قانون‘ واقعہ‘ تجزیہ‘ تبصرہ‘ سب خلط ملط ہو رہے ہیں۔ حقائق اور خواہشات باہم دست و گریباں ہیں۔ قانون اور اخلاق کا فرق ختم ہو چکا۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہم نے ایک دوسرے کو کٹہرے میں کھڑا کر رکھا ہے اور دوسرے کی طرف تنقید کے عنوان سے تضاد‘ کذب‘ مفاد‘ بے عقلی سمیت ہر ایسے لفظ کی نسبت کر رہے ہیں جو مذمت کے لیے ہماری لغت میں موجود ہے۔ اس سے بحث پر یک رُخا پن غالب ہے۔ کاش تاریخ کا عمل اتنا سادہ ہوتا جیسے ہم نے جانا ہے۔ میں نے اپنے تئیں اس اختلاط کو کم کرنے کی ایک سعی کی ہے۔
سب سے پہلے قانون کو دیکھتے ہیں۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد جب سلطنتوں کا خاتمہ ہوا تو غالب سیاسی قوتوں نے دنیا پر اپنا تسلط باقی رکھنے کے لیے ایک نیا عالمی بندوبست متعارف کرایا۔ یہ نظامِ جبر تھا۔ اب ایسی ریاست کا وجود قابلِ قبول تھا جو اس بندوبست کا حصہ بننے پر آمادہ ہے۔ سادہ الفاظ میں جو اقوامِ متحدہ کی رکن ہے۔ ساری دنیا نے طوعاً و کرہاً اسے تسلیم کر لیا۔ یہ ماضی سے قدرے بہتر تھا کہ اس کی بنیاد ایک چارٹر پر رکھی گئی جس میں انسانوں کو برابر مانا گیا۔ اقوام کے لیے حقِ خودارادی تسلیم کیا گیا۔ تاہم اس نظام میں پانچ ممالک کی برتر حیثیت کو بھی تسلیم کیا گیا جنہیں ویٹو کا حق حاصل تھا۔
اس بندوبست کے تحت ہر ملک کی سرحدوں کا تعین کر دیا گیا جن کا احترام سب پر لازم تھا۔ ان میں عالمی قوتیں بھی شامل تھیں۔ اگر کسی ریاست کے بارے میں یہ گمان پیدا ہوا کہ وہ عالمی نظم کے لیے خطرہ بن رہی ہے اور اس کے خلاف اقدام ضروری ہے تو اس کے لیے اقوامِ متحدہ سے رجوع کو لازمی قراردے دیا گیا۔ کوئی طاقت اپنی رائے سے ایسا نہیں کر سکتی کہ کسی ملک پر حدود سے تجاوز کا الزام دھرے اور اپنی رائے سے اس کے خلاف اقدام کرے۔ اسی طرح اگر کوئی ملک یہ سمجھتا ہے کہ دوسرے ملک کی سرزمین اس کے خلاف استعمال ہو رہی ہے تو وہ اس کی شکایت اقوامِ متحدہ سے کرے گا۔ اقدام کے لیے سلامتی کونسل سے اجازت لینا لازم ہے۔ اگر کسی ملک پر حملہ ہو جائے تو اس صورت میں وہ اپنے دفاع میں اقدام کر سکتا ہے جیسے پاکستان نے بھارت کے خلاف کیا۔
اب آئیے حقائق کی طرف۔ عالمی طاقتوں نے کبھی اس قانون کی پابندی نہیں کی۔ انہوں نے دوسرے ملکوں کے خلاف اقوامِ متحدہ کی منظوری کے بغیر فوجی اقدام کیا۔ مثال کے طور پر سوویت یونین نے افغانستان میں فوجیں اتاریں اور امریکہ نے عراق میں فوج بھیجی۔ اس کے لیے سلامتی کونسل سے رجوع نہیں کیا گیا۔ دوسرا یہ کہ دوسرے ممالک کے داخلی معاملات میں مداخلت کی گئی اور ان کی حکومتوں کو تبدیل کیا گیا۔ اس کی بدترین مثال وینزویلا ہے جس کے صدر کو اس کی اہلیہ سمیت اس کی خواب گاہ سے اٹھا لیا گیا۔ اسی طرح عراق اور افغانستان میں بھی امریکہ نے اپنی مرضی سے بعض لوگوں کو اقتدار کی مسند پر بٹھا دیا۔
اس قانونی اور تاریخی پس منظر کو ذہن میں رکھتے ہوئے اب آئیے حالیہ واقعات کی طرف۔ جب شہنشاہ محمد رضا کی حکومت تھی ایران مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کا پولیس مین تھا۔ امریکہ اور ایران کے مابین کوئی براہِ راست تنازع نہیں تھا۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد ایران پر امریکہ اور سوویت یونین دونوں کی نگاہ تھی۔ سوویت یونین کے ساتھ ایران کے معاہدے تھے اور امریکہ کے بھی۔ یہی نہیں برطانیہ بھی موجود تھا کہ ایرانی تیل پر برطانوی کمپنیوں کا تسلط تھا۔ عالمی طاقتوں کے کشمکش اور مفادات کی وجہ سے ایران میں اضطراب پیدا ہوا۔ اسکے نتیجے میں ڈاکٹر مصدق وزیراعظم بنے جنہوں نے برطانوی تسلط کے خاتمے کیلئے تیل کی صنعت کو قومیانے کا اعلان کیا۔ اس سے برطانوی مفادات پر زد پڑی۔ امریکہ یہ خواہش رکھتا تھا کہ اس تیل کی دولت سے اپنا حصہ بٹورے۔ یوں بھی بر طانیہ زوال پذیر تھا۔ مصدق کی حکومت کے خاتمے اور ایران میں اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے امریکہ نے ایران میں سازش کا ایک جال پھیلا دیا۔ مصدق کی حکومت ختم ہو گئی۔ برطانیہ کا عالمی تسلط بھی زوال پذیر تھا۔ اس کے باعث ایران میں سی آئی اے نے سازش کا جو جال پھیلایا‘ اس نے امریکی تسلط کو گہرا کر دیا۔
اس کے نتیجے میں عوام میں اضطراب تھا ‘جس کو مذہبی قیادت نے زبان دے دی۔ مصدق جیل میں رہے۔ رہائی کے کچھ عرصہ بعد ان کا انتقال ہو گیا۔ حقیقی اپوزیشن کی حیثیت مذہبی طبقے کو حاصل ہو گئی جس کی قیادت خمینی صاحب کے ہاتھ میں تھی جو جلاوطن تھے۔ ایرانی عوام شہنشاہ کے خلاف ان کی قیادت میں متحد ہوتے گئے۔ شہنشاہ چونکہ امریکی مفادات کے نگہبان تھے اس لیے امریکہ نے ان کے اقتدار کو بچانے کی سر توڑ کوشش کی۔ اس سے مذہبی قیادت اورعوام میں امریکہ مخالف جذبات پیدا ہوئے۔ اس باب میں اب کوئی شبہ نہیں کہ امریکی سفارت خانہ شہنشاہ اور رجیم کو بچانے کے لیے سازشوں کا مرکز بن گیا۔ مذہبی طبقے میں اس پر شدید ردِ عمل ہوا۔ اس کا نتیجہ انقلاب کے بعد امریکی سفارت خانے پر قبضہ تھا۔ یہاں سے جو دستاویزات ملیں‘ اُن سے یہ شبہ یقین میں بدل گیا کہ امریکہ شہنشاہ کو دوبارہ لانا چاہتاہے اوراس کے لیے کس طرح کی حکمتِ عملی بنائی گئی ہے جس میں ایرانی اقلیتوں کو استعمال کر نا بھی شامل تھا۔
انقلاب کے بعد نئی حکومت نے امریکہ کو اپنا دشمن قرار دیا۔ امریکہ نے دوستی کا ہاتھ بڑھایا لیکن اسے جھٹک دیا گیا۔ اس سے تعلقات کشیدہ سے کشیدہ تر ہوتے گئے۔ تاہم یہ سب کچھ سفارتی سطح پر تھا۔ دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف براہ راست کوئی اقدام نہیں کیا۔ ایران کی مذہبی حکومت نے انتقالِ انقلاب کا تصوربھی دیا اور مشرق وسطیٰ میں شیعہ آبادی کو حکومتوں کے خلاف اٹھانا چاہا۔ اس پر عرب ممالک میں ردِ عمل ہوا۔ اب امریکہ اور عربوں نے یہ کوشش کی کہ ایران میں حکومت بدل جائے۔ اس کے لیے صدام حسین نے عراق کو فرنٹ لائن ریاست بنا دیا۔ امریکہ اور عرب ریاستوں نے ان کی پشت پناہی کی۔ آٹھ سال کی جنگ کے بعد بھی حکومت تبدیل نہیں ہو سکی۔ بعدمیں ایسے مواقع بھی آئے جب امریکہ اور ایران نے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کیا۔ جیسے عراق میں صدام حسین کے بعد ایک سیاسی نظم پر اتفاق۔ ایران کے اسی خوف سے عرب ممالک نے اپنے دفاع کے لیے امریکہ کو فوجی اڈے قائم کرنے کی دعوت دی۔
ایران اورا سرائیل میں کبھی براہِ راست تصادم نہیں ہوا‘ اگرچہ ایران کی مذہبی حکومت اسرائیل کے خلاف رہی۔ شہنشاہ کے دور میں دونوں کے تعلقات دوستانہ تھے۔ اسرائیل نے جاسوسی کا نظام بنانے میں شہنشاہ کی مدد کی۔ لبنان میں البتہ حزب اللہ کے ساتھ اسرائیل کی کشیدگی رہی۔ اسی تناظر میں ایران نے حماس کی مدد کی۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ حماس اور دیگر فلسطینی تنظیموں کی مدد عرب ممالک کرتے رہے ہیں اور ساری دنیا کے مسلمان بھی۔ اس کو جواز بنا کراسرائیل نے ایران پر حملہ کیا اوروہاں فلسطینی راہنما اسمائیل ہنیہ کو قتل کر دیا۔ اس کے بعد دونوں کی جنگ شروع ہو گئی۔ دوسرے مرحلے میں امریکہ نے ایران پر حملہ کر دیا۔
قانون‘ تاریخ‘ واقعات اور حقائق کو میں نے معلوم شواہد کی بنیاد پر ممکن حد تک صحت کے ساتھ بیان کردیا۔ ان کو سامنے رکھتے ہوئے بنیادی سوالات کا جواب تلاش کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر کس ملک نے دوسروں کے داخلی معاملات میں مداخلت کی؟ اس مداخلت کی نوعیت کیا تھی؟ جنگ میں جارحیت کس نے کی اوردفاع کس نے؟ بین الاقوامی قوانین کی مخالفت کس نے کی؟ ان سولات کے جواب جب ہمارے سامنے ہوں تو پھر تجزیے اور تبصرے میں آسانی ہوگی۔ پھراس سوال کو بھی بہتر انداز میں زیرِ بحث لایا جا سکے گا کہ ایران کو کیا کرناچاہیے تھا اور کیا وہ اس مصیبت سے بچ سکتا تھا؟