"MMC" (space) message & send to 7575

حج وعمرے کے حوالے سے خواتین کے مسائل …( اوّل)

خواتین کیلئے محرم کی رفاقت: لوگوں میں جو یہ مشہور ہے کہ عورت صرف حج وعمرہ کے سفر میں مَحرم کی رفاقت کی پابند ہے‘ یہ خیال درست نہیں۔ صحیح یہ ہے کہ ہر وہ سفر جو شرعی مسافت 98 کلومیٹر یا اُس سے زائد ہے‘ عورت اس کیلئے محرم کے بغیر سفرنہ کرے۔ یہ سفر خواہ کسی ذاتی کام کیلئے ہو‘ سیاحت کی غرض سے ہو یا حج وعمرہ کی ادائیگی کیلئے ہو‘ ہر قسم کے سفر کیلئے شرعی حکم یکساں ہے۔ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: ''جو عورت اللہ تعالیٰ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتی ہے وہ (شوہر یا) محرم کی رفاقت کے بغیر تین راتوں کی مسافت کا سفر نہ کرے‘‘ (مسلم: 3156)۔
قاضی شوکانی لکھتے ہیں: ''حدیثِ رسول ہے: ''عورت (شوہر یا) محرم کی رفاقت کے بغیرسفر نہ کرے‘‘۔ یہ حج سمیت ہر سفر کو شامل ہے‘‘ (نیل الأوطار‘ جلد: 4‘ ص: 346)۔ اکثر لوگ جواز کیلئے یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ سعودی حکومت اور اسلامی نظریاتی کونسل نے محرم کی پابندی ختم کر دی ہے‘ سعودی حکومت یا اسلامی نظریاتی کونسل کی اجازت شرعی اَحکام کو باطل یا تبدیل کر سکتی ہے‘ نہ اُن کی رائے شرعی احکام کیلئے حجت یا دلیل بن سکتی ہے۔ رسول اللہﷺ شارع ہیں‘ جیسا آپﷺ نے حکم بیان فرما دیا‘ وہ حرفِ آخر ہے‘ بلا چون وچِرا اُسے تسلیم کر لینے ہی میں سعادت ہے۔ اگرکوئی خاتون شوہر یا مَحرم کی رفاقت کے بغیر جائے اور ارکانِ حج کو شریعت کے مطابق ادا کرے تو حج ادا ہو جائے گا اور اگر اس پر حج فرض ہے تو فرض ساقط ہو جائے گا‘ لیکن خلافِ سنّت فعل کرنے پر گنہگار ہو گی‘ اس پر اللہ تعالیٰ سے توبہ کرے۔
خواتین کا احرام: خواتین کیلئے حالتِ احرام میں لباس کے حوالے سے کوئی پابندی نہیں ہے۔ روزہ مرہ پہنا جانے والا سلا ہوا لباس ہی احرام کی نیت سے پہنا جاتا ہے۔ بچے کو اٹھانے کیلئے جو بیلٹ باندھی جاتی ہے‘ وہ سلے ہوئے لباس کے حکم میں نہیں ہے‘ اس لیے مرد وعورت حالتِ احرام میں ایسی بیلٹ باندھ سکتے ہیں۔
حرمین طیبین میں خواتین کا باجماعت نماز ادا کرنا: حرمین طیبین میں خواتین کے نماز پڑھنے کیلئے علیحدہ جگہ متعین ہے‘ علیحدہ دروازہ (باب النسآء) بھی مخصوص ہے۔ اُس جگہ خواتین کی جماعت میں شامل ہونا ممکن ہو تو باجماعت نماز پڑھ سکتی ہیں۔ لیکن اگر کوئی خاتون عین نماز کے وقت مردوں کی صفوں میں پھنس جائے اور نکلنا مشکل ہو تو اس وقت وہ نماز پڑھے بغیر جہاں جگہ دستیاب ہو‘ خاموشی سے بیٹھ جائے اور جماعت میں ہرگز شامل نہ ہو‘ کیونکہ مردوں کے برابر میں جماعت میں شامل ہونے سے دائیں بائیں کے ایک ایک مرد کی اور پیچھے کے ایک مرد کی نماز فاسد ہو جاتی ہے‘ لہٰذا جب امام نماز سے فارغ ہو جائے تو حتی الامکان مردوں سے الگ ہوکر تنہا کسی مناسب جگہ پر نماز ادا کر لے‘ مردوں کے ساتھ ہرگز کھڑی نہ ہو۔ نیز خواتین پر جماعت کا اہتمام کرنا لازم نہیں ہے۔ حضرت اُمِّ حُمَید رضی اللہ عنہا نے نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی: یا رسول اللہﷺ! مجھے آپ کے ساتھ نماز پڑھنے کا شوق ہے‘ آپﷺ نے فرمایا: تمہارا شوق (اور دینی جذبہ) بہت اچھا ہے‘ مگر تمہاری نماز اندرونی کوٹھڑی میں کمرہ کی نماز سے بہتر ہے اور کمرہ کی نماز گھر کے احاطہ کی نماز سے بہتر ہے اور گھر کے احاطہ کی نماز محلہ کی مسجد سے بہتر ہے اور محلہ کی مسجد کی نماز میری مسجد (مسجدِ نبوی) کی نماز سے بہتر ہے۔ چنانچہ اُمِّ حُمَیدؓ بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! ہم آپ کے ساتھ (یعنی آپ کی اقتدا میں) نماز پڑھنا چاہتی ہیں‘ (مگر) ہمارے شوہر ہمیں منع کرتے ہیں‘ تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: تمہارا کمرے میں نماز پڑھنا‘ گھر کے احاطے (حویلی) میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے اور تمہارا گھر کے احاطے میں نماز پڑھنا جامع مسجد میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے‘‘ (السنن الکبریٰ للبیہقی:5371)۔ یعنی خواتین کیلئے ستر وحجاب کا اہتمام اور مردوں کے ساتھ عدمِ اختلاط اوّلین ترجیح ہے۔
فقہی اعتبار سے خواتین پر جماعت سے نماز پڑھنا واجب نہیں‘ انفرادی طور پر نماز پڑھیں۔ حج وعمرہ کے زائرین کی ہوٹلوں میں رہائش جغرافیائی اعتبار سے عام طور پر حدودِ حرم ہی میں ہوتی ہے‘ لہٰذا انہیں ہوٹل میں نماز پڑھنے پر بھی حرم میں نماز پڑھنے کا اجر ملے گا اور خواتین کیلئے مسجد میں جاکر باجماعت نماز اداکرنے سے اپنی رہائش گاہ پر ہی نماز اداکرنے میں زائد ثواب ہے۔ آج کل چونکہ حرمین طیبین میں بے حد ہجوم ہوتا ہے‘ اس لیے عورتوں کا مردوں کے ساتھ اختلاط سے بچنا کافی دشوار ہے اور اس میں انتظامیہ کیلئے بھی دشواریاں ہوتی ہیں۔ طواف کا تو متبادل کچھ اور نہیں ہے‘ اس لیے وہاں جانا تو ضرورت ہے‘ لیکن نماز میں عورتوں کیلئے احتیاط اسی میں ہے کہ وہ اپنی اقامت گاہ میں نماز پڑھیں یا حرم شریف میں اُن اوقات میں نماز پڑھیں جب ہجوم نسبتاً کم ہو۔
بعض اوقات احرام باندھنے سے قبل یا احرام باندھنے کے بعد خواتین مندرجہ ذیل مسائل سے دوچار ہوتی ہیں‘ مثلاً: (1) عورت نے حج یا عمرے کا احرام باندھا اور ایام شروع ہو گئے‘ اگر عمرے کا احرام توڑتی ہے تو اس پر کیا لازم آئے گا‘ (2) اگر عمرے کیلئے مکہ مکرمہ پہنچی اور ایام شروع ہو گئے تو وہ کیا کرے‘ (3) اگر دورانِ حج منیٰ یا عرفات میں ایام شروع ہو گئے تو وہ کیا کرے‘ (4) اگر ایامِ حج حالتِ حیض میں گزر گئے اور واپسی کی فلائٹ 13 ذوالحجہ کو ہے‘ تو اب وہ کیا کرے‘ (5) اگر عمرے کا پروگرام پہلے سے طے ہے اور روانگی کے دن ایام شروع ہو گئے تو وہ کیا کرے‘ (6) کوئی شخص احرام باندھ کر ایئرپورٹ پہنچا تو پتا چلا کہ چیک اِن یعنی بورڈنگ کا سلسلہ بند ہو گیا ہے یا جہاز کا دروازہ بند ہو گیا ہے یا معلوم ہوا کہ سیٹ کنفرم نہیں تھی‘ اب بظاہر اگلی فلائٹ تین دن بعد دستیاب ہو گی تو کیا کرے‘ اگر احرام کھول دیتا ہے تو اس پر کیا لازم آئے گا‘ (7) ایک خاتون حج کا خطبہ اور نمازِ ظہرو عصر اداکرنے کے بعدحائض ہو گئی‘ بقیہ ارکان کی ادائیگی کس طرح کرے گی‘ ان مسائل کا شرعی حکم حسبِ ترتیب پیشِ خدمت ہے: (1 تا 4) حج کا احرام باندھنے کے بعد جب عورت کو حیض آ جائے تو وہ حج کے بقیہ تمام افعال یعنی منیٰ‘ عرفات اور مزدلفہ کا وقوف‘ قربانی اور رمیِ جمرات سمیت تمام ارکان ادا کرے‘ بس بیت اللہ کا طواف نہ کرے‘ اسی طرح نماز نہ پڑھے‘ تلاوت نہ کرے‘ اَذکار وتسبیحات ودرود جاری رکھے اور ایام ختم ہونے پر غسل کرکے پاک ہو جائے‘ پھر طوافِ زیارت ادا کرے۔ عمرہ کا حکم بھی اسی طرح ہے کہ حیض کی وجہ سے احرام کی پابندی برقرار رہے گی اور پاک ہونے کے بعد عمرہ کے افعال ادا کرے گی۔ احرام میں دخول نیت اور ایک مرتبہ بآواز تلبیہ پڑھنے سے ہی ہوتا ہے‘ غیر محصر آدمی کیلئے احرام سے خروج عمرہ اور حج کے افعال ادا کرنے سے ہوگا۔ حائض خاتون اگر عمرہ کے احرام سے خارج ہونا چاہتی ہے اور خروج کیلئے مجبور ہے تو حالتِ حیض میں عمرہ کے افعال طواف اور سعی کر کے انگلی کے پَورے کے برابر بال کٹوا کر احرام عمرہ سے خارج ہو جائے‘ البتہ حالت حیض میں عمرہ کا طواف کرنے کی وجہ سے دم دینا ہو گا‘ البتہ احرام عمرہ میں داخل خاتون عرفات کی طرف روانگی کے آخری وقت نو ذی الحجہ کی صبح زوال تک پاک ہونے کا یقین نہیں رکھتی تو عمرہ کا احرام ختم کر دے اور اگر اس وقت سے پہلے صرف طوافِ عمرہ کر سکتی ہے تو طواف کر لے ورنہ افعال حج کر لینے کے بعد عمرہ قضا کرے اور اس پر دم بھی واجب ہے‘ یہی طریقہ وہاں سے روانگی کی مجبوری کے وقت ہو گا کہ حالت حیض میں عمرہ کر کے دم جنایت ادا کرے۔
اگر حائض کسی عذر وجہ سے احرام سے فارغ ہونا چاہتی ہے تو ناپاکی کے ایام میں عمرہ کے افعال ادا کرکے احرام سے خارج ہو جائے اور حالت حیض میں طواف کر لینے سے دمِ جنایت ادا کرے گی‘ افعال عمرہ ادا کیے بغیر احرام سے خارج نہیں ہو سکتی۔ اگر کسی عورت نے عمرہ کا احرام کھول دیا تو دَم دینا ہو گا‘ یہ دَم حدودِ حرم میں ہی دیا جائے گا اور عمرے کی قضا لازم ہو گی۔ (جاری)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں