پاکستان ماشاء اللہ 79 برس کا ہو گیا۔ اس کی سالگرہ بڑے جوش و خروش سے منائی گئی۔ پورا ملک بقعۂ نور بنا رہا۔ اسلام آباد میں ایک بڑا اجتماع منعقد ہوا‘ گزشتہ سال برپا ہونے والے معرکۂ حق کی ''یادگارِ فتح‘‘ کی نقاب کشائی ہوئی جسے چند ماہ میں تعمیر کر کے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا گیا ہے۔ یہ عظیم الشان عمارت ہمیں یاد دلاتی رہے گی کہ پاکستان کی بہادر مسلح افواج نے کس طرح چند روز میں اپنے سے کئی گنا بڑے حملہ آور کا منہ توڑ کر دکھایا تھا۔ صدرِ پاکستان جناب آصف علی زرداری اور وزیراعظم جناب شہباز شریف نے زور دار تقریریں کیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ مل کر پرچم کشائی کی اور پاکستان کی حفاظت کے لیے کمر بستہ رہنے کا عزم دوہرایا۔ اس سال 14اگست کو نئی شان و شوکت اس لیے بھی عطا ہو گئی کہ چند ہی روز پہلے سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ پاکستان کے ایک تاریخی دفاعی معاہدے پر دستخط ہوئے تھے‘ تینوں ملکوں نے ''یک جائی‘‘ کا اعلان کرتے ہوئے دنیا بھر کو بتا دیا تھا کہ کسی ایک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور ہو گا۔ کسی ایک ملک کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا گیا تو تینوں ملک ایک ہو کر دیکھنے والے کی آنکھ سے میل نکال دیں گے۔ برصغیر کے مسلمانوں نے اپنے لیے ایک الگ وطن کی تحریک چلائی تو اس کا ایک ہدف ''اتحادِ عالمِ اسلام‘‘ بھی تھا۔ عہد کیا گیا تھا کہ اپنی زمین حاصل کرنے کے بعد پورے عالمِ اسلام کے اتحاد کے لیے کوشش ہو گی۔ ''نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر‘‘ ایک ہونے کا جو خواب شاعر مشرق نے دیکھا تھا‘ اس کی تعبیر حاصل کی جائے گی۔ پاکستان اپنے قیام کے اوّل روز ہی سے مسلم اُمہ کو یک جا کرنے کی آرزو میں سرگرداں رہا ہے اور اس کے لیے اس نے مسلسل کوششیں جاری رکھی ہیں۔ 1974ء میں لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد اس حوالے سے ایک انتہائی اہم پیش رفت کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے۔ ''او آئی سی‘‘ (آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن) اگرچہ ایک ڈھیلی ڈھالی تنظیم ہے لیکن مسلمانانِ عالم کی یک جائی کا تصور زندہ رکھے ہوئے ہے۔ ''مکہّ دفاعی معاہدہ‘‘ میں اگر دوسرے مسلمان ملک بھی شریک ہوتے گئے تو اس سے دنیا کے نقشے پر ایک مؤثر بلاک ابھر آئے گا۔ گزشتہ چند عشروں میں مسلمان ملکوں کو جس طرح تاراج کیا گیا‘ وہ تاریخ کا انتہائی شرمناک باب ہے۔ افغانستان پر سوویت یلغار کے بعد عراق‘ لیبیا اور شام کی جو درگت بنائی گئی‘ اس کی تفصیل رونگٹے کھڑے کر دینے والی ہے۔ امریکہ بہادر نے انہیں جی بھر کر لوٹا‘ ان کی فوجی صلاحیت کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ ان کی معیشتوں کو بھی جیب میں ڈال لیا۔
یہ درست ہے کہ ہر مسلمان ملک کا اپنا نظام‘ اپنی خارجہ پالیسی اور اپنے مسائل ہیں۔ پہلی جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد سلطنتِ عثمانیہ کی جو بندر بانٹ کی گئی‘ اس کے اثرات گہرے اور دیرپا ہیں‘ انہیں ابھی تک مندمل نہیں کیا جا سکا۔ تقسیم ہونے والوں کو پرانی صورت میں بحال کرنا کسی کے بس میں نہیں رہا کہ ہر ملک اپنی شناخت کی محبت میں مبتلا ہو چکا ہے۔ اسی لیے علامہ اقبالؒ نے مسلمان ملکوں کی ''اقوام متحدہ‘‘ کا تصور پیش کیا تھا۔ آزاد اور خود مختار رہتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون‘ ایک دوسرے کا دفاع اور ایک دوسرے کا ساتھ۔
''مکہّ دفاعی معاہدہ‘‘ اس سمت ایک بڑا اقدام ہے‘ اس پر تینوں ملکوں میں اظہارِ مسرت دیدنی ہے۔ پاکستان ایٹمی طاقت ہے‘ اس کی افواج کی صلاحیت اور مہارت کا لوہا سب مانتے ہیں۔ ترکیہ کی اپنی توانائی ہے‘ سعودیہ کی اپنی شان ہے۔ یہ تینوں ایک دوسرے کی طاقت بن کر نئی تاریخ رقم کر سکتے ہیں اور کر رہے ہیں۔ پاکستان کے لوگ جہاں اس کامیابی پر سرشار ہیں وہاں اس کے اندر برپا شورشیں بھی اپنی طرف متوجہ کر رہی ہیں۔ یہ بات بھلائی نہیں جا سکتی کہ پاکستان اپنے اس جغرافیے کی حفاظت نہیں کر سکا جو تحریک پاکستان نے اسے عطا کیا تھا۔ 1971ء میں بنگلہ دیش کا قیام ہماری اجتماعی زندگی پر ایک بڑے سوالیہ نشان کے طور پر آج بھی موجود ہے۔ یہ درست ہے کہ بنگلہ دیش سے ہمارے رشتے ناتے بحال ہو رہے ہیں‘ سانجھے مستقبل کی تعمیر کے لیے سرگرمیاں جاری ہیں لیکن جو کچھ ایک دوسرے کے ساتھ کیا جا چکا ہے‘ وہ ڈراؤنے خواب کی طرح لرزا دیتا ہے۔ اس سانحے کا یہ سبق ہر لمحہ یاد رکھنا چاہیے کہ داخلی استحکام کے تقاضے نظر انداز کرنا اپنے آپ کو موت کے منہ میں دھکیلنا ہے۔ آج پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے‘ وہ ہمارے پاؤں کی زنجیر بن سکتا ہے۔ دہشت گرد دندناتے پھر رہے ہیں‘ سیاسی قوتیں ایک دوسرے سے اُلجھی ہوئی ہیں۔ آئین کی کتاب جزدان میں لپیٹ کر طاقِ نسیاں پر دھری دکھائی دیتی ہے۔ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان تعلقات کار قائم نہیں ہو پا رہے۔ سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کے سینکڑوں افراد جیلوں میں ہیں۔ اس کی ذمہ داری ان پر ہو‘ یا وہ اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دیتے ہوں‘ اس بحث میں الجھے بغیر یہ ماننا پڑے گا کہ زنداں آباد ہیں۔ عمران خان اور ان کی اہلیہ الگ الگ کوٹھڑیوں میں بند ہیں۔ سمندر پار پاکستانیوں نے اُدھم مچا رکھا ہے‘ اپنے ادارے اپنے ہی لوگوں کے نشانے پر ہیں۔ اور تو اور‘ آزاد کشمیر میں بھی حالات معمول پر نہیں ہیں۔ جو کچھ ہم بھگت رہے ہیں‘ اس کی ذمہ داری کسی ایک شخص‘ جماعت یا ادارے پر نہیں ڈالی جا سکتی لیکن کسی ایک کو بری الذمہ بھی نہیں قرار دیا جا سکتا‘ جس کسی نے جو بھی کیا ہو نتیجہ یہ ہے کہ ''خانہ جنگی‘‘ برپا ہے۔ اس پر پانی ڈالنا سب پر لازم ہے۔ ایک دوسرے پر انگلی اٹھاتے چلے جانے سے کام نہیں چلے گا۔ہر شخص اور ہر ادارے کو اپنے اپنے گریبان میں جھانکنا ہو گا۔ اپنا اپنا احتساب کرنا ہو گا‘ جو جیلوں میں بند ہیں وہ بھی اور جو باہر دندنا رہے ہیں وہ بھی اپنی اپنی غلطیوں کا ازالہ کرنے کے بارے میں سوچیں تو روٹھی ہوئی بہار لوٹ سکتی ہے۔ اپنی غلطیوں‘ کوتاہیوں بلکہ حماقتوں پر آنکھیں بند کر لینا سازشوں کی حوصلہ افزائی کرنے کے مترادف ہے۔ گڑھے کھودنے میں مصروف ہو جانے والی قومیں رفعتوں کا سفر جاری نہیں رکھ سکتیں۔ ایک دوسرے کے لیے گڑھے کھودنے والے بالآخر خود ان میں گر جاتے ہیں انہیں آبِ حیات نصیب نہیں ہوتا۔ ایک دوسرے کو جینے کا حق دے کر ہی سب زندہ رہ سکتے اور آگے بڑھ سکتے ہیں۔ پاکستان کو تاقیامت سلامت رہنا ہے اور یقینا رہنا ہے‘ تو افراد کے بجائے قوم کے مفاد اور قوم کے مستقبل کو سامنے رکھنا ہو گا۔ جنابِ وزیراعظم نے اقبال کا جو شعر قوم کو سنایا تھا‘ اسے خود بھی سن لیں بلکہ سنتے رہیں ؎
فرد قائم ربطِ ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں
(یہ کالم روزنامہ ''پاکستان‘‘ اور روزنامہ ''دنیا‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments