"MMC" (space) message & send to 7575

اسلام آباد معاہدہ!

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کے بیانات سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ اور ایران کے مابین مستقل جنگ بندی کا معاہدہ قریب ہے اور ممکن طور پر اس ہفتے کے اختتام تک اس پر اسلام آباد میں دستخط ہو سکتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ 11 اپریل کو اسلام آباد میں امریکی اور ایرانی اعلیٰ سطحی وفود کے درمیان 21 گھنٹے کے طویل دورانیے پر مشتمل اجلاس کے بعد فریقین کے درمیان معاہدے کو حتمی شکل دینے کیلئے بالواسطہ رابطہ رہا ہے اور شاید یہ رابطہ اور معاہدے کے نکات پر اتفاقِ رائے کیلئے سلسلۂ جنبانی پاکستان کے توسط سے ہی جاری رہا ہے اور کچھ لو اور کچھ دو کے بعد دونوں فریق ایک مشترکہ اعلامیے پر متفق ہوگئے ہیں۔ 1979ء میں انقلابِ ایران کے 47 سال بعد امریکہ اور ایران کا روبرو بیٹھنا بجائے خود پاکستانی قیادت کی ''سیاسی کرامت‘‘ تھی ورنہ پہلے کوئی اس کی بابت سوچ بھی نہیں سکتا تھا کیونکہ امریکہ اور اسرائیل ایران کے اور ایران اسرائیل کے خاتمے کے درپے تھا۔ انگریزی میں کہتے ہیں: Where there's a will, there's a way۔ یعنی ''جہاں چاہ وہاں راہ‘‘۔ امریکہ اور اسرائیل نے چند گھنٹوں یا چند دنوں میں ایران کو مکمل طور پر فتح کرنے یا حکومت تبدیل کرنے یا نیست ونابود کرنے کا جو خواب دیکھا تھا‘ وہ دیوانے کا خواب ثابت ہوا۔ فانی بدایونی نے کہا تھا:
اک معمہ ہے‘ سمجھنے کا‘ نہ سمجھانے کا
زندگی کاہے کو ہے‘ خواب ہے دیوانے کا
پاکستان کو مئی 2025ء کے بعد الحمدللہ سفارتی میدان میں کامیابیاں ملتی رہی ہیں‘ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ مزید یہ کہ یہ ایسا اعزاز نہیں ہے کہ جس کا مدعی خود دعویٰ کرے بلکہ دنیا نے اسے تسلیم بھی کیا ہے اور اس کی تحسین بھی کی ہے اور اس سے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سیاسی بصیرت اور قدوقامت میں اضافہ ہوا ہے۔
ایرانی مطالبات کے اہم نکات یہ ہیں: (1) ایران میزائل سازی کی صنعت سے ہرگز دستبردار نہیں ہوگا کیونکہ اپنے ملک کا دفاع ہر قوم کا بنیادی حق ہے۔ (2) 1979ء کے انقلاب کے بعد ایران کے جو اثاثے امریکہ اور بعض دیگر ممالک میں ناجائز طور پرمنجمد کر دیے گئے تھے‘ انہیں واگزار کیا جائے‘ نیز امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر مسلّط کردہ حالیہ جنگ کے نتیجے میں جو بے پناہ نقصانات ہوئے ہیں‘ ان کی تلافی کی جائے تاکہ تباہ شدہ ڈھانچے کی تعمیرِ نو ہو سکے۔ (3) آئندہ کیلئے ایسی پابندیاں عائد نہ کرنے کا عہد کیا جائے۔ (4) جنگ بندی جامع ہو اور ایران کے اتحادیوں یعنی لبنان کے حزب اللہ‘ یمن کے حوثیوں اور عراق میں ایران نواز گروپوں پر بمباری کا سلسلہ یکسر موقوف کیا جائے۔ (5) ایران سول مقاصد کیلئے یورینیم افزدوگی سے مکمل طور پر دستبردار نہیں ہوگا۔ (6) عالمی سطح پر یہ ضمانت دی جائے کہ ایک بار جنگ بندی کا معاہدہ ہونے کے بعد دوبارہ یکطرفہ طور پر ایران پر حملہ نہیں کیا جائے گا۔ (7) امریکہ شرقِ اوسط اور خلیجی ممالک سے اپنے فوجی اڈے ختم کرے کیونکہ ایران کے نزدیک یہ اڈے ایران کے خلاف کارروائیوں کیلئے بنائے گئے ہیں اور اسی کے خلاف استعمال ہوں گے۔ (8) آبنائے ہرمز پر ایران کا حق تسلیم کیا جائے۔ (لیکن شاید یہ حق عالمی برادری تسلیم نہ کرے‘ ورنہ ایسی آبنائیں کئی خطوں میں ہیں)۔
بادی النظر میں ایران کے یہ مطالبات جائز ہیں‘ مگر خطے کے دیگر ممالک کو امریکی فوجی اڈے ختم کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ اگر وہ خوشدلی سے اور ایران کے ساتھ پُرامن بقائے باہمی کے جذبے کے ساتھ خود اپنے اپنے ملکوں سے امریکی اڈے ختم کر دیں تو یہ احسن بات ہو گی۔ بہتر یہی ہو گا کہ خلیجی ممالک پاکستان‘ ترکیے اور مصر کو ملا کر نیٹو کی طرز پر ایک دفاعی اتحاد بنائیں‘ پھر اسرائیل ان پر یکطرفہ طور پرحملہ کرنے کی جسارت نہیں کر سکے گا اور امریکہ بھی یہ دعویٰ نہیں کر سکے گا کہ ان ممالک کی بادشاہتیں ہماری وجہ سے قائم ہیں اور ہمارے بغیر یہ ایک ہفتہ بھی ٹھہر نہیں سکتیں۔ وقت نے بتایا کہ جب ایران پر اسرائیل اور امریکہ نے جنگ مسلط کی اور ایران نے جواباً خلیجی ممالک میں قائم امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا تو امریکی فوجی ان اڈوں کو خالی کر کے ہوٹلوں اور نجی عمارتوں میں منتقل ہوگئے اور خلیجی ممالک کے دفاع کا امریکی دعویٰ دھرے کا دھرا رہ گیا۔یورینیم افزودگی کو عالمی سطح پر ایک حد تک رکھنے کی صورت یہ ہے کہ ایک عالمی چارٹر منظور کیا جائے کہ کوئی ملک سول مقاصد کیلئے یورینیم کو کس حد تک افزودہ کرسکتا ہے‘ پھر اس کا اطلاق اسرائیل سمیت سب ممالک پر ہونا چاہیے‘ کیونکہ ابھی تک اسرائیل نے ایٹمی صلاحیت کا حامل ہونے کا دعویٰ نہیں کیا‘ لہٰذا یہ پابندی اسرائیل پر بھی ہونی چاہیے‘ ایران پر یکطرفہ پابندی عائد کرنا مناسب نہیں ہے۔
امریکہ کے بنیادی مطالبات یہ ہیں: (1) ایران یورینیم افزودگی سے مکمل طور پر دستبردار ہو جائے اور آئندہ بھی اس میدان میں داخل ہونے کی جستجو نہ کرے۔ (2) ایران آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی تجارت کیلئے کھول دے اور ماضی کی طرح اسے آزاد عالمی بحری تجارتی گزرگاہ قرار دیا جائے۔ (3) ایران اپنے میزائل پروگرام کو محدود کرے تاکہ وہ اسرائیل کیلئے خطرہ نہ رہے‘ نیز امریکہ یہ بھی چاہتا ہے کہ ایرا ن کو ایسے آلات حاصل کرنے پر بھی پابندی ہو جن سے وہ بین البراعظم میزائل تیار کر سکے۔ (4) ایران بیرونِ ملک اپنے حمایتی گروہوں یمن کے حوثیوں‘ لبنان کے حزب اللہ اور عراق وشام کے گروہوں کی حمایت سے دستبردار ہو جائے۔
جنگی تاوان ادا کرنے کا کام تو خود امریکہ نے شروع کیا تھا۔ 1991ء میں پہلے ساری عالمی برادری کے احتجاج کو نظر انداز کرکے عراق پر حملہ کیا اور پھر اس کے تیل کے کاروبار پر قبضہ کر کے اپنی مسلّط کردہ جنگ کے نقصانات کا تاوان وصول کیا؛ چنانچہ ٹرمپ نے گزشتہ دنوں کہا تھا ''میں چاہتا ہوں کہ عرب ممالک جنگ کا خرچ برداشت کریں‘‘۔ اس طرح امریکہ کیلئے معیشت کا ایک نیا شعبہ وجود میں آئے گا کہ خود ہی دنیا کے دفاعی لحاظ سے کمزور ممالک پر جنگ مسلّط کرے اور پھر ان انتہائی مہنگی جنگوں کا تاوان بھی انہی ممالک سے وصول کرے‘ جبکہ ایران جارح نہیں ہے بلکہ جارحیت کا شکار ہوا ہے‘ لہٰذا اُس کا جنگی تاوان کا مطالبہ جائز ہے۔ اگر جامع معاہدہ وجود میں آتا ہے تو آبنائے ہرمز کا کھل جانا بعید از امکان نہیں ہے‘ مگر اس کیلئے امریکہ کو طاقت کی پوزیشن سے اتر کر برابر کی سطح پر معاملات طے کرنا ہوں گے کہ یکطرفہ طور پر اپنی شرائط مسلّط نہ کرے‘ بلکہ عالمی ثالثوں کے درمیان بیٹھ کر ایک متوازن حل نکالا جائے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایران یہ سمجھتا ہے کہ اس نے بے پناہ نقصانات برداشت کر لیے ہیں‘ اب اس کا حق بنتا ہے کہ برابری کی سطح پر بات کی جائے اور اپنے حقوق پر سمجھوتا نہ کیا جائے ۔
فارسی کا لفظ ''سیماب‘‘ سیم اور آب سے مرکب ہے‘ اسکے لفظی معنی ہیں: ''چاندی کا پانی‘‘ اور اصطلاحی معنی ہیں: ''پارہ‘‘۔ پارہ ایسا مائع ہے جو چاندی کی طرح چمکدار ہوتا ہے کیونکہ اس میں ٹھیرائو نہیں ہوتا بلکہ ہر آن متحرک رہتا ہے۔ سو جس شخص کے مزاج میں ٹھیرائو‘ قرار اور استقلال نہ ہو اُسے سیماب صفت کہتے ہیں‘ جیسے اردو کا محاورہ ہے: ''گھڑی میں تولہ‘ گھڑی میں ماشہ‘‘ ایسے شخص کو متلوِّن مزاج بھی کہتے ہیں۔ اس سے مراد ایسا شخص ہے جو مستقل مزاج نہ ہو‘ ہر لمحے اپنا مؤقف بدلتا رہتا ہو‘ ایسے ہی شخص کو انگریزی میں Unpredictable کہا جاتا ہے اور ٹرمپ حد درجے ''سیماب صفت‘‘ ہے۔ رات کو ایک بات ٹویٹ کرتا ہے اور صبح اسکے برعکس موقف اختیار کر لیتا ہے‘ پس ایسے شخص کے قول وقرار پر اعتبار کرنا حد درجے دشوار ہوتا ہے اور خطرات کا باعث بنتا ہے۔ اگرچہ ٹرمپ کے حالیہ رویے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ شاید مذاکرات کے نتیجے میں ایران اور امریکہ کسی قابلِ قبول اور قابلِ عمل حل پر متفق ہو جائیں‘ بشرطیکہ امریکہ کے اندر اسرائیل نواز حلقوں کی مدد سے اسرائیل ان مصالحتی کوششوں کو سبوتاژ نہ کرے‘ کیونکہ یہ جنگ دنیا کے بیشتر ممالک کیلئے تباہ کن ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں