نیا راگ ہے ساز بدلے گئے‘ زمانے کے انداز بدلے گئے۔ اُٹھ کہ اب بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے‘ مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے۔ اقبالؒ نے جو کچھ برسوں پہلے کہا تھا‘ وہ آج ہم پر صادق آ رہا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بند ہو چکی۔ دونوں کے صدور مفاہمت کی دستاویز ''اسلام آباد اکارڈ‘‘ یعنی معاہدۂ اسلام آباد پر دستخط کر چکے۔ وزیراعظم پاکستان ثالث کے طور پر اپنا نام بھی ثبت کر چکے۔ گویا اس تاریخی دستاویز پر تین افراد کے دستخط ہیں‘ صدر ڈونلڈ ٹرمپ‘ صدر مسعود پزشکیان اور وزیراعظم شہباز شریف۔ پاکستان کا نام اونچا ہوا‘ پوری دنیا میں بلند ہوا‘ ہر طرف سے مبارکباد آئی‘ داد ملی‘ تحسین کے الفاظ ملے۔ دو متحارب ممالک کو ایک ساتھ بٹھانے‘ ان کے درمیان بات چیت کرانے اور انہیں مثبت نتیجے تک پہنچانے میں پاکستان کامیاب ہوا: یہ اُس کی دین ہے‘ جسے پروردگار دے۔
یہ درست ہے کہ قطر پاکستان کے شانہ بشانہ رہا۔ سعودی عرب‘ چین‘ ترکیے اور دوسرے دوست ممالک کی معاونت بھی حاصل رہی لیکن یہ بھی درست ہے کہ قائدانہ کردار پاکستان نے ادا کیا۔ سب نے اسے آگے کیا‘ سب نے اس پر اعتماد کیا۔ تہران اور واشنگٹن اس کے ذریعے بات کرتے رہے‘ ایک دوسرے کو سمجھتے اور سمجھاتے رہے‘ یہاں تک کہ مشترکہ الفاظ کی تلاش میں کامیاب ہو گئے۔ 14نکات طے پائے اور باقاعدہ سرکاری طور پر جاری کر دیے گئے۔ واشنگٹن سے متن کا اعلان ہوا‘ تہران نے بھی اسے نشر کیا۔ اسلام آباد نے بھی مشتہر کر دیا۔ فریقین اپنی اپنی فتح کا ڈنکا بجا رہے ہیں‘ اسے مقابل کی شکست قرار دے رہے ہیں۔ ایران اپنی دھن میں مگن ہے‘ صدر ٹرمپ اپنی بڑھکیں لگا رہے ہیں۔ اسرائیل پر احسان جتا رہے ہیں۔ میں نے تمہیں ایٹمی ایران سے بچا لیا‘ ایٹم بم ایران کے پاس آ جاتا تو اسرائیل کا نام و نشان مٹ جاتا‘ وہ اس کا پہلا نشانہ ہوتا۔ ایران نے حتمی اعلان کر دیا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا‘ ایٹمی دھماکہ نہیں ہو گا‘ ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔ صدر ٹرمپ اسے اپنی بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں‘ اس پر بغلیں بجا رہے ہیں‘ ایران کے بیلسٹک میزائلوں سے آنکھیں چرا ر ہے ہیں۔ انہیں اب ان میں کوئی خطرہ دکھائی نہیں دیتا۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ ایسے میزائل تو کئی دوسرے ملکوں کے پاس بھی ہیں‘ ایران نے بنا لیے‘ ذخیرہ کر لیے تو اس پر کسی کو اعتراض کا حق کیسے مل گیا؟ تہران میں جشن منایا جا رہا ہے‘ مجتبیٰ خامنہ ای کے نعرے بلند ہو رہے ہیں۔ امریکہ کے عزائم ناکام بنا دیے گئے‘ اس نے اور اسرائیل نے جو دعوے کیے تھے وہ پورے نہ ہو سکے۔ ایران میں حکومت کا خاتمہ ممکن نہ ہوا‘ اسے وینزویلا نہ بنایا جا سکا‘ ایرانی عوام کو آمادۂ بغاوت نہ کیا جا سکا۔ جوں جوں تنازع بڑھا‘ جوں جوں حملہ آور دباؤ بڑھاتے گئے‘ نقصان پہنچاتے گئے‘ خون بہاتے گئے‘ بستیوں کو جلاتے گئے‘ بم برساتے گئے‘ ایران کے عوام اپنی حکومت کے ساتھ جڑتے چلے گئے‘ آہنی دیوار بن گئے۔ آپس کی نفرتیں‘ کوتاہیاں‘ خامیاں سب نظر انداز ہو گئیں۔ حکومت اور عوام ایک دوسرے کے حامی‘ ایک دوسرے کے محافظ بن کر ایک دوسرے سے لپٹ گئے‘ چمٹ گئے۔ اسرائیل کو نشانہ بنایا گیا‘ ایران کے ڈرون اور میزائل وہاں جا پہنچے اور اس کا غرور خاک میں ملا دیا۔ آبنائے ہرمز کی بندش نے ایران کو نئی قوت سے آشنا کر دیا۔ دنیا بھر میں تیل کی سپلائی متاثر ہوئی‘ قیمتیں بڑھنے لگیں‘ یورپ اور امریکہ کے عوام کی بھی چیخیں نکلنے لگیں۔ صدر ٹرمپ سے سوال ہونے لگے: تم نیتن یاہو کی لڑائی کیوں لڑ رہے ہو؟ اس کی کٹھ پتلی کیوں بن گئے ہو؟ اس کے ہاتھ میں کیوں کھیل رہے ہو؟ مطالبہ زور پکڑتا گیا‘ پرائی جنگ سے باہر نکلو‘ امریکہ کو سکون دو اور دنیا بھر کو چین سے رہنے دو۔ نیتن یاہو تنہا ہوتا گیا‘ یہاں تک کہ جنگ بند کرنا پڑی‘ ٹرمپ نے ہاتھ اٹھا لیے‘ بزعم خود فتح کا جھنڈا لہرا دیا‘ اپنی ناکامی کو چھپانے کے جتن کرنے لگے۔ اب نیتن یاہو تلملا رہا ہے‘ امریکہ اسے ڈانٹ پلا رہا ہے‘ اس کی اوقات یاد دلا رہا ہے‘ ہم نہ ہوں گے تو تم کہیں نظر نہیں آؤ گے‘ تمہاری حفاظت سے ہاتھ کھینچا‘ تمہیں اسلحے کی سپلائی بند کی‘ تم پر ڈالر نچھاور کرنے سے توبہ کر لی تو تم تنکے کی طرح اڑ جاؤ گے‘ ایران اور عربوں کی پھونکیں طوفان بن کر چھا جائیں گی۔
ایران اور امریکہ جو بھی کہیں‘ جو بھی دعویٰ کریں‘ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا جو بھی منظر دکھائیں‘ بنیادی بات یہ ہے کہ جنگ بند ہو چکی۔ مستقبل کا نقشہ کھینچا جا چکا‘ اب اس میں رنگ بھرنا ہے۔ فریقین کو ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھے رہنا ہے‘ تعمیرِ نو کا آغاز کرنا ہے۔ امریکہ مزید خفت سے بچ گیا۔ صدر ٹرمپ نے پھر ''امن کے پیامبر‘‘ کی چادر اوڑھ لی۔ ایران کے سامنے مواقع کا ایک نیا جہان کھل گیا۔ اس پر لگی پابندیاں ختم ہوں گی‘ آزادانہ تجارت کر سکے گا‘ تعمیر نو کے لیے فنڈ فراہم ہوں گے‘ اس کی معیشت آگے بڑھے گی‘ عوام کی مشکلات دور ہوں گی۔ آنے والے دنوں میں امریکہ کا بھی امتحان ہو گا اور ایران کا بھی۔ امریکہ کو اپنے عہد کا پاس رکھنا اور اپنی بگڑی ہوئی ساکھ کو سنوارنا ہے۔ ایران کو مستقبل گرفت میں لینا ہے‘ اپنی توانائیوں کو تعمیر و ترقی کے لیے بروئے کار لانا ہے۔ چودہ نکات جو طے ہو گئے ہیں فریقین ان پر پہرہ دیں‘ ان کے ساتھ جڑے رہیں۔ اسرائیل حالات کو خراب کرنے کی پوری کوشش کرے گا‘ کبھی لبنان کو نشانہ بنائے گا‘ کبھی کسی اور جگہ چھیڑ چھاڑ کرے گا۔ امریکی انٹیلی جنس بھی اپنے صدر کو خبردار کر رہی ہے لیکن نیتن یاہو جو بھی کرے گا اپنی قبر کھودے گا۔ اس کے جال میں پھنس کر ایران کو مشتعل ہونا چاہیے نہ امریکہ کو۔ ایران کو بطورِ خاص محتاط رہنا ہے۔ اسرائیل کو اس کی اوقات میں رکھنے کے لیے اس کے بہکاوے میں نہیں آنا‘ اس کی پھیلائی ہوئی کسی سازش کا شکار نہیں ہونا۔
پاکستان بھی داد وصول کر چکا۔ اس کے فیلڈ مارشل کا ڈنکا بج چکا۔ وزیراعظم کا نام تاریخ میں درج ہو چکا۔ وزیر خارجہ اور داخلہ کے سر بھی سہرا سج چکا۔ اب آگے بڑھنا اور پاکستان پر جو اعتماد پیدا ہوا ہے‘ اس کا جو قد بڑھا ہے‘ اس سے فائدہ اٹھانا ہے۔ ایران کی تعمیر نو کے لیے 300ارب ڈالر فراہم کیے جا سکتے ہیں تو پاکستان کی معیشت کو سنبھالنے کے لیے ڈیڑھ‘ دو سو ارب ڈالر ہی مختص کر دیے جائیں۔ قرضوں کا بوجھ ہلکا ہو‘ ہم اپنے آپ میں آئیں۔ اپنا بوجھ آپ اٹھائیں۔ پاکستان کے ذمہ داران کو اب قدم نئی منزل کی طرف بڑھانا ہے۔ زادِ سفر فراہم ہو چکا‘ اب سفر کو تیز تر کرنا ہے۔ اور ہاں‘ پاکستان کی وزارتِ خارجہ کو بھی یاد رکھنا اور سلام پیش کرنا ہے۔ ہمارے سفارت کاروں اور دفتر خارجہ کے اہلکاروں نے جس مہارت اور نفاست سے اپنے قائدین کی معاونت کی‘ اس نے کایا پلٹ میں مدد دی ہے۔ ہماری مسلح افواج کی طرح وزارتِ خارجہ کے سپاہی بھی اہلِ اقتدار سے محفوظ رہے ہیں‘ ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو ماند نہیں کیا جا سکا۔ پولیس اور انتظامیہ کی تو درگت بنا ڈالی گئی لیکن پاکستان کے دونوں محافظ ادارے‘ افواج اور وزارتِ خارجہ‘ اپنے آپ کو بچانے میں کامیاب رہے۔ اب دوسرے قومی ادارے بھی آزاد کر دیے جائیں۔ سیاست اور اہلِ سیاست کو وہاں اپنی مرضی مسلط کرنے کی آزادی نہ رہے تو ان کی کارکردگی بھی مثالی ہو سکتی ہے۔ پاکستان مزید کامیابیاں سمیٹ سکتا ہے۔
(یہ کالم روزنامہ ''پاکستان‘‘ اور روزنامہ ''دنیا‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)