میں ان کی اپنی داستان کے کچھ حصے بھی محفوظ ہو گئے۔ قادیانیت کے خلاف جدوجہد کی تاریخ بھی انہوں نے مرتب کر ڈالی ہے اور روضۂ رسولﷺ پر جا کر وہاں نذرانے کے طور پر اسے پیش بھی کر آئے ہیں۔ زیر نظر کتاب ''اخبار نویس سے اخبار فروش تک‘‘ ان کی زندگی کی ورق ورق کہانی ہے جس میں ہماری قومی سیاست اور صحافت بھی سمٹ آئی ہے۔ کسی واقعے کی تفہیم اور تعبیر پر تو ان سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن اجتماعی زندگی کی جو تصویر کشی انہوں نے کی ہے‘ اس کی داد دیے بغیر نہیں رہا جا سکتا۔ انہوں نے خود لکھا ہے کہ: 11مئی 2026ء کو میری عمرِ عزیز کے 84 برس بیت چکے ہوں گے‘ اس میں کم و بیش 69 سال کا عرصہ صحافت کی وادیٔ پُرخار میں گزرا۔ اخبار فروش‘ نامہ نگار اور نیوز ایجنٹ رہا۔ اخبارات میں ملازمت کی‘ بطور سب ایڈیٹر‘ نیوز ایڈیٹر‘ سٹاف رپورٹر‘ پھر 25دسمبر 1969ء کو جناب مصطفی صادق کے اشتراک سے ایک ہفت روزہ 'وفاق‘ لائل پور سے جاری کیا۔ جو 12فروری 1962ء کو روزنامہ وفاق لائل پور بن گیا۔ قریباً بائیس سال مصطفی صادق صاحب کی معیت میں کام کیا۔ 1974ء میں روزنامہ تجارت کا اجرا کیا۔ بعدازاں روزنامہ جرأت‘ انگریزی اخبار دی بزنس‘ ہفت روزہ اخبارِ خواتین‘ ہفت روزہ جرأت انٹرنیشنل اور روزنامہ منشور سرگودھا اس قافلے میں شامل ہوتے گئے۔ عمر بھر اخبار نویسی کے سوا کوئی ذریعہ معاش نہیں رہا‘‘۔
جمیل اطہر کے زیر ادارت شائع ہونے والے اخبارات اشاعت کے لحاظ سے سرفہرست تو نہیں رہے لیکن اپنے مواد اور اعتبار کے حوالے سے نمایاں رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے دائرے میں اپنے آپ کو منوایا ہے اور اپنے کارکنان کا ہاتھ بھی تھامے رکھا ہے۔ انجمنِ مدیران جرائد کے صدر منتخب ہوئے‘ سیکرٹری جنرل بنے‘ آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی میں قائدانہ کردار ادا کیا۔ ممتاز طاہر مرحوم کے ساتھ مل کر اخباری صنعت کی سیاست میں کئی چوٹیاں سر کیں۔ انہیں میدانِ صحافت میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے‘ ان کی راہ میں آنکھیں بچھی رہتی ہیں۔ ان کا قلمی نام تو تبدیل ہو گیا لیکن تاج الدین صحافت کے سر کا تاج بن کر زندہ ہے تو اس کے اندر پرورش پانے والا شورش پاکستانی بھی ترو تازہ ہے۔ ان کی خود نوشت پڑھ کر ایسے لگا کہ شورش پاکستانی سے ملاقات ہو رہی ہے۔ شورش ایک ایسی شے ہے کہ دماغ میں سما جائے تو نکالے نہیں نکلتی۔ سو‘ اس کا پُرجوش استقبال ہونا چاہیے اور زندہ باد کا نعرہ بھی لگا دینا چاہیے۔
(یہ کالم روزنامہ ''دنیا‘‘ اور روزنامہ ''پاکستان‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں