"IYC" (space) message & send to 7575

سکھائے کس نے اسماعیل کو آدابِ فرزندی

اس میں کیا شک کہ انسانی زندگی کا مقصد اطاعتِ الٰہی ہے اور اطاعتِ الٰہی کیفیتِ تقویٰ کے بغیر ممکن نہیں‘ جبکہ کیفیتِ تقویٰ قربانی کے بغیر حاصل نہیں ہوتی‘ لہٰذا طے پایا کہ اطاعتِ الٰہی کے لیے قربانی ناگزیر ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایسی قربانی کر پاتے ہیں جو ہمیں کیفیتِ تقویٰ اور اطاعتِ الٰہی کی منزل سے ہمکنار کر دے؟
فیس بک پر درج ذیل طنزیہ اور سوالیہ سٹیٹس پڑھا تو میں سُن ہو کر رہ گیا: صرف قربانی کا جانور بے عیب ہونا چاہیے‘ باقی قربانی کرنے والا جھوٹا‘ منافق‘ فراڈیا‘ سود خور اور حرام خور بھی ہو تو چلے گا؟
واقعی اچھے سے اچھا جانور خرید کر اور اس کی قربانی کر کے ہم یہ سوچتے ہیں کہ ایک فرض ادا ہو گیا لیکن یہ نہیں سوچتے کہ جن ذرائع سے یہ جانور خریدا گیا ہے‘ وہ کیا ہیں۔ معیار تو وہ ہے جو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قائم کیا تھا۔ آپؓ کے ایک قول کا مفہوم یہ ہے: اگر میری عملداری (حکمرانی) میں دریائے دجلہ یا فرات کے کنارے پیاس یا بھوک سے کوئی کتا بھی مر جائے تو مجھے ڈر ہے کہ اللہ کی عدالت میں اس کی باز پرس (جواب دہی) مجھ سے ہو گی۔ اب خود ہی سوچ لیں کہ ہم میں سے کتنے اس نازک معیار پر پورا اترتے ہیں۔ صبح سے شام تک پتا نہیں کتنی بار غیبت ہو جاتی ہے‘ کتنی بار جانے انجانے جھوٹ بولتے ہیں‘ دوسروں کا حق مارتے ہیں‘ کم تولتے ہیں‘ رشوت اور کرپشن سے اپنا دامن آلودہ کرتے ہیں اور پھر پاکی ٔداماں کے دعویدار بھی رہتے ہیں۔ یہ حدیث صحیح مسلم میں درج ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی اکرمﷺ سے روایت کی کہ آپﷺ نے فرمایا: جنت میں ایسی قومیں (امتیں جماعتیں) داخل ہوں گی جن کے دل پرندوں (چڑیوں) کے دلوں کی طرح (نرم اور لطیف) ہوں گے۔ یعنی ایسے لوگ جو کسی کی تکلیف پر تڑپ اٹھیں‘ کسی کو مصیبت میں دیکھ کر برداشت نہ کر سکیں‘ ان کے پاس کوئی کمزور آدمی آئے تو اس سے سخت بات کرتے ہوئے وہ لرز اٹھیں‘ وہی جنت کے اہل قرار پائیں گے۔ دل پر ہاتھ رکھ کر سوچئے کیا ہمارے دل ایسے ہیں؟
قربانی کے جانور کا بے عیب ہونا بنیادی شرط ہے یعنی اسے صحت مند اور تندرست ہونا چاہیے۔ شریعت کے مطابق صرف ظاہری خوبصورتی نہیں بلکہ جانور کا کسی ایسے نمایاں نقص سے پاک ہونا بھی لازم ہے جو اس کی مجموعی صحت یا گوشت کی مقدار کو کم کر دے۔ ہم سب ان باتوں کا خاص خیال رکھتے ہیں اور خریدنے سے پہلے جانور کا خوب جائزہ لیتے ہیں لیکن یہ نہیں دیکھتے کہ جیب میں اس خریداری کے لیے جو پیسے رکھے ہیں وہ رشوت کے ہیں‘ کرپشن کا نتیجہ ہیں‘ ناجائز منافع خوری کا حاصل ہیں یا ذخیرہ اندوزی سے کمائے گئے ہیں۔ الکتاب کی ایک آیت کا مفہوم یوں ہے: اللہ کے ہاں ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں اور نہ ان کے خون‘ البتہ تمہاری طرف سے پرہیزگاری اس کی بارگاہ تک پہنچتی ہے۔ اب رشوت‘ کرپشن‘ ذخیرہ اندوزی اور نا جائز منافع خوری سے تو پرہیزگاری کبھی پیدا نہیں ہو سکتی لہٰذا قربانی دل سے کیجیے اور حلال طریقے سے کمائے گئے پیسوں سے‘ تاکہ پروردگارِ عالم کی بارگاہ میں منظور اور مقبول ہو۔
ہو یہ رہا ہے کہ ہم قربانی کے لیے نقائص سے پاک جانور کا انتخاب تو کرتے ہیں لیکن اپنے باطنی نقائص دور کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ ہم قربانی کے لیے لنگڑے جانور کو منتخب نہیں کرتے اور خریدنے سے پہلے اسے باقاعدہ چلا کر دیکھتے ہیں لیکن یہ نہیں سوچتے کہ نماز کے لیے مسجد جاتے ہوئے ہمارے گھٹنے کیوں درد کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ قربانی کے لیے منتخب کیا گیا جانور کانا یا نابینا بھی نہ ہو لیکن دنیاوی مقاصد کے لیے اللہ کے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ذرہ برابر نہیں سوچتے۔ ہم قربانی کے لیے ٹوٹے ہوئے سینگ اور کٹے ہوئے کانوں والا جانور بھی منتخب نہیں کرتے لیکن خود مسجد سے اذان کی آواز بلند ہونے کے باوجود شیطان کے پیروکار بنے رہتے ہیں‘ جواز گھڑتے ہیں اور دین کے احکامات ایک کان سے سنتے اور دوسرے کان سے نکال دیتے ہیں۔ ہم قربانی کے لیے بیمار جانور کا انتخاب بھی نہیں کرتے لیکن خود شرک‘ بدعات‘ نفاق اور فرقہ پرستی وغیرہ کی بیماریوں میں مبتلا رہتے ہیں۔ ہم قربانی تو کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے کے لیے لیکن پھر رانیں بھوننا اور چانپیں تحفے میں دینا شروع کر دیتے ہیں جبکہ حقیقی حق دار ہمارے دروازوں کی چوکھٹ پر ایک ایک بوٹی کو ترستے رہتے ہیں۔ عیدالاضحی کا مقصد تو جذبۂ قربانی کو بیدار کرنا اور اپنی عزیز تر چیز (مراد بہترین اور بے عیب جانور) کو حکمِ ربانی کے مطابق رضائے الٰہی کے حصول کے لیے پیش کرنے کا حوصلہ پیدا کرنا ہے۔ اسی کو قربانی کہتے ہیں۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ اپنی حیات کے تمام شعبوں میں اپنی خواہشات پر ربِ کائنات کے احکامات کو ترجیح دی جائے۔ کیا سال کے باقی دنوں میں بھی ہم میں یہ جذبہ برقرار رہتا ہے؟
ایک روز امیرالمومنین حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جلیل القدر صحابی حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ تقویٰ کا کیا مفہوم ہے؟ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: امیرالمومنین آپ کا کبھی کسی ایسی پگڈنڈی سے گزر ہوا جس کے دونوں طرف خاردار جھاڑیاں ہوں؟ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا: جی ہاں ہوا ہے۔ اس پر حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے پوچھا: آپ ایسی جگہ سے کیسے گزرتے ہو؟ امیرالمومنین نے فرمایا: سنبھل سنبھل کے پاؤں رکھتا ہوں اور دامن کو سمیٹ کر رکھتا ہوں کہ دائیں بائیں کچھ الجھ کر نہ رہ جائے۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: بس اسی احتیاط اور بچ بچاؤ کا نام تقویٰ ہے۔
اب یہ ہم پر ہے کہ دنیا کی آلائشوں اور آزمائشوں کی خاردار جھاڑیوں سے بچ بچا کر کیسے گزرتے ہیں کہ تقویٰ برقرار رہے اور ہماری قربانیاں مقبول اور قبول ہو جائیں۔ تو آئیے اس بار ظاہری ہی نہیں باطنی طور پر بھی عیب سے پاک قربانی کرنے کی کوشش کریں۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ مسلمانوں میں تقویٰ کی وہ روح پیدا کی جائے جو اصل دین ہے‘ اصل عبادت ہے اور روحِ قربانی ہے۔ تقویٰ کا مفہوم یہ ہے: ہر کام میں اپنے پروردگار کی نا فرمانی اور ناراضگی سے بچتے رہنا اور اس کام کو مسرت و شادمانی اور خوش دلی سے انجام دینا جو پروردگار کی رضا جوئی اور خوشنودی کا باعث ہو۔
یہ فیضانِ نظر تھا یا مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیل کو آدابِ فرزندی
کاش ہمیں بھی کوئی ویسا ہی فیضانِ نظر مل جائے‘ کوئی ویسا ہی مکتب میسر آ جائے تاکہ ہم بھی قربانی کے حقیقی معانی و مطالب سے آشنا و آگاہ ہو جائیں اور ہماری قربانیاں محض دکھاوے کی قربانیاں نہ رہیں۔ آمین۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں