نئے مالی سال کا وفاقی بجٹ موجودہ حکومت کا تیسرا بجٹ ہے مگر درحقیقت ملک کے عوام کی اکثریت اسے پانچواں بجٹ سمجھتی ہے۔ اس عوامی تاثر کی وجہ یہ ہے کہ سابقہ پی ڈی ایم حکومت کے دور میں جو دو بجٹ پیش کیے گئے تھے انہیں ترتیب دینے والی سیاسی جماعتیں ہی آج بھی اقتدار کے ایوانوں میں براجمان ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عوام اس بجٹ کو اسی پانچ سالہ تسلسل کی ایک کڑی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ موجودہ بجٹ کے خدوخال پر نظر ڈالیں تو یہ احساس ہوتا ہے کہ حکومت نے معیشت کے کچھ مخصوص شعبوں کو متحرک کرنے کے لیے چند جرأت مندانہ اور قابلِ ستائش فیصلے کیے ہیں‘ ان میں ایک ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی صنعت کے حوالے سے ہے۔ ٹیکسٹائل کی مشینری پر سے امپورٹ ڈیوٹی کے خاتمے نے نہ صرف اس شعبے کی درآمدات میں 21فیصد کااضافہ کیا بلکہ ملکی مینوفیکچرنگ کی صلاحیت کو بھی تحریک دی۔ اس طرح کاروباری برادری کو 120 ارب روپے کا جو براہِ راست ریلیف منتقل ہوا وہ برآمدات پر مبنی معیشت کے فروغ کے لیے سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی طرح توانائی کا بحران جو طویل عرصے سے ملکی معیشت کے گلے کا طوق بنا ہوا ہے‘ کے حوالے سے آئی پی پیز کے ساتھ ہونے والے حالیہ مذاکرات اہمیت کے حامل ہیں۔ ماضی کے ان مہنگے معاہدوں پر نظر ثانی کے نتیجے میں 3700ارب روپے کی بچت کے اقدامات اور بجلی کے شعبے میں 143 ارب روپے کی بچت حکومت کی معاشی سفارتکاری اور انتظامی گرفت کی بڑی کامیابی کہی جا سکتی ہے۔ یہ بچتیں مستقبل میں پیداواری لاگت کو کم کرنے میں کردار ادا کریں گی۔ ٹیکنالوجی کے اس جدید دور میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کو معیشت کا ہر اوّل دستہ تسلیم کرتے ہوئے آئی ٹی برآمدات پر عائد 0.25فیصد رعایتی ٹیکس کی سہولت میں مزید تین سال کی توسیع کرنا دور اندیش فیصلہ ہے۔ یہ اقدام باصلاحیت نوجوانوں اور فری لانسرز کو عالمی مارکیٹ میں مسابقت کے بہتر مواقع فراہم کرے گا اور ملک کے لیے قیمتی زرِمبادلہ کمانے کا مستقل ذریعہ بنے گا۔ کسانوں اور چھوٹے کاروباری افراد کے لیے 300ارب روپے کے قرضوں پر مشتمل پانچ نئی سکیمیں متعارف کروانا‘ جن سے ساڑھے سات لاکھ چھوٹے کسان مستفید ہوں گے‘ دیہی معیشت اور زرعی پیداوار کی افزائش کا باعث بن سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تنخواہ دار طبقے کے مخصوص سلیبز کے انکم ٹیکس اور سپر ٹیکس کی شرح میں کی جانے والی ترامیم بھی کاروباری برادری اور مڈل کلاس کو یہ تاثر دیتی ہیں کہ حکومت معاشی نمو کے لیے نجی شعبے کی شراکت داری کو اہمیت دے رہی ہے۔
موجودہ بجٹ میں ملکی دفاع اور خدمات کے لیے 3000ارب روپے کی خطیر رقم مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ فوجی پنشن کی مد میں 822ارب روپے الگ سے رکھے گئے ہیں۔ پاکستان جیسے جیو سٹریٹجک پوزیشن پر واقع ملک کے لیے مضبوط دفاعی بجٹ ناگزیر ہے۔ خود مختاری اور سالمیت کا تحفظ کسی بھی ریاست کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے۔
جہاں یہ اقدامات خوش آئند ہیں وہیں بجٹ کے کچھ مزید حقائق کو مدنظر رکھنا بھی ضروری ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ حکومت رواں برس بھی اپنے زیادہ تر اہم معاشی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ یہ ناکامی اس بات کی غماز ہے کہ ہماری معیشت کے سٹرکچرل نقائص اس قدر گہرے ہیں کہ سطحی اقدامات ان کا علاج کرنے سے قاصر ہیں۔ بجٹ کا سب سے فکر مندی والا پہلو ماضی کے قرضوں پر سود کی ادائیگی کا وہ حجم ہے جو ملکی معیشت کی شہ رگ کو دبا رہا ہے۔ مجموعی اخراجات کے تخمینے میں سے 8054ارب روپے سود کی ادائیگی کی نذر ہو جائیں گے۔ جب کسی ملک کی آمدن کا سب سے بڑا حصہ قرضوں کے سود کو چکانے میں صرف ہو جائے اور دوسرا بڑا حصہ جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت پر تو اس ریاست کے پاس اپنے عوام کی ترقی‘ تعلیم‘ صحت اور فلاح و بہبود کے لیے صرف حسرتیں اور قرض کے نئے کشکول ہی بچتے ہیں۔ حکومت نے جی ڈی پی کی شرح نمو کا ہدف 4 فیصد اور مہنگائی کی شرح کو 8.2فیصد تک رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے‘ یہ موجودہ معاشی تناظر میں ایک خواب سے زیادہ کچھ نظر نہیں آتا۔ ایسے ماحول میں جہاں پٹرولیم لیوی کے ذریعے عوام سے 1727ارب روپے نکالنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہو‘ وہاں مہنگائی کو سنگل ڈیجٹ پر رکھنا معجزے سے کم نہ ہو گا۔ حکومت نے خدمات‘ صنعت اور زراعت کے شعبوں میں روزگار کے 20لاکھ نئے مواقع پیدا کرنے کا مژدہ تو سنایا ہے لیکن جب تک توانائی کی قیمتیں مستحکم نہیں ہوتیں اور شرح سود میں نمایاں کمی نہیں آتی‘ نجی شعبے کے لیے نئے روزگار کے اتنے مواقع پیدا کرنا کٹھن دکھائی دیتا ہے۔
طویل مدتی معاشی حکمت عملی کی تشکیل میں دیرپا حل پنہاں ہے‘ جس کا محور خود کفالت اور خود انحصاری ہونا چاہیے۔ عارضی ریلیف اور بیرونی بیساکھیوں کے سہارے چلنے والی معیشت کبھی وقار کے ساتھ زندہ نہیں رہ سکتی۔ اس مقصد کے لیے ہمیں روایتی معاشی ڈگر سے ہٹ کر کٹھن‘ انقلابی اور غیر مقبول فیصلے کرنا ہوں گے۔ سب سے پہلے ملک کے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اب بقا کا مسئلہ بن چکا ہے۔ یہ کب تک ممکن ہو گا کہ ملک کا تنخواہ دار طبقہ اور چند رجسٹرڈ صنعتیں ہی ٹیکس کا سارا بوجھ اٹھاتی رہیں جبکہ تاجر برادری ٹیکس نیٹ سے باہر رہے؟ جب تک غیر دستاویزی اور بااثر شعبوں کو ٹیکس کے دائرہ کار میں نہیں لایا جاتا تب تک بجٹ خسارے پر قابو پانا مشکل رہے گا۔
دوسرا اہم قدم ملکی برآمدات میں تنوع اور ان کی قدر میں اضافہ ہے۔ ہم اب بھی روایتی کپاس اور چاول کی برآمدات پر تکیہ کیے ہوئے ہیں جبکہ دنیا نالج بیسڈ اکانومی اور ڈیجیٹل سروسز کی طرف منتقل ہو چکی ہے۔آئی ٹی سیکٹر‘ زراعت اور دفاعی پیداوار کو مربوط کر کے ہم اپنے برآمدی حجم کو چند سالوں میں دگنا کر سکتے ہیں جس سے بیرونی قرضوں پر انحصار خود بخود کم ہو جائے گا۔ بجٹ کی شکل میں معاشی دستاویز دراصل ایک سنگ میل ہے جہاں ہمیں برسوں کے آزمودہ ماڈل کو خیرباد کہہ کر معاشی آزادی کی نئی بنیاد رکھنی ہو گی۔ خود انحصاری کا راستہ اگرچہ کٹھن ہے لیکن کشکول اٹھائے رکھنے سے ہزار درجہ بہتر ہے۔ معاشی خودمختاری کے بغیر اقتدارکا دعویٰ محض ایک لفاظی ہے جس کی تاریخ میں کوئی وقعت نہیں۔ حالات اب کسی نیم دلانہ فیصلے کی اجازت نہیں دیتے۔ فیصلہ سازوں کو اب اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہو گا کہ کشکول اور وقار کبھی ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ وقت آگیا ہے کہ وقتی پناہ گاہوں کی تلاش چھوڑ کر سچ کا سامنا کیا جائے اورآنے والی نسلوں کو قرضوں کے اس لامتناہی چکر سے نجات دلانے کے لیے معاشی خودمختاری کے لیے سفر شروع کیا جائے‘ چاہے وہ سفرکٹھن اور طویل ہی کیوں نہ ہو۔