ہم پاکستانی پچھلے 78برسوں سے اپنے مقتدر طبقات کے ہاتھوں ملک اور عوام کی بربادی کا رونا رو رہے ہیں لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ ہمیں پچھلے 78برسوں کی تاریخ کو دوش دینے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہم ساڑھے تین سو برسوں سے ایسے ہی رہ رہے ہیں۔ فرانسس برنیئر کا سفر نامہ پڑھیں اور آج کے حالات سے موازنہ کریں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ کچھ بھی نہیں بدلا۔ فرانسس برنیئر جو فرانس کا باشندہ اور پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر تھا‘ 1658ء میں ہندوستان آیا تھا اور 1670ء تک‘ تقریباً بارہ سال ہندوستان میں رہا۔ جب وہ یہاں آیا تو یہ مغل بادشاہ شاہجہاں کے دور کے آخری دن تھے۔ شاہ جہاں کا عہد مغلیہ سلطنت کے عروج کا دور تھا اور اس دور کو عہدِ زریں بھی کہا جاتا ہے۔ برنیئر طبی ماہر تھا؛ چنانچہ یہ مختلف امرا سے ہوتا ہوا شاہی خاندان تک پہنچ گیا‘ اسے مغل دربار‘ شاہی خاندان‘ حرم سرا اور مغل شہزادوں اور شہزادیوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ اسے اورنگ زیب عالمگیر کے ساتھ لاہور‘ بھمبر اور کشمیر کی سیاحت کا موقع بھی ملا۔
فرانسس برنیئر نے واپس جا کر ہندوستان کے بارے میں ایک سفر نامہ تحریر کیا۔ یہ سفر نامہ 1671ء میں پیرس میں شائع ہوا۔ بعد ازاں یہ انگریزی زبان میں بھی ترجمہ ہوا اور برطانیہ میں اشاعت پذیر ہوا۔ اس سفر نامے میں فرانسس برنیئر نے ہندوستان کے بارے میں جگہ جگہ حیرت کا اظہار کیا ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ ہندوستان میں خوشامد کا دور دورہ ہے‘ بادشاہ سلامت‘ وزرا‘ گورنرز اور سرکاری اہلکار دو دو گھنٹے خوشامد کراتے ہیں۔ دربار میں روزانہ سلام کا سلسلہ چلتا ہے اور گھنٹوں جاری رہتا ہے۔ لوگوں کو خوشامد کی اس قدر عادت پڑ چکی ہے کہ یہ میرے پاس علاج کے لیے آتے ہیں تو مجھے سقراطِ دوراں‘ بقراط اور ارسطوئے زماں اور آج کا بو علی سینا قرار دیتے ہیں اور اس کے بعد نبض کے لیے اپنا ہاتھ آگے بڑھاتے ہیں۔ بادشاہ سلامت دربار میں جب بھی منہ کھولتے ہیں تو درباری کرامت کرامت کا ورد شروع کر دیتے ہیں۔ برنیئر کا سفر نامہ پڑھ کر قاری ورطۂ حیرت میں ڈوب جاتا ہے کیونکہ اس نے 1660ء میں جو ہندوستان دیکھا تھا وہ آج تک اسی روح اور ثقافت کے ساتھ قائم و دائم ہے۔ یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ ہم نے ساڑھے تین سو برسوں میں کچھ نہیں سیکھا۔
فرانسس برنیئر بتاتا ہے کہ ملک میں ایک طرف امرا ہیں اور دوسری طرف غریب عوام ۔ امرا محلوں میں رہتے ہیں‘ ان کے گھروں میں باغات بھی ہیں‘ فوارے بھی‘ سواریاں بھی اور درجنوں نوکر چاکر بھی جبکہ غریب لوگ جھونپڑیوں میں رہتے ہیں اور ان کے پاس ایک وقت کا کھانا تک نہیں ہوتا۔ بازار بے ترتیب اور گندے ہیں‘ آپ کو ایک دکان سے پشمینہ‘ کمخواب‘ ریشم اور زری کا کپڑا ملے گا اور ساتھ کی دکان پر تیل‘ گھی‘ آٹا اور شکر بک رہی ہو گی۔ آپ کو کتابوں اور جوتوں کی دکانیں بھی ساتھ ساتھ ملیں گی‘ ہر دکان کا اپنا نرخ ہوتا ہے اور بھاؤ تاؤ کے دوران اکثر اوقات گاہک اور دکاندار ایک دوسرے سے الجھ پڑتے ہیں۔ شہروں میں حلوائیوں کی دکانوں کی بہتات ہے مگر آپ کو دکانوں پر گندگی‘ مکھیاں‘ مچھر‘ بلیاں اور کتے دکھائی دیتے ہیں۔ آپ کو ملک بھر میں اچھا گوشت نہیں ملتا‘ قصائی بیمار اور قریب المرگ جانور ذبح کر دیتے ہیں۔ پھل بہت مہنگے ہیں‘ ملک میں خربوزہ بہت پیدا ہوتا ہے لیکن دس خربوزوں میں سے ایک میٹھا نکلتا ہے۔ ملک بھر میں جوتشیوں کی بھرمار ہے۔ یہ دریاں بچھا کر راستوں میں بیٹھ جاتے ہیں اور لوگ ان کے گرد گھیرا ڈال لیتے ہیں‘ ملک میں پینے کا صاف پانی نہیں ملتا‘ امرا اونٹ پر پانی لاد کر سفر کے لیے نکلتے ہیں‘ ملک کی مٹی زرخیز ہے لیکن زراعت کے طریقے قدیم اور فرسودہ ہیں؛ چنانچہ کسان پوری پیداوار حاصل نہیں کر پاتے۔ ملک کی زیادہ تر زمینیں بنجر پڑی ہیں۔ لوگ نہروں اور نالیوں کی مرمت نہیں کرتے‘ چھوٹے کسان یہ سمجھتے ہیں اس سے جاگیرداروں کو فائدہ ہو گا اور جاگیردار سوچتے ہیں بھل صفائی پر پیسے ہمارے لگیں گے مگر فائدہ چھوٹے کسان اٹھائیں گے‘ یوں پانی ضائع ہو جاتا ہے۔ لاہور کے مضافات میں ہر سال سیلاب آتا ہے اور سینکڑوں لوگوں کی ہزاروں املاک بہا لے جاتا ہے لیکن حکومت اور لوگ سیلابوں کی روک تھام کا کوئی بندوبست نہیں کرتے چنانچہ اگلے سال یا پھر دو چار سال بعد دوبارہ تباہی دیکھتے ہیں۔
فرانسس برنیئر نے لوگوں کے بارے میں لکھا کہ یہ کاریگر ہیں لیکن کاریگری کو صنعت کا درجہ نہیں دے پاتے‘ لہٰذا فن کار ہونے کے باوجود بھوکوں مرتے ہیں۔ یہ فنکاری کو کارخانے کی شکل دے لیں تو خوشحال ہو جائیں اور دوسرے لوگوں کی مالی ضروریات بھی پوری ہو جائیں‘ لوگ روپے کو کاروبار میں نہیں لگاتے‘ یہ رقم چھپا کر رکھتے ہیں‘ عوام زیورات کے خبط میں مبتلا ہیں‘ لوگ بھوکے مر جائیں گے لیکن اپنی عورتوں کو زیورات ضرور پہنائیں گے‘ ملک کا نصابِ تعلیم انتہائی ناقص ہے‘ یہ بچوں کو صرف زبان سکھاتا ہے ان کی اہلیت میں اضافہ نہیں کرتا‘ خود اورنگزیب نے میرے سامنے اعتراف کیا کہ میں نے اپنے بچپن کا زیادہ تر وقت عربی زبان سیکھنے میں ضائع کر دیا۔ ملک میں رشوت عام ہے‘ آپ کو دستاویزات پر سرکاری مہر لگوانے کے لیے حکام کو رشوت دینا پڑتی ہے۔ صوبے داروں کے پاس وسیع اختیارات ہیں‘ یہ بیک وقت صوبے دار بھی ہوتے ہیں‘ خزانچی بھی‘ وکیل بھی‘ جج بھی‘ پارلیمنٹ بھی اور جیلر بھی۔ سرکاری اہلکار دونوں ہاتھوں سے دولت لٹاتے ہیں‘ بادشاہ نے اپنے لیے (1660ء میں) تین کروڑ 184روپے کا تخت بنوایا۔ سرکاری عہدیدار پروٹوکول کے ساتھ گھروں سے نکلتے ہیں۔ یہ ہاتھیوں پر سوار ہو کر باہر آتے ہیں‘ ان کے آگے سپاہی چلتے ہیں‘ ان سے آگے ماشکی راستے میں چھڑکاؤ کرتے جاتے ہیں۔ ملازموں کا پورا دستہ مور چھل اٹھا کر رئیسِ اعظم کو ہوا دیتا ہے اور ایک دو ملازم اُگالدان اٹھا کر صاحب کے ساتھ چلتے ہیں۔ یہ لوگ گھر بہت فضول بناتے ہیں۔ ان کے گھر گرمیوں میں گرمی اور حبس سے دوزخ بن جاتے ہیں اور سردیوں میں سردی سے برف کے غار۔ بادشاہ اور امرا سیر کے لیے نکلتے ہیں تو چھ چھ ہزار مزدور ان کا سامان اٹھاتے ہیں۔ ہندوستان کی اشرافیہ طوائفوں کی بہت دلدادہ ہے‘ ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں طوائفوں کے کوٹھے ہیں اور امرا اپنی دولت کا بڑا حصہ ان پر نچھاور کر دیتے ہیں۔ طوائفیں شاہی خاندان کی تقریبات میں بھی بلوائی جاتی ہیں اور دربار سے وابستہ تمام لوگ ان کا رقص دیکھتے ہیں۔ وزرا صبح و شام دو مرتبہ بادشاہ کے سامنے حاضر ہوتے ہیں‘ بادشاہ کے حضور حاضری نہ دینے والے وزرا عہدے سے فارغ کر دیے جاتے ہیں۔ ملک میں گرد وغبار‘ گندگی‘ بو اور بے ترتیبی انتہا کی ہے اور جرائم عام ہیں۔ مجرم اوّل تو پکڑے نہیں جاتے اور اگر پکڑ لیے جائیں تو یہ سفارش یا رشوت کے ذریعے چھوٹ جاتے ہیں۔
یہ فرانسس برنیئر کے سفرنامے کے چند حقائق تھے جو میں نے آپ کے سامنے پیش کیے۔ آپ انہیں دیکھیے اور آج کے پاکستان پر نظر دوڑائیے‘ آپ کو یہ جان کر اطمینان ہو گا کہ ہم نے 78سالہ پاکستانی تاریخ میں ہی نہیں‘ پچھلے ساڑھے تین سو سال میں کچھ نہیں سیکھا۔ ہماری چال اور رفتار آج بھی بے ڈھنگی ہے۔ غوث خواہ مخواہ حیدر آبادی نے ٹھیک کہا تھا:
پریشانی سے سر کے بال تک سب جھڑ گئے لیکن
پرانی جیب میں کنگھی جو پہلے تھی سو اَب بھی ہے
زمانے کا چلن کیا پوچھتے ہو خواہ مخواہ مجھ سے
وہی رفتار بے ڈھنگی جو پہلے تھی سو اَب بھی ہے
یہ سب کچھ ہماری حکمران اشرافیہ میں شامل نو مقتدر طبقات کا کیا دھرا ہے۔ ان نو طبقوں پر جب تک ہاتھ نہ ڈالا گیا عوام کے ساتھ ساتھ پاکستان بھی خوشحال ہوتا نظر نہیں آ رہا۔