"MAHG" (space) message & send to 7575

بھارت میں مسجدیں نشانے پر

بھارت میں نریندر مودی کی ہندوتوا حکومت کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد سے مسلمانوں پر عرصۂ حیات تنگ ہو چکا ہے۔ وقتاً فوقتاً مسلم دشمن قوانین کی منظوری اور نت نئے حربے و ہتھکنڈے آزماتے ہوئے انہیں اسلام سے دور کرنے کی سازشیں رچائی جا رہی ہیں۔ مسجدوں پر حملوں اور ان کی شہادت کا گھناؤنا سلسلہ جاری ہے۔ بھگوا ٹولے نے تین ہزارسے زائد مسجدوں‘ مزاروں اور درگاہوں کو شہید کرنے کی فہرست تیار کر رکھی ہے۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق بھارت میں مسلمانوں کے تین لاکھ مقدس مقامات ہندوتوا کے نشانے پر ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق 1947ء سے اب تک بھارت میں پچاس ہزار سے زائد مسجدیں شہید کی جا چکی ہیں۔ بابری مسجد کی شہادت کے بعد ہی ہندو فرقہ پرستوں نے نعرہ لگایا تھا کہ ایودھیا تو صرف ایک جھانکی ہے‘ کاشی متھرا باقی ہیں۔ جبکہ بابری مسجد بھارت کی نام نہاد سیکولر تاریخ کا وہ سیاہ باب ہے جب بھارتی سپریم کورٹ نے انصاف کا خون کرتے ہوئے پانچ سوسالہ قدیم مسلم تاریخی و تہذیبی ورثے کی علامت کو مسمار کرکے آستھا کی بنیاد پر وہاں رام مندر کی تعمیر کی اجازت دی‘ جس کا سنگِ بنیاد ہندوتوا وزیراعظم اور آر ایس ایس کے پرچارک نریندر مودی نے اپنے ہاتھوں سے رکھ کر ہندوستان کے سیکولرازم کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دیا تھا۔
بھارت میں بی جے پی کی ہندوتوا مہم میں تیزی آ گئی ہے جس کی بدترین مثال اُتر پردیش کے ہندو فرقہ پرست وزیراعلیٰ کی سرپرستی میں مسجدوں کی شہادت کا گھناؤنا سلسلہ ہے۔ گزشتہ ماہ اُتر پردیش کے ضلع سہارنپور کی ایک صدی قدیم تاریخی مسجد کی شہادت کی خبر سامنے آئی جس سے پاکستان میں بھی غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ۔ دفترِ خارجہ نے احتجاج کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارتی حکام کی جانب سے مسلمانوں کو منظم طور پر نشانہ بنانے اور ریاستی سرپرستی میں ان کی عبادت گاہوں کی مسلسل بے حرمتی اور مسماری کا فوری نوٹس لے۔ مودی کی ہندوتوا حکومت مقبوضہ کشمیر سے لے کر پورے بھارت میں مسجدوں‘ مدرسوں‘ درگاہوں اور مزاروں کی مسماری کیلئے بلڈوزر چلا رہی ہے‘ جس کا مقصد ہندوتوا نظریے کو جِلا بخشنا ہے۔ اُتر پردیش کی یوگی حکومت مسلمانوں کو نشانہ بنانے کیلئے ہر ہتھکنڈہ آزما رہی ہے۔ سماج وادی پارٹی کی رکن اقرا حسین کو مسجد کی شہادت کے خلاف احتجاج کرنے پر حراست میں لے لیا گیا جبکہ مسجد کی مسماری کے بعد ملبے سے 1909ء میں بنی ہوئی اینٹیں ملنے اور 20فٹ گہرا کنواں برآمد ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔ مسجد کے قدیم ہونے کا ریکارڈ مسلم فریق پہلے ہی عدالت میں پیش کر چکا ہے۔ مسجد کمیٹی نے اس حوالے سے یکم جنوری 1911ء کا بجلی کا ایک بل بھی پیش کیا تھا۔ پھر بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے علاقے اجین میں چھ سوسال پرانی تاریخی مسجد کو ہندو یاتریوں کو راستہ دینے کا بہانہ بنا کر مسمار کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔ اس کے تحفظ کیلئے شہر بھر کے مسلمانوں نے ہر ممکن کوشش کی۔ اگست 2026ء میں مسوری میں 1918ء کے نقشے پر قائم مسجد کو شہید کر دیا گیا۔ جولائی 2026ء میں تجاوزات کی آڑ میں محض 24گھنٹوں میں پانچ مسجدیں شہید کر دی گئیں۔ بہرائچ‘ سدھارتھ نگر وغیرہ میں بھی بیس مسجدوں سمیت متعدد مدارس کو شہید کیا گیا تھا۔ مظفر نگر سمیت فتح پور کی 185سالہ قدیم نوری مسجد کو شہید کر دیا گیا۔ اُس وقت بی جے پی کے زیرِ اقتدار ریاستوں‘ اُتر پردیش سمیت آسام‘ دہلی‘ مہاراشٹر‘ گجرات‘ ہریانہ اور راجستھان میں پچیس سے زائد مسلم مقدس مقامات‘ مزارات‘ درگاہوں اور مسجدوں کو شہید کیا گیا۔ بھارتی ریاست اُتراکھنڈ میں گزشتہ پانچ برسوں کے دوران تین سوسے زائد مسلم مقدس مقامات‘ جن میں مسجدیں‘ مزار اور درگاہیں شامل ہیں‘ شہید کیے جا چکے ہیں۔ بھارتی ریاست گجرات میں وزیراعلیٰ نریندر مودی کی قیادت میں 500مزاروں‘ مسجدوں اور درگاہوں کو نذرِ آتش کیا گیا تھا۔ مسجدوں پر بلڈوزر چلانے کی یہ کارروائیاں انتظامی نوعیت کی نہیں بلکہ باقاعدہ منظم منصوبہ بندی کے تحت مسلم ثقافت و تہذیب کے خلاف پالیسیوں کے مذموم سلسلے کی ایک کڑی ہیں۔ راجستھان کے سرحدی اضلاع میں اب تک آٹھ مسجدوں اور مزاروں کو یا تو مسمار کیا جا چکا ہے یا زبردستی خالی کروایا جا چکا ہے۔
بھارت میں 1991ء میں ایک قانون پاس کیا گیا جس کے تحت 15اگست 1947ء تک جو بھی عبادت گاہ جس شکل میں موجود تھی اسے مسمار نہیں کیا جا سکتا۔ بابری مسجد کو اس ایکٹ سے باہر رکھا گیا ۔ مسلم طبقے کو اطمینان تھا کہ بابری مسجد کی قربانی کے بعد باقی مسجدیں محفوظ رہیں گی مگر ایسا نہ ہو سکا۔ گیان واپی مسجد وارانسی‘ مغل شہنشاہ اورنگزیب کے دور کی اس مسجد پر طویل عرصے سے قانونی جنگ جاری ہے۔ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ کاشی وِشوناتھ مندر کے حصے پر بنی ہے۔ عدالتوں کی اجازت سے مسجدمیں سائنسی سروے (ASI Survey) بھی کروائے گئے۔ متھرا کی شاہی عیدگاہ مسجد کو شری کرشن کی جائے پیدائش قرار دے کر عدالتوں میں اس کے خلاف درخواستیں دائر کی گئیں۔ اسی طرح سنبھل کی 16ویں صدی کی‘ مغل دور کی شاہی جامع مسجد کے بارے میں بھی ہری ہر مندر ہونے کا دعویٰ کر کے سروے کروائے گئے۔ بھارت میں حالیہ برسوں میں مسجدوں اور مزاروں کے نیچے مندروں کے ڈھانچوں کی برآمدگی کے جھوٹے دعوؤں کے علاوہ ایک نیا طریقۂ کار اپنایا گیا ‘ جسے بلڈوزر پالیسی کہا جاتا ہے۔ راتوں رات مسجدوں پر بلڈوزر چلا کر انہیں شہید کیا جا رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارت کو جہنم کے گڑھے (Hellhole) سے تشبیہ دی گئی تھی۔ اگر انسانی حقوق کی عالمی رپورٹس اور بھارت کے اندرونی حالات کا بغور جائزہ لیا جائے تو امریکی صدر کے بیان نے درحقیقت مودی کے بھارت کا پول کھول کر رکھ دیا تھا‘ جہاں نہ صرف مسلمانوں بلکہ دیگر اقلیتوں اور نچلی ذات کے ہندو‘ دلتوں کیلئے بھی حالات واقعی جہنم بن چکے ہیں۔ امریکہ میں قائم خالصتانی تنظیم ''سکھ فار جسٹس‘‘ کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کے مطابق بھارت صرف ایک جہنم نہیں بلکہ نسل کشی سے بھرا ہوا جہنم ہے۔ مودی حکومت اپنے قیام کے روزِ اول سے ہی سنگھ پریوار کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔ مسلمانوں کو فسادات کی آگ میں جھونکنے کے بہانے تراشے جاتے ہیں اور انہیں ہندو شرپسندوں کے حملوں کا مسلسل سامنا ہے۔ مسلمانوں کو گائے کے ذبیحے کی آڑ میں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مسلم ناموں سے منسوب شہروں اور شاہراہوں کے نام بدل دیے گئے‘ تعلیم کا بھگوا کرن جاری ہے۔ نصابی کتب سے مسلمان حکمرانوں کو ہی حذف کر دیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ ہندوستان کی تاریخ کو ازسرِنو مرتب و تحریر کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ دوسرے لفظوں میں تاریخی حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے۔ پورے ہندوستان میں مسلمان عدم تحفظ کا شکار ہیں اور مودی کی فرقہ پرست حکومت کھل کر مسلم دشمنی پر اُتر آئی ہے۔ مودی سرکار ''سب کا ساتھ‘ سب کا وکاس‘‘ کی بات کرتی ہے لیکن عملی طور پر وہ بھارت کی سب سے بڑی اقلیت کو دیوار سے لگانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی۔ انڈیا میں برہمن راج کی مکمل تیاری کی جا چکی ہے۔ برہمن ذات کا ایک خاص حصہ انتہائی طاقتور طریقے سے پورے برصغیر کو اپنے زیرِ تسلط کرنا چاہتا ہے۔ بھارت کے تمام انتظامی اور اہم معاملات اس خاص ہندو برہمن ذہنیت رکھنے والے لوگوں کے پاس جا چکے ہیں۔ جبکہ جنوبی ایشیا کے تمام ممالک ہندوستان کے اکھنڈ بھارت کے عزائم سے نالاں ہیں۔ انتہا پسند ہندو رہنما ماضی میں کئی بار اکھنڈ بھارت کا خواب پورا کرنے کے ارادے ظاہر کر چکے ہیں۔ 2022ء میں آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھگوت اکھنڈ بھارت کا خواب طاقت کے زور پر پورا کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ ساتھ اقوامِ عالم کو بھی بھارت میں مسلمانوں کی مذہبی‘ سیاسی‘ سماجی و تاریخی شناخت چھیننے کیلئے بنائے گئے نت نئے مسلم دشمن قوانین پر نوٹس لینے کی اشد ضرورت ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...