"KNC" (space) message & send to 7575

بے بس مسلم عوام اور افغانستان میں بھوک کا ڈیرہ

افغانستان میں پھول جیسے بچے موت کی وادی میں اُتر رہے ہیں۔ جہاں اناج اُگتا تھا‘ آج وہاں بھوک کی فصل کھڑی ہے۔ افغانستان کا خر بوزہ یہاں آتا تو لوگ اس کی طرف لپکتے تھے۔ اس کی مٹھاس ایسی کہ ہونٹ سِل جائیں۔ ایک خربوزہ ہی کیا‘ ثمرات کی ایسی بہتات کہ سبحان اللہ۔ تعلیم‘ تہذیب‘ اَن گنت مسائل تھے مگر بھوک نہ تھی۔ اب کیا ہے؟ والد اپنی بیٹیوں کا سودا کر رہا ہے کہ ان کو کھلا سکتا ہے نہ خود کھا سکتا ہے۔ سرحد بند ہے۔ پاکستان سے رابطہ کٹ چکا۔ ایک اَن دیکھی فصیل ہے جو کھڑی ہو گئی ہے۔
بحران کے ان لمحات میں افغان حکومت کہاں ہے؟ امارتِ اسلامی کی قیادت کیا کر رہی ہے؟ اس کی ترجیحات کیا ہیں؟ پاکستان میں گرتی لاشیں‘ ان سوالوں کا جواب دے رہی ہے۔ پاک فوج اور پولیس کے شہدا اس کا جواب ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان کے اسلحہ بردار جنگجو اس کا جواب ہیں۔ افغان حکومت 'غیرت‘ اور 'انا‘ کی جنگ لڑ رہی ہے۔ وہ اپنے شہریوں کیلئے بھوک کے بدلے دہشت گردی کی پشت پناہی کر رہی ہے۔ وہ پاکستان کو نیچا دکھانے کے منصوبے بنا رہی ہے۔ اپنے تئیں اسلام کا بول بالا کر رہی ہے۔ اس کے پاس یہ فرصت نہیں کہ وہ اپنے شہریوں کی بھوک کا علاج تلاش کرے۔ زیادہ سے زیادہ کیا ہو گا؟ لوگ مر جائیں گے۔ مریں گے تو شہادت کے منصب پر فائز ہو جائیں گے۔ انہیں اپنی حکومت کا شکرگزار ہونا چاہیے کہ ان کیلئے جنت ارزاں کر دی۔ محلات اور حوریں ان کا انتظار کر رہی ہیں۔ خاندانی منصوبہ بندی ان کے مسلک میں حرام ہے۔ دس مریں گے تو بیس پیدا بھی ہوں گے۔
اور یہ ایران ہے۔ عوام بے یقینی کی فضا میں جی رہے ہیں۔ مہنگائی ہے کہ قابو میں نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ اس کی منزل افلاس اور بھوک ہے۔ اس میں کیا شبہ ہے کہ ایران کو جارحیت کا سامنا تھا۔ اس کو دفاع کا حق تھا اور اس نے یہ حق خوب استعمال کیا۔ سب نے اس جرأت وشجاعت پر داد کے پھول برسائے۔ ایران کی فتح کیلئے دستِ دعا بلند کیے۔ سفارتی محاذ پر دوست سرگرم ہوئے۔ خدا خدا کر کے وقفہ آیا۔ امریکہ کی طاقت کا بھرم ٹوٹ چکا۔ اس کے ساتھ مگر ایران کا نقصان بھی کم نہیں ہوا۔ آج اس جنگ سے نکلنے کی صورت پیدا ہو رہی ہے۔ ایران کیلئے موقع ہے کہ وہ اس وقفے سے فائدہ اٹھائے اور صلح کی طرف مائل ہو۔ امریکی ظلم کے خلاف سراپا احتجاج دنیا اس کے ساتھ کھڑی ہے۔ اس کی قیادت مگر کیا سوچ رہی ہے؟ اس کی ترجیح کیا ہے؟ اس کی حکمتِ عملی میں مہنگائی کی چکی میں پسنے والے عوام کہاں ہیں؟ اسے چند کلو یورینیم عزیز ہے یا عوام کا مستقبل؟
اب پاکستان کی سنیے! اللہ کا شکر ہے ہم بہت سوں سے بہتر ہیں‘ مگر کیا ہم مزید بہتر نہیں ہو سکتے؟ اگر ہو سکتے ہیں تو رکاوٹ کیا ہے؟ ایک صوبے کے وزیراعلیٰ نے شدید گرمی میں عوام کو تپتی سڑک پر بٹھائے رکھا۔ حکومت کا معاملہ یہ ہے کہ اقوامِ عالم میں ثالثی کے منصبِ جلیلہ پر فائز ہے مگر ایک قیدی سے ملاقات کا مسئلہ حل کر نے پر قادر نہیں ہے۔ عدالت اب کچہری ہے‘ عوام کو انصاف کی امید نہیں رہی۔ کراچی میں منشیات فروشی کے جرم میں ایک خاتون گرفتار ہے۔ اب تک کی معلومات کے مطابق‘ وہ اَن گنت نوجوانوں کی زندگی کو برباد کر چکی۔ میڈیا کئی دنوں سے چیخ رہا ہے۔ میں نے بہت سے لوگوں سے پوچھا: اس مقدمے کا کیا فیصلہ ہو گا؟ سو فیصد کا جواب تھا: 'کچھ نہیں ہو گا یہ رہا ہو جائے گی‘۔ اگر اس پر بات کی جائے تو عام آدمی بھی مقدمات کے بے شمار حوالے لے آتا ہے۔ فلاں کا کیا ہوا؟ کیا فلاں کو سزا ملی؟ سوشل میڈیا کے صفحات پلٹیے تو اہلِ دانش ان مسائل میں الجھے ملیں گے جن کا زندگی سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں۔ حال یہ ہے کہ مذہبی معاملات پر بات ہو رہی ہے اور ایک دوسرے کو ماں بہن کی گالیاں دی جا رہی ہیں۔
یہ مثالیں بتا رہی ہیں کہ مسلم دنیا کی قیادتیں اور عوام‘ دونوں اخلاقی اور فکری طور پر اپاہج ہیں۔ فکری معذوری کے سبب وہ یہ نہیں جان سکے کہ اپنی ترجیحات کا تعین کیسے کریں؟ اخلاقی کمزوریاں انہیں شخصی مفادات سے بلند نہیں ہونے دیتیں۔ عقل کا کام جذبات سے لیتے ہیں۔ مذہب جو اخلاق سکھاتا‘ اسے انہوں نے عصبیت بنا دیا ہے۔ مذہب تزکیے کا موضوع نہیں‘ گروہی تشخص کا اظہار ہے۔ 'اب کہاں سے آئے صدا لا الٰہ الا اللہ‘؟
اس فکری اور اخلاقی زوال کے اسباب بیشمار ہیں۔ اہلِ سیاست وحکومت کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ عوام ان کی ترجیحات میں کہیں نہیں۔ ان کی پہلی ترجیح گروہی وشخصی مفادات ہیں۔ دوسری ترجیح ریاست ہے۔ ریاست کے نام پر‘ ان کے نزدیک عوام کو تنگ کرنا جائز ہے۔ اگر 'قومی مفاد‘ کیلئے عوام کو گھنٹوں سخت گرمی میں سڑکوں پر رولنا پڑے تو ان کیلئے یہ کوئی مسئلہ نہیں۔ شہر میں ایک تقریب ہوتی ہے اور آدھی آبادی عذاب میں مبتلا کر دی جاتی ہے۔ اہلِ دانش کا معاملہ بھی یہی ہے۔ عوام کی زندگی اور مفاد سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں۔ مذہبی راہنمائوں کو بھی اس سے کچھ غرض نہیں کہ وہ جس مذہب کا عَلم اٹھائے ہوئے ہیں وہ ان کیلئے امید کا اور نشاط کا پیغام ہے یا وحشت اور خوف کی علامت؟
اگر افغانستان میں حکومت کی ترجیح عوام کی فلاح وبہبود ہوتی تو کیا ان کی حکمتِ عملی وہی ہونی چاہیے تھی جو اَب ہے؟ اگر ایران کی قیادت عوام کی طرف دیکھتی تو کیا ان کے مستقبل پر یورینیم کو ترجیح دیتی؟ ریاست کے مناصب پر فائز گروہوں نے ایک بیانیہ بنا رکھا ہے۔ جذبات کو مشتعل کر کے‘ عوام کو اس کا اسیر بنایا جاتا ہے۔ جن کے پاس یہ نہیں‘ وہ کلٹ یا مذہب کے نام پر عوام کو اپنا غلام بنائے ہوئے ہیں۔ مسلم ریاستوں کے معاملات اگر ایسے ہی رہتے ہیں اور امکان بھی اسی کا ہے‘ تو مجھے ان کے مستقبل کے بارے میں تشویش ہے۔ غربت‘ افلاس اور بھوک اسی طرح پنپتی رہے گی اور ہم خود ساختہ تصورات کا عَلم اٹھائے‘خود کو فاتح قرار دیتے رہیں گے۔
ہر بات روا ہے۔ ہر موضوع پر بات ہو سکتی ہے۔ سوال مگر یہ ہے کہ ہم چاہتے کیا ہیں؟ عوام کیلئے خوشحالی اور امن یا اضطراب اور بے یقینی؟ اس وقت سیاسی قیادت کی ذمہ داری سب سے زیادہ ہے۔ دوسرے مسلم ممالک کیلئے ہم دعا ہی کر سکتے ہیں لیکن اپنے اہلِ اقتدار سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ عوام کو اپنی حکمتِ عملی میں ترجیح بنائیں۔ جو اقدام کریں‘ اس میں سب سے پہلے یہ دیکھیں کہ عوام پر اس کا کیا اثر پڑے گا۔ اسی طرح اہلِ دانش کو دیکھنا ہے کہ وہ جو خیالات پیش کر رہے ہیں اس سے عوام کا بھلا ہو رہا ہے یا ان کیلئے زندگی مشکل ہو رہی ہے؟ اہلِ مذہب کو بھی سوچنا ہو گا کہ وہ جن مذہبی تصورات کی آبیاری کر رہے ہیں‘ ان سے عوام کو کوئی فائدہ پہنچے گا یا کسی خاص مکتبِ فکر کو؟ اپنی ریاست سے ایک اضافی درخواست ہے: افغانستان کے بے بس عوام کی فوری امداد کا اہتمام کیا جائے۔ افغان بچے‘ خواتین اور عام شہری سیاست کی پیچیدگیوں سے ناواقف ہیں۔ انسانی اور اسلامی رشتے کے ناتے ہمیں ان تک خوراک پہنچانی چاہیے۔ وہ ہمارے ہمسایے ہیں۔ ہمیں اس سے ڈرنا چاہیے کہ آخرت میں کہیں ان کی بھوک کا سوال ہم سے نہ ہو۔ ریاستِ پاکستان کو کوئی راستہ تلاش کرنا چاہیے کہ ہماری حکومت اور عوام اس مشکل گھڑی میں ان کی مدد کر سکیں۔ ہمیں بے حس افغان قیادت کی طرف نہیں دیکھنا‘ اپنی اخلاقی ذمہ داری اور اللہ کی خوشنودی کے بارے میں سوچنا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں