دنیا ایک بار پھر نئی سرد جنگ کے دور میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے مگر اس بار مقابلہ نظریات کا نہیں معیشت اور سمندری راستوں پر کنٹرول کا ہے۔ عالمی طاقتوں کے مابین جاری کشمکش اب کھلے میدانوں سے نکل کر ان آبی گزر گاہوں تک پہنچ چکی ہے جہاں سے عالمی معیشت کی سانسیں جڑی ہوئی ہیں۔ یہ ایک نئی قسم کی جنگ ہے۔ خاموش‘ پیچیدہ اور انتہائی خطرناک۔ اب ہتھیار بندوقیں نہیں بلکہ بندرگاہیں‘ سپلائی چینز اور تجارتی راستے ہیں۔ کسی ملک کو شکست دینے کیلئے اب جنگ ضروری نہیں‘ بس اس کی سپلائی لائن کاٹ دو۔ مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال میں آبنائے ہرمز اور باب المندب اس کی عملی تصویر پیش کرتے ہیں۔ جہاں دونوں عالمی آبی گزرگاہوں میں صرف پانی نہیں‘ عالمی سیاست معیشت اور طاقت کی کشمکش بھی واضح دکھائی دے رہی ہے۔
جزیرہ نما عرب کے ایک طرف خلیج فارس اور آبنائے ہرمز تو دوسری جانب بحیرہ احمر اور باب المندب ہے۔ نقشے پر دیکھا جائے تو یہ دونوں گزرگاہیں جزیرہ نما عرب کے گرد ایک ایسے سٹرٹیجک شکنجے کے دو جبڑوں کی مانند دکھائی دیتی ہیں جن میں ایک طرف خلیج فارس کی توانائی اور دوسری طرف ایشیا‘ مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کی بحری تجارت جکڑی ہوئی ہے۔ کئی دہائیوں تک آبنائے ہرمز اور باب المندب کو بنیادی طور پر تجارتی راستوں کے طور پر دیکھا جاتا رہا۔ تیل‘ گیس‘ ایل این جی‘ پیٹرو کیمیکلز‘ کھاد‘ اناج اور دیگر اہم اشیا انہی راستوں سے دنیا کے مختلف حصوں تک پہنچتی رہیں۔ مگر اب مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسے بحری تجارتی راستے جغرافیائی سیاست اور عسکری حکمتِ عملی کے Center of gravityبن چکے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اگر جنگی دباؤ بڑھتا ہے تو ان آبی گزرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھے گی اور اگر سفارتی حل کی طرف پیش رفت ہوتی ہے تو بھی ان کی تزویراتی اہمیت ختم نہیں ہو گی کیونکہ جغرافیہ جنگ کے ساتھ تبدیل نہیں ہوتا۔ ماضی کی جنگوں میں کسی ریاست کی طاقت کا پیمانہ عموماً اس کی فوج‘ فضائیہ‘ بحریہ‘ میزائل اور بری فوج تھی۔ آج عسکری قوت کا معیار بدل گیا ہے‘ اب یہ اندازہ لگایا جائے گا کہ کون کسی سپلائی چین پر اثر انداز ہونے یا اسے قابو میں رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر کسی سمندری Choke point سے جہاز گزرنے میں خطرہ محسوس کریں تو لازمی نہیں کہ مکمل ناکہ بندی کا نفاذ ہو۔ صرف خطرے کا تصور ہی ان جہازوں کو راستہ بدلنے‘ سفر روکنے یا اضافی فیس ادا کرنے پر مجبور کر سکتا ہے جس کے نتیجے میں جنگی محاذ سے نکلنے والا دباؤ براہِ راست عالمی مارکیٹ میں منتقل ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ جنگ کا میدان عسکری تنصیبات سے نکل کر معاشی انفراسٹرکچر تک پھیل چکا ہے۔ تازہ رپورٹس کے مطابق ہرمز میں تجارتی آ مدورفت جنگ سے پہلے کے تقریباً 125بڑے تجارتی جہاز یومیہ سے بہت نیچے آ چکی ہے جبکہ باب المندب پر حوثیوں کی پیش قدمی نے بھی تیل کی ترسیل کو دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
خلیج فارس سے آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر سے باب المندب تک پھیلا ہوا یہ سمندری جغرافیہ دنیا کو اس بنیادی حقیقت کی یاد دہانی کرواتا ہے کہ عالمی طاقت صرف زمین پر قبضے کا نام نہیں‘ کبھی کبھی چند میل چوڑا سمندری راستہ بھی پوری دنیا کی معیشت کیلئے دباؤ کا مرکز بن جاتا ہے۔ اسی لیے آبنائے ہرمز سے باب المندب تک جاری کشمکش کو محض ایک علاقائی جنگ سمجھنا اس بحران کی اصل جہت کو نظر انداز کرنا ہو گا۔ مڈل ایسٹ میں کشیدگی بڑھنے سے قبل یہ چوک پوائنٹس صرف آبی گزرگاہیں تھیں جو علاقائی اور عالمی تجارت کیلئے پُرامن طریقے سے استعمال ہوتی تھیں۔ کل تک جو آبنائے عالمی تجارت کا راستہ تصور کی جاتی تھیں‘ آج وہ سٹرٹیجک دباؤ کے مراکز بن چکی ہیں اور جو پائپ لائن توانائی کی ترسیل کا ذریعہ تھی آج وہ جنگی منصوبہ بندی کا مین حصہ ہے۔ عالمی بحری تجارتی راستوں کی سلامتی علاقائی طاقت کے توازن سے وابستہ ہے‘ اور یہی جغرافیائی معیشت کا نیا چہرہ ہے۔ باب المندب بحیرہ احمر‘ نہرسویز اور بحرِ ہند کے درمیان اہم بحری دروازہ ہے۔ اگر ہرمز متاثر ہو اور باب المندب بھی غیر محفوظ ہو جائے تو دنیا کی معیشت کس سمت جائے گی؟ جواب صرف تیل کی قیمت میں اضافے تک محدود نہیں۔ پٹرول مہنگا ہو گا تو ٹرانسپورٹ متاثر ہو گی‘ بجلی کی لاگت بڑھے گی تو صنعت دباؤ میں آئے گی‘ اشیائے ضروریہ کی ترسیل مہنگی ہو گی تو مہنگائی کا بوجھ عام آدمی کے کندھوں پر منتقل ہو گا۔ خلیجی ممالک بھی ایک مشکل توازن قائم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات‘ قطر‘ کویت‘ بحرین اور عمان ایک طرف امریکہ کے ساتھ اپنے دفاعی اور اقتصادی تعلقات رکھتے ہیں دوسری طرف ایران ان کا جغرافیائی ہمسایہ ہے۔ گزشتہ برسوں میں خلیجی ریاستوں نے یہ بھی محسوس کیا ہے کہ مسلسل کشیدگی اقتصادی ترقی کے ان منصوبوں کیلئے خطرہ بن سکتی ہے جن پر انہوں نے اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ چین اور روس اس بدلتی صورت کو کس نظر سے دیکھ رہے ہیں؟
چین کیلئے خلیج محض سیاسی خطہ نہیں بلکہ توانائی‘ تجارت اور عالمی اقتصادی رابطوں کا اہم مرکز ہے۔ بیجنگ نے گزشتہ برسوں میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی میں کردار ادا کیا اور خطے میں اپنی اقتصادی موجودگی بڑھائی۔ روس بھی مشرقِ وسطیٰ میں اپنے سیاسی اور تزویراتی مفادات رکھتا ہے؛ چنانچہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اب صرف دو ملکوں کا تنازع نہیں رہا اس میں بڑی طاقتوں کے مفادات بھی شامل ہو چکے ہیں اور واشنگٹن کا اندرونی محاذ بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ امریکہ میں نومبر کے وسط مدتی انتخابات قریب ہیں۔ طویل جنگ‘ بڑھتے ہوئے دفاعی اخراجات‘ تیل کی قیمتوں اور مہنگائی جیسے معاملات امریکی سیاست میں اہم موضوعات بن سکتے ہیں۔ امریکی کانگریس کے بجٹ دفتر کے مطابق ایران جنگ پر یکم اگست تک محکمہ دفاع کے اخراجات 38ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے تھے جبکہ جنگ جاری رہنے کی صورت میں ماہانہ اخراجات تین ارب ڈالر تک بڑھ سکتے ہیں۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ ہرمز کے بعد باب المندب کا محاذ کہاں تک جائے گا؟ کیا خلیجی ممالک براہِ راست اس کشمکش میں مزید الجھیں گے؟ کیا ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی سفارتی راستہ دوبارہ کھل سکتا ہے؟ کیا سعودی عرب اور ایران اپنے اختلافات کو کسی نئے مذاکراتی فریم ورک میں لے جا سکتے ہیں؟ اور کیا بڑی طاقتیں اس بحران کو وسیع تر جنگ میں تبدیل ہونے سے روک سکیں گی؟ پاکستان کیلئے یہ سوالات غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ ایران ہمارا ہمسایہ ہے‘ سعودی عرب کے ساتھ ہمارے تاریخی اور عوامی تعلقات ہیں‘ چین ہمارا اہم اقتصادی شراکت دار ہے۔ کل ہرمز‘ آج ملاکا‘ اب باب المندب صرف ایک جملہ نہیں‘ مستقبل کا ممکنہ عالمی منظر نامہ ہے۔ بڑی طاقتوں بالخصوص امریکہ کی بحری حکمت عملی اور چین کی اس کے خلاف جوابی کوششیں آئندہ دس برسوں کی عالمی سیاست کا رخ متعین کریں گی۔ یہ ایک ایسا مقابلہ ہے جس میں فتح صرف طاقت سے نہیں حکمت‘ صبر اور جغرافیے کی بہتر سوجھ بوجھ سے حاصل ہو گی۔ اگر دنیا نے اس کشمکش کو متوازن نہ رکھا تو یہ نئی سرد جنگ کسی بڑے بحران کا پیش خیمہ بن سکتی ہے کیونکہ آبنائے ہرمز سے باب المندب تک دنیا کیلئے ایک امتحان ہے۔ اب یہ سوال سامنے کھڑا ہے کہ آنے والے عالمی نظام میں توانائی کے راستوں‘ بحری تجارت اور جغرافیائی معیشت کی سمت کون متعین کرے گا؟
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments