"MSC" (space) message & send to 7575

معیشت‘سیاست اور مفاہمت

لیجیے جناب‘ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بالآخر اپنی حکومت کا تیسرا بجٹ (قومی اسمبلی کے سامنے) پیش کرنے کا اعزاز حاصل کر لیا۔ انہوں نے اپنی اتحادی جماعتوں کے قائدین کا فرداً فرداً نام لے کر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے ان کا شکریہ ادا کیا کہ جن کی بدولت وہ بجٹ تقریر کرنے کے قابل ہوئے تھے۔ بلاول بھٹو زرداری کے تیور کچھ بگڑے بگڑے سے رہے‘ ایم کیو ایم نے بھی سندھ کے گورنر ہاؤس پر دوبارہ قبضہ کرنے کی کوشش کی لیکن بالآخر نتیجہ وہی نکلا کہ جو نکلنا تھا۔ بلاول کو اسحاق ڈار اور محسن نقوی منا کر ایوان میں لانے میں کامیاب ہو گئے جبکہ ایم کیو ایم وعدۂ فردا پر بہل گئی۔ وزیر خزانہ تو کیا پوری حکومت نشانے پر تھی‘ تبدیلی کے خواب دیکھے اور دکھائے جا رہے تھے‘ ڈرایا جا رہا تھا کہ نہ سیاست حکومت کے قابو میں ہے نہ معیشت۔ کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے لیکن حکومت نے اپنی کارکردگی کا پورے صفحے کا اشتہار اخبارات میں چھپوایا اور ٹی وی سکرینوں پر دکھلایا تو چھکے چھڑانے والوں کے چھکے چھوٹ گئے۔ انہوں نے علی الاعلان اقرار کر لیا کہ اس حکومت کا اقبال بلند ہے‘ اس نے ''نہ کبھی زوال پذیر ہونا ہے نہ اگلی صدی تک اس کے رخصت ہونے کا امکان ہے‘‘۔ انہیں واضح طور پر بتا دیا گیا ہے کہ ''75سال میں آج تک جتنی بھی حکومتیں آئی ہیں‘ ان میں یہ سب سے بہتر ہے۔ آج تک نہ کوئی ایسا وزیراعظم آیا اور نہ آج تک ایسے قابل وزیر بن سکے ہیں‘‘۔ ''موجودہ حکومت اس نظام کے لیے ''ناگزیر‘‘ ہے۔ اگر حکومت گری تو پورا نظام دھڑام سے گر پڑے گا۔ یہ نظام شاخِ نازک پر آشیانے کی طرح ہے۔ موجودہ حکومت اس نظام کے بچاؤ کی آخری ڈھال ہے‘ کوئی بھی نیا تجربہ یا تبدیلی خطرناک ہو گی۔ جب تک یہ نظام ہے اس وقت تک یہی حکومت اور یہی وزیراعظم رہے گا۔ اسی کی معاشی پالیسیاں چلیں گی‘‘۔ سیاست اور صحافت میں کوئی بات حرفِ آخر نہیں ہوتی‘ کسی بھی وقت کچھ بلکہ بہت کچھ بدل سکتا ہے۔ ڈرانے والوں کو بھی ڈرایا جا سکتا ہے اور نہ ڈرنے کا دعویٰ کرنے والے بھی ڈرتے بلکہ کپکپاتے پائے جا سکتے ہیں۔جس کو کہتے ہیں نڈر اس میں ہے ڈر دو بٹا تین(2/3)۔ کسی بھی بحث میں اُلجھے بغیر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہر خرابی کا علاج حکومت کی تبدیلی سے نہیں ہو سکتا کہ حکومت تبدیل ہو جائے تو بھی خرابی جوں کی توں رہتی ہے بلکہ بعض اوقات بڑھ بھی جاتی ہے۔ بعض خرابیاں ایسی ہیں جو حکومتوں سے کہیں زیادہ مضبوط ہیں‘ مختلف حکومتوں نے کئی سال تک ان کی پرورش کی ہے‘ اس لیے یہ ایک‘ دو یا تین سال میں قابو نہیں کی جا سکتیں‘ ان کے لیے تسلسل چاہیے اور ارادہ بھی۔ حکومت کو جان کی امان ملی رہے گی تو وہ خرابیوں سے نبٹنے کا سوچے گی۔ اگر اسے جان کا دھڑکہ لگا رہے گا تو پھر خرابیاں اس سے نبٹ لیں گی۔ برادرم احسن اقبال بار بار کہتے ہیں کہ سیاسی استحکام کے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ جناب حفیظ اللہ نیازی بھی دن رات اسی کی گردان کرتے رہتے ہیں۔ سیاسی استحکام نہیں ہو گا تو کچھ بھی نہیں ہو گا لیکن یہی ایک شے ہے جو اُن کو بھاتی نہیں ہے‘ جنہوں نے سارا بوجھ اپنے کاندھوں پر (بزعم خود) اُٹھا رکھا ہے۔
عمران خان جب کہتے تھے کہ مجھے حکومت سے نکالا گیا تو میں بے حد ''خطرے ناک‘‘ ہو جاؤں گا تو سننے والوں کو یقین نہیں آتا تھا لیکن ان کے اقتدار کے خاتمے کے بعد جو کچھ ہوا بلکہ ہوتا چلا آ رہا ہے اسے سنبھالنا یا سمیٹنا ممکن نہیں ہو پا رہا۔ یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ شہباز شریف بھی اقتدار سے رخصت ہو کر ایسے ہی ''خطرے ناک‘‘ ہو جائیں گے لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ان سا کوئی ڈھونڈے سے نہیں ملے گا۔ امیر مینائی کا شعر سنیے اور دل کو تھام لیجیے:
سب حسیں ہیں زاہدوں کو ناپسند
اب کوئی حور آئے گی ان کے لیے؟
جو ہونا ہے وہ ہوتا رہے‘ فی الحال سامنے کی بات یہ ہے کہ وزیر خزانہ نے جو بجٹ پیش کیا ہے اس میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔ تنخواہ داروں اور برآمد کنندگان کا بوجھ کم کیا گیا ہے۔ دو ہزار ارب کے محصولات مزید اکٹھا کرنے کی نوید سنائی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ معیشت مستحکم ہو چکی ہے‘ اب ترقی کی طرف توجہ ہو گی اور پاکستان اپنی مشکلات پر قابو پاتا چلا جائے گا۔ ہماری معیشت کی جو درگت بنی ہے وہ ایک ماہ یا ایک سال میں تو بنی نہیں۔ اس لیے ایک‘ دو یا تین سال میں وہ سب کچھ حاصل نہیں کیا جا سکتا جس کی تمنا ہر دل میں ہے۔ زرعی اور صنعتی ترقی کی شرح تیز تر ہو جائے‘ برآمدات بڑھ جائیں‘ سرمایہ کار فوج در فوج آئیں‘ آبادی پر قابو پا لیا جائے‘ بے روزگاری کا خاتمہ ہو جائے‘ ٹیکس کی شرح کم ہو‘ بجلی سستی ہو جائے۔ ہماری معیشت فراٹے بھرنے لگے اور فی کس آمدنی میں سینکڑوں نہیں ہزاروں ڈالر کا اضافہ ہو جائے۔ یہ خواب ہم سب کی آنکھوں میں بسے ہیں لیکن تعبیر کے لیے استحکام اور تسلسل ضروری ہے۔
وزیر خزانہ نے درست کہا ہے یہ بجٹ ایسے موقع پر پیش کیا جا رہا ہے جب پاکستان اپنے عوام اور دنیا کی نظر میں ایک ایسے ملک کی حیثیت اختیار کر چکا ہے جس کی آواز سنی جاتی ہے اور جس سے دوستی کی خواہش کی جاتی ہے۔ ان کے بقول: ''یہ تبدیلی اتفاقاً نہیں آئی‘ اس کا آغاز گزشتہ برس مئی میں ہوا جب بھارتی جارحیت کو پاکستان کی جانب سے ایسا جواب ملا کہ پوری دنیا کو نوٹس لینا پڑا‘ ہماری مسلح افواج نے دشمن کو ایسا منہ توڑ جواب دیا کہ وہ چند ہی گھنٹوں میں اَمن کی بات کرنے پر مجبور ہوا۔ یہ کامیابی دہائیوں کی پیشہ ورانہ تربیت اور تیاری کا نتیجہ تھی۔ آج دنیا پاکستانی دفاعی قوت کی معترف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری فضاؤں کا تحفظ کرنے والے فائٹر جیٹس کو کئی ممالک اپنی فضائیہ میں شامل کرنے کے لیے رابطے میں ہیں۔ ہماری دفاعی صنعت قیمتی زرِ مبادلہ کمانے کا بھی ایک ذریعہ بن چکی ہے‘‘۔ وزیر خزانہ یہ بھی بتا رہے تھے کہ: ''دفاعی قوت نے نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھر میں ہماری 'سٹرٹیجک پارٹنر شپ‘ کا نقشہ نئے سرے سے ترتیب دیا ہے‘‘۔ موجودہ دور کی ایک خطرناک ترین جنگ کے دوران امریکہ اور ایران نے پاکستان پر اعتماد کرتے ہوئے اسے اپنے درمیان ایک ثالث کے طور پر قبول کیا۔ پاکستان نے اس کردار کو بخوبی انجام دینے کے لیے انتہائی مخلصانہ کوششیں کی ہیں جو آج بھی جاری ہیں۔
وزیر خزانہ کی تقریر کے فوراً بعد وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا کہ ایران اور امریکہ مفاہمت کے قریب پہنچ گئے ہیں اور کسی بھی وقت ان کے درمیان سمجھوتہ باقاعدہ شکل اختیار کر سکتا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ نے بھی اس کی تائید کرتے ہوئے یہ خبر دی کہ ''اسلام آباد اِکارڈ‘‘ جلد متوقع ہے۔ اس پر پورے پاکستان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اس کے ساتھ ہی یہ تمنا بھی بیدار ہوئی کہ پاکستان کی زیرک سیاسی اور فوجی قیادت اگر امریکہ اور ایران جیسے جانی دشمنوں کے درمیان معاہدہ کرا سکتی ہے تو اپنے ملک میں احتجاجی سیاست میں مبتلا اہلِ سیاست کے ساتھ مکالمے کا آغاز کیوں نہیں کر سکتی۔ ورلڈکپ جیتنے والے ہوم گرائونڈ پر بھی تو جوہر دکھائیں تاکہ سیاسی عمل مضبوط ہو‘سیاسی استحکام نصیب ہو اور معیشت کی گاڑی آگے بڑھتی‘ بڑھتی‘ بڑھتی اور بڑھتی چلی جائے۔ معیشت‘ سیاست اور مفاہمت کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا‘ نہ ہی کرنا چاہیے۔
(یہ کالم روزنامہ ''پاکستان‘‘ اور روزنامہ ''دنیا‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں