اس بات کو ثابت کرنے کے لیے تو کسی دلیل یا ثبوت کی ضرورت نہیں‘ ہر شخص اسے جانتا اور مانتا ہے کہ ڈاکٹر امجد ثاقب ہزاروں‘ لاکھوں‘ کروڑوں نہیں‘ اربوں میں ایک ہیں۔ پوری دنیا میں ایک۔ اپنی مثال آپ اور اپنا جواب آپ۔ پنجاب کے ایک چھوٹے سے قصبے کمالیہ میں پیدا ہونے والے اس شخص نے وہ کر دکھایا ہے جو کوئی اور نہیں کر سکا۔ قرضِ حسنہ کا جو پروگرام وہ چلا رہے ہیں اور اسے چلانے کے لیے ''اخوت‘‘ کی جو تحریک انہوں نے برپا کی ہے‘ یا یہ کہیے کہ ''اخوت‘‘ نام کے ادارے کو جنم دیا ہے‘ اس کا کوئی موازنہ کسی دوسرے ادارے یا تحریک سے نہیں ہو سکتا۔ پاکستان کو یہ شرف حاصل ہوا ہے کہ اس کے ایک شہری نے بلاسود قرض کے ذریعے لاکھوں گھرانوں کی تقدیر بدل ڈالی ہے۔ انہیں غربت کے اندھیروں سے نکالا اور پُرامید شہری بنایا ہے‘ جن میں سے کئی اب اخوت کے ڈونر بن چکے ہیں۔
ڈاکٹر صاحب نے جو لاکھوں گھرانوں میں اربوں روپے تقسیم کیے ہیں اور کرتے چلے جا رہے ہیں یہ انہیں کسی آئی ایم ایف یا ورلڈ بینک نے فراہم نہیں کیے۔ کسی بین الاقوامی ڈونر ایجنسی کے سامنے انہوں نے ہاتھ نہیں پھیلایا۔ اپنے ذاتی وسائل بھی ایسے نہیں تھے کہ وہ یہ انبار جمع کر سکتے۔ وہ سونے یا چاندی کا چمچ منہ میں لے کر نہیں پیدا ہوئے‘ ایک عام سے گھر میں آنکھ کھولی‘ ایک عام سے کاشتکار گھرانے میں عام سے بچے کی طرح پلے بڑھے۔ ایک عام سے سکول میں پڑھے۔ ان کے گھر میں تو بجلی بھی نہیں تھی کہ اس نعمت سے پاکستان پوری طرح آشنا نہیں ہوا تھا۔ پنکھا اور ریڈیو تو دور کی بات ہے۔ پیدل سکول جاتے اور پیدل واپس آتے۔ کتابیں پڑھنے کا البتہ شوق تھا‘ انہی کو دوست بنایا اور انہی کی صحبت میں شب و روز گزارنے لگے۔ نصابی کتابیں پڑھیں اور غیرنصابی کتابوں کا مطالعہ بھی کرتے چلے گئے۔ میٹرک کا امتحان پاس کیا تو گورنمنٹ کالج لاہور جا پہنچے‘ وہاں علامہ اقبالؒؒ کی خوشبو چار سُو پھیلی ہوئی تھی کہ اسی درسگاہ میں وہ پڑھے تھے‘ اور کچھ عرصہ پڑھایا بھی تھا۔ اقبالؒ کو پڑھتے پڑھتے اقبال مند ہو گئے۔ گورنمنٹ کالج سے نکلے تو کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج پہنچے‘ باقاعدہ ڈاکٹر بن گئے‘ مقابلے کے امتحان میں بیٹھے تو اسے پاس کر لیا۔ سول سروس جائن کر لی‘ بین الاقوامی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع بھی ملا لیکن سب کچھ مل جانے کے باوجود تشنگی برقرار تھی‘ چین نہیں آ رہا تھا۔ اپنے لیے تو بہت کچھ کر لیا‘ حال ہی نہیں مستقبل بھی محفوظ ہو گیا۔ حکم چلانے کے لیے ''محکوم‘‘ بھی مل گئے لیکن بے قراری کو قرار نہیں تھا‘ اپنے لیے تو سب کرتے ہیں‘ کچھ مختلف کرنا چاہیے‘ اقبالؒ کا یہ شعر دماغ میں چپکا ہوا تھا ؎
ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے
آتے ہیں جو کام دوسروں کے
اُنہیں رہ رہ کر وہ چھوٹا سا جگنو یاد آتا تھا‘ جو بلبل کی آہ و زاری سن کر بول اٹھا تھا:
حاضر ہوں مدد کو جان و دل سے
کیڑا ہوں اگرچہ میں ذرا سا
کیا غم ہے جو رات ہے اندھیری
میں راہ میں روشنی کروں گا
اللہ نے دی ہے مجھ کو مشعل
چمکا کے مجھے دِیا بنایا
انہوں نے اپنے دل کی مشعل جلانے اور اندھیروں کے خلاف جان لڑانے کا فیصلہ کر لیا۔ ہجرت کے بعد رسول اللہﷺ نے مہاجرین اور انصار کے درمیان جو رشتہ ''مواخات‘‘ قائم کیا تھا‘ ایک کو ایک کا بھائی بنا دیا تھا۔ کم وسیلہ مہاجرین کی معیشت ان کے انصار بھائیوں کی معیشت سے منسلک کر دی تھی۔ مہاجرین اپنے پاؤں پر کھڑے ہوتے گئے تھے‘ انہوں نے سوچا کہ باوسیلہ پاکستانیوں کو اس طرف راغب کیا جائے۔ وہ اپنے وسائل کا کچھ حصہ اپنے کمزور بھائیوں کے لیے وقف کریں‘ وہ انہیں بلاسود قرض کی صورت فراہم کیا جائے‘ قرض کی یہ رقم گردش میں رہے گی‘ ایک کے بعد ایک استفادہ کرتا چلا جائے گا۔ یوں اخوت کے قرضِ حسنہ پروگرام کی بنیاد رکھ دی گئی‘ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے پاکستانی اس میں حصہ ڈالتے ہیں۔ مدینہ کی ریاست اسلامی جمہوریہ پاکستان کے لیے روشنی بن گئی ہے۔
ڈاکٹر صاحب کردار کے ساتھ ساتھ گفتار کے غازی بھی ہیں‘ ان کا قلم بھی موتی بکھیرتا ہے۔ ''مولو مصلّی‘‘ کے نام سے شائع ہونے والا ان کی کہانیوں کا مجموعہ ان لوگوں سے ہماری ملاقات کراتا ہے جو ہمارے اردگرد پھیلے ہوئے ہیں‘ ہم ان سے روزانہ کہیں نہ کہیں ملتے ہیں لیکن ہم میں سے بہت کم ان کے دل میں جھانکتے اور ان کا سر اپنے کندھے پر رکھ کر ان کی کہانی سنتے ہیں‘ ان کے شریکِ غم ہوتے ہیں‘ ان کے دل پر ہاتھ رکھتے ہیں۔ ''مولو مصلّی‘‘ کون ہے اور کہاں رہتا ہے‘ ڈاکٹر صاحب کی زبانی سنیے: ''بہت عرصہ پہلے کی بات ہے ایک بار کچھ پولیس افسروں نے ایک گھر کی تلاشی لینا چاہی تو جواب ملا یہ چودھریوں کا گھر ہے‘ کسی مولو مصلّی کا نہیں۔ اس پر پولیس افسران نے ہاتھ جوڑے‘ معافی مانگی اور یہ کہہ کر واپس لوٹ آئے کہ ہمیں علم نہ تھا کہ یہ چودھریوں کا گھر ہے‘ مولو مصلّی کا گھر ہوتا تو کب کے داخل ہو چکے ہوتے۔ مولو مصلّی جس کا یہاں ذکرہوا‘ کون بدنصیب ہے‘ اس کے گھر میں اور چودھریوں کے گھر میں کیا فرق ہے‘ کیا اس کی ماں بہن اور چودھریوں کی ماں بہن برابر نہیں۔ مولو مصلّی کے گھر میں پولیس بلا دریغ گھس سکتی ہے لیکن چودھریوں کے گھر پر دستک دے تو ان کے محافظ سینہ تان کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اس خبر میں صدیوں سے جاری اس ظلم کی ایک جھلک ملتی ہے جو آج کروڑوں مولو مصلیوں کا مقدر بن چکا ہے‘‘۔ ڈاکٹر امجد ثاقب مولو مصلّی کو چودھری اور چودھری کو مولو مصلّی تو شاید نہیں بنانا چاہتے لیکن دونوں کی عزت‘ جان اور مال کو ایک ہی ترازو میں ضرور تولنا چاہتے ہیں۔ قانون کی نظر میں دونوں کو چودھری ہونا چاہیے اور دونوں کو مصلّی بھی۔ امیرالمومنین ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے الفاظ میں: ''جو تم میں سے کمزور ہے وہ میرے نزدیک طاقتور ہے‘ جب تک میں اس کو اس کا حق دلا نہ دوں اور جو طاقتور ہے وہ میرے نزدیک کمزور ہے‘ جب تک کہ میں اس سے دوسرے کا حق واپس نہ لے لوں‘‘۔
پاکستان اسی لیے بنایا گیا تھا کہ یہاں مولو مصلّی اور چودھری میں کوئی فرق نہیں ہو گا‘ دونوں ایک ہی مسجد میں نماز پڑھیں گے‘ ایک ہی چار پائی پر بیٹھ کر حقہ پئیں گے اور ایک ہی دستر خوان پر بیٹھ کر روٹی کھا سکیں گے۔ دونوں کے بچے ایک ہی سکول میں تعلیم حاصل کریں گے‘ ان کے لیے ایک ہی ہسپتال ہو گا‘ ایک سے مواقع ان کو میسر ہوں گے اور اپنی اپنی زندگی گزار کر وہ ایک ہی مٹی میں میٹھی نیند سو جائیں گے۔ ڈاکٹر امجد ثاقب مولو مصلّی اور اس جیسے دوسرے افتادگانِ خاک کی کہانیاں ہمیں سنا کر یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ کیا ہم نے وہ پاکستان بنا لیا ہے جس کا خواب دیکھا اور دکھایا گیا تھا۔ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر آرام سے کیوں بیٹھا جائے۔
ڈاکٹر صاحب اس منزل کی طرف قدم بڑھا رہے ہیں۔ آئیے ہم بھی ان کے ساتھ مل جائیں‘ کئی مولو مصلّی‘ دوست محمد موچی‘ محمد دین اور اللہ دتے ہمارا انتظار کر رہے ہیں۔ شناخت اور توقیر سے محروم ٹرانس جینڈر‘ اور روندی ہوئی عورتیں ہماری راہ تک رہی ہیں۔ ایسے عالم میں قیام اور آرام حرام ہے‘ حرام ہے اور حرام ہے۔ (اولڈ راونیز ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام ڈاکٹر امجد ثاقب کی کتاب ''مولو مصلّی ‘‘ کی تقریب پذیرائی میں پڑھا گیا)۔
(یہ کالم روزنامہ ''پاکستان‘‘ اور روزنامہ ''دنیا‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments