"IYC" (space) message & send to 7575

سائیکل کی یاد میں ایک کالم

جس روز میں گزشتہ کالم لکھ رہا تھا‘ اُس دن بائیسکل کا عالمی دن منایا جا رہا تھا۔ پہلے پروگرام بنا کہ بائیسکل پر لکھوں لیکن امریکی صدر نے نیتن یاہو کی کھال (جو ٹرمپ کے بقول انہوں نے بچا لی‘ لیکن جو مجھے بچتی نظر نہیں آتی) کا ذکر کر دیا تو ضروری تھا کہ پہلے کھالوں کے بارے میں لکھا جاتا۔ سائیکل یا بائیسکل اپنے زمانے کی شاہانہ سواری ہوا کرتی تھی۔ قیامِ پاکستان سے پہلے جو سائیکل پر سوار گزرتا اسے لوگ اسی طرح دیکھتے جیسے آج کل کسی کو لگژری گاڑی پر سوار گزرتے دیکھتے ہیں۔ اس وقت لگژری گاڑیوں کی قیمت کروڑوں روپے ہے۔ جس زمانے کا میں ذکر کر رہا ہوں تب سائیکل شاید اسی نوے روپے میں آ جاتی ہو گی لیکن اس وقت اسی نوے روپے بھی کسی کسی کے پاس ہوتے تھے۔ اسی سے اندازہ لگائیں کہ اپنے دور میں سائیکل کیسی شاندار سواری ہوتی تھی۔ مجھے بزرگوں کی باتوں سے پتا چلا کہ کسی گاؤں میں جس کے پاس سائیکل ہوتی تھی اس کی سب سے زیادہ عزت ہوتی تھی اور جب وہ سائیکل پر بیٹھ کر پیڈل مارتا ہوا کہیں سے گزرتا تھا تو سب کھڑے ہو کر اسے حسرت بھری نظروں سے دیکھا کرتے تھے۔ یہ اُس زمانے کی بات ہے جب لوگ زیادہ تر پیدل سفر کیا کرتے تھے یا گھوڑا یا تانگہ وغیرہ استعمال کرتے تھے۔ یہ وہی دور تھا جب پاکستان میں گاڑیاں نہیں ہوتی تھیں بلکہ جس کے پاس گھر کی سواریاں ایک سے دوسری جگہ لے جانے کیلئے اپنا تانگہ گھوڑا ہوتا تھا وہی سب سے زیادہ عزت دار کہلاتا تھا۔ تانگے گھوڑے کی حیثیت کسی زمانے میں لگژری گاڑی والی ہی تھی۔
میری جم پل لاہور کی ہے اور لاہور بھی اندرون لاہور والا۔ اوپر گاؤں والی مثال ہمارے اندرون لاہور پر بھی صادق آتی ہے۔ جب میں چھوٹا تھا تو وہاں بھی سائیکل کسی کسی کے پاس ہوا کرتی تھی‘ زیادہ تر لوگ پیدل ہی اندرون شہر کی گلیوں میں سے ہوتے ہوئے دوسرے دروازے تک پہنچ جایا کرتے تھے۔ لوگوں کی زیادہ تر گردش اندرون شہر کے انہی بارہ دروازوں کے اندر رہتی تھی۔ میں کوئی بہت پرانے دور کی بات نہیں کر رہا‘ 70ء کی دہائی کی بات کر رہا ہوں۔ گورنمنٹ کالج لاہور 1864ء قائم ہوا تھا۔ میں نے اپنی اعلیٰ تعلیم اسی تعلیمی ادارے سے حاصل کی۔ تب یہ صرف گورنمنٹ کالج ہوا کرتا تھا ‘ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی نہیں بنا تھا۔ کتنے سادہ زمانے ہوا کرتے تھے اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ اس کالج میں پہلی موٹر بائیک 1932ء میں لائی گئی اور لانے والا کوئی اور نہیں مشہور و معروف خوشونت سنگھ تھے۔ ان کی موٹر سائیکل کا نام اے جے ایس (اے جے سٹیونسن اینڈ کو لمیٹڈ) بائیک تھا۔ اس کمپنی کی بنیاد 1909ء میں برطانیہ میں رکھی گئی تھی۔ برطانیہ سے جتنی بھی موٹر سائیکلیں ہندوستان لائی جاتیں کلکتہ (جو اَب کولکتہ ہو چکا ہے) کے راستے لائی جاتی تھیں۔ خوشونت سنگھ کے بقول 1930ء تک دہلی میں کُل موٹر سائیکلوں کی تعداد پانچ تھی۔ لاہور میں تعداد کتنی ہو گی اس کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ لوگ سائیکل کو دیکھ دیکھ کر حیران ہوتے تھے‘ موٹر سائیکل تو ان کیلئے کسی اُڑن کھٹولے سے کم نہ تھی۔ پطرس بخاری نے مرحوم (سائیکل)کی یاد میں لکھا کیونکہ اُس زمانے میں سائیکل ہی سب کچھ ہوتا تھا۔
میں نے ہی نہیں دنیا میں اور بھی بہت سی معروف شخصیات نے سائیکل چلائی۔ تحریکِ پاکستان کی اہم رہنما اور قائد اعظم کی ہمشیرہ فاطمہ جناح فرصت کے لمحات میں سائیکل چلایا کرتی تھیں۔ جنرل ضیا الحق اکثر سائیکل پر دفتر جایا کرتے تھے۔ سابق نگران وزیر اعظم ملک معراج خالد بھی سائیکل چلایا کرتے تھے۔ بالی وڈ کے سپر سٹار شاہ رخ خان اکثر ممبئی کی سڑکوں پر سائیکل چلاتے دکھائی دیتے ہیں۔ سابق امریکی صدر بارک اوباما اپنی تعطیلات کے دوران خاندان کے ساتھ سائیکل کی سواری سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش باقاعدگی سے سائیکلنگ کرتے تھے۔ البرٹ آئن سٹائن کو سائیکل چلانے سے گہرا لگاؤ تھا۔ انسانی حقوق کے معروف امریکی رہنما مارٹن لوتھر کنگ جونیئر بھی سائیکل استعمال کرتے دیکھے گئے۔ آرنلڈ شوارزنیگر اب بھی فٹنس برقرار رکھنے کیلئے سائیکلنگ کو ترجیح دیتے ہیں۔ عالمی شہرت یافتہ گلوکارہ اور اداکارہ جینیفر لوپیز ساحلی علاقوں اور شہر میں اپنی سائیکل پر گھومنا پسند کرتی ہیں۔ بتانے والے بتاتے ہیں کہ معروف اداکار سکندر شاہین مال روڈ پر سائیکل پر کالج آتے جاتے اکثر دیکھے جاتے تھے۔ وہ گورنمنٹ کالج میں سائیکلنگ کے چیمپئن بھی تھے۔ فیض احمد فیض کی بیوی ایلس فیض سائیکل چلاتی تھیں۔ مہدی حسن خود سائیکلوں کے کاریگر تھے اور سائیکل چلاتے تھے۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد سائیکل چلاتے تھے۔ گزشتہ دنوں پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف انہوں نے راولپنڈی میں انوکھا احتجاج کرتے ہوئے سائیکل پر سفر کیا۔
سائیکل نے کم و بیش دو سو سال شہروں کی سڑکوں اور دیہات کے کچے پکے راستوں پر حکمرانی کی لیکن اب سائیکل قصہ پارینہ بن چکی ہے۔ یہ گزرے وقتوں کی حسین یادگار بن کر رہ گئی ہے۔ پطرس بخاری نے تو طنزیہ اور مزاحیہ انداز میں مرحوم (سائیکل) کی یاد میں لکھا تھا لیکن حقیقت یہ ہے سائیکل اب حقیقتاً مرحوم ہو چکی ہے۔ اب آپ کو خال خال ہی کوئی سائیکل پر جاتا نظر آئے گا‘ زیادہ تر فوسل فیول پھونکتے نظر آئیں گے۔ روئے ارض اگر ماحولیاتی آلودگیوں کے نتیجے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کی زد میں ہے تو اس کی ایک وجہ سائیکل کو تیاگ کر پٹرولیم مصنوعات پر چلنے والی موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں اپنانا بھی ہے۔ سائیکل ایک ایسی ماحول دوست سواری تھی جو نہ تیل پھونکتی تھی نہ دھواں چھوڑتی تھی‘ چنانچہ نہ جیب پر بھاری پڑتی تھی نہ اس کی وجہ سے آلودگی جنم لیتی تھی اورنہ انسانی تنفس کو ویسا نقصان پہنچتا تھا جیسا اب پہنچ رہا ہے۔ سائیکل سوار ایک ٹکٹ میں دو مزے بھی لیتا تھا۔ سفر کا سفر ہوتا تھا اور ورزش کی ورزش۔ میں یہ بات دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ جو بندہ سائیکل استعمال کرتا ہے اسے کسی اور ورزش کی ضرورت نہیں رہتی۔ ہاں سائیکل کبھی چلتے چلتے پنکچر ہو جائے تو اس وقت کوفت ضرور ہوتی ہے لیکن اتنی کوفت نہیں ہوتی جتنی موٹر سائیکل کے پنکچر ہونے پر ہوتی ہے۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں ایک ارب سے زیادہ سائیکلیں تیار ہوتی ہیں۔ سب سے زیادہ سائیکلیں چین میں بنتی ہیں اور وہیں سب سے زیادہ استعمال ہوتی ہیں۔ چین دنیا میں سب سے زیادہ سائیکلوں والا ملک ہے۔ اسے کسی زمانے میں سائیکلوں کی بادشاہت والا ملک کہا جاتا تھا کیونکہ ہر کوئی سائیکل پر سوار سفرکرتا نظر آتا تھا۔ اگرچہ اب چین میں گاڑیوں کا استعمال بڑھ گیا ہے لیکن اب بھی کروڑوں لوگ روزانہ سائیکل استعمال کرتے ہیں اور چین میں بائیک شیئرنگ کا دنیا کا سب سے بڑا نظام موجود ہے۔ کوپن ہیگن کو سائیکلوں کا شہر کہا جاتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق شہر میں سائیکلوں کی تعداد گاڑیوں سے زیادہ ہے اور اس کیلئے انتظامیہ مسلسل کوششیں بھی کرتی آرہی ہے جس سے ماحول کو بہت فائدہ ہوا ہے اور اب شہر کی پہچان ہی سائیکل ہے۔ یہاں 10 میں سے 9 افراد کے پاس سائیکل ہے اور تقریباً 62فیصد لوگ اپنے دفتر یا سکول جانے کیلئے سائیکل کا استعمال کرتے ہیں۔ نیدرلینڈز یا ہالینڈ دنیا کا واحد ملک ہے جہاں سب سے زیادہ سائیکلیں چلائی جاتی ہیں۔ یہاں کی آبادی سے زیادہ سائیکلیں موجود ہیں۔ یہاں فی کس 1.3سائیکلیں موجود ہیں۔
پاکستان میں سائیکلوں کی تعداد دوسے تین کروڑ بتائی جاتی ہے جو 25کروڑ کی آبادی میں بہت کم تعداد ہے۔ یہاں ورزش کیلئے تو ایک جگہ کھڑی سائیکل چلائی جاتی ہے لیکن کوئی سائیکل سڑک پر لے کر آنے کیلئے تیار نہیں کہ پتا نہیں لوگ کیا سوچیں گے۔ شاید سائیکلوں کو مرحومین میں شامل کر دینے کا ہی نتیجہ ہے کہ آج ہمارے ملک میں صحت کے مسائل میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں