"KDC" (space) message & send to 7575

نئے صوبے اور پنجاب میں بلدیاتی الیکشن

حکومت کی جانب سے 20اور 21اگست کی درمیانی شب بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اڈیالہ جیل سے پمز ہسپتال لے جایا گیا‘ ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے ان کا معائنہ کیا اور انہیں طبی طور پر صحتمند قرار دیا۔ ان کی ہمشیرہ ڈاکٹر عظمیٰ خان اس معائنے کے دوران موجود تھیں۔ یہ عمل مکمل ہونے کے بعد انہیں 21 اگست کو صبح تقریباً 5بجے واپس اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔ اس سے قبل حکومتی حلقوں کے قریب سمجھے جانے والے بعض میڈیا پرسنز یہ تاثر دے رہے تھے کہ عمران خان نے کوئی ڈیل کرلی ہے اور بعض وزرا نے تو علاج کی خاطر بیرونِ ملک جانے کی بھی خبریں دینا شروع کر دی تھیں مگر یہ تمام مفروضے غلط ثابت ہوئے۔ اب سپریم کورٹ کے فیصلے اور اس پر عملدرآمد کے حوالے سے فریقین میں نئی بحث چھڑی ہوئی ہے اور حکومت اور پی ٹی آئی ایک دوسرے پر توہینِ عدالت کے الزامات لگا رہے ہیں۔ یہ معاملہ ابھی فوری سلجھتا نظر نہیں آتا۔دوسری جانب مقتدرحلقے چونکہ ملک میں نئے صوبوں کی تشکیل کیلئے پُرعزم ہیں لہٰذا تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کیلئے اندر خانے کام ہو رہا ہے۔ میری اطلاعات کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی کو یہ ذمہ داری دی گئی ہے کہ سیاسی جماعتوں کو اکٹھا کر کے فیصلہ کیا جائے۔ 1973ء کے آئین میں صوبائی حدود میں تبدیلی اور اس سے متعلقہ آئینی ترمیم کے طریقہ کار کی تاریخی اور تحقیقی جائزہ لینے کے بعد یہ بات سامنے آتی ہے کہ 14 اگست 1973ء کو نافذ ہونے والے آئین کے آرٹیکل 239 میں صوبائی سرحدوں کی تبدیلی کیلئے متعلقہ صوبائی اسمبلی سے دو تہائی اکثریت سے توثیق کی شق موجود نہیں تھی۔ اصل متن میں ترمیم کا طریقہ کار صرف قومی اسمبلی اور سینیٹ تک محدود تھا۔ ایک دہائی سے زائد عرصہ تک آئین میں صوبائی حدود کی تبدیلی یا صوبے کے جغرافیے پر اثر انداز ہونے والی کسی بھی ترمیم کیلئے صوبائی اسمبلی سے الگ سے دوتہائی اکثریت کی کوئی باضابطہ شرط یا ذیلی شق شامل نہیں کی گئی تھی۔1985ء کے صدارتی آرڈر نمبر20 کے تحت آئین میں آرٹیکل 239(4)کا اندراج کیا گیاجس کے تحت صوبائی حدود میں تبدیلی پر متعلقہ صوبائی اسمبلی کو فیصلے کا اختیار دیا گیا۔ اس صدارتی حکم نامے کو بعد میں آٹھویں آئینی ترمیم کے ذریعے آئینی تحفظ فراہم کیا گیا۔
1973ء کے آئین کے تحت صوبائی حدود میں تبدیلی کی مکمل طاقت وفاقی پارلیمان (قومی اسمبلی و سینیٹ) کے پاس تھی‘ جس میں صوبائی اسمبلی کی منظوری کا اختیار شامل نہیں تھا‘ تاہم آٹھویں ترمیم میں آرٹیکل 239(4) کا اضافہ کیا گیا اور 18ویں ترمیم (اپریل 2010ء) میں بھی اس شق کو برقرار رکھا گیا اور آرٹیکل 239(4) کے تحت یہ شق آج بھی قائم ہے کہ پارلیمنٹ صوبائی اسمبلی کی توثیق کے بغیر صوبائی حدود کو تبدیل نہیں کر سکتی۔ پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام سے معاشی‘ سیاسی‘ سماجی اثرات اور وسائل کی نچلی سطح تک منتقلی سے عوام کی مشکلات میں کمی آئے گی اور دہشت گردی اور علیحدگی پسندوں کا ازالہ ہو گا‘ لہٰذا صوبوں کے قیام پر وسیع پیمانے پر ڈائیلاگ وقت کی اہم ضرورت ہے۔نئے صوبے اور انتظامی یونٹس کی بحث سیاسی اصلاح کا حصہ ہوتی ہے۔ پاکستان کی آبادی اور انتظامی‘ شہری اور معاشی ضرورتوں کو دیکھتے ہوئے نئے صوبے بنتے ہیں تو بلدیاتی نظام‘ مالی اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور ضلع میں احتساب اور جوابدہی کا مؤثر انتظام بھی ازحد ضروری ہے ورنہ نئے صوبے صرف نئی اسمبلی اور نئی مراعات پیدا کریں گے اور ہر صوبے کا وزیراعلیٰ اپنا علیحدہ طیارہ خریدنے کے لیے عوام کے ٹیکس کا پیسہ خرچ کرے گا‘ جس سے عام آدمی کی زندگی نہیں بدلے گی۔
پنجاب میں بلدیاتی الیکشن کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے صوبائی انتظامیہ سے مشاورت کے بعد 15دسمبر سے 15جنوری 2027ء کے درمیان بلدیاتی انتخابات کرانے کا اعلان کیا ہے۔ شنید ہے کہ پنجاب حکومت بلدیاتی انتخابات کرانے میں سنجیدہ نہیں تھی مگر چیف الیکشن کمشنر کے سخت مؤقف کے بعد فریقین میں تاریخ پر اتفاق ہو گیا۔ نئے بلدیاتی قوانین کی منظوری بھی صوبائی اسمبلی کی وساطت سے مکمل ہو چکی ہے اور اب یونین کونسل کی سطح پر بلدیاتی انتخابات کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ پنجاب حکومت نے درپردہ نئے صوبے بنانے کے لیے اعلیٰ حلقوں کی سنجیدگی اور وزیر داخلہ محسن نقوی کے دو ٹوک مطالبے کی روشنی میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اس عرصے تک نئے صوبوں کے لیے قانون سازی کو مؤخر کیا جا سکے۔28ویں ترامیم میں رکاوٹیں ڈالنے کے حوالے سے پنجاب اور سندھ حکومت کی ایک ہی سوچ ہے لیکن حالات یہ بتا رہے ہیں کہ مقتدر حلقے اس حوالے سے پُرعزم ہیں اور اس راہ میں رکاوٹیں ڈالنے والوں کو اپنے مستقبل کی فکر کرنا ہو گی۔ اگر 28ویں ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں پیش ہوتا ہے تو اس میں آرٹیکل 140(A) میں بھی ترمیم اور ایک اہم شق کا اضافہ کیا جانے کا امکان ہے جس کے مطابق لوکل گورنمنٹ کا اختیار صوبوں سے وفاق کی تحویل میں چلا جائے گا اور این ایف سی ایوارڈ کے تحت تمام مالیاتی فنڈز براہ راست مقامی حکومتوں کو دیے جائیں گے اور صوبائی حکومتوں کے بجائے وفاق بلدیاتی اداروں کو براہ راست ترقیاتی فنڈز تفویض کرے گا۔
گزشتہ جمعرات کو دفاعی افواج اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی سے متعلق دو بل قومی اسمبلی میں کثرتِ رائے سے منظور کیے گئے۔ قومی اسمبلی نے پاکستان دفاعی افواج ایکٹ 2026ء کی منظوری دی جو 13 نومبر 2025ء سے مؤثر بالعمل سمجھا جائے گا۔ اس ایکٹ کے احکامات واضح کردہ قواعد وضوابط اور اس کے تحت جاری کردہ ہدایات اور احکامات دیگر کسی بھی قانون‘ قواعد و ضوابط‘ ہدایات‘ اعلامیوں یا احکامات کے برعکس ہونے کے باوجود نافذ العمل رہیں گے اور مذکورہ قواعد وضوابط‘ ہدایات‘ اعلامیے اور احکامات اُس حد تک غیر مؤثر ہو جائیں گے جہاں تک وہ اس کے منافی ہوں گے۔ قومی سلامتی‘ دفاع اور مسلح افواج سے متعلق تمام امور کے بارے میں چیف آف ڈیفنس فورسز وزیراعظم کا اعلیٰ مشیر ہو گا۔اس ایکٹ کی منظوری کے بعد فیلڈ مارشل سید عاصم منیر فوجی امور کے حوالے سے وزیراعظم کے مشیر اعلیٰ ہوں گے اور اس حیثیت سے کابینہ کا حصہ ہوں گے اور قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس میں شرکت کے بھی آئینی مجاز ہوں گے۔ بطور مشیر اعلیٰ وہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی گورننس پر بھی گہری نظر رکھیں گے۔ اس طرح کابینہ کی کارکردگی معیاری ہو گی اور صوبائی حکومتوں کو بھی ادراک ہو جائے گا کہ گورننس کے حوالے سے مشیر اعلیٰ ان کی کارکردگی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔چیف آف ڈیفنس فورسز کے مشیر اعلیٰ مقرر ہونے سے 1954ء کی تاریخ تازہ ہوتی نظر آتی ہے جب عبوری آئین کے تحت گورنر جنرل غلام محمد کی کابینہ میں جنرل محمد ایوب خان وزیر دفاع مقرر ہوئے تھے اور کابینہ کے اہم رکن کے طور پر ملکی سیاست پر بھی ان کی گہری نظر تھی۔سی ڈی ایف کے مشیر اعلیٰ مقرر ہونے سے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے اس مؤقف کی توثیق ہوتی ہے کہ وزیراعظم تمام وزارتوں کی کارکردگی کی جانچ پڑتال تیسرے فریق سے کرائیں اور نتائج عوام کے سامنے رکھیں۔ تیسرے فریق کی جانچ پڑتال سے معلوم ہو سکے گا کہ کون سی وزارت کتنا کام کر رہی ہے۔ میری رائے کے مطابق تیسرے فریق میں پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو بھی شامل کرنا چاہیے اور ممکن ہو سکے تو آڈیٹر جنرل پاکستان‘ ایف بی آر کے چیئرمین اور قومی احتساب بیورو کے چیئرمین کو بھی اس کمیٹی میں شامل کرنا چاہیے۔ تھرڈ پارٹی آڈٹ کے بعد 28ویں ترمیم میں پاکستان کے سیاسی نظام میں اہم تبدیلیوں کے لیے بھی شقیں شامل کرنی چاہئیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...