میں نے گزشتہ کالم میں بلوچستان کی پسماندگی اور وہاں کے لوگوں کی محرومیوں کی تصویر دکھانے کی کوشش کی تھی۔ آج کا کالم صوبے کے سرداری اور قبائلی نظام کے حوالے سے ہے کیونکہ اس نظام اور یہاں کے سرداروں‘ نوابوں کو بلوچ عوام کی پسماندگی اور صوبے میں ہونے والی شورش سے بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔بلوچستان میں تقریباً 70 بڑے‘ درمیانے اور چھوٹے قبائلی سردار ہیں جنہیں عموماً نواب اور سردار کہا جاتا ہے۔ یہ تقریباً 46بلوچ قبائل کی نمائندگی کرتے ہیں۔ نمایاں قبائل میں بگٹی‘ مری‘ مینگل‘ بزنجو‘ جمالی‘ رِند اور رئیسانی شامل ہیں۔ صوبے کی تاریخ میں اس امر کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ کئی دہائیوں تک متعدد قبائلی سرداروں نے اپنے اپنے علاقوں میں بالادستی قائم رکھنے کیلئے جدید تعلیم‘ سماجی و معاشی ترقی کی حوصلہ شکنی کی۔ بعض سرداروں نے قبائلی کنٹرول برقرار رکھنے اور اپنے احکامات منوانے کیلئے مبینہ طور پر نجی ٹارچر سیل اور مسلح جتھے بھی بنائے۔ یعنی قبائلی برادریوں کی اکثریت غربت‘ جہالت اور مفلسی کا شکار رہی اور دوسری جانب سردار اور نواب صوبائی سیاست پر تسلط قائم رکھنے کے ساتھ ساتھ اقتدار کی مراعات و فوائد سے پوری طرح مستفید ہوتے رہے۔ جبکہ بااثر سرداری طبقہ کی صوبے میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال‘ بڑھتی دہشت گردی سمیت علیحدگی پسندوں کی کارروائیوں سے وابستگی بھی وقتاً فوقتاً ظاہر ہوتی رہتی ہے۔ ان عناصر کو دشمن و غیر ملکی خفیہ اداروں کی بھی حمایت حاصل ہے۔ سیاسی سطح پر سردار صوبے کی پسماندہ حالت کا ذمہ دار مسلسل وفاق‘ پنجاب اور مقتدرہ کو قرار دیتے رہے ہیں۔ یہ جبری گمشدگیوں اور مسنگ پرسنز جیسے ایشوز کو بھی وفاقی پلڑے میں ڈالتے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ صوبے کے قدرتی وسائل سے تو ریاست فائدہ اٹھا رہی ہے لیکن مقامی آبادی کو اس سے مسلسل محروم رکھا جا رہا ہے۔ (حالانکہ نواب اکبر بگٹی بلوچستان کے گورنر اور وزیراعلیٰ دونوں عہدوں پر فائز رہے اور قبائلی علاقے میں پیدا ہونے والی قدرتی گیس کی وفاقی حکومت کی جانب سے دی جانے والی رائلٹی کی بڑی رقوم حاصل کرنے والوں میں شامل تھے)۔ بلوچستان ملک کے کل رقبے کے تقریباً 44فیصد حصے پر مشتمل ہے‘ اس کے باوجود یہ ملک کا سب سے کم آبادی والا صوبہ ہے‘ جہاں آبادی وسیع و عریض علاقوں میں بکھری ہوئی ہے۔ بلوچ اس صوبے کا سب سے بڑا نسلی گروہ ہیں‘ جس کے بعد پشتون اور براہوی آتے ہیں۔ پشتون آبادی زیادہ تر افغانستان سے متصل شمالی اضلاع میں سکونت پذیر ہے۔ صوبے کی سیاسی‘ سماجی اور معاشی ترقی کی راہ میں حائل بڑی وجوہات میں ایک گہری اور مضبوط وجہ سرداری نظام بھی ہے‘ جس نے طاقت کو ایک محدود قبائلی اشرافیہ کے ہاتھوں میں مرکوز کر رکھا ہے۔ صوبے کے چند بڑے قبائل اور ان کے سرداروں کی تفصیل کچھ یوں ہے:
بگٹی قبیلہ: نواب اکبر بگٹی کو ایک زمانے میں پاکستان کے سیاسی نظام میں سب سے بااثر اور قابلِ اعتماد بلوچ رہنماؤں میں شمار کیا جاتا تھا۔ پھر 2004ء میں انہوں نے ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھا لیے اور اکتوبر 2006ء میں ایک کارروائی کے دوران قتل ہو گئے۔ ان کے حامی ان کی موت کا ذمہ دار پرویز مشرف کی حکومت کو ٹھہراتے ہیں۔ ان کی موت نے بلوچ علیحدگی پسند تحریک کو تقویت دی۔ ان کے پوتے براہمداغ بگٹی بعد ازاں بلوچ ریپبلکن آرمی (BRA) کے سربراہ کے طور پر سامنے آئے اور اس کے بعد سے بیرونِ ملک مقیم ہیں۔ تاہم بگٹی خاندان کے اندر سیاسی وابستگیاں مختلف رہی ہیں۔ ڈیرہ بگٹی سے تعلق رکھنے والے سرفراز بگٹی بلوچستان کے وزیراعلیٰ کے منصب پر فائز ہیں۔ خاندان کے دیگر افراد جن میں شاہ زین بگٹی اور کئی دوسرے رشتہ دار شامل ہیں‘ ملک کے سیاسی نظام میں فعال رہے ہیں‘ جبکہ خاندان کے بعض دیگر افراد نے الگ سیاسی راستے اختیار کیے۔
مری قبیلہ: مرحوم نواب خیر بخش مری کئی دہائیوں تک اثرورسوخ کے حامل قبائلی رہنماؤں میں شمار ہوتے رہے۔ ان کا صاحبزادہ حیربیار مری بلوچ نیشنل موومنٹ سے تعلق رکھتا ہے اور وہ بیرونِ ملک مقیم ہے‘ جبکہ ان کے ایک اور بیٹے نواب چنگیز مری نے مرکزی دھارے کی صوبائی سیاست میں اپنا کردار برقرار رکھا اور صوبائی اسمبلی کے رکن بھی رہے۔ ایک ہی خاندان کے اندر سیاسی راستوں کا یہ واضح تضاد اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ خود بلوچستان کے بااثر قبائل اور خاندانوں کے اندر بھی سیاسی تقسیم موجود ہے۔
مینگل قبیلہ: سردار اختر مینگل بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سربراہ‘ صوبے کے نمایاں ترین سیاسی رہنماؤں میں شامل ہیں۔ وہ بلوچستان کے وزیراعلیٰ سمیت دیگر اہم سیاسی عہدوں پر بھی فائز رہ چکے ہیں۔ ان کے والد سردار عطا اللہ مینگل بھی بلوچستان کی وزارتِ اعلیٰ کے منصب پر فائز رہے۔ کئی برسوں تک اختر مینگل نے مختلف وفاقی حکومتوں کے ساتھ سیاسی تعلقات قائم رکھے۔ تاہم 2018ء کے انتخابات کے بعد سیاسی طور پر خود کو نظرانداز کیے جانے کے بعد وفاقی حکومت اور مقتدرہ کے بارے میں ان کا مؤقف بتدریج زیادہ سخت ہوتا گیا۔ جبکہ اختر مینگل کی ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سے ہمدردی بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ماہ رنگ بلوچ کی گرفتاری کے بعد اختر مینگل ایک مرتبہ پھر سامنے آئے۔ انہوں نے احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کیا‘ شٹر ڈاؤن ہڑتالوں کی اپیل کی اور وڈھ سے کوئٹہ تک لانگ مارچ کی قیادت کی۔ ان کا یہ مؤقف ہے کہ بلوچستان کو کئی دہائیوں سے وفاق کی جانب سے امتیازی سلوک کا سامنا رہا ہے۔ اپنے اس مؤقف کو تقویت دینے کیلئے حال ہی میں انہوں نے سوشل میڈیا پر بیان دیا کہ اگر بلوچستان کے پاس 800 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی اور بے پناہ معدنی دولت نہ ہوتی تو پاکستان کے حکمران اس صوبے سے بھی اسی طرح دستبردار ہونے پر آمادہ ہو جاتے جیسے 1971ء میں مشرقی پاکستان الگ ہوا۔ انکے اس بیان پر شدید تنقید ہوئی۔ سوشل میڈیا پر کہا گیا کہ وہ خود وڈھ‘ خضدار‘ بولان‘ مچھ اور دیگر علاقوں میں وسیع پیمانے پر کان کنی کی لیز سے فائدہ اٹھاتے رہے ہیں جبکہ دوسری جانب خود کو محروم بلوچ آبادیوں کا نمائندہ اور محافظ قرار دیتے ہیں۔
اس لیے اب یہ سوال زیادہ شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا بلوچستان کی پسماندگی کو صرف وفاقی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیا جا سکتا ہے یا پھر کئی دہائیوں سے جاری قبائلی اجارہ داری نے بھی صوبے کے مسائل میں نمایاں کردار ادا کیا ہے؟ یہ دعویٰ کہ پاکستان بلوچستان کی معدنی دولت کو ''نگل‘‘ رہا ہے‘ اس پر وفاقی حکومت کی ایک رپورٹ کے مطابق 2024ء کے معاشی اعداد و شمار کے مطابق کان کنی اور معدنیات کا شعبہ ملک کی مجموعی قومی پیداوار (GDP) میں تقریباً تین فیصد حصہ ڈالتا ہے جبکہ معدنیات کی برآمدات مجموعی قومی برآمدات کا ایک نہایت معمولی حصہ ہیں۔ لہٰذا اس دعوے کا جائزہ زیادہ متوازن اور جامع انداز میں لینے کی ضرورت ہے۔ ایک بنیادی سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے والے سرداروں نے اپنے ہی حلقوں میں پائیدار ترقی کیلئے آخر کیا اقدامات کیے؟ ناقدین کے مطابق بعض سرداروں کے بارہا گورنر‘ وزیراعلیٰ‘ وفاقی وزیر اور پارلیمنٹیرین جیسے اہم عہدوں پر فائز رہنے کے باوجود ان کے علاقوں میں ایسے بہت کم انقلابی اور دیرپا منصوبے دکھائی دیتے ہیں جنہیں براہِ راست ان کی قیادت کا نتیجہ قرار دیا جاسکے۔ بہت سے قبائلی رہنماؤں نے اقتدار میں رہتے ہوئے اس کے فوائد اور مراعات سے بھرپور استفادہ کیا‘ لیکن سیاسی اثر و رسوخ کم ہونے کے بعد ریاست مخالف بیانیہ اختیار کرلیا۔ مختلف ادوار میں شورشوں کو ہوا دینے والے متعدد بااثر قبائلی رہنماؤں نے خود افغانستان‘ یورپ یا دیگر ممالک میں جلاوطنی اختیار کرلی‘ اور طویل عرصے تک جاری رہنے والے تنازع کا نقصان عام قبائلی افراد نے برداشت کیا۔کئی دہائیوں سے یہ بیانیہ بلوچ قوم پرست سیاست کا مرکزی حصہ رہا ہے کہ وفاق پر پنجاب کا غلبہ ہے اور پاکستان آرمی کو ''پنجابی فوج‘‘ کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔ اسی ملک دشمن بیانیے کو بنیاد بنا کر بلوچستان کو اندھیروں میں دھکیلا جا رہا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments