"MSC" (space) message & send to 7575

مٹی میں چراغ

ہفتے کا دن تھا‘ مئی کی سولہ تاریخ‘ شام کے پانچ بجنے والے تھے۔ میں بمع اہل و عیال لاہور کے ایکسپو سنٹر جا رہا تھا۔ میرے پوتے ارسل شامی کی سکول کانووکیشن تھی۔ ہال سے چند قدم کا فاصلہ ہو گا کہ فون کی گھنٹی بجی۔ ڈاکٹر محسن کی آواز سنائی دے رہی تھی: ''الطاف صاحب کافی کریٹیکلی اِل ہو گئے ہیں‘ ان کو نمونیہ ہے‘ دونوں پھیپھڑوں میں آکسیجن بہت گر رہی ہے‘ 74پر ہے۔ آکسیجن لگانے کے بعد وہ کوئی 85کے قریب آئی ہے۔ یورین آؤٹ پُٹ بھی ان کا ڈراپ ہوا ہے۔ بلڈ پریشر کم ہے۔ کتھڈرال ڈالنے لگے ہیں۔ شوگر بہت اوپر چلی گئی تھی‘ چار سو۔ میں نے دو دن پہلے انسولین اور اینٹی بائیوٹیک وغیرہ شروع کرا دی تھیں۔ چچا کافی ڈاؤن ہیں۔ ابھی تک تو بڑے بڑے انسیڈینٹس سے نکل آئے ہیں‘ یہ میرا خیال ہے کہ وَن آف دی میجر چیلنجز ہے۔ دیکھیے اس میں سے نکلتے ہیں یا چیزیں مختلف ہوتی ہیں۔ میں نے سوچا آپ کو اَپ ڈیٹ دے دوں‘‘۔ ڈاکٹر محسن الطاف صاحب کے بھتیجے اور ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی کے نورِ نظر ہیں۔ کئی سال آئر لینڈ میں رہنے کے بعد وطن لوٹے ہیں‘ انہی کے زیر نگرانی الطاف صاحب کے شب و روز بسر ہو رہے تھے۔ فروری کے آخری دنوں میں ان پر فالج کا حملہ ہوا تھا‘ چند روز ہسپتال میں رہے‘ کبھی آنکھیں کھول دیتے‘ آواز کا جواب بھی دیتے‘ سر ہلا دیتے لیکن غشی کی سی کیفیت طاری رہتی۔ بالآخر طے ہوا کہ انہیں گھر منتقل کر دیا جائے۔ ان کے کمرے کو ڈاکٹر محسن ہی کی ہدایات کے مطابق ایک چھوٹے سے ہسپتال میں تبدیل کر دیا گیا۔ بیٹے کامران اور پوتے افنان اور ایغان دن رات تیمار داری میں مصروف رہتے۔ اٹینڈنٹس کی خدمات بھی حاصل کر لی گئیں۔ صحت کبھی بحال ہوتی نظر آتی‘ کبھی امید کا دامن چھوٹ جاتا۔ احباب آتے اور ان کی ایک جھلک دیکھ کر دل کو مطمئن کر لیتے۔ حفیظ اللہ نیازی پل پل کی خبر رکھتے۔ محسن اعجاز وقتاً فوقتاً ان کی صحت کے بارے میں بلیٹن جاری کرتے رہتے تھے۔ جب بھی اَپ ڈیٹ دیتے دعاؤں میں تیزی آ جاتی۔
تقریب میں ڈاکٹر امجد ثاقب مہمانِ خصوصی تھے۔ انہوں نے اپنی تحریک ''اخوت‘‘ کا تعارف نوجوان طالب علموں اور ان کے والدین سے کرانا شروع کیا تو ہر طرف خاموشی چھا گئی۔ چھوٹے چھوٹے قرضوں سے غربت ختم کرنے کا تجربہ حیرت انگیز تھا۔ ہزاروں روپے ماہانہ فیس ادا کر کے تعلیم حاصل کرنے والوں کو بتایا جا رہا تھا کہ دس‘ بیس‘ تیس‘ چالیس ہزار روپے کے بلا سود قرض ایک پورے خاندان کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ 40لاکھ گھرانوں کو غربت کی دلدل سے نکالا جا چکا ہے۔ اربوں روپے کے قرض جاری کیے گئے ہیں جن کی واپسی 99فیصد ہے۔ قرض لینے والے نہ صرف قرض واپس کر رہے ہیں بلکہ دوسروں کو قرض دینے کے لیے ایثار بھی کرتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب پاکستانی قوم کی دیانت اور ہمت کی جو تصویر کھینچ رہے تھے اس نے سننے والوں کو مبہوت کر رکھا تھا۔ وہ بتا رہے تھے کہ ان کا قائم کردہ اخوت کالج اب یونیورسٹی کی شکل اختیار کر رہا ہے۔ چارٹر مل چکا ہے۔ ملک بھر سے ذہین بچے یہاں لائے جاتے ہیں‘ جو دن رات یہاں رہتے ہیں۔ دوسرے تعلیمی اداروں میں فیس ہر ماہ وصول کی جاتی ہے لیکن اس ادارے میں تعلیم پہلے دی جا رہی ہے‘ فیس بعد میں وصول کی جائے گی۔ بچے جب فارغ التحصیل ہو کر عملی زندگی میں قدم رکھیں گے تو فیس ادا کرنا شروع کریں گے‘ جو اُن جیسے دوسرے طالب علموں کے کام آئے گی۔
تقریب کے دوران ہی فون کی گھنٹی پھر بجی۔ عزیزم کامران الطاف انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھ رہے تھے۔ الطاف صاحب رخصت ہو چکے تھے۔ دل کو بصد مشکل سنبھالتے ہوئے اپنے داماد محمد نوشاد علی کے ہمراہ جوہر ٹاؤن کا رُخ کیا‘ ان کی رہائش گاہ پہنچے اور اہلِ خانہ کے غم میں شریک ہو گئے۔ ماہنامہ ''اردو ڈائجسٹ‘‘ کے ایڈیٹر طیب اعجاز قریشی سوات میں تھے۔ ان کا فون آیا تو باہمی مشاورت کے بعد طے ہوا کہ کل بعد از نمازِ ظہر جامعہ اشرفیہ میں نمازِ جنازہ ادا کی جائے۔ مولانا مجیب الرحمن انقلابی سے رابطہ ہوا۔ انہوں نے فوراً انتظامات کی ذمہ داری سنبھال لی۔ مولانا اسعد عبید سے بات کی تو انہوں نے بھی آنکھیں بچھا دیں۔ الطاف صاحب کا جامعہ اشرفیہ سے خاص تعلق تھا۔ مولانا عبیداللہ‘ مولانا عبدالرحمن اور مولانا فضل الرحیم سب اللہ کو پیارے ہو چکے لیکن ان کے فرزندانِ ارجمند ان کی روایات کی پاسداری کر رہے ہیں۔ بتایا گیا کہ جامعہ میں عازمینِ حج کی تربیت کا پروگرام جاری ہے‘ وہ بھاری تعداد میں یہاں موجود ہیں‘ نمازِ جنازہ میں ان کی شرکت بھی باعثِ رحمت ہو گی۔ انتقال کی خبر چار سُو پھیل گئی۔ اپنے عہد کا سب سے بڑا اخبار نویس 96 برس اس دنیا میں گزار کر وہاں جا چکا تھا جہاں ہم سب کو جانا ہے‘ لیکن واپس کسی کو نہیں آنا۔ اتوار‘ 17مئی کو بعد از نمازِ ظہر حضرت مولانا یوسف خان نے نمازِ جنازہ کی امامت کی۔ نماز سے پہلے مرحوم کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا۔ احباب اور نیاز مند امڈے چلے آ رہے تھے۔ ہزاروں آنکھیں ان کے آخری دیدار کے لیے بے تاب تھیں۔ سابق گورنر پنجاب چودھری سرور‘ لیاقت بلوچ‘ پراچہ برادران‘ احسن اقبال‘ سعد رفیق‘ عطاء اللہ تارڑ افسردہ تھے۔ اخبار نویسوں کا جمِ غفیر بھی موجود تھا۔ نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے بعد انہیں میانی صاحب کے قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ وہ اپنے مرحوم اعزہ کے درمیان جا بسے ؎
اندر بھی زمیں کے روشنی ہو
مٹی میں چراغ رکھ دیا ہے
الطاف صاحب ایک فرد نہیں ادارہ تھے‘ ایک تحریک تھے‘ ایک عہد تھے بلکہ عہد ساز تھے۔ انہوں نے اپنا زمانہ آپ بنایا‘ ان کے قلم نے دلوں پر حکمرانی کی۔ ان جیسا دوسرا کوئی موجود نہیں تھا۔ وہ ماہنامہ ''اردو ڈائجسٹ‘‘ کے ایڈیٹر تھے لیکن بڑے بڑے روزناموں کے ایڈیٹر ان کے سامنے بونے تھے۔ انہوں نے اپنے قارئین کی تربیت کی‘ انہیں بات کہنے کا سلیقہ سکھایا۔ تہذیب اور شائستگی سے اپنے خیالات کا اظہار کرنے کی مثال قائم کی۔ درجنوں اخبار نویس ان کے سائے میں پلے اور بڑھے۔ وہ بلاخوف اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہے۔ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں لیکن راستہ نہیں بدلا۔ بھٹو دور میں ان کا قلم تلوار بنا رہا۔ مارشل لاء کے تحت قید ہوئے تو فوجی عدالت کو تسلیم کرنے اور اس میں صفائی پیش کرنے سے انکار کر دیا۔ مجھے طویل عرصہ ان کی رفاقت کا شرف حاصل رہا۔ ہفت روزہ ''زندگی‘‘ نے ان ہی کے زیر نگرانی اشاعت کا آغاز کیا تھا۔ ان ہی کے سائے میں میری ادارت پروان چڑھی۔ انہوں نے اپنے برادر بزرگ ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی سے مل کر ملتان سے روزنامہ ''جسارت‘‘ کا اجرا بھی کیا۔ علی برادران کے بعد قریشی برادران آنکھوں کا تارا بنے رہے۔ وہ اپنے دفتر میں بیٹھ کر خیالی پلاؤ نہیں پکاتے تھے۔ جگہ جگہ جاتے‘ لوگوں سے ملتے‘ واقعات کی چھان پھٹک کرتے‘ حالات کی تہہ میں اُترتے اور پھر حقائق اپنے قارئین تک پہنچاتے۔ انہیں حکومتِ پاکستان نے ہلالِ امتیاز عطا کیا اور ستارۂ امتیاز بھی۔ لیکن ان کا نشانِ امتیاز یہ تھا کہ ان کے قارئین ان پر اعتماد کرتے تھے۔ وہ صحافت کا وقار تھے اور اعتبار بھی۔ ان کے ساتھ تعلق کی کہانی اتنی طویل ہے کہ ایک کالم میں سمٹ نہیں سکتی۔ یہ تذکرہ جاری رہے گا۔ اہلِ قلم انہیں یاد کرتے رہیں گے‘ ان کی باتیں دہراتے رہیں گے۔ میڈیا بھائیوں کو ان کے لہجے‘ ان کے استقلال اور متانت کی یاد دلاتے رہیں گے‘ انہیں سلام پیش کرتے رہیں گے۔
(یہ کالم روزنامہ ''پاکستان‘‘ اور روزنامہ ''دنیا‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں