"MSC" (space) message & send to 7575

ایک اور معرکۂ حق

ایران پر مسلط کردہ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کب رکے گی‘ پائیدار امن کا قیام کب ممکن ہو گا۔ اس بارے میں کوئی کچھ بھی نہیں کہہ سکتا۔ اچھی خبر یہ ہے کہ عارضی جنگ بندی برقرار ہے‘ فریقین ایک دوسرے کے بارے میں جو بھی شعلے اُگلیں۔ صدر ٹرمپ اپنی فتح کا جو بھی اعلان کریں اور ایران اپنے عزم کو جس طرح بھی دہرائے‘ ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کے جو بھی ارادے ظاہر کیے جائیں‘ بمباری نہیں ہو رہی۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اس وقت اسلام آباد کے دورے پر ہیں لیکن ان کی طرف سے واضح کر دیا گیا ہے کہ یہ دوطرفہ معاملہ ہے۔ وہ مسقط اور روس جاتے ہوئے اسلام آباد رکے ہیں۔ اس دوران امریکہ سے بات چیت کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے جبکہ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکہ کا ایک دو رکنی مذاکراتی وفد اسلام آباد پہنچنے کے لیے تیار ہے۔ اگر سپیکر ایران اسمبلی ایرانی وفد میں شامل ہوں گے تو پھر نائب صدر جے ڈی وینس بھی اسلام آباد روانہ ہو جائیں گے‘ بصورتِ دیگر وہ واشنگٹن میں بیٹھ کر ہی مذاکراتی عمل کی نگرانی کریں گے لیکن ایران کی طرف سے تاحال کوئی آمادگی ظاہر نہیں گئی۔ وہ آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی ختم کرنے کے مطالبے پر قائم ہے۔ کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ تعطل کب تک برقرار رہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر دن رات ایک کیے ہوئے ہیں کہ فریقین کسی طور آمنے سامنے بیٹھ جائیں‘ ایک ایسا معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں جس سے دنیا کو امن کا تحفہ مل سکے۔ آبنائے ہرمز کی بندش نے اس جنگ کے اثرات ہر ملک تک پھیلا دیے ہیں۔ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے‘ مہنگائی بڑھتی چلی جا رہی ہے‘ یورپ اور امریکہ بھی لپیٹ میں ہیں۔ صدر ٹرمپ کو داخلی محاذ پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ وہ متعدد فوجی افسروں کو برطرف کر چکے لیکن پھر بھی یکسوئی نصیب نہیں ہو رہی۔ پاکستان ثالث کے طور پر جو کردار ادا کر رہا ہے‘ اس کی تحسین جاری ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے بھی اس کی داد دی ہے اور ایرانی قیادت سے مسلسل رابطے بھی اس اعتماد کی نشاندہی کر رہے ہیں جو تہران کو اسلام آباد پر ہے۔ میڈیا میں بعض عناصر ''نامعلوم‘‘ ایرانی عہدیداروں کی آڑ لے کر پاکستان کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اسے متنازع بنانے میں کوشاں ہیں لیکن انہیں یوں منہ کی کھانا پڑ رہی ہے کہ ایران کا کوئی ذمہ دار اپنے برادر ملک پر انگلی اٹھانے پر تیار نہیں ہے۔
پاکستان کی بھاری اکثریت ایران کے ساتھ ہے۔ اس نے جس استقامت کے ساتھ جارحیت کا مقابلہ کیا ہے اور اس کی دفاعی صلاحیتوں کی جو تفصیل سامنے آئی ہے‘ اس نے سب کو ششدر کر رکھا ہے۔ ایران کے ڈرون اور میزائل حملہ آوروں کو ناکوں چنے چبوا گزرے ہیں‘ ایران کو ونیزویلا بنانے کے خواب چکنا چُور ہیں۔ شدید نقصانات اٹھانے اور اپنی اعلیٰ ترین قیادت سے محروم ہونے کے باوجود ایران نے ریاستی نظم کو برقرار رکھا ہے۔ تفریق اور انتشار پھیلانے والوں کی سرکوبی کی ہے اور دنیا کو دکھا دیا ہے کہ اس کی عسکری اور سیاسی قیادت یک جان ہو کر یلغارکا سامنا کر رہی ہے۔ اب اسے ماضی سے زیادہ مستقبل پر نگاہ رکھنی ہے‘ جو نقصان ہو چکا‘ اس کے ازالے کا مطالبہ اپنی جگہ لیکن جو نقصان ہو سکتا ہے اس سے بچنا بھی ضروری ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو نامناسب نہیں ہو گا کہ مستقبل کو سنبھالنا اہم ترین ہے۔ ماضی کا ازالہ کرتے کرتے اگر مستقبل ہاتھوں سے نکل جائے تو اسے فراست نہیں کہیں گے‘ جو ہاتھ میں ہے اسے محفوظ رکھنا اس وقت سب سے اہم ہے۔ اس حوالے سے اگر اقدامات کا جائزہ ہو گا تو پھر معاملہ اور ہو گا۔ اگر یہ نکتہ نظر انداز کر دیا جائے تو پھر کچھ بھی کہا اور کچھ بھی کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان میں پیٹرول اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے‘ بجلی بھی مہنگی ہو گی اور نتیجتاً پورا ملک مہنگائی کی شدید لہر کی زد میں ہو گا۔ عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو رہی ہے۔ اگر مستقل جنگ بندی ہو جائے تو بھی حالات کو معمول پر آنے میں وقت لگے گا لیکن اگر ایسا نہ ہوا۔ شعلے ایک بار پھر بھڑک اٹھے تو کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ نتیجہ کیا ہو گا‘ کون کیسے متاثر ہو گا اور کس کو کتنا نقصان اٹھانا پڑے گا۔ بے یقینی کو ختم کرنا تو کسی کے بس میں نہیں لیکن مشکل حالات کا سامنا کرنے کے لیے صف بندی تو ممکن ہے۔ اس کے لیے لازم ہے کہ ہم داخلی سیاست کی کمزوریوں پر قابو پائیں۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے بجائے ایک دوسرے کے ساتھ سر جوڑ کر بیٹھیں۔ روکھی سوکھی مل بانٹ کر کھائیں۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ عوام کا جینا حرام ہو جائے اور مقتدر طبقے اپنے اللے تللے جاری رکھیں۔
تحریک انصاف حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت ہے‘ اس کے رہنماؤں اور کارکنوں کی شکایات کا فوری طور پر جائزہ لیا جانا چاہیے‘ جو لوگ جیلوں میں ہیں ان کے مقدمات پر نظرثانی کے لیے ایک کل جماعتی پارلیمانی کمیٹی (یا کمیٹیاں) بنائی جا سکتی ہیں۔ بزرگ اور بیمار اسیروں کو فی الفور رہا کر دینا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ نظمِ ریاست پر بے اعتمادی میں اضافہ کرنے والوں کی سرزنش لازمی ہے۔ اعلیٰ عدلیہ میں تبادلوں کی جو کوشش کی جا رہی ہے‘ اس پر فی الفور نظرثانی ہونی چاہیے۔ دستورِ پاکستان کے مطابق اعلیٰ عدلیہ کے کسی جج کا اس کی رضا مندی کے بغیر تبادلہ نہیں کیا جا سکتا تھا۔ ستائیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے ''جج کی رضا مندی‘‘ کو ختم کر کے معاملہ جوڈیشنل کمیشن کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ اب کوشش کی جا رہی ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے پانچ جج صاحبان کو دوسری عدالتوں میں منتقل کر دیا جائے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے بھی اس کے خلاف آواز بلند کی ہے‘ اور اسے عدلیہ کی آزادی پر حملے کے مترادف قرار دیا ہے۔ عدالتی کمیشن کے اجلاس میں ان کا احتجاج مؤثر ہو سکے گا‘ اس پر تو کچھ کہا نہیں جا سکتا لیکن یہ بات بہرحال واضح ہے کہ عدالت ہائے عالیہ کے ججوں کو ان کی مرضی کے بغیر یا خلاف تبادلہ کرنے کی روش اپنائی کی گئی تو عدلیہ کی آزادی اور خود مختاری کا تصور زمیں بوس ہو جائے گا۔ جوڈیشل کمیشن کے ارکان کی توقیر اور احترام اپنی جگہ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو کسی بھی دباؤ کے بغیر کام کرنے کا حق حاصل رہنا چاہیے۔ پاکستانی ریاست اور سیاست اس وقت جن حالات سے دوچار ہیں‘ ان کا تقاضا ہے کہ اداروں کی جو بھی ساکھ بچی ہے‘ اس کی حفاظت یقینی بنائی جائے۔ انہیں مضبوط اگر نہیں کیا جا سکتا تو کمزور بھی نہ کیا جائے۔ وقتی مصلحتوں کے لیے ایسے اقدامات نہ کیے جائیں جو مستقبل کو دھندلا کر دیں۔ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو دباؤ میں رکھنا‘ اور انتظامی افسران کی طرح ان کے تبادلے کرنا عدالتی نظام کے انہدام کی طرف ایک بڑا قدم ہو گا۔ اس سے پورا ریاستی ڈھانچہ کمزور ہو گا۔ پاکستانی ریاست کو اس وقت تقسیم کی نہیں اتحاد اور اتفاق کی ضرورت ہے۔ جو کچھ بچا ہوا ہے‘ اس میں (فی الحال) اگر اضافہ نہیں کیا جا سکتا تو کمی بھی نہ ہونے دی جائے۔ وکلا‘ میڈیا اور سیاسی کارکنوں کو ''بنیانٌ مرصوص‘‘ بن کر اس معرکۂ حق میں دادِ شجاعت دینی چاہیے۔
(یہ کالم روزنامہ ''پاکستان‘‘ اور روزنامہ ''دنیا‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں