"MAHG" (space) message & send to 7575

ہمالیہ پگھل رہا ہے

نیپال میں تاریخ کی بدترین سیلابی تباہی نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے کہ ہمالیہ‘ ایشیا کاسب سے بڑا آبی ذخیرہ‘ تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے ‘جس میں برف کی سطح میں شدید کمی نے ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ انٹرنیشنل سینٹر فار انٹیگریٹڈ ماؤنٹین ڈویلپمنٹ کی رپورٹHKH Snow Update 2026 کے مطابق نومبر 2025ء سے مارچ 2026ء تک برف میں 28.8 فیصد کمی آئی۔برف کی موجودگی (Snow Persistence )اس کا پیمانہ ہے کہ گرنے کے بعد برف کتنی دیر تک زمین میں باقی رہتی ہے۔ یہ پہاڑی علاقوں میں مستقبل میں پانی کی موجودگی کا اہم اشارہ سمجھا جاتا ہے۔
موسمی برف ایک قدرتی آبی ذخیرے کا کردار ادا کرتی ہے اور ہندو کش ہمالیہ کے 12دریائی سسٹمز کے سالانہ بہاؤ کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ فراہم کرتی ہے۔ سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ گلیشیئرز اب 2000ء سے پہلے کے مقابلے میں دوگنی رفتار سے پگھل رہے ہیں جس سے طویل اور خشک موسمِ گرما کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ اس کے ممکنہ اثرات میں پانی کی شدید قلّت‘زیر زمین پانی کے ذخائر پر دباؤ ‘زراعت اور خوراک کی پیداوار میں کمی سمیت توانائی کے شعبے خاص طور پر ہائیڈرو پاور پر اثر انداز ہوں گے۔ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے گلیشئیرز پگھلنے سے جھیلیں بن رہی ہیں جو GOLFs کا سبب بنتی ہیں اور نتیجتاً فلیش فلڈ آتے ہیں۔ اسی طرح انتہائی شدت کی بارشیں اور بادل پھٹنے کے واقعات بھی بگڑتے موسم کا حصہ ہیں۔ ہمالیہ میں درجہ حرارت دگنی رفتار سے بڑھ رہا ہے۔ پہاڑوں کی کمزور مٹی اور چٹانوں کو تھامنے والی صدیوں پرانی پرما فراسٹ بھی تیزی سے پگھل رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ رجحان جاری رہا تو ہمالیہ میں برف کی مسلسل کمی آنے والے برسوں میں کسی بڑے ماحولیاتی اور انسانی بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
ہمالیہ میں ہزاروں گلیشیئرز موجود ہیں جو قدرتی طور پر میٹھے پانی کے بہت بڑے ذخائر کیلئے بھی اہم ہیں۔ ان گلیشیئرز سے پگھلنے والا پانی دریائے گنگا‘ سندھ‘ برہم پتر اور یانگسی اور ایشیا کے کئی بڑے دریائی نظاموں تک پہنچتا ہے اور زراعت‘ پن بجلی‘ پینے کے پانی کی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یقیناً دو ارب سے زائد افراد کا ہمالیائی گلیشیئرز کے پانی پر انحصار ہے لیکن مسلسل برف پگھلنے اور گلیشیئرز کے سکڑنے کا نتیجہ بالآخر یہ نکل سکتا ہے کہ خشک موسم میں استعمال کیلئے محفوظ قدرتی آبی ذخیرہ کم ہوتا جائے۔ ہمالیہ کے گلیشیئرز کا تیزی سے سکڑنا صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ یہ مستقبل میں ایشیا کے پانی‘ خوراک اور توانائی کے تحفظ سے جڑا ایک بڑا چیلنج بن کر ابھر رہا ہے۔ ماہرینِ ماحولیات نے خبردار کیا ہے کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے اور ہمالیائی خطے سے جڑے ہونے کے باعث شمالی علاقوں (گلگت بلتستان‘ چترال اور خیبر پختونخوا) میں گلیشیئرز کے پگھلنے کا عمل ملک کیلئے شدید خطرہ بن چکا ہے‘ جس کی وجہ سے پاکستان کو نیپال کی طرح کسی بھی وقت ایک اور بڑے سیلابی طوفان یا قدرتی تباہی کا سامنا ہو سکتا ہے۔ عالمی ماحولیاتی انڈیکس کے تحت پاکستان دنیا کے ان 10ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ پاکستان کے بالائی شمالی علاقوں میں سات ہزار سے زائد گلیشیئرز موجود ہیں جو بڑھتی ہوئی گرمی کے باعث تیزی سے پگھل کر اچانک سیلاب کی شکل اختیار کر رہے ہیں۔ پاکستان کے دریاؤں میں بہنے والے کل پانی کا تقریباً 70فیصد حصہ گلیشیئرز پگھلنے سے حاصل ہوتا ہے‘ لیکن ان کا غیرمعمولی اور بے وقت پگھلنا کسی بڑے سانحہ کا سبب بن سکتا ہے۔ پاکستان 2010 ء اور 2022 ء میں تاریخ کے بدترین سیلاب دیکھ چکا ہے۔ اگر موسمیاتی تبدیلیوں کی روک تھام کیلئے ٹھوس اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے وقت میں بڑے ماحولیاتی و موسمی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق ہمالیہ کے گلیشئیرز تیزی سے پگھلنے کے باعث خطہ ایک خطرناک موڑ کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اس تشویشناک صورتحال کا اس وقت انکشاف ہوا جب اگست میں نیپال اور تبت کی سرحد پر ایک ہمالیائی گلیشئیر نے سب کچھ تہس نہس کر دیا۔ اس آفت کو Cryospheric قرار دیاگیا۔ یہ زمین کے جمے ہوئے حصوں بشمول گلیشئیرز اور پرما فراسٹ کیلئے استعمال ہونے والی اجتماعی اصطلاح ہے۔ نیپال تیزی سے گرم ہوتے ہمالیائی خطے میں واقع ہے جہاں ہزاروں گلیشئیرز موجود ہیں۔ برٹش انٹارکٹک سروے کی ماہر ایلا گلبرٹ کے مطابق گلیشئیرز سکڑنے کے ساتھ غیر مستحکم ہو سکتے ہیں اور ان میں اچانک انہدام کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ امپریل کالج لندن کے ہائیڈرو لوجی ماہر واوٹر بائٹارٹ کا کہنا ہے کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافہ گلیشئیرز کے ٹوٹنے اور سکڑنے کے امکانات بڑھا رہا ہے۔ نیپال سانحہ اس کی ایک خوفناک جھلک ہے۔ یہ صرف نیپال کا المیہ نہیں اس ہمالیائی خطے میں موجود تمام ممالک کیلئے انتباہ ہے جس میں پاکستان بھی شامل ہے۔ افغانستان سے میانمار تک پھیلا یہ وسیع پہاڑی سلسلہ تقریباً 40ہزار گلیشئیرز پر مشتمل ہے۔ زمینی سطح پر ان میں سے صرف 21گلیشئیرز کی باقاعدہ نگرانی کی جا رہی ہے۔ سائنسدانوں کیلئے یہ صورتحال ایک بھیانک چیلنج ہے کیونکہ گلیشیائی جھیلوں کی نگرانی تو ٹیکنالوجی کے ذریعے ممکن ہے لیکن بلندیوں پر موجود چٹانوں کی اندرونی توڑ پھوڑ کا پتہ لگانا ناممکن ہے جو ان آفات کی پیشگوئی کرتی ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق ہمالیائی خطہ بھارت کی مجموعی معیشت میں 20فیصد سے زائد حصہ ڈالتا ہے اور اس کے کروڑوں افراد کی معیشت اس سے وابستہ ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر گلیشئیرز کے پگھلنے کی رفتار اسی طرح برقرار رہی تو پیک واٹر کے بعد پانی کی دستیابی میں کمی زراعت‘ توانائی‘ پینے کے پانی اور لاکھوں افراد کے روزگار پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایک دہائی قبل موسمیاتی تبدیلی پر بین الاقوامی پینل (IPCC) نے کہا تھا کہ زمین کے بڑھتے درجہ حرارت کی وجہ سے ممکن ہے کہ 2035ء تک ہمالیہ کے گلیشئیرز پوری طرح ختم ہو جائیں گے۔ اگر سنجیدگی سے غور کیا جائے تو پتہ چلے گا کہ ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے کے ان علاقوں میں ہی گلیشئیرز سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں جہاں انسانی مداخلت زیادہ رہی ہے۔ واضح رہے کہ 1953ء کے بعد اب تک 3000 سے زائد کوہ پیما ایورسٹ کی چوٹی سر کر چکے ہیں۔ دوسرے بلند پہاڑی سلسلوں پر پہنچنے والے افراد کی تعداد بھی ہزاروں میں ہے۔ انسانوں کی غیرضروری نقل و حرکت کی وجہ سے گلیشئیرز سمٹ رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ گلیشئیرز کے قریب تعمیر کیے جانے والے ہائیڈرو الیکٹرک پراجیکٹس کیلئے کیے جا رہے دھماکوں اور توڑ پھوڑ نے بھی انہیں غیر متوازن کر دیا ہے۔
پانی کو ایک محدود مگر قیمتی وسیلہ سمجھتے ہوئے پاکستان میں اس کے مؤثر انتظام کی حکمتِ عملیوں میں سرمایہ کاری بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اس میں آبی ذخیرہ کیلئے بہتر سہولیات‘ زراعت کیلئے آب پاشی کے مؤثر نظام اور خشک سالی سے نمٹنے کیلئے ہنگامی منصوبہ بندی شامل ہونی چاہیے۔ ہندوکشں ہمالیہ کے خطے میں واقع ہمسایہ ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا ہو گا تاکہ پیشگی وارننگ سسٹم کو مضبوط و فعال بنایا جا سکے اور برف کی صورتحال اور پانی کے بہاؤ سے متعلق معلومات کا تبادلہ یقینی بنایا جائے۔ اگر لاپرواہی اور کوتاہیوں کے رجحانات کا سلسلہ جاری رہا تو یہ خطہ پانی کے ایسے بحران سے دوچار ہو سکتا ہے جس کی تلافی شاید ممکن نہ ہو۔ شاید ہمالیہ پر برف کے ذخائر تیزی سے ختم ہوتے جائیں‘ لہٰذا فیصلہ کن اقدامات کیلئے دستیاب وقت کو ضائع نہیں ہونا چاہیے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...