جب یکم اپریل1936ء کو سندھ کو بمبئی پریذیڈنسی سے الگ کرکے ایک علیحدہ صوبہ بنایا گیا تو اس نئے صوبے کے قیام کی وجہ مسلمانوں کی ترقی قرار دیا گیا تھا‘لیکن آج کراچی کے باسیوں کی ترقی کے لیے کراچی کو سندھ سے الگ کرکے ایک نیا صوبہ بنانے کو سازش کیوں قرار دیا جا رہا ہے؟ سندھ کی صوبائی سیاست میں آج ''سندھ کی وحدت‘‘ کو ایک ایسا مقدس اور ناقابلِ بحث سیاسی اصول بنا کر پیش کیا جاتا ہے جیسے موجودہ صوبائی حدود ہمیشہ سے اسی شکل میں موجود رہی ہوں اور ان میں کسی قسم کی تبدیلی تاریخ‘ تہذیب یا جمہوریت کے خلاف ہو‘ لیکن تاریخ جذبات سے نہیں دستاویزات سے لکھی جاتی ہے۔ ہندوستان کے سرکاری برطانوی ریکارڈ‘ آل انڈیا مسلم لیگ کی دستاویزات‘ قائداعظم محمد علی جناح کے 1929ء کے چودہ نکات‘ پہلی راؤنڈ ٹیبل کانفرنس کی کارروائی اور گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935ء ایک مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ وہ تصویر یہ ہے کہ سندھ کو بمبئی پریذیڈنسی سے الگ کر کے نیا صوبہ بنانے کا مطالبہ مسلم سیاسی جدوجہد کا باقاعدہ آئینی مطالبہ تھا۔ اس مطالبے کا مقصد واضح سیاسی و انتظامی‘ خصوصاً مسلمانوں کی سیاسی ترقی اور نمائندگی کا سوال تھا۔ سب سے اہم ثبوت 1933ء کا آل انڈیا مسلم لیگ کا ریکارڈ ہے۔ سید شریف الدین پیرزادہ کی معروف کتاب ''فاؤنڈیشن آف پاکستان‘ والیم دوئم 1924-47ء ‘‘ کے صفحہ 200 پر 1933ء میں بنگال میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس کی کارروائی نقل کی گئی ہے۔ اس میں سندھ کے بارے میں درج ہے: ''ہم مسلمانوں کو بھی حال ہی میں سندھ کا ایک نیا صوبہ بنانے کے لیے کیے گئے فیصلہ پر اطمینان ہے‘‘۔ اس کے فوراً بعد اس فیصلے کی وجہ بھی بیان کی گئی: ''ہمیں یقین ہے کہ اس سے نئے صوبے میں مسلمانوں کی ترقی کے امکانات بہتر ہوں گے‘‘۔
یہی تاریخی بحث کا بنیادی نکتہ ہے۔ اس اقتباس میں موہنجودڑو‘ پانچ ہزار سالہ قدیم تہذیب‘ قدیم سندھی قوم یا کسی لسانی قوم پرستی کا حوالہ نہیں۔ 1933ء کے آل انڈیا مسلم لیگ کے اس ریکارڈ میں سندھ کی علیحدہ صوبائی حیثیت کو سیاسی و انتظامی اصلاح اور مسلمانوں کے مفادات سے جوڑ کر دیکھا گیا تھا۔ قائداعظم کے 14 نکات میں نواں نکتہ ہی یہ تھا: ''سندھ کو بمبئی پریذیڈنسی سے الگ کیا جائے‘‘۔ یعنی یہ مطالبہ آل انڈیا مسلم لیگ کے آئینی مطالبات کا حصہ تھا۔ اگر سندھ کی علیحدگی اس وقت جائز تھی تو آج انتظامی بنیادوں پر سندھ کے اندر مزید صوبوں کی بحث کو غداری یا سازش قرار دینے کی منطق کہاں سے آتی ہے؟
نومبر1930ء سے جنوری 1931ء تک جاری رہنے والی پہلی راؤنڈ ٹیبل کانفرنس میں سندھ کی علیحدگی کے لیے باقاعدہ سب کمیٹی قائم کی گئی تھی۔ ریکارڈ میں سندھ کی مالی حیثیت‘ انتظامی مشکلات‘ بمبئی پریذیڈنسی سے علیحدگی اور علیحدہ صوبائی حکومت کے اخراجات پر تفصیلی بحث موجود ہے۔ آج جس ''تقسیم‘‘ کو ناقابلِ تصور کہا جاتا ہے‘ برطانوی قانون نے 1936ء میں نافذ کر دی تھی۔ گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935ء کے تحت سندھ کو بمبئی سے الگ کر کے علیحدہ صوبہ بنانے کی قانونی بنیاد فراہم کی گئی اور یکم اپریل 1936ء کو سندھ باقاعدہ الگ صوبہ بن گیا۔ صوبائی سرحد میں تبدیلی غداری یا سازش نہیں ہوتی‘ اصل سوال یہ ہے کہ اس اقدام کا عوام کو کتنا فائدہ پہنچتا ہے ۔ 1930-31ء کی گول میز کانفرنس کے دوران سر شاہنواز بھٹو اور سر غلام حسین ہدایت اللہ جیسے سندھی مسلم رہنما برطانوی حکومت کے سامنے سندھ کو بمبئی پریذیڈنسی سے علیحدہ کرنے کا مقدمہ پیش کر رہے تھے جبکہ محمد علی جناح وسیع تر آئینی مذاکرات میں مرکزی کردار ادا کر رہے تھے۔ ان کے دلائل مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی‘ ہندوؤں کے معاشی غلبے‘ زرعی قرض داری اور سندھ کی مالیاتی خود کفالت کے گرد گھومتے تھے۔
ملک میں نئے انتظامی یونٹس کی بحث کے پیشِ نظر پاکستان بار کونسل نے ایک قرارداد کے ذریعے ملک میں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق آئینی طریقہ کار پر عملدرآمد پر زور دیا ہے اور حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ آئین میں دیے گئے طریقہ کار‘ پارلیمانی عمل اور قومی اتفاقِ رائے کے تحت نئے صوبوں کا قیام عمل میں آنا چاہیے۔ تمام سیاسی جماعتوں کو قومی مفاد میں نئے صوبوں کے قیام سمیت اہم قومی معاملات پر بامعنی مذاکرات کا آغاز کرنا چاہیے۔وفاقی وزیرداخلہ کے اس بیان کے بعد کہ موجود نظام جواب دے چکا ہے‘ پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتوں کو اس حوالے سے غوروفکر کرنا چاہیے۔جب ملک کی آبادی سات کروڑ تھی‘ تب بھی چار صوبے تھے‘ آج آبادی تقریباً 25 کروڑ ہے اور صوبے آج بھی چار ہی ہیں‘ جس کی وجہ سے بے شمار انتظامی مسائل کا سامنا ہے۔
دوسری جانب عالمی منظر نامے کی بات کی جائے تو پاکستان اپنی حکمت عملی کے باعث مشرقِ وسطیٰ کی قیادت سنبھالنے کے بہت قریب پہنچ چکا ہے۔ پاکستان‘ ترکیہ اور سعودی عرب کا سہ فریقی دفاعی معاہدہ اسرائیل کی جارحیت کا ردِعمل بھی ہے اور یہ معاہدہ ابراہم اکارڈ کی بحث کو بھی زائل کرتا ہے۔ ترکیہ کے صدر طیب اردوان نے اس معاہدے کے حوالے سے بیان دیا ہے کہ جب تک رکن ممالک پر حملہ نہیں ہوتا دفاعی معاہدے کے تحت کوئی ملک ہدف نہیں ہو گا۔ 1951ء میں پاکستان اور امریکہ کا دفاعی معاہدہ ہوا تھا جب پاکستان کو بھارتی جارحیت کا خطرہ تھا لیکن 1965ء کی جنگ کے بعد اس معاہدے نے اپنی اہمیت کھو دی۔ امریکہ نے اس معاہدے کی پاسداری نہیں کی۔ اب ایران اور امریکہ کی جنگ اپنی شکل بدل رہی ہے۔ جون 2025ء میں اسے ایران‘ اسرائیل جنگ کہا گیا‘ پھر یہ اسرائیل‘ امریکہ‘ ایران جنگ میں تبدیل ہو گئی۔ دوسرے مرحلے میں‘ جو 28 فروری 2026ء کو شروع ہوا‘ یہ اسرائیل‘امریکہ‘ ایران جنگ ہی تھی جو 17 جون کی مفاہمتی یادداشت کے بعد امریکہ‘ ایران جنگ میں تبدیل ہو گئی۔ مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر بڑی جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے کیونکہ خدشہ ہے کہ امریکہ اپنی ساکھ بچانے اور پسپائی کا داغ دھونے کے لیے ایران پر زمینی حملہ کر سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو ایران امریکی اتحادیوں پر حملہ کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔حاصلِ کلام یہ ہے کہ پاکستان میں اندرونی طور پر اہم تبدیلیاں لانے کے فارمولے پر کام ہو رہا ہے۔مستقبل میں محسن نقوی نے اگر قومی اسمبلی کے کسی حلقے سے الیکشن لڑا تو یقینا وہ قومی اسمبلی کے ممبر بن جانے کے بعد وزیراعظم کے مضبوط امیدوار ہوں گے۔ یہ بھی شنید ہے کہ پارلیمنٹ کے اراکین کے ترقیاتی فنڈز لوکل گورنمنٹ کے اداروں کو تفویض کرنے کے لیے قانون سازی ہو رہی ہے۔ ممکن ہے کہ آئین کے آرٹیکل 140-A کے مطابق لوکل گورنمنٹ کے انتخابات کروانے کے بعد نچلی سطح کے اداروں کو مضبوط کیا جائے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments