"MSC" (space) message & send to 7575

اپنے آپ کا ٹرمپ بنانے والے

ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کو پانچ ہفتے گزرنے والے ہیں لیکن اس کے خاتمے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔ ٹرمپ کبھی کچھ کہتے ہیں کبھی کچھ۔ ان کی مقبولیت ہے کہ کم ہوتی جا رہی ہے۔ فوجی جرنیلوں کی طرف سے بھی مخالفت کا سامنا ہے۔ چیف آف آرمی سٹاف اور دو جرنیل برطرف کیے جا چکے ہیں۔ اٹارنی جنرل کو بھی گھر کا راستہ دکھا دیا گیا ہے۔ ریاستی مشینری میں پے در پے تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔ جی حضوریوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر آگے لایا جا رہا ہے۔ ایک سو ماہرین بین الاقوامی قوانین نے اس جنگ کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے فوراً جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ ایک کھلے خط میں انہوں نے سکولوں‘ ہسپتالوں اور شہری تنصیبات پر حملے کو جنگی جرائم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے فوری خطرے کا کوئی ثبوت موجود نہیں تھا۔ ایران کے ڈرون اور میزائل بدستور حرکت میں ہیں۔ امریکہ کا ایک اور ایف 35طیارہ مار گرایا گیا ہے۔ ریسکیو کے لیے آنے والے دو ہیلی کاپٹر تباہ کر کے پائلٹ گرفتار کرنے کا دعویٰ بھی ہوا ہے۔ صدر ٹرمپ ہیں کہ ایران کو پتھر کے زمانے میں دھکیلنے کے دعوے کرنے سے باز نہیں آ رہے۔ ایران نے ان سے کسی بھی طرح کی بات چیت ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان کے زیر قیادت جو ثالثی مذاکرات شروع کیے گئے تھے‘ وہ بھی نتیجہ خیز نہیں رہے۔ کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ کون سا فریق اپنے حریف کو کتنا نقصان پہنچا گزرے گا۔ ایران کی ثابت قدمی اور حوصلہ مندی کی سب داد دے رہے ہیں‘ اس نے سر جھکانے سے انکار کر کے اپنی ساکھ میں اضافہ کر لیا ہے۔ امریکی اور اسرائیلی عزائم چکنا چور کر دیے ہیں۔ نہ رجیم چینج ممکن ہو پائی‘ نہ ہی ایران کی جنگی صلاحیت کو ختم کیا جا سکا۔ امریکی انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق اس کے ڈرون اور میزائل اب بھی فعال ہیں۔ پوری دنیا میں تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں‘ عالمی معیشت دباؤ میں ہے۔ پاکستان جو پہلے ہی معاشی شیرازہ بندی میں مصروف تھا اور اپنی مشکلات پر قابو پانے کی سر توڑ کوشش کر رہا تھا‘ اس کی معیشت کو نئے دباؤ کا سامنا ہے۔ تیل اور گیس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومت انہیں سنبھالنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے لیکن نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن والا معاملہ ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کے بعد حکومت کو لیوی کم کرنا پڑی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے آدھی رات کو ٹیلی ویژن پر آ کر قوم سے خطاب کیا اور 80روپے فی لٹر ریلیف دینے کا اعلان کر کے گرما گرم جذبات کو سرد کرنے کوشش کی۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں موٹر سائیکل سواروں اور کسانوں کو براہِ راست امدادی رقوم فراہم کرنے کا اعلان کر رہی ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایے ختم کر دیے گئے ہیں تاکہ بڑے شہروں کے اندر نقل و حرکت کو آسان بنایا جا سکے‘ لیکن مشکلات کم ہونے میں نہیں آ رہیں۔ تیل کی قیمتیں بڑھنے سے بجلی کی قیمت بڑھے گی‘ ذرائع نقل و حمل بھی متاثر ہوں گے‘ مہنگائی کی لہروں کو روکنا ممکن نہیں ہو گا‘ جو کچھ ہو رہا ہے وہ ''آسمانی آفت‘‘ سے کم نہیں۔ دنیا میں کوئی ایسا نہیں ہے کہ جو جارح طاقتوں کا ہاتھ مروڑ سکے‘ اسے روک سکے۔ توقع یہی ہے کہ بدمست حملہ آور اپنے بوجھ سے خود گریں گے‘ اپنے الل ٹَپ اقدامات سے اپنے لیے گڑھے کھودیں گے اور دنیا کو نجات ملنے کی کوئی صورت نکل سکے گی۔
اہلِ وطن اس مشکل گھڑی کو ٹالنے میں تو کامیاب نہیں ہو سکے لیکن اسے صبر اور حوصلے سے کاٹ ضرور سکتے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کو روکنا ہمارے بس میں نہیں لیکن اپنے آپ کو تقسیم ہونے سے بچانا تو ہمارے بس میں ہے۔ حکومت اور ریاست کو الگ الگ رکھنا سب کے مفاد میں ہے۔ حکومت کو سزا دینے کے لیے ریاست کو نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔ حکومت آنی جانی شے ہے۔ کل کسی کے پاس تھی‘ آج کسی کے پاس ہے‘ کل کسی کے پاس ہو گی لیکن ریاست کو تغیر و تبدل سے نہیں گزارا جا سکتا۔ ریاست کو اگر انسانی جسم سے مشابہہ سمجھ لیا جائے تو حکومت کی حیثیت لباس کی سی ہے۔ لباس بآسانی تبدیل ہو سکتا ہے لیکن جسم کے ساتھ تجربات نہیں کیے جا سکتے۔ تحریک پاکستان کے رہنما اور سابق گورنر پنجاب سردار عبدالرب نشتر مرحوم نے ایک موقع پر خطاب کرتے ہوئے ریاست اور حکومت کے فرق کو بڑی خوبصورتی سے واضح کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسجد کے امام سے اختلاف ہو تو مسجد کو نقصان نہیں پہنچایا جاتا۔ مسجد سلامت رہے گی تو امام تبدیل ہوتے رہیں گے۔ اختلافات اور تضادات کی ماری ہوئی پاکستانی سیاست کو بھی یہ نکتہ ازبر کرنے کی ضرورت ہے۔
کیا ہی بہتر ہوتا کہ وزیراعظم تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو مدعو کر سکتے‘ جس طرح تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اکٹھے بیٹھ کر سوچ بچار کر رہے ہیں‘ اسی طرح احزابِ اختلاف اور اقتدار بھی ایک چھت کے نیچے جمع ہو کر مشکلات کا متحدہ طور پر مقابلہ کرنے کے ارادے باندھ رہی ہوتیں۔ کفایت شعاری کو قومی شعار بنا لیا جاتا‘ اور ہر قسم کی فضول خرچی کو ختم کرنے کیلئے سب ایک ہو جاتے‘ لیکن ایک دوسرے کو نشانہ بنانے کی مشق جاری ہے۔ سوشل میڈیا پر ایسے عناصر بھی سرگرم ہیں جو حوصلے توڑنا اور مشکلات کو بڑھانا چاہتے ہیں۔ اہلِ سیاست بھی ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہرانے سے باز نہیں آ رہے۔ جو جنگ مسلط ہوئی ہے‘ وہ پاکستان کی کسی سیاست شخصیت یا جماعت کی وجہ سے نہیں ہے اس کے اثرات سب کو بھگتنا پڑ رہے ہیں اور بھگتنا پڑیں گے۔ جہاں حزبِ اختلاف کی شکایات اور مشکلات کو کم کرنے کی ضرورت ہے‘ وہیں قومی مشاورتی کمیٹیاں بنا کر ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھانے کی اہمیت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔ حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت کے رہنما اور کارکنان جو مختلف الزامات کی پاداش میں حوالۂ زنداں ہیں‘ ان کے مقدمات کا ازسر نو جائزہ لیا جانا چاہیے۔ پارلیمنٹ ایسی ریویو کمیٹی (یاکمیٹیاں) بنائے جو ریلیف کے راستے تلاش کر سکیں۔ وسعتِ قلب سے کام لیتے ہوئے ہی ہم اجتماعی توانائی بحال کر سکتے‘ اور اسے ایک دوسرے کے خلاف ضائع ہونے سے بچا سکتے ہیں۔ پاکستان میں اکثر حکومت اور ریاست کے معاملات کو گڈ مڈ کیا گیا ہے۔ جہاں حکومت اس گھمنڈ میں مبتلا رہی ہے کہ وہ ریاست کا دوسرا نام ہے‘ وہاں ریاست کو حکومت سمجھ کر اس پر کچوکے لگانے والے بھی کم نہیں ہو پائے۔ بار بار ہم بحرانوں میں مبتلا ہوتے ہیں اور بار بار ماضی سے سبق سیکھنے کے عہد کیے گئے ہیں‘ لیکن ہر چند برس کے بعد ماضی کو دہرانا قومی فریضہ سمجھ لیا جاتا ہے۔ سیاست ریاست کے تابع رہے گی تو دونوں طاقتور ہوں گے‘ ایک دوسرے کے مقابل ہوں گے تو دونوں کمزور ہوں گے۔ سیاست کو ریاست سے لڑا کر اور سیاست کو ریاست کا حریف بنا کر ضائع تو بہت کچھ کیا جا سکتا ہے‘ حاصل کچھ بھی نہیں ہو پائے گا۔ ہمارا ماضی اس پر گواہ ہے‘ پھر اسے مستقبل بنانے کی خواہش قومی جرم کیوں نہیں قرار پاتی؟ ایک دوسرے کو درس دینے والے اپنے اپنے گریبان میں کیوں نہیں جھانکتے؟ اپنی اپنی غلطیوں کو کیوں درست نہیں کرتے؟ اپنے آپ کا ٹرمپ بنانے سے باز کیوں نہیں آتے؟
(یہ کالم روزنامہ ''پاکستان‘‘ اور روزنامہ ''دنیا‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں