"RKC" (space) message & send to 7575

No honor left in honor list

میرے آج کے کالم کا عنوان میرے ذہن کی پیداوار نہیں ہے بلکہ میرے ایک انتہائی قابلِ احترام پولیس افسر دوست کا ہے جو دو سال پہلے ریٹائر ہو گئے تھے۔ وہ ان چند پولیس افسران میں سے ہیں جن کی ایمانداری‘ پروفیشنلزم اور کام کا میں معترف رہا ہوں۔ انہوں نے میرا ایک ٹویٹ پڑھا جس میں مَیں نے یہ انکشاف کیا تھا کہ اس دفعہ 14 اگست کو جن پولیس افسران کو بہادری پر صدارتی ایوارڈ یا تمغے دیے گئے ہیں وہ سب افسران پنجاب پولیس سے ہیں۔ ایک بھی ایوارڈ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں ڈیوٹی دینے والے پولیس افسران کو نہیں دیا گیا‘ جو دراصل وہاں دہشت گردوں کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں اور روزانہ اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر ڈیوٹی کرتے ہیں۔ کیا واقعی سب بہادر پولیس افسران پنجاب میں سروس کر رہے ہیں اور بلوچستان ‘ خیبرپختونخوا میں بزدل اور نالائق تعینات ہیں؟
اگر ابھی اس میں کچھ کسر تھی تو وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال صاحب نے ایک ٹویٹ کیا اور اللہ کا اس بات پر شکر ادا کیا کہ وہ اُس ایوارڈ کمیٹی کے سربراہ ہیں جو ہر سال اُن افراد کے نام فائنل کرتی ہے جنہیں ریاستِ پاکستان مختلف کیٹیگریز میں ایوارڈز کا مستحق سمجھتی ہے۔ انہوں نے لکھا کہ انہوں نے کیسے دو تین ڈاکٹروں اور سائنسدانوں کو بھی ایوارڈ دلوائے ہیں۔ یقینا یہ بہت بڑا کارنامہ انہوں نے سرانجام دیا ہے جو اُن سے پہلے کبھی کسی نے نہیں دیا تھا۔ اس پر ان کا کریڈٹ یقینا بنتا ہے۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کی اس شاندار پرفارمنس پر انہیں داد دی جائے۔ میں ٹھہرا دل جلا‘ تو میں نے جواب میں جو کچھ لکھا وہ شاید انہیں اچھا نہیں لگا ہوگا۔ وہ اکثر مجھ سے شکایت کرتے ہیں کہ میں ان کے فین کلب کا ممبر کیوں نہیں بنا اور ان کے کارناموں پر کھل کر داد کے ڈونگرے برسانے میں کیوں بخل سے کام لیتا ہوں۔ دو تین دفعہ فون اور کہیں شادی کی تقریب میں ملاقات پر دوستانہ گلہ کر جاتے ہیں اور میں ہر دفعہ اپنی کم عقلی اور ناسمجھی پر ان سے معذرت کرتا ہوں اور آئندہ سے اچھے سلوک کا وعدہ کرتا ہوں۔ میں اکثر ٹی وی شوز یا سوشل میڈیا پر ان سے پوچھ لیتا ہوں کہ وہ وزیرِ منصوبہ بندی ہیں لیکن پورا اسلام آباد ہمارے دوست محسن نقوی صاحب نے سنبھالا ہوا ہے۔ کھدائی‘ ٹھیکے‘ منصوبے‘ جنگلات کی تباہی‘ سب کچھ وہ فائنل کرتے ہیں‘ تو پھر پلاننگ کمیشن کیا کرتا ہے؟ ان کا فون آیا تھا یا شاید ٹویٹر پر جواب دیا تھا کہ اسلام آباد ان کے دائرہ کار سے باہر ہے۔ وہ اسلام آباد کے ساتھ اچھا کریں یا برا‘ سب محسن نقوی کی پاورز ہیں‘وہ اس پر کوئی بات نہیں کر سکتے۔ میں اس جواب پر بڑا حیران ہوا۔ پھر ایک دن میں نے ٹویٹ کیا یا پروگرام کیا کہ کیا احسن اقبال صاحب صرف وزیر برائے منصوبہ بندی نارووال ہیں یا پورے پاکستان کے وزیر ہیں؟ آج تک انہیں اسلام آباد سے باہر دیکھا ہے تو نارووال میں دیکھا ہے۔ پاکستان کے شاید ہی کسی اور ضلع یا شہر یا دیہات میں گئے ہوں کہ ان کو بھی پلاننگ یا ترقی کی ضرورت ہے یا نہیں۔ اس بات پر بھی وہ خوش نہیں ہوئے۔ میں نے پھر کوشش کی کہ آئندہ شکایت نہ ہو لیکن کیا کریں آج پھر وہ ٹویٹ کر کے داد کے طلب گار ہوئے تو میں حسبِ عادت کوشش کے باوجود خود کو نہ روک سکا اور ٹویٹر پر ہی پوچھ لیا کہ کیا وجہ ہے سارے بہادر افسران پنجاب پولیس میں ہیں کہ فہرست میں صرف پنجاب سے ہی بہادروں کو میڈل دیا گیا ہے؟ میں نے کہا کہ اس بات پر تو شرمندگی بنتی تھی اور وہ بڑے دھڑلے سے ہم سب سے داد کے طلب گار ہیں۔ دراصل میرے لیے حیرت کی بات تھی کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ جن صوبوں میں پولیس والے بہادری سے دہشت گردوں سے مسلسل کئی برسوں سے لڑ رہے ہیں اور جانیں دے رہے ہیں وہاں سے ایک بھی ایسا پولیس افسر نہ ملا جسے احسن اقبال صاحب کی کمیٹی اس قابل سمجھتی جتنا وہ آئی جی پنجاب یا دو افسران کو سمجھتے ہیں جنہوں نے کچے کا آپریشن کیا۔ مان لیا وہ تینوں بہادر افسران ہوں گے اور ان کا انعام بنتا تھا لیکن آپ کیسے بھول سکتے ہیں کہ بلوچستان میں کوئی بھی سندھ یا پنجاب سے جا کر پوسٹنگ نہیں چاہتا۔ میں خود گواہ ہوں اگر پنجاب سے ایک افسر کی بلوچستان پوسٹنگ ہو جائے تو وہ نوکری چھوڑنے پر تیار ہو جاتا ہے‘ صوبہ جوائن نہیں کرتا۔ دنیا جہاں کی سفارشیں ہوتی ہیں اور وہ سب پنجاب میں او ایس ڈی لگ جائیں گے لیکن بلوچستان میں آر پی او یا ڈی پی او نہیں لگیں گے۔ لیکن جن کی سفارش نہیں ہوتی انہیں بلوچستان پوسٹ کیا جاتا ہے۔ ایک جاننے والا بتا رہا تھا کہ اس کا عزیز کوئٹہ پولیس میں اہم پوسٹ پر ہے۔ وہ ہر روز جان ہتھیلی پر رکھ کر گھر سے نکلتے ہیں اور کچھ علم نہیں ہوتا شام کو زندہ واپس آئیں گے یا ان کی لاش لاہور بچوں کو بھیجی جائے گی۔ بتانے لگے کہ ان کے عزیز کتنے جنازے اپنے افسران اور فورس کے جوانوں کے پڑھ چکے ہیں۔ بلوچستان میں کل ہی وزیر داخلہ پر حملہ ہوا جس میں نو پولیس والے شدید زخمی ہیں۔ وزیر داخلہ جو 14اگست کوقومی پرچم لہرانے قلات گئے تھے‘ مشکل سے بچے ۔ اس طرح خیبرپختونخوا میں بہادر پشتون دہشت گردوں سے لڑ رہے ہیں۔ روز وہ جانیں دے رہے ہیں۔ طالبان کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ میں بنوں کے ڈی پی او فرقان بلال اور ان کی پولیس فورس کی وڈیو دیکھ رہا تھا جس میں وہ جشن منا رہے تھے۔ انہیں طالبان کے ایک گروہ نے دھمکی دی تھی اور بنوں کی بہادر پولیس نے انہیں جوابی دھمکی دے کر آپریشن کر کے ختم کیا۔ اس موقع پر جو بہادر پشتون سپاہیوں نے تقریر کی اور جوش دکھایا وہ دیکھ کر آپ کا دل واہ واہ کر اُٹھے۔ کیا ڈی پی او بنوں کی بہادری بھی کسی کی نظر سے نہیں گزری؟ مجھے بتایا گیا کہ دیر کے علاقے کا اعلیٰ پولیس افسر تین دنوں سے طالبان کے خلاف لڑ رہا تھا اور سویا تک نہیں تھا۔ ایسی کئی مثالیں آپ کو ملیں گی کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں کیسے کیسے اعلیٰ پولیس افسران اور ان کے جوان جان ہتھیلی پر رکھ کر اس ملک اور قوم کے لیے کھڑے ہیں۔ ہمیں کچھ اندازہ ہے وہ کن حالات میں یہ ڈیوٹی دے رہے ہیں اور ان کے خاندانوں پر کیا نفسیاتی اثرات پڑتے ہوں گے کہ کسی وقت ان کے خاوند‘ بیٹے‘ باپ یا بھائی کی خبر نہ آ جائے۔ وہ خود کس کیفیت میں سے گزرتے ہیں کہ کسی سڑک پر بم پلانٹ نہ کیا گیا ہو...اس کے بدلے وہ آپ سے کیا چاہتے ہیں؟ تنخواہ وہی ہے جو پنجاب کا افسر لے رہا ہے۔ وہ آپ سے کچھ نہیں مانگ رہے۔ انہوں نے پنجاب سے بلوچستان ٹرانسفر ہونے پر نوکری بھی نہیں چھوڑی نہ ہی چھٹی لی۔ انہوں نے ملک کے لیے حلف لیا تھا‘ لہٰذا وہ بلوچستان پہنچے اور خطروں سے کھیل رہے ہیں۔ وہ آپ سے اتنا چاہتے ہوں گے کہ ہر سال جب قوم اپنے بہادروں کی لسٹ بنا کر انہیں اپنا ہیرو مانتی ہے تو کم از کم جہاں پنجاب کے تین بہادروں کا نام ہوتا ہے وہاں دو تین نام بلوچستان سے بھی‘ کارروائی کے نام پر ہی سہی‘ ڈال دیں۔ دو تین خیبرپختونخوا کے افسران اور جوانوں کے ڈال دیں تاکہ کم از کم ان کے گھر والوں کو تو فخر ہو کہ ان کے بچوں کی قربانی کو اس ملک‘ قوم اور حکمرانوں کو قدر ہے۔
یہ کیسا کھیل ہے کہ پولیس کے سب بہادر پنجاب میں سروس کر رہے ہیں اور سب نالائق اور بزدل بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے میدانِ جنگ میں لڑ رہے رہیں۔ محاذِ جنگ پر ڈٹے رہنے والے بزدل اور پنجاب کے میدانوں میں آرام سے ایئرکنڈیشنر کمروں میں بیٹھے افسران بہادر ٹھہرے اور پھر بھی ہمارے پیارے احسن اقبال ہم سے داد چاہتے ہیں۔ اس لیے تو میرے ایک سابق پولیس افسر دوست نے میسج بھیجا ہے: No honor left in honor list۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...