"MAHG" (space) message & send to 7575

دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ایک چیلنج کیوں ؟

افواجِ پاکستان 2002ء سے غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے برسرِ پیکار ہیں‘ جو ملک کی خودمختاری‘ سلامتی اور علاقائی سالمیت کے لیے ایک وجودی خطرہ بن چکا ہے۔ یہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز کی بے پناہ قربانیوں اور جدوجہد کا ہی ثمر ہے کہ ہمارا دشمن اپنے مذموم مقاصد کے حصول میں ناکام رہا‘ تاہم اس دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ کی قیمت پاکستان نے تقریباً ایک لاکھ قیمتی انسانی جانوں اور 150ارب ڈالر سے زائد کے مالی نقصان کی صورت میں ادا کی جبکہ قوم کو شدید نفسیاتی دباؤ کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ لیکن ان قربانیوں اور انسدادِ دہشت گردی کی سینکڑوں کارروائیوں کے باوجود خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کا چیلنج آج بھی موجود ہے جبکہ 2025ء اور رواں سال خاص طور پر زیادہ خون ریز ثابت ہوئے ہیں اور روزانہ دہشت گرد حملوں اور جانی نقصانات کی افسوسناک اطلاعات سامنے آتی رہتی ہیں۔ بنیادی سوال وہی ہے کہ اتنے برسوں سے جاری انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کے باوجود ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ کیوں نہیں ہو سکا؟ لمحۂ فکریہ تو یہ ہے کہ اس ضمن میں ماضی کی عسکری قیادت پر یہ الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ یہ پاکستان کی جنگ نہیں تھی بلکہ واشنگٹن سے ڈکٹیشن لی گئی اور اس سے باہر نکلنے کے لیے صحیح حکمتِ عملی وضع نہ کی جا سکی۔ بعض حلقے سیاسی حکومتوں کو افغانستان سے تعلقات کے بگاڑ کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ ایک طرف ان کا اعتراض ہے کہ پاکستان نے کابل سے دوستی کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے‘ دوسری جانب یہی طالبان کے خلاف محدود فضائی حملوں کے ساتھ زمینی کارروائیوں کی حمایت بھی کرتے نظر آتے ہیں۔
پاکستان تقریباً چار دہائیوں سے افغانستان میں عدم استحکام کے براہِ راست اثرات کا شکار ہے۔ اگست 2021ء میں طالبان حکومت کے آنے کے بعد پاکستان نے بڑی حد تک افغانستان کے ساتھ تحمل و مصالحت کی پالیسی اختیار کیے رکھی۔ حالانکہ افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا‘ تاہم اس دوران پاکستان کو مشرق و مغرب‘ دونوں جانب سے دو محاذوں کا سامنا تھا۔ افغان سرزمین کسی پڑوسی ملک کے خلاف استعمال نہ ہو‘ یہ صرف پاکستان کا نہیں پورے خطے کے امن کا تقاضا ہے۔ ہر گزرتے وقت کے ساتھ دہشت گردی کی نوعیت بھی بدلتی گئی ہے۔ پہلے دہشت گردوں کے بڑے منظم گروہ اور واضح ٹھکانے بڑا خطرہ تھے اب چھوٹے سیل‘ سلیپر نیٹ ورکس‘ مقامی سہولت کار‘ جدید مواصلاتی ذرائع اور سرحد پار روابط اس خطرے کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں۔ ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں میں اضافہ اور افغانستان میں موجود دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں نے پاکستان کے لیے خطرات بڑھائے۔ افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کے مخاصمانہ رویے نے امن عمل کو شدید دھچکا پہنچایا۔ دوحہ معاہدے پر عمل درآمد نہ ہونے پر وقتاً فوقتاً ہونے والے مذاکرات طالبان کی ہٹ دھرمی سے نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکے۔ دوسری جانب اب پاکستان کو بھی اپنی افغان پالیسی میں جذبات کے بجائے مستقل قومی مفاد‘ واضح اہداف اور قابلِ پیمائش نتائج کو بنیاد بنانا ہوگا۔ بلوچستان کا مسئلہ دیکھا جائے تو دہشت گردی کے ساتھ گورننس کے حوالے سے بھی مزید پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔ یہاں جغرافیہ‘ طویل فاصلے‘ کم آبادی‘ سرحدی پھیلاؤ‘ قبائلی اثرات‘ معاشی محرومیاں اور سیاسی مسائل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔بی ایل اے سمیت مختلف دہشت گرد تنظیموں کی کارروائیوں نے صورتحال کو سنگین بنایا ہے۔ ان دہشت گرد گروہوں کی بیرونی مالی و دیگر معاونت کے خلاف سفارتی اور قانونی محاذ پر مؤثر کارروائی ضروری ہے‘ لیکن اس کے ساتھ ایک دوسرا پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بلوچستان میں مستقل امن کے لیے سکیورٹی آپریشن کے ساتھ ترقی‘ روزگار‘ تعلیم‘ صحت‘ مؤثر مقامی حکومت‘ سیاسی شمولیت اور قانون کی حکمرانی کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔ دہشت گردی کے خاتمے میں ناکامی کی ایک بڑی وجہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد نہ ہونا ہے۔
2015ء میں نیشنل ایکشن پلان کو دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف ایک جامع قومی فریم ورک کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ اس میں دہشت گردی کے ساتھ ساتھ نفرت انگیز تقاریر‘ دہشت گردوں کی مالی سپورٹ‘ انتہا پسندانہ نیٹ ورکس اور سہولت کاروں کے خلاف کارروائی کی شقیں بھی موجود ہیں۔ اگر دہشت گرد کو میدان میں شکست دے دی جائے مگر اس کا مالیاتی نیٹ ورک قائم رہے‘ سہولت کار آزاد رہیں‘ پروپیگنڈا جاری رہے اور نئی بھرتیاں ہوتی رہیں تو دہشت گردی کا مسئلہ ختم نہیں ہوگا۔ افسوس اس پلان کی تمام شقوں پر عمل کرنے میں ہماری حکومتیں ناکام رہیں۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ مگر قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے دہشت گردی جیسے اہم ایشو کو سیاسی تقسیم سے محفوظ رکھنا اشد ضروری ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کا اختلاف جمہوریت کا حصہ ہے۔ ریاستی اداروں کی کارکردگی پر سوال اٹھانا بھی جمہوری حق ہے مگر اس کے لیے ثبوت‘ دلیل اور تعمیری متبادل پالیسی ضروری ہے۔ دوسری طرف ریاستی اداروں کو بھی اپنی کارروائیوں میں قانون‘ شفافیت اور پیشہ ورانہ معیار کو مقدم رکھنا ہو گا۔ عوام کا اعتماد کسی بھی انسدادِ دہشت گردی مہم کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے اہم ٹی ٹی پی‘ بی ایل اے اور دیگر گروہوں کو بیرونی عناصر سے مالی‘ لاجسٹک یا انٹیلی جنس معاونت کے حوالے سے موجود شواہد عالمی سطح پر مؤثر انداز میں اقوامِ عالم کے سامنے پیش کرنا ہوں گے۔ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف عالمی بیانیے میں محض ردِعمل دینے والے ملک کے بجائے شواہد اور سفارت کاری کے ذریعے اپنا مقدمہ پیش کرنے والے ملک کا کردار اختیار کرنا ہوگا۔
پاکستان نے دہائیوں تک لاکھوں افغان شہریوں کی میزبانی کی۔ یہ ایک بڑا انسانی اور معاشی بوجھ بھی تھا اور ایک اہم انسانی ذمہ داری بھی‘ لیکن سکیورٹی کے موجودہ حالات میں غیر قانونی آمد و رفت‘ جعلی دستاویزات اور دہشت گرد نیٹ ورکس کی سہولت کاری کے معاملات کو یوں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ دہشت گرد تنظیموں نے جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانا شروع کر دیا ہے۔ ڈرونز‘ خفیہ مواصلات‘ سوشل میڈیا‘ آن لائن پروپیگنڈا اور جدید مالیاتی ذرائع نے دہشت گردی کے خطرے کو نئی شکل دی ہے۔ گزشتہ کالموں میں بھی یہ باور کرایا گیا کہ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف ایسی طویل المدتی پالیسی تشکیل دینے کی ضرورت ہے جو حکومتوں کی تبدیلی سے تبدیل نہ ہو۔ نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد‘ نیکٹا اور انسدادِ دہشت گردی کے اداروں کو مضبوط بنانا‘ پولیس کو جدید بنانا‘ سرحدی نظام کو مزید مؤثر کرنا‘ دہشت گردوں کے مالیاتی نیٹ ورکس ختم کرنا اور وفاق و صوبوں کے درمیان حقیقی رابطہ قائم کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں معاشی و سماجی ترقی کو سکیورٹی پالیسی کا حصہ بنانا ہوگا۔ پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے اس جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں‘ اب ریاست کے باقی ستونوں کو بھی سنجیدگی دکھانا ہوگی۔ یہ صرف دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں یہ ریاستی رِٹ‘ قومی سلامتی‘ خودمختاری‘ سیاسی استحکام اور پاکستان کے مستقبل کی جنگ ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...